صلہ رحمی کی ترغیب

العلم نے 'معلومات عامہ' میں ‏فروری 11, 2014 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. العلم

    العلم -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 21, 2013
    پیغامات:
    30
    صلہ رحمی ایک ایسی چیز ہے جس کی وجہ سے اللہ روزی میں کشادگی عطا کرتا ہے اور موت کو مؤخر کردیتا ہے اور انسان کے مال میں اس کی وجہ سے برکت دی جاتی ہے۔ صلہ رحمی کمالِ ایمان اور حسنِ اسلام کی علامت ہے اور قطع رحمی لعنت، عقاب، تباہی اور عذاب کا موجب ہے۔ اس سے برکت مٹ جاتی ہے اور دلوں میں بغض وعداوت پیدا ہوتی ہے ۔
    http://www.minberurdu.com/عالمی_منبر/باب_معاشرت/صلہ_رحمی_کی_ترغیب.aspx
     
  2. ام احمد

    ام احمد محسن

    شمولیت:
    ‏جنوری 7, 2008
    پیغامات:
    1,333
    جزاک اللہ خیرا بهائی پلیز صلہ رحمی کا صحیح مطلب بهی واضح کریں کہ صلہ رحمی کس چیز کا نام ہے
     
  3. العلم

    العلم -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 21, 2013
    پیغامات:
    30
    عزیز بہن آپکی دلچسپی کو سراہتے ہوئے میں مضمون کا پہلا حصہ آپ کی خدمت میں پیش کیے دیتا ہوں۔
    حذیفہ از العلم​
     
    Last edited by a moderator: ‏فروری 13, 2014
  4. العلم

    العلم -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 21, 2013
    پیغامات:
    30
    صلہ رحمی کی ترغیب (حصہ اول)

    إن الحمد لله، نحمده، ونستعينه، ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لاشريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله۔
    ذو الارحام (رشتے داروں) کا بیان اور ان کے ساتھ صلہ رحمی کا وجوب:
    مسلمانو! آج ہماری گفتگو،ایک ایسے اہم معاملہ سے متعلق ہوگی جس سے اللہ روزی بڑھاتا ہے اور اس کے سبب انسان کے عمر میں بھی اضافہ ہوتا ہے اور اس کے مال میں برکت ہوتی ہے وہ معاملہ ہے صلہ رحمی کا ۔ ذوالارحام انسان کے خود اپنے قریبی لوگ ہوتے ہیں۔ جیسے ماں اور باپ، بیٹا اور بیٹی، اسی طرح اپنےباپ یا ماں یا بیٹے یا بیٹی کی طرف سے جو ہو اس کے اور اپنے درمیان جو رشتہ ہوتاوہ سب ذوالارحام ہیں ۔ صلہ رحمی کے وجوب پر اور قطع رحمی کی حرمت اور رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک پر بہت سی آیات واحادیث دلالت کرتی ہیں ۔
    اللہ تعالیٰ نے جسے جوڑنے کا حکم دیا ہے اس کو جوڑنے والوں کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا:
    (وَالَّذِينَ يَصِلُونَ مَا أَمَرَ اللَّـهُ بِهِ أَن يُوصَلَ وَيَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ وَيَخَافُونَ سُوءَ الْحِسَابِ) (الرعد: 21)
    "اور اللہ نے جن چیزوں کے جوڑنے کا حکم دیا ہے وه اسے جوڑتے ہیں اور وه اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں اور حساب کی سختی کا اندیشہ رکھتے ہیں۔"
    اور قطع تعلق کرنے والوں کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا:
    (وَالَّذِينَ يَنقُضُونَ عَهْدَ اللَّـهِ مِن بَعْدِ مِيثَاقِهِ وَيَقْطَعُونَ مَا أَمَرَ اللَّـهُ بِهِ أَن يُوصَلَ وَيُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ ۙ أُولَـٰئِكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ) (الرعد: 25)
    "اور جو اللہ کے عہد کو اس کی مضبوطی کے بعد توڑ دیتے ہیں اور جن چیزوں کےجوڑنے کا اللہ نے حکم دیا ہے انہیں توڑتے ہیں اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں، ان کے لئے لعنتیں ہیں اور ان کے لئے برا گھر ہے۔"
    اللہ سبحانہ تعالیٰ نے روئے زمین میں فساد برپا کرنے اور قطع رحمی کرنے والوں کی تہدید کرتے ہوئے فرمایا:
    (فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِن تَوَلَّيْتُمْ أَن تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ لَعَنَهُمُ اللَّـهُ فَأَصَمَّهُمْ وَأَعْمَىٰ أَبْصَارَهُم) (محمد:22-23)
    "اور تم سے یہ بھی بعید نہیں کہ اگر تم کو حکومت مل جائے تو تم زمین میں فساد برپا کرو اور رشتے ناتے توڑ ڈالو۔یہ وہی لوگ ہیں جن پر اللہ کی پھٹکار ہے اور جن کی سماعت اور آنکھوں کی روشنی اللہ نے چھین لی ہے۔"
    اور اللہ تعالیٰ نے رشتہ داروں کو خیر کی وصیت کی ہے۔ چنانچہ فرمایا:
    (وَيَاتَّقُوا اللَّـهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ ۚ إِنَّ اللَّـهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبً) (النساء: 1)
    "اس اللہ سے ڈرو جس کے نام پر ایک دوسرے سے مانگتے ہو اور رشتے ناطے توڑنے سے بھی بچو بےشک اللہ تعالیٰ تم پر نگہبان ہے۔"
    لہذا اے مسلمانو!تم اپنے رب کا خطاب سمجھو؟ ہم میں سے کتنے لوگ جہیں جو قطع رحمی کرنے والے ہیں، ضلالت وگمراہی میں بھٹک رہے ہیں، اپنے رب کی نافرمانیوں میں لگے ہوئے ہیں،اس کے دین وشریعت سے دور ہیں اور اس کے اوامر واحکام سے غافل ہیں؟ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نےمخلوق کو پیدا کیا اور جب اس سے فارغ ہوا تو رحم (رشتہ داری ) نے عرض کیا کہ یہ قطع رحمی سے تیری پناہ مانگنے والے کی جاہے، اللہ نے فرمایا کہ ہاں!لیکن کیا تو اس سے خوش نہیں کہ میں اس سے جڑوں گا ، جو تجھ سے جڑے اور میں اس سے کٹوں گا ، جو تجھ سے کٹے۔ اس نے کہا کہ ہاں کیوں نہیں،اے میر ےرب! اللہ نے فرمایا۔ تیرے لیے یہی رہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چاہو تو یہ آیت کریمہ پڑھ لو:
    (فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِن تَوَلَّيْتُمْ أَن تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ) (بخاری)
    "تو یقیناً قریب ہے کہ جب تم کو اقتدار ملے تو تم زمین میں فساد پھیلاؤ اور اپنے رحموں (رشتوں) کو کاٹو۔"
    حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "إن الرحم شجنۃ، ممسکۃ بالعرش، تکلم بلسان ذلق، اللھم صل من وصلنی واقطع من قطعنی، فیقول اللہ تبارک وتعالی: أنا الرحیم الرحمن، و إنی شققت للرحم من إسمی، فمن وصلھا وصلتہ، ومن نکثھا نکثتھ" (بخاری)
    "رشتہ ناطہ نے ایک شاخ شجر کی طرح عرش کو تھا مے صاف زبان سے دعا کی: اے اللہ ! تو اس سے جڑ جو مجھے جوڑے اور اس سے الگ رہ جو مجھ سے کٹے۔ تب اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں رحیم ورحمٰن ہوں، میں نے اپنے نام سے "رحم" کو مشتق کیا ہے تو جو اس کو جوڑےگا میں اس سے جڑوں گا اور جو اس کو توڑےگامیں اسے توڑدوں گا۔ "
    اور جب ہر قل نے ابو سفیان سے ان کے اسلام لانے سے قبل جبکہ وہ تجارت کی غرض سے شام میں تھے نبی کی صفات کے بارے میں پوچھا اوریہ کہ وہ لوگوں کو کن باتوں کا حکم دیتے ہیں؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ: وہ فرماتے ہیں، اللہ کی عبادت کرو اور آباء واجداد کی بات چھوڑو۔ وہ ہمیں نماز، سچائی، پاکدامنی اور صلہ رحمی کا حکم دیتے ہیں ۔(بخاری )
    چنانچہ صلہ رحمی کی دعوت رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے دی تھی ۔
    صلہ رحمی کے کئی درجات ہیں:
    سب سے کمتر درجہ ہے کہ انسان اپنے مسلمان بھائیوں سے تکلیف دہ چیز کو دور کرے۔
    صلہ رحمی کی فضیلت:
    اللہ کے بندو!صلہ رحمی عمر میں اضافہ اور مال کی کثرت کا سبب ہے یہ صادق ومصدوق کا وعدہ ہے ، جو اپنی خواہش نفس سے نہیں بولتے، جیسا کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    "من سرہ أن یبسط لہ فی رزقہ وینسا لہ فی إثرہ فلیصل رحمہ" (بخاری ومسلم)
    " جسے یہ اچھا لگے کہ اس کی روزی میں برکت اور عمر میں اضافہ ہوتو وہ صلہ رحمی کرے ۔ "
    اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا کہ حقیقی وصل وتعلق وہ ہے جو کسی سے تب ہو۔ جب وہ تم سے قطع رحمی کرے ۔ لیکن وہ جو جوڑنے والے سے جڑے تو مکافی (برابر کا برتاؤ کرنے والا) ہوتا ہے مگر جو اپنے ان رشتہ داروں سے جڑے جو اس سے قطع تعلق کیے ہیں تو اس کا اجر وثواب بہت بڑاہے ۔
    اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    "لیس الواصل بالمکافی ولکن الواصل الذی إذا قطعت رحمہ وصلھا" (بخاری)
    "وہ شخص صلہ رحمی کرنے والا نہیں جو کسی رشتہ دار کے ساتھ احسان کے بدلے میں احسان کرتا ہے، بلکہ اصل صلہ رحمی کرنے والا وہ ہے کہ جب اس سے قطع رحمی کی جائے تو وہ صلہ رحمی کرے۔"
    بلکہ اس دین عظیم میں معاملہ یہاں تک پہنچا ہے کہ اس نے کافر کے ساتھ بھی صلہ رحمی کی ترغیب دی ہے۔ جیسا کہ حضرت اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ: میری ماں قریش کے ساتھ ہوئے معاہدہ اور مدت میں، آئيں۔جب کہ لوگوں نے ان کے والد کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے معاہدہ کیاتھا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میری ماں صلہ رحمی کی رغبت وخواہش کے ساتھ آئی ہیں تو کیا میں ان سے صلہ رحمی کروں؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں اپنی ماں کے ساتھ صلہ رحمی کرو۔
    اللہ کے بندو!یہ ہے آپ کے دین میں صلہ رحمی کا درجہ ومقام ، کیا آپ اللہ کی ان حدوں سے واقف ہیں؟ اس کے احکام بجالانے والے اور اس کی منہیات ترک کرنے والے ہیں ؟ کیا آپ نے صلہ رحمی کی اور خویش واقارب سے ملتے رہے؟ اور صلہ رحمی میں کمی و کوتا ہی اور ان کے تعلق سے حق تلفی کے لیے آپ نے ان سے معافی مانگی ۔
    برادران اسلام!کیا آپ کو معلوم ہے کہ صلہ رحمی کے کیا ثمرات ونتائج ہیں ؟ دنیا وآخرت دونوں جہان میں اس کے لیے بشارتیں ہیں۔ صلہ رحمی کمال ایمان اور حسن اسلام ہے، صلہ رحمی رزق میں وسعت اور عمر میں برکت کا سبب ہے، صلہ رحمی سے بندے کو اللہ کی رضا حاصل ہوتی ہے ۔
    صلہ رحمی کے سلسلے میں سلف کی نصیحتیں اور فرمودات: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ:
    "تعلموا أنسابکم ثم صلوا أرحاکم"
    اپنے نسب کو جانو ، پھر اپنے رشتہ داروں سے جڑو۔"
    اللہ کی قسم ایک آدمی اور اس کے بھائی کے بیچ کچھ اختلاف ضرور ہوگا۔ اگر دونوں فریق رشتہ و قرابت کو جان سمجھ لیں تو وہ اختلاف ہرگز نہ کریں۔ (تفسیر طبری ) اور حضرت عطاء بن ابورباح نے فرمایا کہ فاقہ والوں پہ خرچ کرنے سے بہتر ہے؟ اس پر کسی نے پوچھا کہ اے ابو محمد !خواہ میرا رشتہ دار مالداری میں میرے ہی جیسا ہوتو بھی ؟فرمایا کہ ہاں، چاہے وہ تم سے بھی زیادہ مالدار کیوں نہ ہو (مکارم الأخلاق لابن أبی الدنیا 12)
    اور حضرت سعید بن مسیبؒ نے کچھ دینار چھوڑ تے ہوئے فرمایا کہ: اے اللہ! تو جانتا ہے کہ میں نے وہ صرف اس لیے جمع کررکھے تھے کہ ان سے اپنا دین وحسب بچا سکوں ۔ اس آدمی میں کوئی خیر نہیں ، جو مال اپنا قرض ادا کرنے، صلہ رحمی کرنے اور اپنی ضروریات پوری کرنے کےلیے جمع نہ کرے۔ (الآداب الشرعیۃ لابن الصلاح:3/269)
    اور عمر وبن دینار نے کہا کہ: جان لو، فریضہ کی ادائیگی کے بعد رشتہ دار کی طرف اٹھنے والے قدم سے بڑھ کر کسی اور قدم کا ثواب نہیں۔"
    اور سفیان بن موسی نے عبداللہ بن محیریز سے پوچھا کہ:قرابت کا کیا حق ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ: قرابت دار آئے تو اس کا استقبال ہو اور واپس جائے تو اس کے پیچھے (وداع کرنے کےلیے) رہا جائے۔ (الآداب الشرعیۃ لابن صلاح: 3/ 269)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  5. بابر تنویر

    بابر تنویر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,318
    جزاک اللہ خیرا
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں