اہل بیت کی طرف منسوب شیعہ حضرات کے جھوٹ!

بابر تنویر نے 'غیر اسلامی افکار و نظریات' میں ‏فروری 9, 2014 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. بابر تنویر

    بابر تنویر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,318
    تیسرا باب:
    اہل بیت کی طرف منسوب شیعہ حضرات کے جھوٹ!

    { اِنَّ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَھُمْ وَکَانُوْا شِیَعًا لَّسْتَ مِنْھُمْ فِیْ شَیْئٍ }
    یہ لوگ ہزار دعوے کرتے پھریں کہ ہم اہل بیت سے محبت کرتے ہیں، ان کی پیروی کرتے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ اہل بیت کے دشمن اور ان کے مخالف ہیں، ان کے احکامات کی مخالفت کرتے ہیں جن چیزوں سے انہوں نے منع کیا ہے، انہیں ضرور ہی کریں گے، اچھی باتوں سے روکتے اور بری باتوں کے کرنے کا حکم دیتے ہیں، اہل بیت جن سے محبت کرتے تھے یہ ان سے نفرت کرتے ہیں، جن کو وہ اپنا دشمن سمجھتے تھے یہ ان سے دوستیاں رکھتے ہیں، خواہشات و نفسِ امارہ کی پیروی کرنے والے، اپنی خواہشات چھوڑ سکتے ہیں نہ اپنے نفس کی حکم عدولی کرسکتے ہیں، پھر ستم یہ کہ یہ سارے جھوٹے قصے کہانیاں اور بے بنیاد باتیں اہل بیت کی طرف منسوب کردیتے ہیں {مَا نَزَّلَ اللّٰہُ بِھَا مِنْ سُلْطَانٍ} دراصل ان سے ان کا مقصد صرف یہ ہے کہ ان کی ذاتی اغراض، اپنی من پسند باتوں اور اپنی مرغوب چیزوں کو حاصل کرلیں، اپنے مذہب کو رواج دیں …شہوت پرستوں اور اوباش لوگوں کو اپنے اس دین کی طرف کھینچ لیں جس کو خود ان لوگوں نے اپنی مرضی سے گھڑ اور تراش لیا ہے۔ اس طرح وہ دنیا میں بھی نقصان اٹھاتے ہیں اور آخرت میں بھی نقصان اٹھائیں گے { ذٰلِکَ ھُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ} حقیقت یہ ہے کہ اہل بیت نے، اُن متقی و صالح لوگوں نے کوئی ایسی بات نہیں کہی جو کتاب اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے خلاف ہو۔ اور نہ ہی خلافِ کتاب و سنت کوئی بات ان کی طرف منسوب کرنا مناسب ہے۔ اہل بیت نے بھی دوسرے تمام مسلمانوں کی طرح یہی حکم دیا ہے کہ لوگ اپنے پروردگار کی کتاب اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کریں، ان پر کار بند رہیں، آپ بھی اللہ کے ان احکامات ہی کی پیروی کا حکم دیتے رہے، جیسا کہ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
    { اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ } (النسائ:۵۹)
    ’’اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو۔‘‘
    { اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ وَلَا تَوَلَّوْا عَنْہُ وَاَنْتُمْ تَسْمَعُوْنَ }
    (الانفال: ۲۰)
    ’’اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور اس سے روگردانی نہ کرو، اس حال میں کہ تم سن رہے ہو۔‘‘
    { وَاَطِیْعُوا اللّٰہَ وَالرَّسُوْلَ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ } (آل عمران:۱۳۲)
    ’’اور اللہ و رسول کی اطاعت کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔‘‘
    { وَمَا کَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّلَا مُؤْمِنَۃٍ اِذَا قَضَی اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ اَمْرًا اَنْ یَّکُوْنَ لَھُمْ الْخِیَرَۃُ مِنْ اَمْرِھِمْ ط وَمَنْ یَّعْصِ اللّٰہِ وَرَسُوْلَہٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالاً مُّبِیْنًا } (الاحزاب: ۳۶)
    ’’کسی مومن مرد اور مومن عورت کے لیے جائز نہیں، جب اللہ اور اس کا رسول کسی بات کا فیصلہ فرما دیں کہ وہ اپنی مرضی پر عمل کریں۔ اور جو اللہ اور اس کے رسول( صلی اللہ علیہ وسلم )کی نافرمانی کرتا ہے، وہ واضح گمراہی میں چلا جاتا ہے۔‘‘
    اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ حدیث ہے، جو سب محدثین کے نزدیک صحیح و ثابت ہے:
    (( ترکت فیکم امرین لن تضلوا ما تمسکتم بھما کتاب اللّٰہ وسنتی )) [مؤطا امام مالک، سنن کبریٰ بیہقی، مستدرک حاکم]
    ’’میں تم میں دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں، جب تک تم انہیں تھامے رکھو گے گمراہ نہیں ہوگے۔ ایک کتاب اللہ اور دوسری میری سنت۔‘‘
    یہ بات خود علی رضی اللہ عنہ اور آپ رضی اللہ عنہ کی اولاد کے نزدیک بھی مسلم ہے، ثقفی نے اپنی کتاب ’’الغارات‘‘ میں یہ روایت نقل کی ہے کہ ’’علی رضی اللہ عنہ نے مصر کے مسلمانوں کی طرف ایک خط بھیجا، یہ خط قیس بن سعد بن عبادہ الانصاری رضی اللہ عنہ لے کر گئے جنہیں مصر کا عامل مقرر کیا گیا تھا۔ اس میں علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو اپنی بیعت کی دعوت ان الفاظ میں دی تھی ’’یاد رکھو! ہم پر تمہارا یہ حق ہے کہ ہم تم میں کتاب اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرائیں۔‘‘1’’کتاب الغارات‘‘ للثقفی ج ۱ ص ۲۱۱ زیرِ عنوان ’’ولایت قیس بن سعد‘‘
    اس کے بعد لکھتا ہے:
    ’’جب خط پڑھا جاچکا تو قیس بن سعد بن عبادہ الانصاری لوگوں سے خطاب کرنے کے لیے اٹھے، آپ نے پہلے خدا کی حمد و ثنا کی … اس کے بعد کہا اٹھو اور اللہ کی کتاب اور اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر بیعت کرو، اگر ہم تم میں کتاب اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق عمل نہ کریں تو تم پر ہماری بیعت ضروری نہیں۔ اس پر لوگ اٹھے اور بیعت کرلی، چنانچہ مصر پر آپ کا اقتدار قائم ہوگیا۔‘‘ 2 ’’کتاب الغارات‘‘ للثقفی ج ۱ ص ۲۱۱، ۲۱۲۔
    یہی بات خود علی رضی اللہ عنہ نے بھی اہل بصرہ کی طرف بھیجے گئے ایک خط میں لکھی ہے، لکھتے ہیں ’’اللہ کے بندہ امیر المومنین کی طرف سے یہ خط بصرہ کے رہنے والے ہر اس مسلمان اور مومن کے نام ہے، جسے بھی یہ خط سنایا جائے۔ السلام علیکم، اما بعد … اگر تم میری بیعت کو نبھاؤ، میری نصیحت کو قبول کرو اور میری اطاعت پر قائم رہو تو میں تم میں کتاب و سنت کے مطابق عمل کروں گا۔‘‘ 3 ’’الغارات‘‘ للثقفی ج ۲ ص ۴۰۳۔
    حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک جگہ کہا ہے:
    ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: عمل کے بغیر کوئی بات معتبر نہیں، نیت کے بغیر کوئی عمل اور کوئی بات معتبر نہیں۔ اور وہ بات، وہ عمل اور وہ نیت بھی معتبر نہیں، جو سنت کے مطابق نہ ہو۔‘‘ 4 ’’الکافی فی الاصول‘‘ للکلینی ج ۱ ص ۷۰ کتاب فضل العلم۔
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    آپ رضی اللہ عنہ کی اولاد میں، ائمہ شیعہ میں سے، بقول ان کے، چھٹے امام معصوم کہتے ہیں:
    ’’جو چیز کتاب و سنت کے مطابق نہ ہو اس کا کوئی اعتبار نہیں۔‘‘ 1
    ----------------------------------------------------------------------------------------------------
    1’’الکافی فی الاصول‘‘ ج ۱ ص ۵۹۔ اس باب میں کہ ’’کوئی چیز اس وقت تک حرام اور حلال نہیں ہوتی جب تک کہ قرآن و سنت میں نہ آئے، اپنے والد حنفیہ سے اس نے اپنی کتاب ’’الشیعۃ فی المیزان‘‘ سے بھی اس جیسی روایت بیان کی ہے۔
    -----------------------------------------------------------------------------------------------------

    ایک جگہ کہتے ہیں:
    ’’جس نے کتاب اللہ اور سنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کی، اس نے کفر کیا۔‘‘ 2 الاصول من الکافی ج ۱ ص ۷۰، کتاب فضل العلم۔
    اپنے والد باقر سے جو اُن کے نزدیک پانچویں امام معصوم ہیں۔ روایت کرتے ہیں کہ آپ نے کہا ہے:
    ’’جو بھی سنت سے تجاوز کرجائے اسے سنت ہی کی طرف لوٹایا جائے گا۔‘‘ 3’الاصول من الکافی‘‘ ج ۱ ص ۷۱۔
    باقر اپنے والد علی بن حسین رضی اللہ عنہ سے، جو شیعہ حضرات کے نزدیک چوتھے امام ہیں، روایت کرتے ہیں کہ آپ نے کہا: خدا کے نزدیک سب سے افضل عمل سنت کے مطابق عمل کرنا ہے، خواہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو۔ 4 الاصول من الکافی‘ ج ۱ ص ۷۰۔
    صرف یہی نہیں، بلکہ اس سے بھی زیادہ واضح اور صریح و صاف الفاظ میں کہتے ہیں، کشی نے جعفر بن باقر سے یہ روایت نقل کی ہے کہ آپ نے کہا:
    ’’خدا سے ڈرو، ہمارے بارے میں کوئی ایسی بات تسلیم نہ کرو جو ہمارے رب کے حکم کے خلاف اور ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے خلاف ہو۔ ہم جب بھی کہتے ہیں یہی کہتے ہیں کہ: اللہ بزرگ و برتر نے فرمایا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔‘‘5
    -----------------------------------------------------------------
    ’’رجال الکشی‘‘ ص ۱۹۵ زیر تذکرہ مغیرہ بن سعید، مطبوعہ کربلا۔
    ------------------------------------------------------------------

    (یعنی ہم جو بات بھی کہیں گے اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی کہیں گے)
    اسی لیے آپ اپنے متبعین اور دعویدارانِ اتباع کو حکم دیتے ہیں کہ :
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    ’’ہمارے بارے میں سوائے اس بات کے، جو قرآن و سنت کے موافق ہو، کوئی بات تسلیم نہ کرو۔‘‘ 1 ’’رجال الکشی‘‘ ص ۱۹۵ زیر تذکرہ مغیرہ بن سعید، مطبوعہ کربلا۔
    آپ سے پہلے آپ کے والد بھی یہ کہہ کر متنبہ کرچکے ہیں کہ:
    ’’ہماری جو بات بھی اور ہمارے بارے میں جو کچھ بھی تمہیں پہنچے، اس میں غور کرو، اگر اسے قرآن کے موافق پاؤ تو لے لو۔ اور اگر دیکھو کہ قرآن کے موافق نہیں، تو اسے رد کردو۔‘‘2 ’’الامالی‘‘ للطوسی ج ۱ ص ۲۳۷ مطبوعہ نجف۔
    اس سے پہلے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بھی یہی اصولی اور اساسی بات بیان کرچکے ہیں، آپ کہتے ہیں: ’’جو کچھ (ہمارے افعال و اقوال سے متعلق) کتاب اللہ کے موافق ہو اسے لے لو، جو کتاب اللہ کے خلاف ہو اُسے چھوڑ دو۔‘‘ 3’’الامالی‘‘ ص ۲۲۱۔
    اسی جیسی روایت باقر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بیان کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ’’جب تمہارے پاس کوئی بات پہنچے تو اس کا موازنہ کتاب اللہ اور میری سنت سے کرو، جو کتاب اللہ اور میری سنت کے موافق ہو، اسے لے لو۔ جو کتاب اللہ کے خلاف ہو، اسے نہ لو۔‘‘ 4 ’’الاحتجاج‘‘ للطبرسی ص ۲۲۹ احتجاج ابی جعفر فی انواع شتی۔
    غور کیجیے! اللہ اور اس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا حکم دے رہے ہیں۔ اور ان حضرات کی وہ تعلیمات بھی آپ دیکھ چکے ہیں جو وہ اپنے ائمہ کے حوالوں سے بیان کر رہے ہیں، وہ ائمہ جو اُن کے عقیدے کے مطابق معصوم ہیں۔
    اب ہم قرآن و حدیث اور ان کی تعلیمات کی روشنی میں دیکھتے ہیں کہ شیعہ حضرات کے اعتقادات کیا ہیں، کیا کیا چیزیں وہ اہلِ بیت کی طرف منسوب کرتے ہیں، کیا ان کی طرف ان چیزوں کی نسبت کرنا صحیح ہے یا نہیں؟ کیا وہ صحیح کہہ رہے ہیں یا جھوٹ؟ جو کچھ ان کی
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    طرف منسوب کر رہے ہیں، کیا انہوں نے کہا ہے یا ان پر جھوٹا الزام لگا رہے ہیں؟ کیا ایسا تو نہیں کہ انہیں ان چیزوں کا تصور بھی نہ ہو اور یہ ان کی طرف منسوب کر رہے ہیں؟
    سب سے پہلے ہم سرکارِ دو جہاں، رسول صلی اللہ علیہ وسلم جن و بشر، امام قبلتین، صاحب الحرمین سے شروع کرتے ہیں۔ میری جان اور میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان، اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں اُن پر، ان لوگوں نے ان کی طرف کس قدر جھوٹ منسوب کیے ہیں۔ کتنی بُری بُری باتوں کی نسبت ان کی طرف کرکے یہ لوگ اپنے ٹھکانے جہنم میں بنا چکے ہیں۔
    متعہ:
    ان کا سب سے بدترین جھوٹ، جو یہ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرتے ہیں، جو سراسر تہمت و بہتان ہے، وہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ’’جس نے متعہ نہ کیا اور دنیا سے چلا گیا، قیامت کے دن وہ اس حال میں آئے گا کہ اس کا ناک کٹا ہوگا۔‘‘ 1 ’’تفسیر منہج الصادقین‘‘ از ملا فتح اللہ کا شانی فارسی ج ۲ ص ۴۸۹۔

    اس سے بھی زیادہ بری بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف یہ منسوب کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا ہے:
    ’’جس نے ایک دفعہ متعہ کیا اس کا ایک تہائی حصہ دوزخ سے آزاد ہوگیا، جس نے دو دفعہ متعہ کیا اس کا دو تہائی حصہ دوزخ سے آزاد ہو گیا۔ جس نے تین دفعہ متعہ کیا وہ پورا کا پورا دوزخ سے آزاد ہوگیا۔‘‘ 2
    --------------------------------------------------------------------------------------------------
    2 ’’تفسیر منہج الصادقین‘‘ از ملا فتح اللہ کا شانی فارسی ج ۲ ص ۴۹۲ ’’وہ حضرت، جن کو خدا نے لطفِ ابدی سے نوازا، جو توفیقِ سرمدی سے مجتہدین امامیہ کے آخری مجتہد ہیں، خدا کی رحمت کے سمندر میں غرق، شیخ علی بن عبدالعالی، روح اللہ روحہ کے اس رسالہ سے منقول، جو انہوں نے متعہ کے متعلق لکھا۔‘‘
    --------------------------------------------------------------------------------------------------

    ذرا غور کیجیے! کس قدر بُرے اور جھوٹے لوگ ہیں یہ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کس قدر جھوٹ اور بہتان تراشیاں کرتے ہیں۔ شریعت اسلامیہ اور اس کی صاف ستھری تعلیمات سے کس
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    قدر دور ہٹے ہوئے ہیں۔ کس طرح دیدہ دلیری سے اپنی خواہشات اور لذت پرستیوں کو دین و شریعت کا رنگ دے دیتے ہیں۔ کس قدر دلاوری اورجرأت ہے کہ اس رسولِ صادق و امین صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی جھوٹ بولنے سے نہیں رکتے؟ وہ رسولِ امین صلی اللہ علیہ وسلم جو ساری عمر برے کاموں سے روکتا اور برائیوں سے مجتنب و دامن کش رہا۔
    ان لوگوں کا مقصد صرف یہی ہے کہ اللہ کے ہمیشہ رہنے والے دین کو فاسقوں اور فاجروں کے ہاتھوں کا کھلونا بنا دیا جائے۔ مذاق اڑانے والے، اس دین کا مذاق اڑاتے پھریں۔ یہ ان کینہ پرور یہودیوں کے وارث ہیں، جن سے ورثہ میں ان کو یہ عقائد اور مذہب ملا ہے۔ 1 اس کی تحقیق کے لیے ہماری کتاب ’’الشیعۃ والسنۃ‘‘ کا مطالعہ کیجیے۔
    کیا یہ بات سمجھ میں آسکتی ہے کہ کوئی دین اپنے پیروؤں کو تمام حدود و قیود اور فرائض و واجبات سے آزاد کردے، ہر کام کی مشقت و قربانی سے چھٹکارا دلا دے؟ کیا کسی دین میں لذت پرستیوں اور نفسانی خواہشات کی اطاعت کرکے عذابِ خداوندی سے نجات اور جنت حاصل کی جاسکتی ہے؟ 2 یہ مبالغہ آرائیاں نہیں بلکہ حقائق ہیں، واضح حقائق!
    ان اہلِ بیت کے دشمنوں اور سربراہِ اہل بیت کے دشمنوں، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں نے صرف اسی جھوٹ اور بہتان پر بس نہیں کیا بلکہ اس قدر بڑھتے چلے گئے کہ توہین و گستاخی کی بھی تمام حدود پھلانگ گئے۔ ہم اس کفر کو نقل کرتے ہوئے اللہ سے معافی کے طلبگار ہیں۔ کہتے ہیں:
    ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: جس نے ایک دفعہ متعہ کیا وہ خدائے جبار کی ناراضگی سے مامون ہوگیا، جس نے دو دفعہ متعہ کیا اس کا حساب ابرار کے ساتھ ہوگا، جس نے تین دفعہ متعہ کیا وہ میرے ساتھ جنت میں رہے گا۔‘‘ 3 ’’تفسیر منہج الصادقین‘‘ ج ۲ ص ۴۹۳۔
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    صرف اسی پر بس نہیں، بلکہ اہل بیت کا نام لے لے کر ان عظیم شخصیات کو کچوکے لگائے ہیں، اپنی شہوت رانیوں اور سیاہ مستیوں کے تیر و تفنگ سے ان پاکیزہ لوگوں کو گھائل و مجروح کردیا ہے۔ کتنی بری تعبیر اختیار کی ہے ان لوگوں نے اور کس قدر گھناؤنا جھوٹ اور بہتان اللہ کے طاہر و مطہر نبیa کے سر تھوپ رہے ہیں؟ صلوٰت اللہ وسلامہ علیہ … کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ’’جس نے ایک دفعہ متعہ کیا وہ حسین علیہ السلام کے درجہ کو پہنچ گیا… حسین علیہ السلام ان کے عقیدے کے مطابق تیسرے امام معصوم ہیں… جس نے دو دفعہ متعہ کیا وہ حسن کے درجہ کو پہنچ گیا۔ حسن رضی اللہ عنہ ان کے نزدیک دوسرے امام معصوم ہیں… جس نے ---تین دفعہ متعہ کیا وہ علی بن ابی طالب علیہ السلام 1
    ------------------------------------------------------------------------------------------------
    ! تو پھر اس بات کا کیا مطلب ہوا کہ ’’تمام ممالک کے شیعہ، بالخصوص نجف کے متعہ کو معیوب سمجھتے ہیں اگرچہ ہے حلال‘‘ اور ’’ہر جگہ کے شیعہ متعہ کو معیوب سمجھتے ہیں، اگرچہ وہ حلال ہے مگر ہر حلال کام نہیں کیا جاتا۔‘‘ (اعیان الشیعہ للسید محسن امین ص ۱۸۹) اس کے ساتھ ساتھ ائمہ کے بہت سے اقوال بھی ہیں، جن میں کہا گیا ہے کہ متعہ واجب ہے اور اس پر ثواب ملتا ہے، تو پھر کون سچا ہے۔ یہ یا ائمہ؟؟
    -------------------------------------------------------------------------------------------------

    کے درجہ کو… علی رضی اللہ عنہ ان لوگوں کے نزدیک پہلے امام معصوم، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے داماد اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچیرے بھائی ہیں۔ جس نے چار دفعہ متعہ کیا وہ میرے (محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) کے درجہ کو پہنچ گیا۔‘‘ 2 ’’تفسیر منہج الصادقین‘‘ ج ۲ ص ۴۹۳۔
    دیکھیے کس طرح ان لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد جھوٹی روایات کا دائرہ بُن دیا ہے۔ کس طرح ان لوگوں نے اسلام کی عظیم الشان عمارت کو مسمار کردیا؟ شریعت اسلامیہ کو منسوخ و معطل کردیا۔ ذرا یہ بھی سوچیے کہ یہ ہوس پرستوں کو اہل بیت کے مساوی درجہ دے کر کتنی بڑی توہین کے مرتکب ہوئے ہیں؟ ان گناہ گار و بدکردار لوگوں کو یہ اہل بیت کے برابر اور مساوی سمجھتے ہیں؟
    اس کے علاوہ بھی اس مسئلہ میں بہت سی بُری باتیں ان لوگوں نے بیان کی ہیں اور ان
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    باتوں کو اہل بیت کی طرف منسوب کردیا ہے، جو سراسر بہتان و الزام ہے۔ چند باتیں ہم یہاں ذکر کرتے ہیں۔
    ایک روایت یہ لوگ اپنے پانچویں امام معصوم، محمد باقر کی طرف منسوب کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے کہا ہے:
    ’’شب معراج، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم آسمانوں کی طرف گئے تو آپ نے کہا، مجھ سے جبرئیل علیہ السلام ملے اور کہنے لگے: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تبارک و تعالیٰ کہہ رہے ہیں کہ میں نے تیری امت میں سے ان لوگوں کو بخش دیا جو عورتوں سے متعہ کرنے والے ہیں۔‘‘ 1’’من لا یحضرہ الفقیہ ‘‘ لابنِ بابویہ قمی (صدوق) جو حقیقت میں کذوب ہے ج ۳ ص ۴۶۲۔
    طوسی ایک روایت اپنے دسویں امام معصوم … ابو الحسن کی طرف منسوب کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ’’آپ سے علی السائی نے کہا: میں قربان جاؤں، میں متعہ کی شادیاں کیا کرتا تھا، پھر میں اسے ناپسند کرنے اور اسے بُرا سمجھنے لگا، چنانچہ میں نے رکن اور امام کے درمیان کھڑے ہوکر خدا سے عہد کیا کہ میں آئندہ متعہ نہیں کروں گا اور خود پر روزوں کی نذر مان لی، پھر یہ عہد پورا کرنا میرے لیے مشکل ہوگیا اور میں اپنی قسم پر نادم ہوا۔ لیکن میں اتنی استطاعت رکھتا تھا کہ اعلانیہ شادی کرسکوں، آپ نے مجھ سے کہا:
    ’’(یہ عہد کرکے) تو نے اللہ سے عہد کیا ہے کہ تو اُس کی اطاعت نہیں کرے گا، بخدا جب تو اس کی اطاعت نہیں کرے گا تو پھر نافرمانی کرے گا۔‘‘ 2
    ------------------------------------------------------------------------------------------------------
    2 ’’تہذیب الاحکام‘‘ للطوسی، یہ کتاب صحاحِ اربعہ میں سے ایک ہے۔ ج ۷ ص ۲۵۱ ’’الفروع من الکافی‘‘ ج ۵ ص ۴۵۰۔
    --------------------------------------------------------------------------------------------------------

    ایک روایت جعفر صادق رحمہ اللہ کی طرف منسوب کرکے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے کہا:
    ’’متعہ کا حکم قرآن میں نازل ہوا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت (حدیث) میں بھی موجود ہے۔‘‘ 3 ’’الاستبصار‘‘ للطوسی ج ۳ ص ۱۴۲ باب تحلیل المتعہ۔
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    اسی طرح علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی طرف یہ جھوٹی بات منسوب کی ہے کہ آپ نے کہا: ’’اگر خطاب کا بیٹا یعنی عمر مجھ سے (متعہ کو حرام قرا ردینے میں) جلدی نہ کرتا تو بدبخت کے سوا کوئی بھی زنا نہ کرتا۔‘‘ 1
    ----------------------------------------------------------------------------------------------------
    1 ’’البرہان فی تفسیر القرآن ‘‘ للبحرانی جلد ۱ ص ۳۶۰۔ ’’تفسیر العیاشی‘‘ ج ۱ ص ۳۳۳ ’’تفسیر الصافی‘‘ ج ۱ ص ۳۴۷ ’’الکافی للکلینی‘‘ ج ۵ ص ۴۴۸ ’’مجمع البیان‘‘ للطبرسی ص ۳۲۔ یہ اس کی عبارت ہے
    ------------------------------------------------------------------------------------------------------
    اس سلسلے میں ان لوگوں نے ایک دلچسپ قصہ بیان کیا ہے، جس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ لوگ اپنے سینوں میں کیا چیز چھپائے بیٹھے ہیں۔
    ہوس سینے میں چھپ چھپ کے بنالیتی ہے تصویریں
    اس روایت کو بیان کرنے والا قومِ شیعہ کا بہت بڑا محدث محمد بن یعقوب کلینی ہے جو قریش کے کسی آدمی کے واسطے سے یہ روایت نقل کر رہا ہے، کہتا ہے، میری پھوپھی کی بیٹی نے میرے پاس پیغام متعہ بھیجا، وہ بہت مال دار تھی، (اس نے مجھ سے کہا) تو جانتا ہے کہ بہت سے مرد میرے متعلق پیغام بھیج چکے ہیں لیکن میں نے اُن سے شادی نہیں کی، تیرے پاس پیغام میں نے اس لیے نہیں بھیجا کہ مجھے مردوں کی رغبت ہے، صرف اس لیے پیغام بھیجا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ اللہ نے متعہ کو اپنی کتاب میں حلال کیا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حدیث میں اسے بیان کردیا تھا لیکن پھر زفر نے اسے حرام کردیا (حاشیہ میں تصریح کردی گئی ہے کہ زفر سے مراد عمر ہے) میں چاہتی ہوں کہ خدائے برتر و بزرگ کی اطاعت کروں، رسول اللہ کی اطاعت کروں اور زفر کی حکم عدولی کروں۔ چنانچہ تو مجھ سے متعہ کر، میں نے اس سے کہا: ذرا ٹھہر، میں ابو جعفر علیہ السلام کے پاس جاتا ہوں اور ان سے مشورہ کرتا ہوں، میں ان کے پاس گیا اور انہیں یہ بات بتائی، آپ نے کہا کر لو، خدا اس شادی کی وجہ سے تم دونوں پر اپنی رحمتیں نازل کرے۔‘‘ 2 ’’الفروع من الکافی‘‘ للکلینی، باب النوادر جلد ۵ ص ۴۶۵۔
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    اس برے کام پر لوگوں کو باقاعدہ پرزور طریقے سے برانگیختہ کیا جاتا ہے، اور ترغیب کے لیے جعفر بن محمد باقر کی طرف نسبت کرکے یہ قول بیان کیا جاتا ہے:
    ’’جس نے ہماری باکرہ لڑکیوں کو پناہ نہ دی اور متعہ کو جائز نہ سمجھا، وہ ہم میں سے نہیں۔‘‘ 1
    --------------------------------------------------------------------------------
    1 ’’کتاب الصافی‘‘ للکاشانی ج ۱ ص ۳۴۷ ’’من لایحضرہ الفقیہ‘‘ ج ۳ ص ۴۵۸۔
    --------------------------------------------------------------------------------
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  2. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,323
    جزاک اللہ خیرا و بارک اللہ فیک
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,329
    جزاک اللہ خیرا بھائی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. ام ثوبان

    ام ثوبان رحمہا اللہ

    شمولیت:
    ‏فروری 14, 2012
    پیغامات:
    6,690
    جزاک اللہ خیرا وبارك اللہ فیک
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں