خودی

ساجد تاج نے 'حُسنِ کلام' میں ‏اکتوبر، 25, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,756
    خودی


    داستانِ غم سنانے کی عادت نہیں ہے مجھے
    ہر بات کو دہرانے کی عادت نہیں ہے مجھے

    میں خود سے کر لیتا ہوں شکایتیں اپنی
    مُنہ ہر بات پہ بنانے کی عادت نہیں ہے مجھے

    پہلے ہی سب لوگ دُکھ اٹھائے پھرتے ہیں
    جَلوں کہ دل جلانے کی عادت نہیں ہے مجھے

    جو بند کر لیتا ہے در دیکھ کر مجھ کو اکثر
    در پہ اُن کے جانے کی عادت نہیں‌ہے مجھے

    جو پھیر لیتا ہے منہ اپنا دیکھ کر مجھ کو
    پھر اُس کو بلانے کی عادت نہیں ہے مجھے

    جس کو پرواہ نہیں‌کسی اپنے یا غیر کی بھی
    اُسے دُکھ اپنے بتانے کی عادت نہیں ہے مجھے

    نہیں کرتا گر یقین کوئی میرے بات کا
    یقین اُس کو دلانے کی عادت نہیں ہے مجھے

    میں‌اپنے ضبط کا مشکور رہتا ہوں ہمیشہ
    بس ہاتھ ہی پھیلانے کی عادت نہیں ہے مجھے

    جب کرتا نہیں ہے میرے سچ پہ یقیں کوئی تو
    قسمیں اللہ کی کھانے کی عادت نہیں ہے مجھے

    میں اپنی ذات میں‌رکھتا ہوں اللہ کی ذات کو
    راہِ کُفر کو اپنانے کی عادت نہیں‌ہے مجھے

    بے عیب تو صرف اللہ کی ذات ہے فرازی
    پردہ کسی کے عیب سے اٹھانے کی عادت نہیں ہے مجھے


    کتاب : حیاتِ بشر
    شاعر : اورنگ زیب فرازی

     
  2. Ishauq

    Ishauq -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 2, 2012
    پیغامات:
    9,612
    یه اچهی بات هے.
     
  3. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,756
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں