حکیم اللہ محسود شہید ؟

Amir Nawaz Khan نے 'اركان مجلس كے مضامين' میں ‏نومبر 27, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. Amir Nawaz Khan

    Amir Nawaz Khan -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏فروری 4, 2012
    پیغامات:
    111
    حکیم اللہ محسود شہید ؟

    شہادت ایک عظیم رتبہ اور بہت بڑا مقام ہے جو قسمت والوں کو ملتا ہے. شہادت کا مقام نبوت کے مقام سے تیسرے درجے پر ہے. اسلام میں شہادت فی سبیل اللہ کو وہ مقام حاصل ہے کہ کوئی بڑے سے بڑا عمل بھی اس کی گرد کو نہیں پاسکتا۔
    فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا (سورہ النساء ۔ 69)
    تو ایسے اشخاص بھی ان حضرات کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ تعالی نے انعام فرمایا یعنی انبیاء اور صدیقین اور شہداء اور صالحین اور یہ حضرات بہت اچھے رفیق ہیں۔
    اس آیت کریمہ میں راہِ خدا کے جانباز شہیدوں کو انبیاء و صدیقین کے بعد تیسرا مرتبہ عطا کیا گیا ہےمگر آجکل لفظ شہید کا استعمال سیاسی و دوسرے مقاصد کے کےلئے بھی مستعمل ہے۔ شہید کی اصطلاح بر صغیر ہند و پاک میں سب سے زیادہ غلط استعمال ہونے والی اصطلاح بن کر رہ گئی ہے کیونکہ معاشرہ کا ہرفرد و طبقہ ، اس اصطلاح کو اپنے ، اپنے مفاد و مقاصد کےلئے استعمال کر کے لوگوں کے جذبات سے کھیلنے کی کو شش کر رہے رہے ہیں۔ اور تو اور ، تحریک طالبان پاکستان ،حکیم اللہ محسود کو بھی جس کے ہاتھ بے گناہ اور مؑعصوم مسلمان مردوں،عورتوں اور بچوں کے خون سے سرخ ہیں ، شہید قرار دیتی ہے۔
    شہید کا لغوی معنی ہے = گواہ، کِسی کام کا مشاہدہ کرنے والا۔
    اور اسلامی شریعت میں اِس کا مفہوم کچھ یوں ہے - اللہ تعالی کے دِین کی خدمت کرتے ہوئے اپنی جان قُربان کرنے والا، میدانِ جِہاد میں لڑتے ہوئے یا جِہاد کی راہ میں گامزن یا دِین کی دعوت و تبلیغ میں، اور جِس موت کو شہادت کی موت قرار دِیا گیا ہے اُن میں سے کوئی موت پانے والا.
    رسول مُحمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی اُمت پر اللہ تعالٰی کی خصوصی رحمتوں میں سے ایک احسان یہ بھی ہے کہ سابقہ اُمتوں کے شہیدوں کی طرح اُمتِ مُحمدیہ میں درجہِ شہادت پر صِرف اللہ کی راہ میں لڑتے ہوئے قتل ہونے والوں تک ہی محدود نہیں رکھا بلکہ دوسروں کو بھی اِس درجہ پر فائزفرمایا ہے .
    شہید ہونے والے مجاہدین کی شان میں اللہ تبارک و تعالیٰ سورۃ آل عمران کی آیت نمبر 169 اور 170 میں ارشاد فرماتا ہے:
    “اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے گئے ہیں، انہیں تم مردے نہ سمجھو، بلکہ وہ زندہ ہیں، اپنے رب کے پاس سے روزی دیے جاتے ہیں۔ اللہ نے انہیں اپنا فضل دیا ہے، وہ اس سے خوش ہیں”
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ انسانوں میں افضل کون ہے؟ تو فرمایا:
    ”وہ مومن (افضل) ہے جو اپنی جان و مال کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کرے، پھر وہ مومن جو کسی پہاڑ میں اللہ کی عبادت کرے اور لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھے” (صحیح بخاری و صحیح مسلم(
    حضرات غور فرمائیے کہ اس آیت مبارکہ میں جس بات پر زور دیا گیا ہے وہ “اللہ کی راہ” ہے۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی تفسیر دریافت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    “ارواحھم فی جوف طیر خضر لھا قنادیل معلقة بالعرش تسرح من الجنة حیث شائت ثم تأوی الٰی تلک القنادیل فاطلع الیھم ربھم اطلاعةً فقال: ھل تشتھون شیئًا؟ قالوا: ایَّ شیءٍ نشتھی ونحن نسرح من الجنة حیث شئنا؟ ففعل ذٰلک بھم ثلاث مرّات، فلما راوٴا انّھم لن یترکوا من ان یسألوا، قالوا: یا رَبّ! نرید ان ترد ارواحنا فی اجسادنا حتّٰی نقتل فی سبیلک، فلمّا رأی ان لیس لھم حاجة ترکوا۔” (رواہ مسلم)
    ترجمہ:… “شہیدوں کی رُوحیں سبز پرندوں کے جوف میں سواری کرتی ہیں، ان کی قرارگاہ وہ قندیلیں ہیں جو عرشِ الٰہی سے آویزاں ہیں، وہ جنت میں جہاں چاہیں سیر و تفریح کرتی ہیں، پھر لوٹ کر انہی قندیلوں میں قرار پکڑتی ہیں، ایک بار ان کے پروردگار نے ان سے بالمشافہ خطاب کرتے ہوئے فرمایا: کیا تم کسی چیز کی خواہش رکھتے ہو؟ عرض کیا: ساری جنت ہمارے لئے مباح کردی گئی ہے، ہم جہاں چاہیں آئیں جائیں، اس کے بعد اب کیا خواہش باقی رہ سکتی ہے؟ حق تعالیٰ نے تین بار اصرار فرمایا (کہ اپنی کوئی چاہت تو ضرور بیان کرو)، جب انہوں نے دیکھا کہ کوئی نہ کوئی خواہش عرض کرنی ہی پڑے گی تو عرض کیا: اے پروردگار! ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہماری رُوحیں ہمارے جسموں میں دوبارہ لوٹادی جائیں، تاکہ ہم تیرے راستے میں ایک بار پھر جامِ شہادت نوش کریں۔ اللہ تعالیٰ کا مقصد یہ ظاہر کرنا تھا کہ اب ان کی کوئی خواہش باقی نہیں، چنانچہ جب یہ ظاہر ہوگیا تو ان کو چھوڑ دیا گیا۔”
    جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی راہ میں قتل ہونے والوں کے علاوہ یہ بھی شہید ہیں:
    1.مطعون شہید ہے۔
    2 .ڈوبنے والا شہید ہے۔
    3 .زات الجنب (پیٹ کی بیماری) سے مرنے والا شہید ہے۔
    4. جل کر مرنے والا شہید ہے۔
    5 .ملبے تلے دب کر مرنے والا شہید ہے۔
    6 .حمل کی حالت میں مرنے والی عورت شہید ہے۔
    سُنن ابو داؤد حدیث ٣١١١/ کتاب الخراج و الامارۃ و الفيء / اول کتاب الجنائز /باب ١٥ ، مؤطا مالک ، حدیث /کتاب الجنائز /باب ١٢ا
    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
    “لو لا ان اشق علٰی أُمّتی، ما قعدت خلف سریّةٍ، ولوددت انی أُقتل ثم أُحیٰی ثم أُقتل ثم أُحیٰی ثم أُقتل۔” (اخرجہ البخاری فی عدة ابواب من کتاب الایمان والجھاد وغیرھا فی حدیث طویل)
    ترجمہ:… “اگر یہ خطرہ نہ ہوتا کہ میری اُمت کو مشقت لاحق ہوگی تو میں کسی مجاہد دستے سے پیچھے نہ رہتا، اور میری دِلی آرزو یہ ہے کہ میں راہِ خدا میں قتل کیا جاوٴں پھر زندہ کیا جاوٴں، پھر قتل کیا جاوٴں پھر زندہ کیا جاوٴں اور پھر قتل کیا جاوٴں۔”
    حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
    “ما من احد یدخل الجنة یحب ان یرجع الی الدنیا ولہ ما فی الأرض من شیء الا الشھید یتمنی ان یرجع الی الدنیا فیقتل عشر مرات لما یری من الکرامة۔”
    (اخرجہ البخاری فی باب تمنی المجاھد ان یرجع الی الدنیا، ومسلم)
    ترجمہ:… “کوئی شخص جو جنت میں داخل ہوجائے، یہ نہیں چاہتا کہ وہ دُنیا میں واپس جائے اور اسے زمین کی کوئی بڑی سے بڑی نعمت مل جائے، البتہ شہید یہ تمنا ضرور رکھتا ہے کہ وہ دس مرتبہ دُنیا میں جائے پھر راہِ خدا میں شہید ہوجائے، کیونکہ وہ شہادت پر ملنے والے انعامات اور نوازشوں کو دیکھتا ہے۔”
    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
    “لا یکلم احد فی سبیل الله - والله اعلم بمن یکلم فی سبیلہ - الا جاء یوم القیامة وجرحہ یثعب دمًا، اللون لون الدم والریح ریح المسک۔” (رواہ البخاری ومسلم)
    ترجمہ: “جو شخص بھی اللہ کی راہ میں زخمی ہو - اور اللہ ہی جانتا ہے کہ کون اس کی راہ میں زخمی ہوتا ہے - وہ قیامت کے دن اس حالت میں آئے گا کہ اس کے زخم سے خون کا فوارہ بہ رہا ہوگا، رنگ خون کا اور خوشبو کستوری کی۔”
    حضرت مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
    ’للشھید عند الله ست خصال: یغفر لہ فی اوّل دفعة ویری مقعدہ من الجنة ویجار من عذاب القبر ویأمن من الفزع الأکبر ویوضع علٰی رأسہ تاج الوقار، الیاقوتة منھا خیر من الدنیا وما فیھا، ویزوّج ثنتین وسبعین زوجةً من الحور العین، ویشفع فی سبعین من اقربائہ۔” (رواہ الترمذی وابن ماجة ومثلہ عند احمد والطبرانی من حدیث عبادة بن الصامت)
    ترجمہ: “اللہ تعالیٰ کے ہاں شہید کے لئے چھ اِنعام ہیں:
    ۱:… اوّلِ وہلہ میں اس کی بخشش ہوجاتی ہے۔
    ۲:… (موت کے وقت) جنت میں اپنا ٹھکانا دیکھ لیتا ہے۔
    ۳:… عذابِ قبر سے محفوظ اور قیامت کے فزعِ اکبر سے مأمون ہوتا ہے۔
    ۴:… اس کے سر پر “وقار کا تاج” رکھا جاتا ہے، جس کا ایک نگینہ دُنیا اور دُنیا کی ساری چیزوں سے بہتر ہے۔
    ۵:… جنت کی بہتر۷۲ حوروں سے اس کا بیاہ ہوتا ہے۔
    ۶:… اور اس کے ستر۷۰ عزیزوں کے حق میں اس کی شفاعت قبول کی جاتی ہے۔”
    شہید کی کئی قسمیں ہیں، ان میں سب سے عالی مرتبہ وہ شہید ہے جو اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی اور اللہ کی بات کو اُونچا کرنے کے لئے میدانِ جنگ میں کافروں کے ہاتھوں قتل ہوجائے، اس کے علاوہ اپنے دِین کی حفاظت کرتے ہوئے جو قتل ہوجائے وہ بھی شہید ہے، جو شخص اپنی جان کی حفاظت کرتے ہوئے قتل ہوجائے وہ بھی شہید ہے، اور جو شخص اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے قتل ہوجائے وہ بھی شہید ہے، جیسا کہ سعد بن زید رضی اللہ عنہ کی روایت سے نسائی، ابوداوٴد اور ترمذی میں حدیث موجود ہے۔
    اِمام بخاری اور اِمام مسلم نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: “پانچ آدمی شہید ہیں، جو طاعون سے مرے، جو پیٹ کی بیماری سے مرے، جو پانی میں غرق ہوجائے، جو مکان گرنے سے مر جائے اور جو اللہ کے راستے میں شہید ہوجائے۔”
    حضرت جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: “اللہ کے راستے میں قتل ہونے کے علاوہ سات قسم کی موتیں شہادت ہیں، طاعون سے مرنے والا شہید ہے، ڈُوب کر مرنے والا شہید ہے، نمونیہ کے مرض سے مرنے والا شہید ہے، پیٹ کی بیماری سے مرنے والا شہید ہے، جل کر مرنے والا شہید ہے، دیوار کے نیچے دَب کر مرنے والا شہید ہے، جو عورت حمل یا ولادت میں انتقال کرجائے وہ شہید ہے۔”
    (یہ حدیث اِمام مالک، ابوداوٴد اور نسائی  نے روایت کی ہے)
    نسائی شریف میں حضرت سوید بن مقرن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: “جو شخص ظلم سے مدافعت کرتے ہوئے مارا جائے وہ شہید ہے۔”
    ترمذی شریف میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ: “شہید چار قسم کے ہیں، ایک وہ شخص جس کا ایمان نہایت عمدہ اور پختہ تھا، اس کا دُشمن سے مقابلہ ہوا، اس نے اللہ کے وعدوں کی تصدیق کرتے ہوئے دادِ شجاعت دی یہاں تک کہ قتل ہوگیا، یہ شخص اتنے بلند مرتبے میں ہوگا کہ قیامت کے روز لوگ اس کی طرف یوں نظر اُٹھاکر دیکھیں گے، یہ فرماتے ہوئے آپ نے سر اُوپر اُٹھایا یہاں تک کہ آپ کی ٹوپی سر سے گرگئی، (راوی کہتے ہیں کہ: مجھے معلوم نہیں کہ اس سے حضرت عمر کی ٹوپی مراد ہے یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی)۔ فرمایا: دُوسرا وہ موٴمن آدمی جس کا ایمان نہایت پختہ تھا، دُشمن سے اس کا مقابلہ ہوا مگر حوصلہ کم تھا، اس لئے مقابلے کے وقت اسے ایسا محسوس ہوا گویا خاردار جھاڑی کے کانٹے اس کے جسم میں چبھ گئے ہوں، (یعنی دِل کانپ گیا اور رونگٹے کھڑے ہوگئے) تاہم کسی نامعلوم جانب سے تیر آکر اس کے جسم میں پیوست ہوگیا، اور وہ شہید ہوگیا، یہ دُوسرے مرتبے میں ہوگا۔ تیسرے وہ موٴمن آدمی جس نے اچھے اعمال کے ساتھ کچھ بُرے اعمال کی آمیزش بھی کر رکھی تھی، دُشمن سے اس کا مقابلہ ہوا اور اس نے ایمان و یقین کے ساتھ خوب ڈَٹ کر مقابلہ کیا، حتیٰ کہ قتل ہوگیا، یہ تیسرے درجے میں ہوگا۔ چوتھے وہ موٴمن آدمی جس نے اپنے نفس پر (گناہوں سے) زیادتی کی تھی (یعنی نیکیاں کم اور گناہ زیادہ تھے) دُشمن سے اس کا مقابلہ ہوا اور اس نے خوب جم کر مقابلہ کیا یہاں تک کہ قتل ہوگیا، یہ چوتھے درجے میں ہوگا۔”
    شہید کا دُنیاوی حکم یہ ہے کہ اس کو غسل نہیں دیا جاتا اور نہ اس کے پہنے ہوئے کپڑے اُتارے جاتے ہیں، بلکہ بغیر غسل کے اس کے خون آلود کپڑوں سمیت اس کو کفن پہناکر (نمازِ جنازہ کے بعد) دفن کردیا جاتا ہے۔
    شہادت کا یہ حکم اس شخص کے لئے ہے جو: ۱-مسلمان ہو، ۲-عاقل ہو، ۳-بالغ ہو، ۴-وہ کافروں کے ہاتھوں سے مارا جائے یا میدانِ جنگ میں مرا ہوا پایا جائے اور اس کے بدن پر قتل کے نشانات ہوں، یا ڈاکووٴں یا چوروں نے اس کو قتل کردیا ہو، یا وہ اپنی مدافعت کرتے ہوئے مارا جائے، یا کسی مسلمان نے اس کو آلہٴ جارحہ کے ساتھ ظلماً قتل کیا ہو۔
    ۵-یہ شخص مندرجہ بالا صورتوں میں موقع پر ہلاک ہوگیا ہو اور اسے کچھ کھانے پینے کی، یا علاج معالجے کی، یا سونے کی، یا وصیت کرنے کی مہلت نہ ملی ہو، یا ہوش و حواس کی حالت میں اس پر نماز کا وقت نہ گزرا ہو۔
    ۶- اس پر پہلے سے غسل واجب نہ ہو۔
    سنی بریلوی مسلمانوں کی سب سے بڑی تنظیم ،پاکستان سنی اتحاد کونسل نے کہا ہے کہ حکیم اللہ محسود شہید نہیں قاتل اور مجرم ہے۔ مفتیان کرام سنی اتحاد کونسل کی جانب سے جاری اعلامیئے کے مطابق حکیم اللہ محسودکوشہیدقراردیناقرآن و سنّت کے منافی ہے.
    ایک حدیث رسول کے مطابق جس میں کہا گیا ہے کہ ”مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرا مسلمان محفوظ رہے. طالبان دہشت گردوں کے ہاتھوں پاکستان میں کون شخص یا طبقہ محفوظ ہے ؟
    ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین نے مفتیانِ کرام، جید علمائے دین اوراہل قلم ودانش سے سوال کیا کہ کیا پاکستان کے مسلح افواج اور پولیس کے افسران واہلکاروں،علمائے کرام اور ہزاروں معصوم وبے گناہ شہریوں کے سفاک قاتل ، امام بارگاہوں، بزرگان دین کے مزارات اور دیگرمذاہب کی عبادتگاہوں پر خودکش حملے کرنے والوں کوشہیدقراردیاجاسکتاہے؟ کیامساجد اورامام بارگاہوں میں اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مصروف کلمہ گومسلمانوں کودہشت گردی کانشانہ بنانے والوں کو شہید قرار دیا جا سکتا ہے؟ انھوں نے کہا کہ اگر ہزاروں معصوم وبے گناہ افرادکے قاتلوں کو شہید قرار دیا جا سکتا ہے توان کے ہاتھوں جاں بحق ہونے والے پچاس ہزار سے افسران واہلکاروں ، علمائے کرام اورعام شہریوں کوکیا قراردیاجائے گا؟
    کیا ایک فسادی جو ہنگامہ اور بلوہ کرتے ہوئے سیکیورٹی اہل کاروں کی گولی کا نشانہ بن جائے تو وہ بھی شہید ہو گا؟ یقینا نہیں۔
    حکیم اللہ محسود سب سے بڑا باغی تھا جس نے ریاست پاکستان کے خلاف بغاوت کا ارتکاب کیا اور عام شہریوں کے خلاف مسلح حملے کرنے کا حکم دیا۔ وہ ایک جنگی مجرم تھا اور شہید نہ ہے۔
    ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ 10 سالوں کے دوران پاکستان میں مختلف مذاہب اور فرقوں کی 54 عبادت گاہوں پر طالبان کے ہلاکت خیز حملوں میں 1 ہزار 1 سو 65 عبادت گزار جاں بحق اور 2 ہزار 9 سو کے قریب زخمی ہوئے۔ طالبان مسلمان نہیں ہیں کیونکہ کوئی مسلمان مسجد یا کسی دیگر مقدس مقام پر حملے اور بے گناہ افراد کو قتل کرنے کی جسارت نہیں کر سکتا۔
    حکیم اللہ محسود کے دورِ ظلم کے دوران مسجدوں، مزاروں، ہسپتالوں، مارکیٹوں، جنازوں، چرچوں، امام بارگاہوں، سرکاری دفتروں، تعلیمی اداروں، فوجیوں، پولیس اہل کاروں، معصوم بچیوں، دینی و سیاسی راہنماؤں پر سینکڑوں بے رحمانہ حملے کئے گئے، ان تمام حملوں کے ماسٹر مائینڈ حکیم اللہ محسود کو شہید قرار دینا ملک و قوم سے اور طالبان ظالمان کے ہاتھوں بے گناہ مرنے والوں کے خون سے غداری ہے۔ دہشت گرد اسلام اور پاکستان کے دشمن ہیں اور ان کو مسلمان تو کجا انسان کہنا بھی درست نہ ہے۔
    حکیم اللہ محسود وہ شخص ہے جس کے سرکی قیمت پانچ کروڑ روپے تھی، ایسے قومی مجرم کو شہید قرار دینا شہید کے جلیل القدر مقام اور مقام کی توہین ہے۔
    حکیم اللہ محسود کو شہید مان لیا جائے تو اُس کے حکم پر ہونے والے خودکش حملوں میں جاں بحق ہونے والوں اور قتل کئے جانے والے بے گناہ مسلمانوں کو کیا کہا جائے گا؟ حکیم اللہ محسود کو شہید قرار دینا ہزاروں بے گناہ پاکستانیوں اور فوج کے افسروں اور جوانوں کے خون سے زیادتی ہے۔
    حکیم اللہ محسود کی قیادت میں پاکستانی طالبان کی خونی کارروائیوں کی وجہ سے معاشرے کا امن تباہ، اسلام بدنام، پاکستان کمزور ہوا۔
    منہاج القرآن کے سربراہ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے کہا ہے کہ دین اسلام کے پانچ مسالک حنفی، مالکی، شافعی، حنبلی اور فقہ جعفریہ کا اس پر مکمل اتفاق ہے کہ اسلامی ریاست کے خلاف خروج کرکے مسلح جدوجہد کرنے والے غیر اسلامی عمل کے مرتکب ہوتے ہیں، تمام فقہی مسالک کے مطابق ایسا عمل بغاوت کے زمرے میں آتا ہے اور باغیوں کو کچلنا دینی حکم کے عین مطابق ہے۔ اسلامی ریاست کے خلاف منظم ہوکر طاقت کا استعمال قرآن و سنت کی رو سے بھی حرام ہے ایسے تمام اعمال کو بغاوت کہا جائے گا۔ اگر باغی نیک نیتی کے ساتھ تاویل بھی رکھتے ہوں تو بھی ریاست اسلامی کے خلاف مسلح جدوجہد کرنا غیر شرعی ہے عوام کی غالب اکثریت اسلامی ریاست کے حکمرانوں سے شدید نفرت کرتی ہو پھر بھی جمہوری جدوجہد کی جاسکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے خلاف بغاوت کرنے والے کو قطعاً شہید نہیں کہا جاسکتا ایسا کہنا دین کے عطا کردہ لفظ شہید کے ٹائٹل کے بارے میں ابہام پیدا کررہا ہے جس کی دین اجازت نہیں دیتا۔ قرآن و سنت نے قیامت تک کے لئے اصول وضع کردیے ہیں اور اسلامی اقدار کو بدلا نہیں جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کے دوران کسی غیر مسلح غیر مسلم کو بھی قتل کرنا منع ہے اس لئے بدلے میں اپنے ملک کی فوج اور نہتے شہریوں کو قتل نہیں کیا جاسکتا، باغیوں کو قتل کرنا اللہ اور رسول کا حکم اور صحابہ کرام کا عمل رہا ہے اس لئے بغاوت کرنے والے کو شہید کہنا اللہ اور رسول کے حکم کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔
    دہشت گرد ،اسلام کے نام پر غیر اسلامی و خلاف شریعہ حرکات کے مرتکب ہورہے ہیں اور اس طرح اسلام کو بدنام کر رہے ہیں۔
    طالبان اپنے علاوہ ہر دوسرے مسلمان کو واجب القتل سمجھتے ہیں۔ ایسے تکفیریوں اور خارجیوں کے سرغنہ کو شہید کہنا اللہ کے عذاب کو دعوت دینا ہے۔ پاکستانی طالبان کا طرز عمل اور طریقہ کار اسلامی جہاد کی شرائط کے منافی ہے۔ جنونی، انتہاء پسند فسادی گروہ کا سربراہ شہید نہیں بے رحم قاتل، اسلام کا باغی اور پاکستان کا غدار تھا۔
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں