جزاک اللہ خیرا،دنیاوی اجر سے بے نیاز کرنے والے کلمات

ام محمد نے 'مثالی معاشرہ' میں ‏مارچ 5, 2014 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ام محمد

    ام محمد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 1, 2012
    پیغامات:
    3,120
    میں اپنے گھر کی کافی قیمتی چیزوں کواونے پونے داموں بیچ کر کافی دل گرفتہ ہو رہی تھی -خریدنے والا ہمیشہ سستا خرید کر خوش ہوتا ہے جبکہ فروخت کرنے والا مہنگا بیچ کر
    خوش ہوتاہے-یہ بھی عجیب بات تھی کہ گھر کاسامان مسلمان فیملیزخرید رہیں تھیں -ترکی سےتعلق رکھنے والے اور سعودی عرب سے آئے ہوئے امیگرنٹ خاندان نے تو جیسے میرے گھر میں ہلہ بول دیا تھا -انہوں نے کم داموں میں میرے گھر کی بہت سی چیزیں خرید لیں تھیں -سچی بات تو یہ ہے کہ کہ میرے پاس ابھی تک اس کے لیے دوسرئ آفر نہیں تھی لیکن پھر بھی اتنی تھوڑی قیمت ؟ مجھے بہت پچھتاوہ ہو رہا تھا ، امیگرنٹ خاندان کے لیے ابھی بہت سا سامان ابھی لے جانے کے لیے باقی تھا -میں نے اس خیال سے کہ شاید اس خاندان کا سربراہ کچھ احساس کرے اسے فون پر بتایا کہ "دیکھو میں نے یہ چیزیں کافی مہنگی لیں تھیں تم کچھ دام بڑھا دو تو -------------
    میری بات کاٹتے ہوئے وہ شخص کہنے لگا :
    "معاملہ تو طے ہو چکا، ڈیل ہو چکی ہے،جزاک اللہ سسٹر-----"
    اس" جزاک اللہ "کے الفاظ نے میرے ذہن کو کو جھنجوڑ کر رکھ دیا -بعد اوقات ہم الفاظ محض رسماکہ دیتے ہیں ،اس پر غور بھی نہیں کرتے لیکن اگر غور کریں تو ------اللہ تعالی سے بڑھ کر بہترین جزا دینے والا تو کوئی بھی نہیں ہو سکتا اوراس سے ہی جزاکی توقع رکھنی چاہیے -یہ دنیا ، اس کے فائدے اورنقصانات چند روزہ ہیں -اصل فائدہ تو وہ فوز عظیم ہے اورفلاح عظیم ہے جو ہمیں آخرت میں میسر ہو گااوربحثیت مسلمان ہماری ساری تگ و دو اس کے لیے ہونی چاہیے -
    اقتباس - عابدہ رحمانی -امریکہ -اردو نیوز​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. بنت امجد

    بنت امجد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 6, 2013
    پیغامات:
    1,568
    جزاک اللہ خیرا
     
  3. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,921
    جزاک اللہ خیرا۔ انتہائی مفید ۔ بلاشبہ اللہ سے بڑھ کر جزا دینے والا کوئی نہیں ۔ قرآن کریم میں اللہ جل شانہ نے کئی مقامات پر اپنے انبیاء سے یہی الفاظ کہلوائے ۔
    موصوف نے واقعی یہاں اس کا استعمال صحیح نہیں‌کیا ۔ مومن ہمیشہ بغیر کسی جزا کے نفع پہنچانے والا ہوتا ہے وہ اللہ سے ہی حقیقی جزا کا طالب ہوتا ہے جو کہ اسے صالح اعمال کے بدلے آخرت میں ملنی ہے ، یہاں تو مجبوری کا ناجائز فائدہ اٹھایا گیا ہے۔ یہ بات بھی صحیح ہے کہ عموما ایسے کلمات رسمی طور پر ہی ادا کیے جاتے ہیں ۔ یہ جانے بغیر کے اس کا مفہوم کیا ہے اور اس کو کہاں ادا کرنا ہے ـ گویا کہ دینی محاورے بن چکے ـ اللہ ہدایت دے
     
  4. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,323
    جزاک اللہ خیرا و بارک اللہ فیک
    بہت ہی اچھی شیئرنگ کی ہے۔
    یقینا اللہ کے پاس جو کچھ ہے وہ باقی رہے گا اور جو ہمارے پاس ہے وہ ختم ہوگا۔
     
  5. ام محمد

    ام محمد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 1, 2012
    پیغامات:
    3,120
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں