نماز کے اختتام پر اللہ اکبر یا استغفراللہ

GuJrAnWaLiAn نے 'آپ کے سوال / ہمارے جواب' میں ‏جنوری 29, 2014 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. GuJrAnWaLiAn

    GuJrAnWaLiAn محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 28, 2009
    پیغامات:
    63
    اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبراکاتہ

    سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :كُنْتُ أَعْرِفُ انْقِضَاءَ صَلاَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالتَّكْبِيرِ

    صحیح بخاری کتاب الأذان باب الذکر بعد الصلاۃ ح ۸۴۲
    یعنی میں نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم کی نماز کا اختتام تکبیر کے سے پہچانتا تھا ۔
    سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ چونکہ چھوٹے بچے تھے لہذا آخری صف میں کھڑے ہوتے تھے جہاں نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم کے سلام کہنے کی آواز نہ آتی تھی تو جب سلام پھیرنے کے بعد لوگ تکبیر کہتے تو انہیں معلوم ہوتا کہ نماز مکمل ہو چکی ہے ۔

    اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ نماز کا اختتام کے بعد تکبیر یعنی اللہ اکبر کہنا مسنون ہے

    لیکن

    برطانیہ میں کچھ سلفی نماز کے بعد اللہ اکبر کہنے کے بجاے استغفراللہ استغفراللہ استغفراللہ کہتے ہین

    پوچھنے پر وہ کیتے ہین صحابہ تکبیر سے مراد استغفار بھی لیتے تھے اور ایک حدیث مین نماز کے بعد استغفار کا ذکر ہے اس لیے اللہ اکبر نہیں بلکہ استغفراللہ کہنا چا ہیے ؟

    جب نماز سے فارغ ہوتے تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم درج ذيل كلمات كہا كرتے تھے: " استغفراللہ، استغفراللہ، استغفر اللہ " پھر باقى دعائيں كرتے

    اس حدیث سے وہ کہتے ہیں کے اس میں تکبیر سے کیا مراد ہیے واضح ہے کے وہ استغفار ہے؟
    اصل میں‌ یہ تعویل عرب علماء کرتے ہیں اب جب ان سے بات ہو تو وہ علماء کے حوالے پیش کر کہ کہتے ہیں کہ ان علماء نے اس کو ایسے سمجھا ہے۔ اب پاکستانی علماء کو وہ جانتے نہیں ۔

    میرا سوال یہ ہے کہ مجھے کوئی سلف یا محدثین سے کوئی ایسا حوالہ بتا دے یا کسی ایسے عرب عالم کا فتوی جس میں‌ صراحت ہو کہ اس تکبیر سے مراد اللہ اکبر ہی ہے اور نماز کے اختتام کے بعد اللہ اکبر کہنا جاہئے پہلے نہ کے استغفراللہ، استغفراللہ، استغفر اللہ
    تا کہ ان کو سمجھایا جا سکے۔

    جزاک اللہ خیر
     
  2. GuJrAnWaLiAn

    GuJrAnWaLiAn محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 28, 2009
    پیغامات:
    63
  3. GuJrAnWaLiAn

    GuJrAnWaLiAn محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 28, 2009
    پیغامات:
    63
    جزاک اللہ خیر
    جو میں‌نے لنکس دیے ہیں ان میں موجود دلائل پر بھی روشنی ڈالیں۔
    اور کیا کسی سے صراحت مل جائے تو بہت ہی اچھا ہو گا۔ کے تکبیر سے مراد اللہ اکبر ہی ہے۔ آپ کی بات مجھے تو سمجھ آگئی ہے لیکن ان کو تب ہی سمجھ آئے گی جب صراحت ہو گی ۔
     
  4. GuJrAnWaLiAn

    GuJrAnWaLiAn محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 28, 2009
    پیغامات:
    63
    آخری پوست میری ڈلیٹ کر دیں غلطی سے ہو گئی ہے۔ معزرت
     
  5. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران

    رکن انتظامیہ

    ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,938
    سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :كُنْتُ أَعْرِفُ انْقِضَاءَ صَلاَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالتَّكْبِيرِ

    صحیح بخاری کتاب الأذان باب الذکر بعد الصلاۃ ح ۸۴۲
    یعنی میں نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم کی نماز کا اختتام تکبیر کے سے پہچانتا تھا ۔
    سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ چونکہ چھوٹے بچے تھے لہذا آخری صف میں کھڑے ہوتے تھے جہاں نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم کے سلام کہنے کی آواز نہ آتی تھی تو جب سلام پھیرنے کے بعد لوگ تکبیر کہتے تو انہیں معلوم ہوتا کہ نماز مکمل ہو چکی ہے ۔
    أولا : تکبیر کا معنى اللہ أکبر ہی ہوتا ہے ۔ اسکے سوا تکبیر کا اور کوئی بھی معنى لینا جائز نہیں ہے ۔ وگرنہ بہت بڑا فساد لازم آتا ہے ۔ مثلا :
    رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کا فرمان ذی شان ہے:مِفْتَاحُ الصَّلَاةِ الطُّهُورُ، وَتَحْرِيمُهَا التَّكْبِيرُ، وَتَحْلِيلُهَا التَّسْلِيمُ

    سنن أبی داود کتاب الطہارۃ باب فرض الوضوء ح61
    یعنی نماز کی چابی صرف اور صرف طہارت ہے اور اسکے لیے تحریمہ صرف اور صرف تکبیر ہی ہے اور اس کے اختتام کا ذریعہ صرف اور صرف سلام ہی ہے ۔
    اس حدیث میں تکبیر کو نماز کے لیے تحریمہ یا آغاز کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے اگر تکبیر سے استغفر اللہ مراد لے لیا جائے تو معنی یہ بنے گا کہ استغفر اللہ کہہ کر نماز کا آغاز کرنا درست ہوگا !
    حالانکہ ایسا قطعا نہیں ہے بلکہ تکبیر یعنی اللہ اکبر ہی کے ذریعہ نماز کا آغاز کیا جاسکتا ہے کسی اور کلمہ سے نہیں ۔
    الغرض تکبیر کا حقیقی معنى اللہ اکبر ہی ہے اور علم اصول میں یہ بات مسلمہ ہے کہ کسی بھی کلمہ کا ہمیشہ حقیقی معنى ہی مراد ہوتا ہے ۔ اور مجازی معنى کے لیے دلیل درکار ہوتی ہے ۔ یاد رہے کہ تکبیر کا کوئی مجازی معنى اہل لغت کے ہاں مستعمل ہی نہیں ہے ۔ اگر کوئی دعوى کرے کہ تکبیر کا مجازی معنى استغفر اللہ یا کوئی بھی اور کلمہ ہے تو اس پر لازم ہے کہ وہ اپنے دعوى کی دلیل مہیا کرے وگرنہ اسکی قول باطل ہے ۔
    ثانیا :تکبیر بھی نماز کے بعد کہی جاتی تھی لیکن نماز کے متصل بعد پہلے استغفار کی جاتی تھی پھر تکبیر کی باری آتی تھی تو اسکا قول بھی باطل ہے کیونکہ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرما رہے ہیں کہ مجھے نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم کی نماز کی تکمیل کا علم تکبیر سن کر ہوتا تھا ۔ اگر تکبیر سے قبل استغفار ہو تو انہیں کہنا چاہیے تھا کہ مجھے نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم کی نماز کے اختتام کا علم استغفار کے ذریعہ ہوتا تھا ۔
    مختصر یہ کہ
    بعض روایات میں یہ بھی آتا ہے کہ نماز کے بعد "ذکر" بلند کرتے ۔
    لہذا تکبیر سے مراد ذکر ہے ۔ جس میں استغفار وغیرہ بھی شامل ہے ۔
    اور بعض روایات میں یہ بھی ہے کہ تین مرتبہ نماز کے بعد استغفار کرتے ۔

    سو ثابت ہوا کہ تکبیر سے مراد مطلق ذکر یا استغفار ہی ہے ۔

    لیکن ان کی یہ بات کبھی بننے والی نہیں ہے ۔
    کیونکہ استغفار کرنا نماز کے بعد ذکر ہوا ہے , اور اگر نماز کے فورا بعد تکبیر کہی جائے اور اسکے بعد استغفار کیا جائے تو بھی استغفار نماز کے بعد ہی آتا ہے ۔ کیونکہ کے بعد کے بعد آنے والا بعد میں ہی ہوتا ہے ۔

    پھر تکبیر اور استغفار دونوں ذکر ہیں اور ان دونوں کے علاوہ دیگر بھی اذکار ہیں ۔
    سو جن روایات میں یہ آتا ہے کہ ذکر کے ساتھ آواز بلند کرتے وہ روایات تکبیر کی نفی نہیں کرتیں کیونکہ تکبیر بھی ذکر میں شامل و داخل ہے ۔

    اور پھر تکبیر کا حقیقی معنى اللہ اکبر ہے ۔
    اور کسی بھی لفظ کے حقیقی معنى کو چھوڑ کر اسکا مجازی معنى لینے کی کوئی نہ کوئی وجہ ہوتی ہے ۔ جبکہ یہاں ان وجوہات میں سے کوئی بھی ثابت نہیں ۔

    لہذا نماز کے بعد تکبیر سے مراد اللہ اکبر کہنا ہی ہے ۔
    نماز کے بعد تکبیر سے کیا مراد ہے؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں