پاکستانی حکومت اور تحریک طالبان مذاکرات کی خبریں

iqbal jehangir نے 'خبریں' میں ‏فروری 21, 2014 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. iqbal jehangir

    iqbal jehangir رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 31, 2012
    پیغامات:
    375
    پاکستانی حکومت اور تحریک طالبان مذاکرات کی خبریں ​
    17 دنوں میں 40 بزدلانہ حملوں سے مذاکرات کو نقصان پہنچا، وزیرِ دفاع
    اسلام آباد…وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ 17دنوں میں 40 بزدلانہ حملوں سے مذاکرات کو نقصان پہنچا، سیکورٹی اداروں کو جوابی کارروائی کا حق دے دیا گیاہے۔ اسلام آباد سے جاری ایک بیان میں وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ 17دنوں میں 40 بزدلانہ حملوں سے مذاکرات کو نقصان پہنچا، ان حملوں میں 175افراد شہید ہوئے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ سیکورٹی اداروں کو جوابی کارروائی کا حق دے دیا گیا ہے، عوام کی سلامتی اور امن کا حصول حکومت کی ذمہ داری ہے۔
    Geo Urdu - 17 دنوں میں 40 بزدلانہ حملوں سے مذاکرات کو نقصان پہنچا، وزیرِ دفاع
     
  2. iqbal jehangir

    iqbal jehangir رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 31, 2012
    پیغامات:
    375
    فوج نہیں مانتی‘

    فوج نہیں مانتی‘
    آخری وقت اشاعت: بدھ 12 مارچ 2014 ,‭ 17:56 GMT 22:56 PST
    فوج کی سوچ اور حکومتی سوچ مختلف
    طالبان سے رابطے کرنے کے لیے بنائی گئی سرکاری کمیٹی کے رکن اور طالبان کے امور کے تجزیہ کار رحیم اللہ یوسفزئی نے کہا ہے کہ حکومت نے فوج کو مذاکراتی کمیٹی میں شامل کرنے کے لیے بڑی کوشش کی لیکن فوج نے کمیٹی میں شامل ہونے سے انکار کر دیا ہے۔
    بی بی سی اردو سروس کے پروگرام سیربین میں ایک گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے رحیم اللہ یوسفرزئی نے کہا کہ حکومت یہ دعوی کرتی ہے کہ فوج ان کے ساتھ ہے اور فوج بھی یہی کہتی ہے کہ جو بھی حکومتی پالیسی ہوگی وہ اس پر کاربند رہیں گے۔
    رحیم اللہ یوسفزئی نے مزید کہا کہ ان کے خیال میں فوج اور حکومت کی سوچ میں اس اہم مسئلے پر فرق ہے۔ انھوں نے کہا کہ فوج کے لوگ سمجھتے ہیں کہ طالبان سے مذاکرات کا طریقہ کارگر ثابت نہیں ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے بھی مذاکرات ہوئے ہیں اور فوج کی یہی سوچ ہے کہ اس مسئلے کا اس طریقے سے حل ممکن نہیں ہے۔
    رحیم اللہ یوسفزئی نے کہا کہ حکومتی جماعت اور عمران خان مذاکرات کو ہی حل سمجھتے ہیں اور عمران خان حکومت کا بھرپور ساتھ دے رہے ہیں۔
    طالبان سے باقاعدہ مذاکرات کا سلسلہ شروع کرنے کے لیے نئی کمیٹی کے بارے میں رحیم اللہ یوسفزئی نے کہا کہ پرانی کمیٹی میں تین افراد ایسے تھے جن کا براہ راست حکومت سے کوئی تعلق نہیں تھا لیکن اب جو کمیٹی بنائی جا رہی ہے اس میں سرکاری افسران شامل ہیں اور اب طالبان اور حکومت کے درمیان براہ راست بات چیت ہو گی۔
    فوج سمجھتی ہے کہ مذاکرات کا طریقہ کار درست نہیں ہے
    سیربین کی گفتگو میں شامل دفاعی امور کے تجزیہ کار بریگیڈیئر سعد جو طالبان سے بات چیت یا مذاکرات کے ہمیشہ سے مخالف رہے ہیں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے اس استدلال سے بالکل متفق نہیں تھے کہ مذاکرات نے طالبان کے اندر کسی قسم کا کوئی اختلاف پیدا کر دیا ہے۔
    بریگیڈیئر سعد کا کہنا تھا کہ طالبان بہت شاطر اور قابل لوگ ہیں اور وہ کسی ابہام کے بغیر یکسوئی سے اپنے اہداف کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ بریگیڈیئر سعد نے سوال کیا کہ کن معلومات کی بنیاد پر اس یقین سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ طالبان تقسیم ہو چکے ہیں؟
    انھوں نے کہا کہ تحریک طالبان پاکستان شمالی وزیرستان میں ایک حاوی گروپ ہے اور باقی سب گروہ اس کی ذیلی شاخیں ہیں اور انھیں انگریزی میں ’شیڈو گروپ‘ بھی کہتے ہیں۔
    انھوں نے مزید کہا کہ تحریک طالبان کی اجازت کے بغیر دہشت گردی کی کوئی کارروائی نہیں کی جاتی۔ انھوں نے کہا کہ مختلف گروپوں کا وجود طالبان کی حکمت عملی کا حصہ ہے تاکہ آپ ’انٹیلیجنس راڈر‘ کو دھندلا کر دیں اور ساتھ ہی ہو ان کارروائیوں سے اپنے آپ کو علیحدہ بھی کر سکتے ہیں۔
    بریگیڈیئر سعد کا کہنا تھا کہ حکومت ابہام کا شکار ہے۔
    مذاکرات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے تو ابھی تک یہ بھی واضح نہیں ہو سکا کہ ان کا ایجنڈا کیا ہوگا۔ انھوں نے سوال کیا کہ کیا حکومت وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے خالی کر دے گی، یا طالبان کے کہنے پر اپنی خارجہ پالیسی تبدیل کر دے گی۔
    بریگیڈیئر سعد نے ایک اور سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان کی سمجھ سے بات بلاتر ہے کہ حکومت مذاکرات پر آمادہ اور مذکرات سے انکار کرنے والے طالبان میں امتیاز کیسے کرے گی۔
    انھوں نے کہ ان لوگوں کے درمیان تفریق کیسے کی جائے گی۔ انھوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں ’انٹیلیجنس کا بلیک ہول‘ ہے اور کسی کو کچھ پتہ نہیں کہ وہاں کیا ہو رہا ہے۔
    انھوں نے خبردار کیا کہ اگر آپ ایک کو ہاتھ لگائیں گے سب جواب مل کر جواب دینے کے لیے آ جائیں گے۔
    ‮پاکستان‬ - ‭BBC Urdu‬ - ‮‬

    سیاسی حکمت عملی کے تحت دہشتگردی کو شکست دینے کیلئے تیار ہیں:مسلح افواج
    راولپنڈی…آرمی ، نیوی اور فضائیہ کے سربراہان نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ سیاسی قیادت کی حکمت عملی کے تحت دہشت گردی کی لعنت کو شکست دینے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔ تفصیلات کے مطابق جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا ہے کہ مسلح افواج سیاسی قیادت کی حکمت عملی کے تحت دہشت گردوں کامقابلہ کرنے کیلئے پوری طرح تیار ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا اجلاس جنرل راشد محمود کی زیر صدارت راول پنڈی میں ہوا، جس میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف، چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل محمد آصف سندیلہ، چیف آف ائیر اسٹاف ائیر چیف مارشل طاہر رفیق بٹ، سیکرٹری دفاع، سیکرٹری دفاعی پیداوار اور تینوں مسلح افواج کے سینئر افسران شریک ہوئے۔ شرکاء نے سیکیورٹی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے افواج کی تیاری پر اطمینان کا اظہار کیا اور سیاسی قیادت کی حکمت عملی کے تحت دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
    Geo Urdu - سیاسی حکمت عملی کے تحت دہشتگردی کو شکست دینے کیلئے تیار ہیں:مسلح افواج
     
    Last edited by a moderator: ‏مارچ 13, 2014
  3. iqbal jehangir

    iqbal jehangir رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 31, 2012
    پیغامات:
    375
    سیکورٹی ادارے جنگ بندی کی خلاف ورزی کررہے ہیں،طالبان

    سیکورٹی ادارے جنگ بندی کی خلاف ورزی کررہے ہیں، حکومت سرزنش کرے، طالبان
    اسلام آباد (ایجنسیاں)کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے سکیورٹی اداروں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہاہے کہ گرفتاریوں، چھاپوں، گولہ باری اور قیدیوں پرتشددکا سلسلہ جاری ہے ،انہوں نے کہاکہ حکومت ایسے عناصر کو قابوکرکے ان کی سرزنش کرےاورایسے واقعات کی روک تھام کی جائے تاکہ بات چیت بہتر ماحول میں جاری رہ سکے۔اپنے ایک بیان میں ٹی ٹی پی کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے کہا کہ طالبان سنجیدگی سے جنگ بندی پر عمل پیرا ہیں اور کسی گروپ کو جنگ بندی کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
    اہم خبریں : سیکورٹی ادارے جنگ بندی کی خلاف ورزی کررہے ہیں، حکومت سرزنش کرے، طالبان
     
  4. iqbal jehangir

    iqbal jehangir رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 31, 2012
    پیغامات:
    375
    قوم کومایوس نہیں کریں گے، طالبان ترجمان

    شوریٰ اجلاس کےبعد جنگ بندی میں توسیع کی جائیگی، قوم کومایوس نہیں کریں گے، طالبان ترجمان
    پشاور (آن لائن) کالعدم تحریک طالبان کے ترجمان شاہد اللہ شاہدنے کہا ہے کہ جنگ بندی میں توسیع شوریٰ کے اجلاس کے بعدکی جائے گی ،قوم کو مایوس نہیں کریں گے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ترجمان طالبان نے کہا ہے کہ طالبان کے تمام گروپس امیرکی اطاعت کے مکمل پابند ہیں، جنگ بندی میں توسیع کا فیصلہ شوریٰ کریگی اور یہ اجلاس کے بعدہی کیاجائے گا۔
    ملک بھر سے : شوریٰ اجلاس کےبعد جنگ بندی میں توسیع کی جائیگی، قوم کومایوس نہیں کریں گے، طالبان ترجمان
     
  5. iqbal jehangir

    iqbal jehangir رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 31, 2012
    پیغامات:
    375
    تحریک طالبان کے علاوہ دیگر تنظیموں سے بھی بات کرنی چاہئے

    حکومت کو تحریک طالبان کے علاوہ دیگر تنظیموں سے بھی بات کرنی چاہئے، فضل الرحمان

    اسٹاف رپورٹ

    ملتان : جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ تحریک طالبان سب سے بڑی تنظیم نہیں، عسکریت پسندوں کی اس سے بڑی تنظیمیں بھی موجود ہیں، حکومت کو ان سے بھی بات کرنی چاہئے تھی۔

    ملتان میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ وہ مذاکرات کی کامیابی کیلئے دعاگو ہیں، مذاکرات کیلئے حکومت نے کوئی مکینزم بنایا ہے تو خواہش ہے وہ کامیاب ہو، فوج مذاکرات میں شریک نہیں ہورہی تو روایات بھی یہی ہیں، معاملے میں فوج کی رائے ضرور لی جاسکتی ہے۔

    وہ کہتے ہیں کہ طالبان کے ساتھ عسکریت پسندوں سے بھی بات کرنا چاہئے تھی، حکومت میں شمولیت اور پھر باہر نکلنا بچوں کا کھیل نہیں۔

    حکومت کو تحریک طالبان کے علاوہ دیگر تنظیموں سے بھی بات کرنی چاہئے، فضل الرحمان
     
  6. iqbal jehangir

    iqbal jehangir رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 31, 2012
    پیغامات:
    375
    حکومت نے ایک لکیر کھینچ دی ہے اور فیصلہ کیا ہے کہ جو گروپ بات چیت پر آمادہ ہوگا اس سے بات چیت ہوگی اور جو لوگ ریاست کے مدمقابل کھڑے ہوں گے ان کیخلاف فوجی آپریشن ہوگا.طالبان سے مذاکرات کے عمل کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ مذاکراتی عمل کے نتیجے میں طالبان کے بیشتر اور بااثر گروپ Neutralise معتدل ہوجائیں گے اور لڑائی پر آمادہ طالبان گروپوں کو تنہا کیا جاسکے گا اگر طالبان گروپوں میں تقسیم ہوتے ہیں تو اس کا منطقی فائدہ حکومت کوہوگا ۔حکومتی حلقوں کاکہنا ہے کہ مذاکراتی سلسلہ شروع ہونے سے دھماکوں میں 50 فیصد کمی ہوگئی ہے اور اگرطالبان گروپوں میں مزید تقسیم ہوتی ہے تو اس سے امن کی کوششوں کو فائدہ ہوگا نواز عمران ملاقات نے سیاسی منظرنامے میں کئی گہرے اثرات مرتب کئے ہیں اس ملاقات سے جہاں مذاکراتی عمل کو تقویت ملی وہاں ان عناصر کو ناکام کرنے کی کوشش بھی تھی جو تشدد کے حامی ہیں اورمذاکراتی عمل کو نقصان پہنچانے کی کوششوں میں مصروف تھے۔
    ............................................................................
    خیبر ایجنسی میں انسداد پولیو مہم ملتوی
    آواز پاكستان | پاکستان دنیا کا ایک حسين وجميل ملك
     
  7. iqbal jehangir

    iqbal jehangir رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 31, 2012
    پیغامات:
    375
    وائس چانسلر پروفیسر اجمل کو رہا کرنیکا فیصلہ

    طالبان کا اسلامیہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر اجمل کو رہا کرنیکا فیصلہ
    23 مارچ 2014 (17:33)
    چارسدہ (مانیٹرنگ ڈیسک) طالبان نے اسلامیہ یونیورسٹی کے مغوی وائس چانسلر پروفسیر اجمل خان کو رہا کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ وائس چانسلر کو پولیٹیکل انتظامیہ کے حوالے کرنے کیلئے وزیرستان سے پارہ چنار منتقل کردیا گیا اور آئندہ 24 گھنٹے کے اندر ان کے پشاور پہنچنے کے امکانات ہیں۔ کاغذی کارروائی کے بعد مغوی کو پولیٹیکل انتظامیہ کے حوالے کیا جائے گا جس کے بعد وہ آبائی علاقہ چارسدہ جائیں گے۔ مغوی وائس چانسلر نے ویڈیو پیغام کے ذریعے اپنی رہائی کیلئے ذمہ داروں سے متعدد بار اپیل کی تھی۔ انہیں 10 دسمبر 2010ءکو پشاور یونیورسٹی سے اغوا کیا گیا تھااو ر وہ اسفند یارولی خان کے قریبی رشتہ دار ہیں۔
    [url="http://www.dailypakistan.com.pk/peshawar/23-Mar-2014/85434
     
    Last edited by a moderator: ‏مارچ 24, 2014
  8. iqbal jehangir

    iqbal jehangir رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 31, 2012
    پیغامات:
    375
    حکومت اور ٹی ٹی پی کے درمیان بعض معاملات پر اتفاق

    امن مذاکرات: حکومت اور ٹی ٹی پی کے درمیان بعض معاملات پر اتفاق
    تاریخ اشاعت 26 مارچ, 2014

    اسلام آباد: حکومتی کمیٹی اور طالبان شوریٰ کے درمیان پہلی مرتبہ براہِ راست مذاکرات کا پہلا مرحلہ ختم ہوگیا ہے جس میں دونوں جانب سے کئی معاملات پر اتفاق ہوا ہے۔
    ڈان نیوز کے مطابق دونوں جانب کے فریقین نے ایک دوسرے سے ضمانتیں بھی طلب کی ہیں۔ طالبان سے مذاکرات کیلئے جانے والی ٹیم کی آج واپسی کا بھی امکان ہے۔
    آج ہونے والےمذاکرات کے دوسرے مرحلے میں دونوں جانب سے کئی معاملات پر اتفاق دیکھا گیا ۔ لیکن دونوں فریقین نے ایک دوسرے سے ضمانتیں طلب کی ہیں۔
    ذرائع کے مطابق طالبان نے غیر جنگجو قیدیوں کی رہائی اور غیر معینہ مدت تک جنگ بندی حکومتی مطالبے پر مثبت جواب دیا ہے۔ مذاکرت کے دوران طالبان نے حکومتی کمیٹی کے ارکان سے سوال کیا کہ کیا انہیں حکومت نے فیصلہ کرنے کے اختیارات دیدئے ہیں۔ جس پر حکومتی کمیٹی نے جواب دیا کہ وہ مکمل اختیارات کیساتھ پہنچے ہیں۔
    اس سے پہلے حکومتی ٹیم حبیب اللہ خٹک کی سربراہی میں اپنے ساتھ طالبان کمیٹی کے سربراہ مولانا سمیع الحق کو لیکر شمالی وزیرستان کے علاقے استین تال پہنچی۔ جہاں سے انہیں مذاکرات کیلئے نامعلوم مقام پر لے جایا گیا۔
    دوسری جانب صدرمملکت ممنون حسین نے قوم سے مذاکرات کی کامیابی کیلئے دعا کی اپیل کی ہے۔ فیصل آباد میں تاجروں سے خطاب میں ان کا کہنا ہے کہ مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں دوسرے آپشن کیلئے تیار رہنا چاہئے۔
    واضح رہے کہ تحریکِ طالبان پاکستان ( ٹی ٹی پی ) سے یہ مذاکرات وزیرِ اعظم نواز شریف اور ان کی حکومت کی تائید اور خواہش کے تحت کئے جارہے ہیں ۔ ٹی ٹی پی کی کارروائیوں میں اب تک ہزاروں پاکستانی ہلاک ہوچکےہیں۔ اس سے قبل ٹی ٹی پی مذاکراتی کمیٹی کے نمائیندے پروفیسر ابراہیم نے کہا تھا کہ طالبان حکومتی مذاکراتی کمیٹی سے براہِ راست مذاکرات کے خواہاں ہیں۔
    حکومتی کمٹی کے سربراہ کی نگرانی میں سرکاری ٹیم کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے پہنچایا گیا۔
    اگرچہ ٹی ٹی پی نے اپنی جانب سے پاکستان کے طول و عرض میں حملے روکے جاچکے ہیں لیکن اس کے باوجود پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات ہوئے ہیں جن میں سے کئی ایک کی ذمے داری ٹی ٹی پی سے الگ ہونے والے گروپ ' احرار الہند ' نے قبول کی ہے جبکہ طالبان نے ان سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔
    امن مذاکرات: حکومت اور ٹی ٹی پی کے درمیان بعض معاملات پر اتفاق - URDU.DAWN.COM
     
  9. iqbal jehangir

    iqbal jehangir رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 31, 2012
    پیغامات:
    375
    طالبان کا گیلانی اور سلمان تاثیر کے مغوی بیٹوں کی رہائی سے انکار

    طالبان کا گیلانی اور سلمان تاثیر کے مغوی بیٹوں کی رہائی سے انکار
    اسلام آباد…وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار طالبان سے مذاکرات کی تفصیلات حاصل کرنے کے لیے آج حکومتی کمیٹی سے ملاقات کریں گے ، دوسری طرف طالبان نے یوسف رضا گیلانی اور سلمان تاثیر کے بیٹوں کو رہا کرنے سے انکار کردیا ہے البتہ اپنے دو افراد کی رہائی کے بدلے پروفیسر اجمل کو رہا کرنے کی پیش کش ہے ۔چودھری نثار نے حکومتی کمیٹی کو آج طلب کرلیا ۔طالبان ذرائع کے مطابق طالبان نے کہا ہے کہ سندھ حکومت ان کے قیدیوں سے بہیمانہ سلوک کررہی ہے ، جبکہ وہ یوسف رضا گیلانی اور سلمان تاثیر کے بیٹوں کو رہا نہیں کریں گے ، البتہ طالبان نے تین سال پہلے اغوا کیے گئے اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور کے وائس چانسلر پروفیسر اجمل کو مشروط طور پررہاکرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے ، لیکن اس کے لیے ان کے گرفتار دو افراد کو رہا کیاجائے ، اس پرحکومتی کمیٹی نے جواب دیا ہے کہ سندھ حکومت سے بات کرکے جواب دیں گے، تاہم حکومتی کمیٹی کے ذرائع کاکہنا ہیکہ بے گناہ افراد کی رہائی کا معاملہ تو ویسے بھی مذاکرات سے الگ ہونا چاہیے ، دوسری طرف وفاقی وزیر داخلہ نے آج حکومتی کمیٹی کو طلب کرلیا ہے ، حکومتی کمیٹی طالبان سے گذشتہ روز ہونے والے مذاکرات پر ، وزیر داخلہ کو بریفنگ دے گی ۔
    Geo Urdu - طالبان کا گیلانی اور سلمان تاثیر کے مغوی بیٹوں کی رہائی سے انکار
     
  10. iqbal jehangir

    iqbal jehangir رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 31, 2012
    پیغامات:
    375
    طالبان بندوق کی نوک پر شریعت نہیں چاہتے: عمران خان

    طالبان بندوق کی نوک پر شریعت نہیں چاہتے: عمران خان
    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے آج جمعرات کے روز کہا ہے کہ طالبان بندوق کی نوک پر شریعت نافذ نہیں کرنا چاہتے، بلکہ ملک کو امریکی جنگ سے نکالنا چاہتے ہیں۔

    انہوں نے ان خیالات کا اظہار اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے لیے روانہ ہوتے ہوئے اپنی رہائش گاہ پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ٹی ٹی پی اور حکومت کے درمیان ملاقات سے معلوم ہوگیا ہے کہ کون طالبان سے بات چیت اور کون جنگ کرنا چاہتا ہے اور اگر فوجی آپریشن ہوتا تو تمام شدت پسند متحد ہوجاتے۔

    ان کا کہنا تھا کہ حکومتی مذاکراتی کمیٹی میں قبائلی علاقوں کے لوگوں کو ترجیح دینی چاہئیے تھی، کیونکہ امن کی چابی قبائلی علاقے کے لوگوں کے پاس ہے۔

    انہوں نے یہ بھی کہا کہ امن کے قیائم سے ملک ترقی کی جانب گامزن ہو گا اور امید ہے کہ مذاکرات کامیاب ہوں گے۔

    انہوں نے کہا کہ چیئرمین نیب کی تعیناتی کاکیس بہت اہم ہے، دونوں پارٹیوں نے 'مک مکا' سے چئیرمین نیب کا تقرر کیا دونوں پارٹیوں کی قیادت کے اوپر کرپشن کے الزامات ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جب تک نیب غیر جانبدار نہ ہو گا کرپشن ختم نہیں ہوسکتی۔

    طالبان بندوق کی نوک پر شریعت نہیں چاہتے: عمران خان - URDU.DAWN.COM
     
  11. iqbal jehangir

    iqbal jehangir رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 31, 2012
    پیغامات:
    375
    طالبانائزیشن ایک آ ئیڈیالوجی کا نام ہے اور اس کے ماننے والے وحشی اور درندے طالبان، انتہا پسند،تشدد پسند اور دہشت گرد نظریات و افکار پر یقین رکھتے ہیں اور صرف نام کے مسلمان ہیں، جن کے ہاتھ پاکستان کے معصوم اور بے گناہ شہریوں،طلبا و طالبات، اساتذہ اور ہر شعبہ ہائے ذندگی کے لوگوں کے خون میں رنگے ہوئے ہیں. انتہا پسند و دہشت گرد پاکستان کا امن تباہ کرنے اور اپنا ملک تباہ کرنے اور اپنے ہی لوگوں کو مارنے پر تلے ہوئے ہیں، ایسے لوگ جہاد نہ کر رہے ہیں بلکہ دہشت گردی میں ملوث ہیں اور دہشت گرد اسلام اور انسانیت کے سب سے بڑےد شمن ہیں۔
    طالبان پاکستانی عوام پر اپنا سیاسی ایجنڈا بزور طاقت مسلط کرنا چاہتے ہیں اور یہ لوگ اسلامی شریعت کے نفاذ کا نعرہ لوگوں کو بے وقوف بنانے کےلئے لگا رہے ہیں۔. بم دھماکوں اور دہشت گردی کے ذریعے معصوم و بے گناہ انسانوں کو خاک و خون میں نہلانے والے سفاک دہشت گرد ملک و قوم کے کھلے دشمن ہے اور پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنا چاہتے ہیں جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے .
    ...........................................................................
    میلہ چراغاں
    آواز پاكستان | پاکستان دنیا کا ایک حسين وجميل ملك
     
  12. iqbal jehangir

    iqbal jehangir رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 31, 2012
    پیغامات:
    375
  13. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,329
  14. iqbal jehangir

    iqbal jehangir رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 31, 2012
    پیغامات:
    375
    طالبان نے ہائی پروفائل شخصیات کی رہائی کا اشارہ دیا ہے‘

    طالبان نے ہائی پروفائل شخصیات کی رہائی کا اشارہ دیا ہے‘
    ڈان اخبار تاریخ اشاعت 31 مارچ, 2014
    بنّوں: جماعت اسلامی کے رہنما اور ٹی ٹی پی کی مذاکراتی کمیٹی کے ایک رکن پروفیسر محمد ابراہیم کا کہنا ہے کہ طالبان نے کچھ ہائی پروفائل شخصیات کو خیر سگالی کے طور پر رہا کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔
    جماعت اسلامی کے کارکنوں کے تربیتی سیشن کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے پروفیسر ابراہیم نے علی موسٰی گیلانی، شہباز تاثیر اور اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر پروفیسر اجمل خان کی رہائی کو مسترد نہیں کیا۔
    انہوں نے حکومت اور کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کے جاری مذاکرات پر پیپلزپارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ اور عوامی نیشنل پارٹی کے مؤقف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے یہ دعویٰ کیا کہ یہ سیاسی جماعتیں اس عمل کو کامیابی سے ہمکنار ہوتا نہیں دیکھنا چاہتی ہیں، تاکہ شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے لیے راہ ہموار ہوسکے۔
    اُن کا کہنا تھا کہ یہ جماعتیں قبائلی علاقوں میں طاقت کے استعمال سے مسائل حل کرنے کی وکالت کررہی ہیں، اگرچہ اس طرح کی کارروائیاں ماضی میں بے اثر ثابت ہوئی تھیں۔
    جماعت اسلامی کے رہنما نے کہا کہ ’’محبّ وطن جماعتیں‘‘ مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دیں گی۔
    انہوں نے مزید کہا کہ یہ عمل اپنے منطقی انجام کو پہنچ جائے گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ مذاکرات امن کی بحالی میں مدد دیں گے، اور بالآخر اس طرح ملک ترقی کے راستے پر گامزن ہوجائے گا۔
    پروفیسر ابراہیم نے کہا کہ حکومت اور طالبان شوریٰ دونوں ہی مذاکرات کو جاری رکھنا چاہتے ہیں۔
    ٹی ٹی کی مذاکراتی کمیٹی کے رکن پروفیسر ابراہیم نے دعویٰ کیا کہ بہت سے لوگ طالبان پر الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ آئین کو قبول نہیں کرتے، جبکہ وہ خود کئی مرتبہ آئین کی خلاف ورزی کرچکے ہیں۔
    انہوں نے کہا کہ 1973ء کا آئین 33 معروف مذہبی علماء کی کوششوں کا ثمر تھا۔
    ان کا مزید کہنا تھاکہ ایک طاقتور لابی اس معاملے پر الجھن پیدا کرنے کی کوشش کررہی ہے۔
    پروفیسر ابراہیم نے کہا کہ اگر حکمران طبقہ آئین کی پاسداری کے لیے تیار ہے تو جماعت اسلامی طالبان کو آئین کو قبول کرنے پر آمادہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ اگر آئین کی حقیقی روح کا نفاذ کردیا جائے تو ٹی وی چینلز پر ان کے خیال میں فحاشی کو روکا جاسکتا ہے۔
    انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں امن قائم تھا، لیکن امریکا میں نائن الیون کے حملوں کے بعد سابق صدر ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے صورتحال تبدیل ہوگئی۔ انہوں نے جنرل مشرف کو ملک میں غیر یقینی صورتحال اور سیکورٹی کے مسئلے کا ذمہ دار ٹھہرایا۔انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال طوالت اس لیے اختیار کرتی گئی کہ سابق صدر آصف زرداری نے اپنے پیشرو کی پالیسیوں کو جاری رکھا۔پروفیسر ابراہیم نے کہا کہ طاقت کے استعمال سے امن قائم نہیں کیا جاسکتا۔
    ’طالبان نے ہائی پروفائل شخصیات کی رہائی کا اشارہ دیا ہے‘ - URDU.DAWN.COM
     
  15. iqbal jehangir

    iqbal jehangir رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 31, 2012
    پیغامات:
    375
    دہشت گردوں کو اپنی نیک نیتی اور اپنے اچھے ارادے ثابت کرنے کے لیے اور خیر سگالی کےا ظہار کے طور پر تمام یرغمالیوں کو بلا کسی شرط رہا کر دینا چاہیے کیونکہ ان یرغمالیوں کو مزید قید میں رکھنے کاطالبان کے پاس کو ئی قانونی و اخلاقی جواز نہ ہے۔
    ویسے بھی کون سا اسلام اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ ایک نہتے اور بے گناہ فرد یا افراد کو اغوا کر لیا جائے اور مسلسل قید میں رکھا جائے؟
    البتہ ریاست کی تحویل میں موجود جنگجوؤں کو جن کے خلاف قتل ،انسانیت کے خلاف جرائم ،سراری و نجی املاک کو تباہ کرنا،دہشت گردی وغیرہ وغیرہ کے مقدمات ہیں ہرحال میں قانون کا سامنا کرنا چاہیے، انہیں کسی بھی معافی کے تحت چھوڑا نہ جاناچاہیے۔

    ....................................................................
    امن مذاکرات تعطل کا شکار ؟
    آواز پاكستان | پاکستان دنیا کا ایک حسين وجميل ملك
    /
     
    Last edited by a moderator: ‏مارچ 31, 2014
  16. iqbal jehangir

    iqbal jehangir رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 31, 2012
    پیغامات:
    375
    امن دشمن قوتوں کوالگ کرنےمیں مددملےگی،حافظ سعید

    حکومت طالبان مذاکرات،امن دشمن قوتوں کوالگ کرنےمیں مددملےگی،حافظ سعید

    کراچی(نمائندہ جنگ)جماعتہ الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کا کہنا ہے کہ حکومت کے کالعدم تحریک طالبان پاکستان(ٹی ٹی پی) سے مذاکرات سے امن دشمن قوتوں کوالگ کرنے میں مدد ملے گی، جبکہ مذاکرات عمل نیک شگون ہے جس سے ان عناصر کو علیحدہ کرنے میں مدد ملے گی جو کہ ملک میں دہشتگردی اور پرتشدد کارروائیاں جاری رکھنا چاہتے ہیں ، انہوں نے دی نیوز کو ٹیلی فون پر انٹرویو دیتے ہوئے کہاکہ اصولی طور پر ٹی ٹی پی سے مذاکرات کا انعقاد اچھا اقدام ہے، مجھے جنگ بندی میں توسیع کی امید ہے، مجھے امید ہےکہ یہ مذاکرات کامیاب ہونگے اور امن کے دشمن بے نقاب ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان میں دہشتگردی اور پرتشدد کارروائیاں اسلامی تعلیمات کے خلاف ہیں، ہم نے پاکستان میں پرتشدد کارروائیوں اور خود کش حملوں کی مخالفت کی، انہوں نے کہاکہ ہماری تنظیم وہ پہلی تنظیم تھی جس نے پاکستان کے اندر کافی عرصہ قبل دہشتگردی کی تمام کارروائیوں اور خود کش حملوں کو اسلامی تعلیمات کے منافی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ شریعت میں ایسی کارروائیوں کی ممانعت ہے، جو بھی دہشتگرد کارروائیوں میں مصروف ہیں وہ بالواسطہ یا بلاواسطہ بیرونی ایجنڈے پر کاربند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات سے دھند چھٹ جائیگی اور امن عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کرنے والے بے نقاب ہوجائیں گے، حکومت سے مذاکرات کے معاملے پر طالبان کے تمام عسکری گروپس کی آراء مشترک نہیں ہیں، مذاکرات سے دوست اور دشمن کا فرق واضح ہوجائیگا۔ انہوں نے کہاکہ ٹی ٹی پی قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشن کا خاتمہ چاہتی ہے تاہم پاکستان کے کسے بھی حصے سے فوج کا واپسی کا مطالبہ تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔

    اہم خبریں : حکومت طالبان مذاکرات،امن دشمن قوتوں کوالگ کرنےمیں مددملےگی،حافظ سعید
     
  17. iqbal jehangir

    iqbal jehangir رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 31, 2012
    پیغامات:
    375
    پاکستان جو کہ ایک اسلامی ریاست ہے، کے اندر تمام دہشت گردانہ کاروائیاں اور خود کش حملے اسلامی تعلیمات کے منافی ہیں اور یہ کہ شریعت میں ایسی کارروائیوں کی ممانعت ہے۔ طالبان مذاکرات سے امن دشمن بے نقاب ہو جائیں گے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تھر میں قحط و خشک سالی
    آواز پاكستان | پاکستان دنیا کا ایک حسين وجميل ملك
     
  18. توریالی

    توریالی -: مشاق :-

    شمولیت:
    ‏فروری 23, 2014
    پیغامات:
    434
    بھائی جان ایسا کب سے ہے؟ 14 یا 15 اگست سے؟

    دنیا میں اس وقت صحیح معنوں میں مملکت سعودی عرب ہی واحد اسلامی ریاست ہے جہاں کوئی قاتل سزا سے نہیں بچ سکتا چاہے وہ کتنے ہی رسوخ والا ہو۔ پاکستان اور سعودی عرب کی امثال موجود ہیں دونوں میں سے کس کی مثال پسند فرمائیں گے۔

    اگر آپ جملہ درج ذیل طریقے سے رقم کرتے تو کیسا رہتا۔ کیوں کہ میں اردو صحافت کے لیے لکھنا سیکھ رہا ہوں اس لیے پوچھ رہا ہوں۔ امید ہے محسوس نہ کریں گے۔ کیوں کہ میں سمجھتا ہوں کہ پڑھنے لکھنے اور سیکھنے کے لیے شرم نہیں کرنی چاہیئے۔ اور ویسے بھی کسی کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنا کار ثواب ہے۔

    پاکستان میں تمام دہشت گردانہ کاروائیاں اور خود کش حملے جو اسلامی تعلیمات اور شریعت کے منافی ہیں، ایسی کاروائیوں کی ممانعت ہے۔

    موازنہ:
    آخری سوال؟ جہاں آپ نے تحریر فرمایا ہے کہ:

    پاکستان جو کہ ایک اسلامی ریاست ہے، کے اندر تمام دہشت گردانہ ۔۔۔ الخ

    تو اندر سے کیا مراد ہے کہ ایسی کاروائیاں پاکستان کے اندر نہیں کر سکتے۔ تو کیا باہر کر سکتے ہیں؟

    یہ میں اسس لیے پوچھ رہا ہوں کہ انگریزی صحافت میں ہر ایک لفظ کے کون ٹیکسٹ (معذرت مجھے اس کا اردو نہیں یاد پڑ رہا) کو بھی تولا جاتا ہے۔

    امید ہے جلد رہنمائی فرمائیں گے۔

    بہت شکریہ
     
  19. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    بالکل پاکستان اسلامی ملک ہے اور بہت اچھے پرامن مسلمانوں کا ملک ہے ، اس کے عوام اور سیاستدان کی اسلام سے محبت ہے کہ یہ دین کا نام استعمال کرنےو الوں کا بھی احترام کر رہے ہیں تبھی تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ آرام سے مذاکرات ہورہے ہیں ورنہ ان کو دو دن میں سیدھا کیا جا سکتا ہے ۔
     
  20. توریالی

    توریالی -: مشاق :-

    شمولیت:
    ‏فروری 23, 2014
    پیغامات:
    434
    پہلی بات: مخاطب اقبال جہانگیر صاحب تھے۔ دخل در معقولات معاف کیے جاتے ہیں۔

    دوسری بات: احترام کا تقاضہ ہے ورنہ جواب بالجواب اسلام سے محبت رکھنے والے عوام کے علاوہ ہر نقطے کے پرخچے اڑائے جا سکتے ہیں۔

    تیسری بات: میں اپنے بھائیوں سے کیے گئے وعدے پر قائم ہوں۔

    آخری بات: خط کشیدہ جملہ پرویزمشرف کی اس دھمکی کی باز گشت سے مماثل ہے جو اس نے بلوچستان کے بارے میں بڑھک مارتے ہوئے کہی تھی۔ اپنے اپنے ظرف کی بات ہے۔
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں