ادب اسلامی کیا ہے؟

عائشہ نے 'نقد و نظر' میں ‏نومبر 8, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    ادب اسلامی کیا ہے؟​
    اسلامی ادب صرف اس ادب کا نام نہیں جو گندگی سے پاک ہو ۔ غیر نجس ہو اور صاف ستھرا ہو ۔ بلکہ اسلا می ادب وہ ہے جو اسلام کے نظریہ پر مبنی ہو ۔ جن باتوں کو اسلام حق کہتا ہے مُسلم ادیب انہیں حق سمجھے اور دوسروں پر ظاہر کرے اور انہیں منوائے اور جو باتیں اسلام کے نزدیک باطل ہیں ، مسلمان ادیب انہیں جھوٹ سمجھیں ۔ ان کے جھوٹ ہونیکا اظہار کرے اور انہیں جھوٹ ثابت کرے اور اسلام جس نظامِ زندگی کو قائم کرنا چاہتا ہے مسلم ادیب اس کے لئے ادب کے دائرہ عمل میں سعی کرے۔

    علمی لٹریچر کا مقصد ذہنوں کو تیار کرنا ہوتا ہے ۔ لیکن ادب دلوں کو مسّخر کرکے انہیں حرکت پر آمادہ کرتا ہے ۔ اس لئے ادب کو موثر ہونا چاہئے ۔ اگر وہ قلوب کو متاثر نہیں کرتا اور ان میں جوش و ولولہ بھر کر انسانوں کو آمادہ حرکت نہیں کرتا تو و ہ بے روح اور بے جان ادب ہے۔ ادب کو موثر بنانے کے لئے سات چیزوں کی ضرورت ہے اور میں پاکستان کے مسلم ادیبوں سے کہوں گا کہ وہ ان چیزوں کو اپنائیں ۔
    ۱۔ ادب کو موثر بنانے والی پہلی چیز یہ ہے کہ ادب میں ابتذال نہ ہو ۔ مسلم ادیب اپنے آپ کومبتذل اور پامال راہوں سے بچاتے ہیں ۔ مسلم ادیب میں اپچ ہونی چاہئیے۔ اس کاذہن نئی راہیں نکال سکتا ہو ۔ جو ادیب پٹی ہوئی راہوں پر چلتے ہیں وہ لوگوں کو بہت جلد تھکادیتے ہیں ۔

    ۲۔ دوسری چیز یہ ہے کہ ادیب کی زبان عام فہم ہو ۔ وہ گنجلک زبان اور ایسے الفاظ استعمال نہ کرے جن سے ذہن آشنا نہ ہو ۔ یہ کمزور ی ان ادیبوں میں ہوتی ہیں جو غیر زبان میں پڑھتے اور سوچتے ہیں اور اپنی زبان میں ترجمہ کرتے ہیں ۔لیکن مناسب الفاظ نہ پاکر انہیں گھڑتے ہیں ۔ ایسے ادیبوں سے لوگوںکیذہن مانوس نہیں ہوتے اور وہ ایک اجنبیت سی محسوس کرتے ہیں۔ خدا کا شکر ہے کہ گمراہ ادیبوں کی بڑیتعداد اس مرض میں مبتلا ہے ۔ ورنہ ان کی زبان شیریں اور عام فہم ہوتی تو وہ بہت زیادہ لوگوں کو گمراہ کرنے میں کامیاب ہوتے۔خدا سے دعا کرتا ہوں کہ اسلامی ادیبوں کے اندر یہ صفات پیدا ہو۔

    ۳۔ ادب کو موثر بنانے والی تیسری چیز پختگئی فکر ہے ۔ مسلم ادیب کو اَ دھ کچرے خیال ظاہر نہیں کرنے چاہئیں ۔بلکہ انہیں اپنی فکر خوب اچھی طرح سلجھالینی چاہئے ۔سلجھی ہوئی فکر زبان اور اسلوب بیان میں کسی قسم کی پیچیدگی پیدا نہیں ہونے دیتی۔

    ۴۔ چوتھی چیز یہ ہے کہ ادیب کی معلومات وسیع ہوں ۔ اس کے بغیر ادیب نہ کوئی بات کہہ سکتا ہے ، نہ دوسرے لوگوںپر اثر ڈال سکتا ہے ۔ اس کا سینہ اتھلے کنوئیں کی طرح ہوتا ہے جس کا ذخیرہ بہت جلد ختم ہوجاتا ہے ۔ ادیب کی معلومات جس قدر وسیع ہوںگی اتنی ہی موثر بات وہ کہہ سکے گا ۔ اس لئے اسلامی ادیبوں کو تاریخ فلسفے وغیرہ کا گہرامطالعہ کرنا چاہئے۔

    ۵۔ پانچویں ضروری بات ادیب کی قوت استدلال ہے۔ جس طرح علمی مضامین میں استدلال سے کام لینا پڑتا ہے ۔ اسی طرح ایک ادیب اور شاعر کو بھی استدلال کی ضرورت پڑ تی ہے۔ لیکن ادیب اور شاعر کا انداز استدلال منطقی ہونے کے بجائے شیریں اور دلکش ہوتا ہے۔ اسی استدلال ہی سے وہ قاری سے اپنی بات منوالیا کرتا ہے۔ استدلال کے بغیر ادب موثر نہیں ہوتا۔
    ۔چھٹی چیز یہ ہے کہ ادیب میں خلوص ہو ۔ جو ادیب مخلص ہوتا ہے۔ اُس کے الفاظ اس کے احساسات اور خیالات کے عین مطابق ہوتے ہیں ۔ اگر وہ اپنے احساسات کے خلاف کہنا بھی چاہے تو اس کی زبان اور قلم اس کا ساتھ نہیں دیتے ۔ مسلم ادیب حقیقی جذبات اور احساسات کے مطابق زبان اور قلم سے کام لیتا ہے ۔ جس سے اس میں بے پناہ طاقت پیدا ہوجاتی ہے۔

    ۷۔ ساتویں اور آخری چیز یہ ہے کہ ادیب کی زندگی اس کے خیالات کے مطابق ہو۔ جو لوگ کہتے کچھ اور کرتے کچھ ہیں ۔ میرے نزدیک ان سے زیادہ فضول آدمی کوئی نہیں ۔ ایسے لوگوں نے دنیا میں کوئی کام نہیں کیا۔
    سیرت و کردار ہی بیان اور قلم میں زور پیدا کرتا ہے ۔ کردار سے خالی محض گفتار بے اثر چیز ہے ۔ کوئی اسلامی ادیب اس ابوالفضول میں مبتلانہیں ہوسکتا۔
    ’’میں اس نظریے کا قا ئل ہوں کہ ہر خیال اپنے ساتھ خود الفاظ لاتا ہے ۔ اور ہر خیال کو ادا کرنے کے لئے سب سے زیادہ موزوں وہی الفاظ ہیں ، جو اس خیال کیساتھ خود بخود چلے آتے ہیں ۔ لہذا ہمیں صرف مضمون سوچنا چاہئے ۔ باقی رہے الفاظ ، تو ان کے الفاظ میں الجھنے کی ضرورت نہیں ، وہ آپ سے آپ مضمون کے ساتھ آجائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ مجھے جب کبھی کچھ لکھنا پڑتا ہے تو اپنی تمام تر کوشش صرف خیالات کو مجتمع کرنے اور دلائل و شواہد اور مواد فراہم کرنے میں صرف کرتا ہوں اور جب دماغ میں مضمون مرتّب ہوجاتا ہے تو پھر اسے کاغذ پر منتقل کرنے میں کچھ زیادہ دیر نہیں لگتی ۔ الفاظ کے انتخاب میں میری بے اعتناعی کچھ ایسی بڑھی ہوئی ہے کہ اکثر و بیشتر میں لکھنے کے بعدنظر ثانی بھی نہیں کرتا ۔ الاّ یہ کہ کوئی خاص ذمہ داری کی تحریر لکھنا ہو۔،،
    ’’ابوالاعلیٰ مودودی‘‘
    بشکریہ ادارہ ادب اسلامی ہند
    ::: Welcome to IDARE-ADBI ISLAMI HIND :::
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  2. عفراء

    عفراء webmaster

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2012
    پیغامات:
    3,918
    جزاک اللہ خیرا۔ بہت عمدہ مضمون ہے۔
    اور اس کی تو کیا ہی بات ہے۔
     
  3. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    وایاک، مضمون تو بے شک بہت اچھا ہے ۔
    اب تو اسلامی ادب کی تعریف یہ ہے کہ جو جماعت اسلامی کے نظریاتی دائرے میں تخلیق ہو ۔ اگر جماعتی حلقوں سے باہر کوئی اسلامی ادب تخلیق ہو رہا ہو تو ادارہ ادب اسلامی کے نزدیک وہ کسی شمار قطار میں نہیں ہوتا ۔
    کاش کہ ہم ایسا مرکزی ادارہ بنا سکیں جہاں ہر قسم کے اسلامی ادب یا مائل بہ اسلام ادب تخلیق کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کی جا سکے ، لیکن اس کے لیے سب کو اپنے خول سے باہر نکلنا اور بڑے ظرف کا مظاہر ہ کرنا پڑے گا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. ام محمد

    ام محمد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 1, 2012
    پیغامات:
    3,120
    جزاک اللہ خیرا
     
  5. عفراء

    عفراء webmaster

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2012
    پیغامات:
    3,918
    یہ مسئلہ صرف جماعتی حلقوں کا نہیں ہے۔ تعصب بلاامتیاز جماعت سبھی میں بقدر طبیعت موجود ہوتا ہے !
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  6. انا

    انا -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 4, 2014
    پیغامات:
    1,400
    سکول میں ضعیف اور موضوع روایات پڑھنے والے بچے ، کالج کے زمانے میں غالب ، میر تقی میر کی غم اور عشق میں ڈوبی ہوئی غزلوں کی تشریح کریں گے تو اسلامی ادب کی باتیں کہاں سمجھ آئیں گی۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  7. عفراء

    عفراء webmaster

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2012
    پیغامات:
    3,918
    بجا فرمایا آپ نے۔
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں