تینوں خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کے بارے میں اہل بیت کا موقف

بابر تنویر نے 'غیر اسلامی افکار و نظریات' میں ‏جنوری 22, 2014 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. بابر تنویر

    بابر تنویر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,318
    تینوں خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کے بارے میں
    اہل بیت کا موقف

    محبت اہل بیت کے جھوٹے دعویدار وہ شیعہ حضرات جو اپنے مذہب کو اہلِ بیت کی طرف منسوب کرتے ہیں اور جن کا دعویٰ ہے کہ ہم لوگ اہلِ بیت کی اطاعت و پیروی کر رہے ہیں، درحقیقت کھلم کھلا ان کی مخالفت کر رہے ہیں۔ یہ حضرات صدیق و فاروق اور ذوالنورین رضی اللہ عنہم کے ساتھ انتہائی درجہ کا بغض اور عداوت رکھتے ہیں… ان مقدس حضرات کو گالیاں بکتے اور برا بھلا کہتے ہیں بلکہ بد زبانی کی انتہا یہ ہے کہ ان حضراتِ صحابہ رضی اللہ عنہ کو کافر و فاسق تک کہہ دیتے ہیں۔ ستم بالائے ستم یہ کہ اس فعلِ شنیع و مکروہ کو خدا کا پسندیدہ ترین عمل قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک اس سے زیادہ موجبِ اجر و ثواب کوئی فعل نہیں کہ ان حضرات کو گالیاں بکی جائیں اور برا بھلا کہا جائے۔ ان کی کوئی کتاب اور کوئی رسالہ آپ کو نہیں ملے گا جو گالیوں، بد زبانیوں اور طعن و تشنیع سے بھرپور نہ ہو، جس میں میری جان اور میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخلص ترین ساتھیوں پر کیچڑ نہ اچھالا گیا ہو۔ اللہ کا وہ رسول جو سب سے زیادہ متقی تھا اللہ کا سب سے پیارا تھا۔ اس کی شریعت کا لانے والا، اس کی ناموس و رسالت کا مبلغ، اس کا نمائندہ اور پسندیدہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ۔ اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لائق و متقی شاگردوں پر، جس سے امت کے بہترین لوگوں نے ہدایت پائی، یہ بد زبان طعن و تشنیع کے تیر برساتے ہیں۔ خدائے ستار و غفار ان مقدس صحابہ رضی اللہ عنہم پر راضی ہو۔
    دیکھیے ملا محمد کاظم اپنی کتاب میں روایت کرتا ہے:

    ’’ابو حمزہ ثمالی سے روایت ہے۔ یہ زین العابدین کے حوالہ سے جھوٹی بات کہہ رہا ہے کہ آپ نے کہا جس نے جبت (یعنی صدیق) اور طاغوت (یعنی فاروق) پر ایک دفعہ لعنت بھیجی اللہ اس کے لیے ستر لاکھ نیکیاں لکھتا ہے، ستر لاکھ گناہ اس کے دھو ڈالتا ہے، ستر لاکھ درجے اس کے بلند کرتا ہے۔ جس نے رات کو ان دونوں پر ایک دفعہ لعنت بھیجی اس کو بھی اتنا ہی ثواب ملتا ہے، ہمارے آقا علی بن حسین نے کہا ہے: میں اپنے آقا ابو جعفر محمد باقر کے پاس گیا، میں نے کہا اے میرے آقا کیا آپ کو وہ حدیث سناؤں جو میں نے اپنے والد سے سنی ہے، آپ نے کہا، سناؤ اے ثمالی، میں نے یہ حدیث انہیں سنائی، آپ کہنے لگے: ہاں اے ثمالی! مزید سننا چاہتے ہو؟ میں نے کہا کیوں نہیں میرے آقا، اس پر آپ نے کہا جس نے ان دونوں پر ہر صبح ایک دفعہ لعنت بھیجی اس دن رات ہونے تک اس کا کوئی گناہ نہیں لکھا جائے گا اور جس نے رات کو ان دونوں پر ہر صبح ایک دفعہ لعنت بھیجی، صبح ہونے تک اس کا کوئی گناہ نہیں لکھا جائے گا۔ کہتا ہے، پھر ابو جعفر چلے گئے اور میں اپنے آقا صادق کے پاس آگیا، میں نے کہا: ایک حدیث سناؤں جو میں نے آپ کے والد اور دادا سے سنی ہے؟ آپ کہنے لگے حمزہ سنائو! میں نے یہی حدیث انہیں بھی سنائی، آپ نے کہا، سچ ہے اے ابو حمزہ اور پھر آپ علیہ السلام نے کہا: اور ایک لاکھ درجے بلند ہوتے ہیں پھر کہا بے شک اللہ بہت کرم کرنے والا ہے۔‘‘ 1
    ------------------------------------------------------------
    1 ’’اجمع الفضائح‘‘ للملاکاظم، ’’ضیاء الصالحین‘‘ ص ۵۱۳۔
    ------------------------------------------------------------

    اسی پر بس نہیں بلکہ یہ لوگ دوسروں کو بھی ایسا کرنے کا حکم دیتے ہیں، چنانچہ کشی لکھتا ہے: ’’ہم بنی ہاشم اپنے چھوٹوں بڑوں کو حکم دیتے ہیں کہ وہ ان دونوں کو گالیاں بکیں اور ان سے اپنی براء ت کا اعلان کریں۔‘‘ 2
    ------------------------------
    2 ’’رجال الکشی‘‘ ص ۱۸۰۔
    -----------------------------

    اس کے بعد کوئی ایسی گالی نہیں جو ان بدبختوں نے ان مقدس اور بزرگ ہستیوں کو نہ دی ہو۔
    ان کا (مفسر) عیاشی اپنی تفسیر میں سورۂ براء ت کی تفسیر کرتے ہوئے ابو حمزہ ثمالی کی
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    روایت نقل کرتا ہے کہ اس نے کہا ہے: میں نے (امام سے) پوچھا: اللہ کے دشمن کون ہیں؟ آپ نے کہا چار بت ہیں، کہتا ہے میں نے کہا: کون کون سے؟ آپ نے کہا ابوالفصیل، رمع، نعثل اور معاویہ، اورجو بھی ان کے دین کا ماننے والا ہو۔ جس نے ان سے دشمنی کی اس نے خدا کے دشمنوں سے دشمنی کی۔1
    ---------------------------------------------------------------------------
    1 ’’تفسیر العیاشی‘‘ ج ۲ ص ۱۱۶ ’’بحارالانوار‘‘ للمجلسی ج ۷ ص ۳۷۔
    ---------------------------------------------------------------------------

    اس کے بعد حاشیہ نویس ان تین اصطلاحات کی تشریح کرتے ہوئے جزری سے یہ روایت نقل کرتا ہے کہ:
    لوگ ابوبکر کو ابو الفصیل کی کنیت سے پکارا کرتے تھے، اس لیے کہ فصیل بھی ’’بکر‘‘ کے قریب ہی کی چیز ہے، بکر سے مراد جو ان اونٹ اور فصیل کا مطلب ہے اونٹنی کا وہ بچہ جو حال ہی میں اپنی ماں سے الگ ہوا ہو۔ اور بعض حضرات کہتے ہیں کہ وہ (یعنی ابوبکر) کچھ عرصہ تک فصیل جانوروں کو چراتا رہا اس لیے لوگ اسے ابوالفصیل کہنے لگے، اور ماہرین لغت نے کہا ہے کہ ابوبکر بن ابی قحافہ عام الفیل میں تین سال کا تھا، اس کا نام عبدالعزیٰ تھا۔ عزیٰ ایک بت کا نام ہے اور زمانۂ جاہلیت میں اس کی کنیت ابو الفصیل تھی۔ جب اسلام لایا تو عبداللہ نام رکھا اور ابوبکر کنیت ہوگئی۔ لفظ ’’رمع‘‘ کی تفسیر یہ ہے کہ یہ دراصل عمر کا الٹا نام ہے۔ اور حدیث میں ہے کہ سب سے پہلے جس نے غلام کی شہادت کو رد کیا وہ رمع تھا، سب سے پہلے جس نے مالِ میراث کا لالچ کیا وہ رمع تھا۔
    نعثل ایک آدمی کا نام ہے جس کی داڑھی بہت لمبی تھی، جوہری نے کہا ہے: عثمان جب اس کے قریب ہوتا تھا تو اسی جیسا لگتا تھا۔‘‘ 2
    ------------------------------------------------
    2 ’’تفسیر العیاشی‘‘ ۲ ص ۱۱۶ مطبوعہ طہران
    -----------------------------------------------

    دیکھیے ان بدبختوں کی طرف، ان میں ذرا شرم و حیا نام کی کوئی چیز نہیں کہ ان بہترین و پاکیزہ ترین افراد کو بتوں سے ملا رہے ہیں۔
    کاش کوئی ان سے پوچھے کہ اپنے پانچویں امام معصوم کا وہ قول کہاں رکھو گے جو آپ
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    نے ایک سائل کے جواب میں اس وقت کہا جب اس نے آپ سے پوچھا، کیا ان دونوں حضرات نے آپ پر کوئی ظلم کیا ہے؟
    آپ نے کہا: ’’نہیں، اس ذات کی قسم جس نے اپنے بندے پر قرآن نازل کیا ہے تاکہ وہ پوری دنیا کو ڈرائے، ان دونوں نے ہم پر ایک رائی کے دانے کے برابر بھی ظلم نہیں کیا۔‘‘ 1
    ----------------------------------------
    1 ’’شرح نہج البلاغۃ‘‘ لابنِ ابی الحدید۔
    ---------------------------------------


    سوچیے کہ کیوں علی رضی اللہ عنہ نے اپنی بیٹی عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کو دی؟ اگر عثمان رضی اللہ عنہ کافر تھے۔ (نقلِ کفر کفر نباشد) تو کیوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دو بیٹیاں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے نکاح میں دے دیں؟ بتائیے علی رضی اللہ عنہ اور دوسرے اہلِ بیت نے کیوں اس قدر آپ کی تعریف کی ہے؟ کیوں علی رضی اللہ عنہ خود بھی اور اپنے بیٹوں کو بھی لے کر آپ کا دفاع کرتے رہے؟ ان میں سے ایک جو عثمان رضی اللہ عنہ کا دفاع کرتے ہوئے زخمی ہوئے تھے، وہ قوم شیعہ کے نزدیک امامِ معصوم ہیں کہ نہیں؟ آخر اس بات کا ان کے پاس کیا جواب ہے؟
    اگر عثمان رضی اللہ عنہ (العیاذ باللہ) کافر تھے تو علی رضی اللہ عنہ نے اپنے بھتیجے کو عثمان رضی اللہ عنہ کے بیٹے ابان کے ساتھ اپنی بیٹی کا نکاح کرنے سے کیوں منع نہیں کیا؟ کیوں آپ نے حسن رضی اللہ عنہ کی بیٹی سکینہ کو عثمان رضی اللہ عنہ کے پوتے زید کے ساتھ شادی سے نہیں روکا؟ اس کے علاوہ بھی متعدد باہمی رشتے ہوئے۔ ذرا یہ بھی سوچیے کہ علی رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے کا نام عثمان کیوں رکھا؟
    عیاشی اپنی عادت کے مطابق خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کے خلاف بغض و نفرت کا اظہار کرنے سے باز نہیں آیا۔ بے اصل و بے بنیاد واقعات اور من گھڑت قصے تراشنا اس کا کام ہے، لکھتا ہے:
    ’’جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم وفات پاچکے تو اختلاف جو نہیں ہونا چاہیے تھا شروع ہوگیا، عمر رضی اللہ عنہ نے بڑھ کر ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کرلی، ابھی تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دفن بھی نہیں کیا گیا تھا، جب علی علیہ السلام نے یہ صورتِ حال دیکھی اور دیکھا کہ لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کرچکے ہیں تو آپ کو ڈر ہوا کہ کہیں لوگ فتنہ میں نہ مبتلا ہو جائیں، چنانچہ آپ نے اپنے آپ کو کتاب اللہ
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    میں مشغول کرلیا۔ آپ مصحف کے جمع کرنے میں لگ گئے، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ کی طرف آدمی بھیجا، کہ آؤ بیعت کرو، علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اس وقت تک نہیں نکلوں گا جب تک کہ قرآن کو جمع نہ کرلوں، آدمی دوبارہ بھیجا گیا، پھر آپ نے کہا: میں فارغ ہونے سے پہلے نہیں نکلوں گا، تیسری دفعہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ کی طرف اپنے چچا زاد بھائی کو بھیجا جسے قنفذ کہا جاتا تھا، اب فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کھڑی ہوئیں اور اس آدمی اور علی رضی اللہ عنہ کے درمیان حائل ہوگئیں۔ اس نے آپ (یعنی فاطمہ رضی اللہ عنہا) کو مارا، پھر قنفذ چلا گیا، علی رضی اللہ عنہ اس کے ساتھ نہیں گئے۔ اب اسے ڈر ہوا کہ کہیں علی لوگوں کو نہ جمع کرلیں۔ اس نے حکم دیا کہ علی کے گھر کے قریب لکڑیاں ڈھیر کردو۔ پھر عمر نے آگ لگائی، وہ چاہتا تھا کہ علی اور اس کا گھر، فاطمہ، حسن اور حسین صلوٰت اللہ علیہم کو جلا ڈالے۔ جب علی نے دیکھا تو مجبوراً گھر سے نکلے اور بیعت کی۔‘‘ 1
    ------------------------------------------------------------------
    1’’تفسیر العیاشی‘‘ ج ۲ ص ۳۰۷، ۳۰۸ ’’البحار‘‘ ج ۸ ص ۴۷۔
    ------------------------------------------------------------------
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں