کشکول

بابر تنویر نے 'اركان مجلس كے مضامين' میں ‏ستمبر 25, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. بابر تنویر

    بابر تنویر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,318
    السلام علیکم و حمتہ اللہ و برکاتہ،
    عام حالات میں اپنے ملک کی سیاست اور سیاستدانوں کے اقوال و افعال پر تبصرہ کرنے کو دل نہیں چاہتا۔ کہ یہ جو کچھ کرتے ہیں اس کے ذمہ دار ایک حد تک ہم بھی ہیں۔ کیونکہ ان کا اقتدار میں آنا جانا تو میرے اور آپ کے ووٹوں پر منحصر ہے۔ اور ہم ہر بار انہی آزماۓ ہوئے اور پیشہ ور سیاستدانوں کو ووٹ دے کر مسند اقتدار پر بٹھا دے دیتے ہیں۔ اب یہ الگ بات ہے کہ کسی حلقے میں رجسٹرڈ ووٹر تو 10 ہزار ہوں اور ڈالے گۓ ووٹوں کی تعداد 20 ہزار سے تجاوز کر جاۓ ۔ بقول پیر پگاڑا مرحوم کہ پاکستانی الیکشن میں تو فرشتے بھی ووٹ ڈالتے ہیں۔
    دوسری بات یہ کہ ہم عوام بے وقوف کہ ہر بار سیاستدانوں کی چکنی چپڑی باتوں میں آ جاتے۔ اور عیار اور مکار سیاستدان اقتدار میں آنے کے لیۓ اور زبان استعمل کرتے ہیں اور اقتدار میں آنے کے بعد کسی اور ہی زبان میں بات کرنا شروع ہو جاتے ہیں۔ اور جب انہیں ان کے الیکشن سے پہلے کے وعدے یاد کراۓ جائیں تو کتنی آسانی سے کہہ دیتے ہیں کہ وہ وعدے تو صرف الیکشن جیتنے کے لیۓ تھے۔
    اس بار ہونے والے الیکشن میں عوام نے جس سیاسی جماعت کو مسند اقتدار سونپی اس کے بہت سے کھوکھلے نعروں میں سے ایک نعرہ یہ بھی تھا کہ ہم کشکول توڑ دیں گے۔ اور آئ ام اف اور ورلڈ بینک وغیرہ سے قرضہ نہیں لیں گے۔ اوریہ تو آپ سب جانتے ہی ہیں کس طرح اس حکومت نے اقتدار سنبھالتے اپنا مشہور کشکول آئ ام اف کی خدمت میں پیش میں پیش کردیا کہ مائ باپ اگر آپ نے نظر کرم نہ کی تو ہم کہاں جائیں گے۔ اس کشکول میں قرضے کی بھیک ڈال دیجیۓ۔
    آج کے جنگ اخبار میں ایک خبر پڑی تو بے اختیار یہ بات ذہن میں آئ کہ ان کا اور کوئ وعدہ پورا ہو نہ ہو کم ازکم الیکشن سے پہلے ان کا کشکول توڑنے والا وعدہ تو پورا ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے۔
    تو جناب وہ خبر یہ ہے کہ یہ حکومت اقتدار میں آنے کے بعد سے اب تک کے مختصر عرصے میں پاکستان کے مرکزی بینک سے 804 ارب روپے کا قرضہ لے چکی ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ آئ ام اف سے بھی 54 کروڑ ڈالر قرضہ کی قسط بھی وصول کر چکی ہے۔ ان حالات میں آپ سب خود فیصلہ کیجیۓ کہ کشکول توڑنے کا جو وعدہ اس حکومت نے کیا تھا اس کے ٹوٹنے میں کتنی کسر باقی رہ گئ ہے۔ قرضوں کی شکل میں جتنا بوجھ یہ حکومت کشکول پر ڈال رہی ہے اس کے نتیجے میں میں اس کشکول کا ٹوٹنا یقینی ہے۔ اور اس قرض کے نتیجے میں اس ملک کو قرضہ دینے والوں کی شرائط کی وجہ سے ایک عام آدمی کی کمر کچھ اس طرح ٹوٹ چکی ہے کہ وہ اب مؤثر انداز میں احتجاج بھی نہیں کرسکتا۔ وہ بے چارا تو دال روٹی کے چکر میں پھنسا ہوا ہے۔ وہ بے چارا تو اسی سوچ میں غرق رہتا ہے کہ کس طر اپنی محدود آمدنی میں بجلی کا بل، گیس کا بل ، بچوں کی فیسیں اور دوسرے اخراجات کو پورا کرے۔ اور اسی تگ دو میں پانچ سال اور بیت جائیں گے۔ اور برسر اقتدار سیاستدانوں کے بینک بیلنسز اور عوام کی ‏غربت میں اور زیادہ اضافہ ہو چکا ہوگا۔ اور پھرنۓ الکیشن کے نتیجے میں پرانے شکاری نۓ کشکول کے ساتھ دوبارہ اقتدار کے ایوانوں میں پہنچ جائیں گے۔ کیونکہ ہمارے یہاں تو سیاستدانوں کی باریاں لگی ہوئیں ہیں۔ کہ ایک بار تم اور ایک بار ہم۔ اور دوبارہ وہی پرانا کھیل شروع ہو جاۓ گا۔ کشکول توڑ دیں گے، عوام کی حالت بدل ڈالیں گے، ہر طرف خوشحالی کا دور دورہ ہوگآ، بجلی اور پیٹرول سستا کردیں گے۔ اور،،، اور،،،، اور،،،،،، اور سیاست زدہ باد، کشکول زندہ باد

    Latest news, Breaking News | Daily Jang
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں