موسمی ہتھیار اور ان کا تعارف

اسامہ طفیل نے 'اركان مجلس كے مضامين' میں ‏ستمبر 3, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. اسامہ طفیل

    اسامہ طفیل نوآموز

    شمولیت:
    ‏اگست 5, 2013
    پیغامات:
    198
    .ہتھیار زمانہ قدیم سے انسان کے زراستعمال رہے ہیں کبھی پتھروں اور لکڑی کی صورت میں کبھی تیر،تلوار،نیزو کی صورت میں جیسے جیسے زمانہ میں جدت آتی گئی انسان ہتھیاروں کو مہلک بنانانے کی جستجو تیز کرتا گیا پھر پورانے ہتھیاروں کی جگہ راکٹس،بندوقوں اور مزایلوں نے لے لی پر
    جیسے جیسے وہ ہتھیار عام ہوتے گئے اپنی طاقت بر قرار رکھنے کیلے
    نئے نئے ہتھیاروں کی ایجاد ہوتی رہی اور یہ کوشیش کی جاتی رہی ایسے ہتھیار تخلیق کئے جائے جو ایک وقت میں زیادہ سے زیادہ جان لے سکیں۔
    پھر چونکہ ان کی طاقت کا اندازہ کرنا بھی ضروری ہے تو انتشار کا ماحول پیدا کرکے ان کو استعمال کیا جاتا ہے کبھی کسی جنگ میں استعمال کے بعد دوسرے پر الزام لگا دیا جاتا ہے
    کوشیش کی جاتی ہے کوئی دوسرا اس دوڑ میں آگے نہ نکلنے پائے
    اس مضمون میں اسی طرح کے کچھ ہتھیاروں کا زکر ہے
    انگریزی میں ان کے بارے میں کافی کچھ لکھا جا چکا ہے اردو میں ابھی میری نظر سے کچھ نہیں گزرا اور یہی اس مضمون کا سبب ہے۔

    موسمی ہتھیار موسم میں تبدیلی لانے کے لے ہوتے ہے جس کو امریکا نے اپنی فوج کے لے ایجاد کیا،اس کو پروجیکٹ ہارب کا نام دیا جاتا ہے(امریکا کہتا ہے اس پروجیکٹ کو شٹ ڈاون کردیا ہے پر وہ کیسا بند ہوگا آپ کو بھی پتا ہے) ان کے استعمال سے موسمی تبدیلی لائی جاتی ہے جیسے بادلوں پر کیمیکل برساکر بارش کرنا،زمین کا درجہ حرارت تبدیلی کر کے زلزے لانا،سمندر اور پانی میں انتشار پیدا کرنا،موسم کو سرد یا گرم وغیرہ کرنا.
    ان ہتھیاروں کا استعمال

    بیان کیا جاتا ہے پاکستان میں جو بدترین سیلاب آیا تھا وہ اسی طریقہ کے امریکی تجربہ کا نتیجہ تھا.جس طرح امریکا نے جاپان پر ایٹم بم کا تجربہ کیا تھا وہ اپنے نئے نئے ہتھیاروں کے تجربات دوسرے ممالک پر کرتا رہتا ہے ایک روسی محقیق ‎Andrei Areshev‏ جو ایچ اے اے آر پی پروجیکٹ پر تحقیق کر رہے تھے ان کا کہنا ہے ہم نے ایسے شواہد تلاش کئے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے پاکستان میں 2012 کا سیلاب ان ہتھیاروں کا نتیجہ تھا.
    وکی لیکس اس بیان کی تائید کرتے ہوئے لکھتی ہے پاکستان میں یو ایس ایڈ،این جی اوز کے نام پر امریکی خفیہ اداروں کو بیھجا جاتا ہے جو پاکستانی ایٹمی معاملات کی جاسوسی کرتے ہیں

    جنگوں میں اس طریقہ کار کو ‏Weather Warfare ‎‏ کہا جاتا ہے وکی پیڈیا میں اس کے بارے میں لکھا ہے


    ‎Weather warfare is the use of weather modification techniques such as cloud seeding for military purposes. The Convention on the Prohibition of Military or Any Other Hostile Use of Environmental Modification Techniques (Geneva: 18 May 1977, Entered into force: 5 October 1978) prohibits "widespread, long-lasting or severe effects as the means of destruction, damage or injury" However it has been argued that this permits "local, non-permanent changes". Prior to the Geneva Convention, the United States used weather warfare in the Vietnam War. Under the auspices of the Air Weather Service, the United States' Operation Popeye used cloud seeding over the Ho Chi Minh Trail, increasing rainfall by an estimated thirty percent during 1967 and 1968. It was hoped that the increased rainfall would reduce the rate of infiltration down the trail. ‎




    امریکی انکار
    وکی پیڈیا میں اس پروجیکٹ کے بارے میں لکھا ہے:
    ‎HAARP has been blamed by conspiracy theorists for a range of events, including numerous natural disasters, outbreaks, global warming, global cooling, volcanoes, even assassinations of individuals. Commentators and scientists say that proponents of these theories are "uninformed" as most theories put forward fall well outside of the abilities or the facility and often outside the scope of natural science and defy physics.‎
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں