درود شریف

زبیراحمد نے 'اسلامی متفرقات' میں ‏فروری 1, 2014 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    :bismillah1:
    درودشریف بھی دراصل ایک دعاہے،جوہم بندے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں اللہ تعالی سے کرتے ہیں،یہ واقعہ ہے کہ اللہ تعالی کے بعد سب سے زیادہ احسان ہم پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم ہی کا ہے آپ نے سخت سے سخت مصیبتیں اٹھاکے اللہ کی ہدایت ہم بندوں تک پہونچائی،اگر آپ اللہ کے راستے میں یہ تکلیفیں نہ اٹھاتے،تو دین کی روشنی ہم تک نہ پہونچ سکتی اورہم کفروشرک کے اندھیرے میں پڑے رہ جاتے اورمرنے کے بعدہمیشہ کے لیے دوزخ میں جاتے۔

    الغرض دین اورایمان کی دولت چونکہ اس دنیا کی سب سے بڑی نعمت ہے اور یہ ہم کو رسول اللہﷺ کے طفیل میں ملی ہے،اس لیے اللہ تعالی کے بعدحضورﷺ ہی ہمارے سب سے بڑے محسن ہیں، ہم آپ کے اس احسان کا کوئی بدلہ نہیں دے سکتے بس زیادہ سے زیادہ جو کچھے ہم کرسکتے ہیں وہ یہ ہے کہ اللہ تعالی سے آپ کے لیے دعا کریں اور اس طرح اپنی نیاز مندی اورشکر گزاری کا ثبوت دیں۔

    ہماری طرف سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کے لائق دعا یہی ہوسکتی ہے کہ:اللہ تعالی آپ کو اپنی خاص،رحمتوں اوربرکتوں سے نوازے اور آپ کے درجے زیادہ سے زیادہ بلندکرے بس اسی قسم کی دعاکو "درود"کہتے ہیں،قرآن شریف میں بڑی صراحت کے ساتھ اور بڑے عجیب انداز میں ہم کو اس کا حکم دیا گیاہے، ارشاد ہے:

    "اِنَّ اللہَ وَمَلٰئِکَتَہٗ یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّoیٰٓاَیُّہَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْاصَلُّوْاعَلَیْہِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا"۔
    (الاحزاب:۵۶)

    اللہ اوراس کے فرشتے رحمت بھیجتے ہیں نبی پر،اے ایمان والو!تم ان پر درود بھیجو اورسلام عرض کرو۔

    اس آیت میں پہلے تو یہ بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالی اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خود اعزازواکرام کرتا ہے اوران پررحمت وشفقت فرماتا ہے اور اس کے فرشتوں کا بھی برتاؤ آپ کے ساتھ یہی ہے،کہ وہ آپ کی تعظیم وتکریم کرتے ہیں اور اللہ تعالی سے آپ کے لیے رحمت کی درخواست کرتے رہتے ہیں،اس کے بعد ہم ایمان والوں کو حکم دیا گیا ہے کہ تم بھی ان کے لیے اللہ سے رحمتیں نازل کرنے کی استدعاکرو اور ان پر سلام بھیجو گویا حکم دینے سے پہلے ہی ہم کو بتلایا گیا ہے کہ جس کام کا تم کو حکم دیا جارہا ہے وہ اللہ تعالی کو خصوصیت سے محبوب ہے اورفرشتوں کا خاص مشغلہ ہے،یہ معلوم ہونے کے بعد کون مسلمان ہوگا جو اس کو اپنا وظیفہ نہ بنائے۔

    درود شریف کے فضائل میں بہت سی حدیثیں بھی آئی ہیں جن میں سے دوچاریہاں بھی درج کی جاتی ہیں،رسول اللہﷺ کی بہت مشہور حدیث ہے،آپ نے ارشاد فرمایا:

    "جوشخص مجھ پرایک دفعہ درود بھیجے،اللہ تعالی اس پر دس دفعہ رحمتیں نازل کرتا ہے"۔
    (مسلم، باب الصلاۃ علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم،حدیث نمبر۶۱۶، شاملہ، موقع الإسلام)

    ایک اورروایت میں اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ:

    "اس دس خطائیں بھی معاف کی جاتی ہیں اور دس درجے بھی بلند کردئے جاتے ہیں"۔
    (نسائی، باب الفضل في الصلاة على النبي صلى الله عليه وسلم،حدیث نمبر:۱۲۷۹، شاملہ، موقع الإسلام)

    ایک اور حدیث میں ہے،حضورنے ارشاد فرمایا:

    "اللہ کے بہت سے فرشتے ہیں جن کاخاص کام یہی ہے کہ وہ زمین میں پھرتے رہتے ہیں اور میرا جو امتی مجھ پر صلوۃ وسلام بھیجے وہ اس کو مجھ تک پہونچاتے ہیں"۔
    (نسائی، باب السلام على النبي صلى الله عليه وسلم:۱۲۶۵، شاملہ، موقع الإسلام)

    سبحان اللہ! کتنی بڑی دولت ہے کہ ہمارا صلوۃ وسلام فرشتوں کے ذریعہ حضورؐ کو پہونچتا ہے اوراس بہانے ہمارا ذکروہاں ہوجاتا ہے۔

    کیا نصیب "اللہ اکبر" لوٹنے کی جگہ ہے۔

    ایک اورحدیث میں ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاکہ:

    "قیامت میں مجھ سے سب سے زیادہ قریب آدمی وہ ہوگا جو مجھ پر درود زیادہ بھیجتا ہوگا"۔
    (ترمذی، بَاب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم،حدیث نمبر:۴۴۶، شاملہ، موقع الإسلام)

    ایک اورحدیث میں ہے،حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔

    "وہ شخص بڑابخیل ہے جس کے سامنے میرا ذکر ہو اور وہ اس وقت بھی مجھے پر درود نہ بھیجے"۔
    (شعب الایمان،باب کل البخیل من ذکرت، حدیث نمبر:۱۵۲۷، شاملہ، موقع جامع الحدیث)

    ایک اورحدیث میں آیا ہےکہ:
    "اس شخص کی ناک خاک آلودہو(یعنی وہ ذلیل ہو)جس کے سامنے میراذکر آئے اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے"۔
    (ترمذی ،باب قول رسول اللہﷺ ،حدیث نمبر:۳۴۶۸، شاملہ، موقع الإسلام)

    بہرحال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود سلام بھیجنا ہم پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا بہت بڑا حق ہے اور ہماری اعلی درجے کی سعادت اورنیک بختی ہے اور دنیا وآخرت میں ہمارے لیے بیشمار رحمتوں اوربرکتوں کا ذریعہ ہے۔

    درودکے الفاظ

    بعض صحابہ رضی اللہ عنہ نے حضورﷺ سے سوال کیا تھا کہ:"ہم حضورﷺ پر درود کس طرح بھیجیں؟توحضورﷺ نے ان کو درودابراھیمی تعلیم فرمایا جو نماز میں پڑھا جاتا ہے اور اس کتاب کے دوسرے سبق میں نماز کے بیان میں گزربھی چکا ہے۔

    اسی کے قریب قریب اور اس سے کچھ مختصر ایک اور درود شریف بھی حضورؐ نے تعلیم فرمایا ہے اس کے الفاظ حدیث میں یہ ہیں:

    "اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ وَذُرِّيَّتِهِ وَأَهْلِ بَيْتِهِ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيد"۔
    (ابو داؤد،باب الصلاۃ علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم،حدیث نمبر:۸۳۲، شاملہ، موقع الإسلام)

    اے میرے اللہْ نبی امی حضرت محمدﷺ پر اورآپ کی ازواج مطہرات امہات المومنین پر اور آپ کی نسل اورآپ کے گھروالوں پر رحمتیں نازل کر،جیسے کہ تونے رحمتیں نازل کیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے گھرانے پر تو لائق حمدہے،صاحب مجد ہے۔

    جب بھی ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نامی لیں اور آپ کا ذکرکریں یا دوسرے سے سنیں،توآپ پر درود شریف ضرورپڑھنا چاہئے اور ایسے موقع کے لیے صَلَّی اللہُ عَلَیْہ وَسَلَّم یاعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلاَم کافی ہے۔

    درودشریف بطور معمول ووظیفہ

    بعض خاص ذوق اورہمت رکھنے والے بندے تو روزانہ کئی کئی ہزار باردرودشریف کا معمول رکھتے ہیں،لیکن ہم جیسے کم ہمت اگر صبح شام ادب اورمحبت کے ساتھ صرف سوسو مرتبہ درود شریف پڑھ لیا کریں،تو انشاء اللہ اتنا کچھ پائیں گے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ان کے حال پر ایسی شفقتیں ہوں گی کہ اس دنیا میں ان کا کوئی اندازہ نہیں کرسکتا،جوحضرات مختصر درود شریف پڑھنا چاہیں وہ یہ مختصر درود یادکرلیں!

    "اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدِن النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ واٰلِہٖ"۔

    اے اللہ!نبی امی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اوران کے گھروالوں پر رحمتیں نازل فرما۔


    :allah_akbar1:
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں