محرم الحرام میں امن کا خواب ۔ حکام سے حقیقت پسندانہ سوالات

عائشہ نے 'اركان مجلس كے مضامين' میں ‏نومبر 16, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    راولپنڈی کے انتہائی الم ناک واقعے کی تفصیلات جان کر ذہن میں چند سوالا ت اٹھتے ہیں:
    ا۔ مذاہب عالم کا ادنی طالب علم بھی یہ جانتا ہے کہ محرم الحرام کا ماتمی جلوس شیعہ مذہب کی لازمی یا فرض عبادت نہیں، نہ ہی شہادت حضرت حسینؓ کے بعد اہل بیت کے کسی فرد نے ایسا کیا ، یہ اس واقعے کے سینکڑوں سال بعد ایجاد کیا گیا ۔ اس کے نام پر پورے ملک کو یرغمال بنانا ، کاروبار اور راستے بند کرنا کون سا مذہب ہے ؟
    ۲۔ اہل سنت علما ء کی اکثریت ملک میں امن کی صورت حال کے سبب نماز عید جیسی فرض عبادت کے اجتماعات عید گاہوں کی بجائے مساجد میں کر لیتے ہیں ، یہ اہل اسلام کے حسن تدبر ہے ۔ آخر شیعہ ماتمی اجتماعات کو امام بارگاہوں تک کیوں محدود نہیں کیا جا سکتا ؟ جو نہ فرض ہیں نہ نفل؟ بلکہ اللہ کی بدترین نافرمانی ہیں جس کو خوشی کے وقت راگ باجے اور غم کے وقت نوحے کی آواز سخت ناپسند ہے ۔ اور یہ ماتمی اللہ کے حرمت والے مہینے میں اس کے ناپسندیدہ ترین کام کھلے عام کرتے ہیں ۔ماتم و نوحے کا یہ عذا ب ہے جو ان کے کرتوتوں کے باعث ان پر مسلط ہے ۔ کیا یہ لوگ نہیں جانتے کہ زخموں سے چور چور بدن کے ساتھ حضرت حسین ؓ نے اپنی بہن کو کیا وصیت کی تھی کہ ان کے بعدماتم، نوحہ اور بین نہ کریں ؟ یہ لوگ اس وصیت کے آئینے میں خود کو دیکھیں یہ محبان حسینؓ ہیں یا ان کے نافرمان؟ رضی اللہ عنہ وارضاہ ۔
    ۲۔اگریہ بدعتی جلوس نکالنے کی اتنی ہی آفت آ ن پڑی ہے تو
    ۱۔انتظامیہ جلوس کا ایسا راستہ کیوں منتخب نہیں کرتی جس میں کسی دوسرے مسلک کی عبادت گاہ نہ آتی ہو؟
    ب۔ اور اگر ایسا راستہ اختیار کیا گیا تھا تو اس بڑی اور قدیم مسجد کی حفاظت کا فول پروف انتظام کیوں نہیں کیا گیا؟
    ج۔ اگر اتنی نفری موجود نہیں تھی تو جلوس کو اس راستے پر چلنے کی اجازت کیوں دی گئی ؟
    درحقیقت یہ سنگین انتظامی غفلت ہے جس کے سبب قیمتی جانیں اور املاک ضائع ہو گئیں ۔
    ۳۔اس ماتمی جلوس کا اہتمام اور قیادت کرنے والے شیعہ مذہبی رہنما اس فساد کے مجرم ہیں ، اگر وہ اپنے جلوس کو قابو میں نہیں رکھ سکتے تھے تو انہوں نے قیادت قبول کیوں کی؟ ان کے زیر نگرانی چلنے والے جلوس نے مسجد اور ملحقہ علاقے میں لوٹ مار اور جانی نقصان کیا ۔ فرقہ واریت کی دہائی دے کر ان کے جرم کو چھپایا نہیں جا سکتا ۔ ان کو گرفتار کرکے سزا دینا حکومت کی ذمہ داری ہے ۔ اگر یہ ذمہ داری غیر جانب داری سے ادا نہ کی گٗئی تو نفرت کے شعلے مزید بلند ہوں گے ۔
    ۴-انتظامیہ ان فسادات کی قصور وار ہے جس نے محرم الحرام میں ماتمی جلوس کے نام پر مقامی تیار کردہ ہتھیار لے کر چلنے کی اجازت دی ۔ بظاہر ماتم کے لیے ساتھ لیے گئے یہ ہتھیار انہی فسادات کے لیے ساتھ رکھے جاتے ہیں ۔ اور انتظامیہ اور میڈیا کی خاموش مجرمانہ ہے ۔ ملک بھر میں تمام پرائیویٹ آرمیوں اور سیاسی و مذہبی جماعتوں کے مسلح جتھوں کو چھوٹ دینے کا یہی رویہ ہمارے پیارے وطن کو شعلوں میں دھکیل رہا ہے ۔
    ۵۔ مساجد کے لاوڈ سپیکرز پر ہر وقت بحث کرنے والوں کو امام بارگاہوں کے لاوڈ سپیکروں سے اگلا جانے والا زہر کیوں سنائی نہیں دیتا؟ اس فتنے کے سد باب کا بھی سوچیے ۔
    ۶- عاشور اکے ماتمی جلوس کے نام پر ۷ تاریخ کی شام سے ہی لوگوں کو گھروں میں بند کر دینا ، راستوں میں رکاوٹیں کھڑی کرنا، اور لاوڈ سپیکر پر کی جانے والے بکواس سننے پر مجبور کر دینا کس مذہبی فریضے کی ادائیگی ہے ؟
    ۷۔ ماتمی اجتماع کے نام پر دور دراز سے بلوائیوں کے جتھوں کے امام بارگاہوں میں آ کر جمع ہونے پر پابندی لگائی جائے ۔ امام بارگاہ میں صرف مقامی ذاکر اور مقامی سامعین کو تقریبات کی اجازت ہونی چاہیے۔
    افسوس ہمارے پیارے وطن میں حرمت والے مہینے میں انتہائی شرپسند فسادی گروہ کو بے مقصد جلوس نکالنے کی اجازت دی جاتی ہے جو ان کے مذہب کی کوئی اہم اور لازمی رسم نہیں ، یہ لوگ اپنے ماتمی جلوسوں میں دور دراز سے جرائم پیشہ، بدمعاش لوگوں کے جتھے جمع کر لیتے ہیں ، ماتمی ہتھیاروں کے نام پر فساد کے لیے ان کے پاس ہر قسم کا ہتھیار موجود ہوتا ہے اور دوسرے مسلک کی مسجدوں کے پاس سے گزرتے ہوئے لاوڈ سپیکر پر مقدس ہستیوں کی توہین کرتے ہیں ۔
    ۹ اور ۱۰ تاریخ کے نام پر ۷ اور ۸ تاریخ سے ہی لوگوں کے راستے بند کر کے ان کو تکلیف دی جاتی ہے ۔ پھر ۹ اور ۱۰ کا سارا دن ان کے لاوڈسپیکر زہر اگلتے ہیں اور لوگ صبر کے گھونٹ پی کر خاموش رہتے ہیں ۔ ہمارے ملک کا میڈیا اتنا بے وقوف نہیں ہے کہ اسے یہ سب حقائق بھی نہ معلوم ہوں جو یہاں ہر امام باڑے کے آس پاس رہنے والے بچے بچے کو معلوم ہے مسئلہ میڈیا مالکان کا ہے جو مل کر اپنے پروپیگنڈے کے زور پر اس کو دوسرا رنگ دینا چاہ رہے ہیں ، ان کی نجس دُم کس کی فرماں برداری میں ہل رہی ہے صاف ظاہر ہے ، اہل صحافت میں کس کا کیا نسب نامہ ہے ہر صاحب نظر کو معلوم ہے ۔آخر ایرانی مجوسیوں کے ہاتھوں اس ملک کی سنی اکثریت کب تک یرغمال بنی رہے گی ؟
    یہ کیسا انصاف ہے کہ کچھ لوگ ایک مسجد تک جلوس لا کر حملہ کرتے ہیں ، اس میں موجود لوگوں کو قتل کر دیتے ہیں ملحقہ املاک کا شدید نقصان کرتے ہیں اور اب بھی ملک کے میڈیا سے لے کر انتظامیہ تک اسے فرقہ واریت اور مذہبی انتہا پسندی کا رنگ دے رہے ہیں ؟ میڈیا جس میں ان ماتمی کووں کے پیشہ ور نوحہ گر ساتھی وافر مقدار میں موجود ہیں ۔ یہ فرقہ واریت نہیں ہے ۔ یہ انتظامیہ کی احمقانہ غفلت اور ایک شر پسند فسادی گروہ کی بڑھتی ہوئی جرات کا نتیجہ ہے ۔
    راولپنڈی کا تازہ واقعہ انتہائی الم ناک ہے ۔ لیکن اس کو صرف مذہبی انتہا پسندی کا نام دے کر مساجد اور علماء پر کریک ڈاون کرنے کے خواب دیکھنے والے معاملے کو مزید بگاڑیں گے۔ مسجد اور عالم کو دشنام دینے کا تماشہ بہت ہو چکا ، اب امن کی تلقین کرنے والوں کے خطاب کا رخ امام بارگاہوں سے نکلنے والے مسلح بدمعاشوں اور غنڈوں کے جلوسوں اور زہریلا کف اڑاتے دریدہ دہن ذاکروں کی طرف ہونا چاہیے ۔
    اگر انتطامیہ ان سوالات کا حقیقت پسندانہ جائزہ نہیں لیتی تو محرم الحرام جیسے حرمت والے مہینے میں امن کے خواب دیکھنا ناممکن ہے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    نااہلیت کا اس سے بڑھ کراورکیا ثبوت ہوگا کہ ایسٹیبلشمنٹ کے شہرمیں یہ سب ہوا
     
  3. طالب علم

    طالب علم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2007
    پیغامات:
    960
    جب تک اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دی جاتی رہیں گی، امن کا خواب محض خواب ہی رہے گا۔
    یہ شیعہ اقلیت ہیں ان کو ان کے 'ایمان بگاڑوں' تک ہی محدود رکھا جائے،
    لیکن یہ خواہش محض خواہش ہی رہے گی کیونکہ عاشورہ کا 'پرامن' اختتام ہو چکا بقول میڈیا و گورنمنٹ

    رات گئی بات گئی۔
    یہ خون خاک نشیناں تھا، رزق خاک ہوا

    اسلام زندہ ہوتا ہے ہر 'کربلا' کے بعد
     
  4. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,329
    بہت خوب
    صحافت میں فلمی دنیا کی مقبول عام سیدانیوں کے متعہ زادے اینکر اور کالم نگار بن گئے ہیں ۔ یہ مولویوں کا جھوٹا سچا مذاق اڑائیں گےاپنے چینل پر سر عام تاریخی ہستیوں کی توہین کریں گے اپنے ذاکروں اور ذاکرنیوں کے کالے کرتوت نہیں سنائیں گے ۔کبھی سنا ہے کسی چینل پر کسی ذاکر کا لطیفہ سنایا گیا ہو ؟
    اس ملک میں تھانے بکتے ہیں چینل بکتے ہیں اینکر اور کالم نگار بکتے ہیں حالات حاضرہ کے تجزئیے بکتے ہیں
    سپاہ صحابہؓ ایک دن میں نہیں بنی تھی
    وقت کرتا ہے پرورش برسوں
    حادثہ ایک دم نہیں ہوتا ​
     
  5. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    پوائنٹ ٹو بی نوٹڈ
     
  6. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    ان لوگوں کو تاریخی مقدس ہستیوں پر فلم اور ڈرامے بنانے میں بھی اسی لیے دل چسپی ہے کہ یہ اپنے اعمال نامے کی سیاہیاں دوسروں پر اچھال سکیں ، لیکن سچ کی اصل طاقت یہی ہے کہ وہ سچ ہوتا ہے اور جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے ۔
     
  7. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,329
    لو جی کچھ اور سوال جو اندھے میڈیا کو نظر نہیں آ رہے
    رافضی انٹرنیٹ پر لکھ رہے ہیں کہ سپاہ صحابہ والوں نے جلوس میں گھس کر فساد کروایا۔ بی بی سی کو تکلیف ہے مولوی صاحب کی تقریر شیعہ کے خلاف تھی ۔ بی بی سی کو یہ بھی مروڑ اٹھ رہا ہے کہ یہ مسجد جس دیوبندی گروپ کی ہے اسی سے تحریک طالبان پاکستان کا ملا فضل اللہ بھی تعلق رکھتا ہے ۔
    اجمل صاحب نے ساری باتوں کی ایک بات کر دی ہے
    اس طرح میڈیا کے میسنے فیشن ایبل جھوٹوں کے منہ پر اللہ کی لعنت پڑتی ہے ۔
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں