عکس بھی اب آئنے پر بار ہے

sfaseehrabbani نے 'شعری مجلس' میں ‏مارچ 11, 2014 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. sfaseehrabbani

    sfaseehrabbani معروف اردو شاعر

    شمولیت:
    ‏نومبر 17, 2010
    پیغامات:
    267

    طرحی غزل

    عکس بھی اب آئنے پر بار ہے
    نازکی بھی کیا کوئی آزار ہے

    سر نہیں ہے، ہاتھ میں دستار ہے
    اب تو عزت کا یہی معیار ہے

    اور ہی اس دور کا معیار ہے
    اب تونگر صاحبِ کردار ہے

    جو بزعمِ خود بہت ہشیار ہے
    آپ اپنی راہ کی دیوار ہے

    زندگی سے ہر کوئی بیزار ہے
    ہر کسی کو ایک ہی آزار ہے

    کیوں زمانہ در پئے آزار ہے
    کیا ہمارے سر پہ بھی دستار ہے

    تیرگی میں آئنہ بیکار ہے
    دیکھنے کو روشنی درکار ہے

    اس کو اپنے آپ سے بھی پیار ہے
    آئنے کو آئنہ درکار ہے

    پوچھتا پھرتا نہ ہو سورج بھی کل
    کیا کسی کو روشنی درکار ہے

    مانگتے ہیں لوگ بارش کی دعا
    اور میری فصل اب تیار ہے

    ہو رہی ہے جنگ اور کھلتا نہیں
    کون کس سے برسرِپیکار ہے

    دشمنوں پر خوف طاری ہو گیا
    یہ قلم ہے یا کوئی تلوار ہے

    ہاتھ اس کے سامنے لہرائیے
    جس کا دعویٰ ہے کہ وہ بیدار ہے

    سب بزعمِ خود فرشتہ ہیں فصیح
    آدمی کی جستجو بیکار ہے

    دے رہا ہے کل کی خبریں یہ فصیح
    ہاتھ میں جو آج کا اخبار ہے

    شاہین فصیح ربانی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
  2. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,920
    بہت عمدہ ۔
     
  3. بابر تنویر

    بابر تنویر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,318
    بہت خوب جناب فصیح ربانی صاحب۔
     
  4. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    بہت عمدہ
     
  5. جاسم منیر

    جاسم منیر Web Master

    شمولیت:
    ‏ستمبر 17, 2009
    پیغامات:
    4,636
    بہت خوب۔ زبردست
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں