پولیو ورکروں پر حملوں میں بھارتی ایجنسی “را” ملوث نکلی

توریالی نے 'مضامين ، كالم ، تجزئیے' میں ‏اپریل 5, 2014 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. توریالی

    توریالی -: مشاق :-

    شمولیت:
    ‏فروری 23, 2014
    پیغامات:
    434
    سیف اللہ خالد
    جمعۃالمبارک/04 اپریل2014 ء
    روزنامہ امت کراچی/حیدرآباد


    پولیو ورکروں پر حملوں میں بھارتی ایجنسی “را” ملوث نکلی
    مقصد دنیا بھر میں پاکستان کا تشخص خراب کرنا اور پاکستانیوں کے لیے سفر کی مشکلات بڑھانا ہے۔ قومی سلامتی کے اداروں نے شواہد حاصل کر کے وزیر اعظم کو آگاہ کر دیا۔ کاروائیوں کے لیے “را” کو کراچی میں ٹارگٹ کلر ونگز رکھنے والی تنظیموں اور خیبر پختون میں افغان انٹیلی جنس کے لیے کام کرنے والے عناصر کا تعاون حاصل ہے۔ رپورٹ

    ملک بھر میں پولیو ورکروں پر کیے جانے والے حملوں میں بھارتی ایجنسی “را” ملوث ہے۔ جو صحت کی سرگرمیوں کے حوالے سے دنیا بھر میں پاکستان کا تشخص خراب کرنا چاہتی ہے۔ یہ انکشاف قومی سلامتی سے متعلق پاکستانی اداروں نے اپنی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں کیا ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیو ویکسین کے بارے میں اگرچہ وسیع پیمانے پر شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔ملک میں ایک بڑا حلقہ ان ویکسین کے پیچھے چھپے عزائم پر متعدد ٹھوس دلائل رکھتا ہے اور اس حلقے کی جانب سے پولیو ویکسین پر اٹھائے گئے سوالات کا تسلی بخش جواب بھی کبھی نہیں دیا گیا، تاہم اس ایشو پر ملک میں پائے جانے والے اختلافِ رائے کو بھارتی خفیہ ایجنسی “را” اپنے مذموم عزائم کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

    ذرائع کے بقول، ملک میں یہ تاثر عام ہے کہ پولیو ورکروں کو تحریک طالبان پاکستان نشانہ بنا رہی ہے، جب کہ اس معاملے پر طالبان کی خاموشی نے بھی ا س تاثر کو مزید گہرا کیا۔ تاہم ٹی ٹی پی کے ساتھ جاری حالیہ مذاکرات کے دوران جب حکومت کی جانب سے یہ معاملہ اٹھایا گیا تو طالبان نے دو ٹوک الفاظ میں آگاہ کیا کہ وہ پولیو ویکسی نیشن کے خلاف ضرور ہیں، تاہم پولیو ورکروں پر حملوں سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔ جس پر قومی سلامتی کے اداروں نے مکمل تحقیقات کیں تو انکشاف ہوا کہ ان کاروائیوں کے پیچھے بھارتی انٹیلی جنس کا ہاتھ ہے۔ اور وہ ملک بھر میں اپنے مقامی ایجنٹوں کے ذریعے یہ کاروائیاں کرا رہی ہے۔ اس حوالے سے کراچی میں “را”کو ایسے گروپس اور تنظیموں کا تعاون حاصل ہے، جنہوں نے باقاعدہ ٹارگٹ کلرز کے ونگ بنا رکھے ہیں۔ جب کہ صوبہ خیبر پختون میں “را” اپنے ان مقاصد کو پورا کرنے کے لیے بیرونی فنڈز حاصل کرنے والے ان بعض چھوٹے گروپوں کو استعمال کر رہی ہے، جو افغان انٹیلی جنس سے رابطے میں ہیں۔

    ذرائع نے بتایا ہے کہ قومی سلامتی کے اداروں نے پولیو ورکروں پر حملوں میں “را” کے ملوث ہونے سے متعلق باقاعدہ شواہد اکٹھے کیے ہیں۔ واضح رہے کہ دنیا بھر میں بھارت سمیت قریباً 16ممالک نے ویزے کے لیے پولیو ویکسی نیشن کی شرط عائد کر رکھی ہے۔ ذرائع کے بقول، بھارت اس معاملے کو عالمی سطح پر اٹھا کر پاکستانیوں کو تنہا کرنے کی سازشوں پر عمل پیرا ہے اور پاکستانیوں کے لیے بیرون ملک سفر میں مشکلات کھڑی کرنا چاہتا ہے۔ اس “مہم” میں بھارتی میڈیا بھی اپنی حکومت اور خفیہ ایجنسیوں کا پورا ساتھ دے رہا ہے۔ پاکستان میں پولیو ورکرز پر حملے کی خبر بھارتی میڈیا میں خاصی کوریج پاتی ہے۔ دوسری جانب بھارت نے نہ صرف یہ کہ پاکستانیوں کے لیے پولیو ویکسی نیشن کی شرط عائد کی ہے، بلکہ بھارت کا سفر کرنے کے خواہش مند پاکستانیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے ویکسی نیشن کارڈ ہمراہ رکھیں۔ اس کے برعکس ذرائع کے بقول تعلقات بہتر بنانے کے نام پر حالیہ دنوں میں بڑی تعداد میں بھارتی شہری پاکستان آ رہے ہیں، جب کہ ان کو ویزے کے حصول اور سفر کے لیے کوئی روک ٹوک یا شرط عائد نہیں کی جا رہی۔ حالاں کہ دنیا بھر میں تسلیم کیا جارہا ہے کہ بھارت ایڈز وائرس پھیلانے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ بعض ذمہ داران کی جانب سے یہ تجویز پیش کی جا رہی ہے کہ جس طرح بھارت نے پاکستانی شہریوں کے لیے پولیو ویکسی نیشن کی شرط عائد کی ہے، اسی طرح بھارتی شہریوں کو بھی پاکستانی ویزا دینے سے پہلے تسلی کر لینی چاہیئے کہ ان میں کوئی ایڈز سے متاثرہ مسافر تو نہیں۔

    ذرائع کے مطابق اس بارے میں ملکی سلامتی سے متعلق اداروں کے ذمہ داران نے حکومت کو تجویز دی ہے کہ پولیو ورکروں پر حملوں میں “را” کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں، انہیں دنیا کے مناسب فورم پر اٹھانے کے علاوہ عالمی میڈیا میں بھی اجاگر کیا جائے۔ جب کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ غریب پولیو ورکروں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور ان حملوں میں ملوث عناصر کے خلاف انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر بھر پور کاروائی کی جائے۔ ادھر “امت” کے ذرائع نے بتایا ہے کہ بھارتی انٹیلی جنس نے عالمی ادارہ صحت میں موجود بھارتی نژاد ذمہ داروں کے ذریعے پاکستان کے خلاف یہ پروپیگنڈہ کرنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے کہ پاکستان سے جانے والے افراد کے سبب گزشتہ 23 ماہ میں کم از کم 5 ممالک کے لوگ پولیو سے متاثر ہوئے ہیں۔ جب کہ دنیا بھر میں پولیو سے بری طرح متاثرہ ممالک میں پاکستان کو افغانستان اور نائیجیریا کے برابر رکھا گیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ پولیو ورکروں پر حملوں میں “را” کے ملوث ہونے کے بارے میں قومی سلامتی کے اداروں کو جو شواہد ملے ہیں، اس سے وزیر اعظم نواز شریف کو بھی آگاہ کیا جا رہا ہے۔ اور کہا گیا ہے کہ اگر ان شواہد کے معاملے پر بھارت کو دنیا بھر میں بے نقاب نہ کیا گیا، تو اس خاموشی کا بڑا نقصان برداشت کرنا پڑ سکتا ہے، اور دوسری جانب بھارت اپنے ان عزائم کا دائرہ مزید وسیع کر سکتا ہے۔


    روزنامہ امت، پاکستان
     
  2. توریالی

    توریالی -: مشاق :-

    شمولیت:
    ‏فروری 23, 2014
    پیغامات:
    434
    درج بالا بیان پر ان شاء اللہ کل تبصرہ ہوگا اور رپورٹ سے متعلق چند مزید معلومات بھی شامل کی جائیں گی۔
     
  3. توریالی

    توریالی -: مشاق :-

    شمولیت:
    ‏فروری 23, 2014
    پیغامات:
    434
    سیف اللہ خالد نے ایک اچھی رپورٹ دی ہے اور پاکستان کے خلاف بھارت کے مذموم مقاصد کی واضح نشاندہی کی ہے۔ اور اس ضمن میں روزنامہ امت نے پہل کی ہے جب کہ عین ممکن ہے کہ دوسرے اخبارات اس ضمن میں اغماذ برتیں۔ لیکن ان کے اس بیان سے اتفاق نہیں کہ ‘‘اس معاملے پر طالبان کی خاموشی نے بھی اس تاثر کو مزید گہرا کیا ہے’’۔اس بارے میں طالبان اپنے موقف کی وضاحت اپنے بصری نشریوں میں کر چکے ہیں۔ جو ابھی تک انٹر نیٹ پر موجود ہیں۔ لہٰذایہ بیان حقائق پر مبنی نہیں۔ مکمل غیر جانبداری قائم رکھنے کی غرض سے روابط نہیں دیئے جائیں گے۔ لیکن میں پاکستانی صحافیوں کی چند پیشہ ورانہ مشکلات اور تحفظ کی صورت حال سے آگاہ ہوں۔

    قومی سلامتی کے اداروں کے بیان پر اندھا دھند اعتماد خود کو دھوکا دینے ، کم علمی یا کسی مخصوص مفاد سے وابستگی کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس بات پر غور فرمائیں کہ طالبان سے حقیقی مذاکرات کی مدت تین ہفتوں سے کم ہے۔ اور اتنی کم مدت میں قومی سلامتی کے اداروں نے اپنی تفتیش بھی نہ صرف حیرت انگیز سرعت سے مکمل کر لی بلکہ پولیو ورکرز سے متعلق بھارتی جوڑ بھی عیاں کر دیا۔ حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ قومی سلامتی کے اداروں کوروز اول سے ہی بھارتی کاراوئیوں کا علم ہے اور یہ سب کچھ ان کی ناک کے عین نیچے ہونے دیا جاتا رہا۔ جس کی وجہ پاکستان میں موجود بھارت اور مغرب نواز طبقے کی موجود گی ہے۔ اس بھارت نواز طبقے میں فوجی افسران، افسر شاہی کے ملازمین،پولیس ملازمان، سیاست دان، وکلاء، صحافی،ادباء و شعراء ، ادا کار اور کھلاڑی شامل ہیں۔ بھارت نواز طبقے میں سر فہرست قادیانی ، شیعہ ، سیکیولر اور لبرل عناصر شامل ہیں جو بد قسمتی سے کلیدی عہدوں کے حامل ہیں اور جنہوں نے ہر قومی ادراے اورشعبے میں اپنی منحوس جڑیں سرایت کر رکھی ہیں ۔

    بھارت کی بین الاقومی ادارہ صحت کےتعاون اور حوالے سے پاکستان مخالف سرگرمیاں سن 2004 سے عروج پر آتی ہیں۔ یہ وہ وقت ہے جب پاکستان کی عنان حکومت ایک بد ترین فرد کے ہاتھوں میں تھی جس کے لیے صیہونی درندہ ایریل شیرون ہر روز دعا کرتا تھا اور بھارت کے ذرائع ابلاغ نے اسے فرینڈلی جرنیل کے خطاب سے نوازا تھا۔پاکستانی حکمرانوں کی بھارت نوازی اور بھارت نوازوں پر نوازش کی ایک مثال زرادری حکومت کی بھی دی جا سکتی ہے جو بھارت کو موسٹ فیورٹ نیشن کا درجہ دیے جانے کو بے تاب تھے تو دوسری جانب نواز شریف کی مثال ہے جو اپنے گزشتہ دور حکومت میں بھارتی سربراہ مملکت باچبائی کو پاکستان لائے تھے اور موجودہ دورحکومت میں عنان حکومت پر فائز(مسلط) ہونے سے پہلے ہی بھارتی صدر ممنون سنگھ کی آمد کے لیے بے چین و بیتاب تھے۔ نواز شریف کی بھارت نوازوں پر نوازش کا یہ عالم ہے کہ وہ قادیانیوں کو بھائی کے درجے سے بھی نواز چکے ہیں۔ (اب تک جو کچھ بیان کیا گیا ہے اور آگے بیان کیا جائےگا، ان کی تمام تر تفصیلات اخبارات، ریڈیو اور ٹیلی ویژن نشریوں اور انٹرنیٹ پر بھی موجود ہیں جو آپ از خود اخذ کر سکتے ہیں۔میں مجلس میں اپنی مراسلت میں اکثر روابط پیوست کر دیتا ہوں تاکہ قاری کو اضافی اور مکمل معلومات حاصل ہوں۔ لیکن اس مو قع پر میں دانستہ روابط پیوست کرنے سے احتراز کر رہا ہوں۔ جس کا ایک مقصد مکمل غیر جانبداری اختیار کرنا اور دوسرے تحقیق پر مائل کرنا ہے۔ ویسے بھی تحقیق مسلمان کے لیے لازم ہے جس کا حوالہ آپ اللہ تبارک تعالیٰ کی مبارک کتاب قرآن الکریم سے اخذ کر سکتے ہیں )

    سن 2004 بھارت کے لیے ایک بد ترین اور کڑا وقت تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب مغربی ذرائع ابلاغ نے بطور مثال امریکی ٹیلی ویژن سی بی ایس (CBS) نے بھارت سے متعلق (ایک گھنٹے کی ڈاکیومنٹری فلم کے علاوہ)ایک چشم کشا رپورٹ بھی شائع کی تھی جس کا مختصر متن ذیل میں دیا جاتا ہے:


    Rising AIDS Epidemic in India
    AIDS is out of control in Africa, and everyone knows it. But by some estimates, the most AIDS-infected country is no longer in Africa.

    It's in Asia, and the country is India -- our closest ally in a dangerous part of the world. In fact, it's perhaps the only country in that region that has not been infected with al Qaeda.

    But according to a CIA report, if the epidemic isn't contained soon, it could come back to haunt us -- weakening India's army, and damaging India's economy, which is closely tied to ours.

    Money, of course, is key to the whole AIDS dilemma, which brings us to Bill Gates. The world's richest man recently donated $200 million specifically to combat AIDS in India.

    "This is the largest initiative focused on a single country we've ever done," says Gates.

    "India's very important. It's the world's largest democracy. It's doing a great job in its educational institutions and developing a lot of programmers. Microsoft, my day job, has benefited from a lot of very smart people from India."
    Correspondent Bob Simon
    CBS April 8, 2004

    درج بالا متن بھارت کے حوالے سے مغرب کی حد درجہ تشویش اور فکر مندی کو ظاہر کرتا ہے۔ اس وقت سے امریکی ہدایات جن کو روس کی اعانت بھی حاصل تھی بھارت کو بین الاقوامی ادرہ صحت(WHO) میں ممتاز نمائندگی دی گئی ، بھارتی ماہرین صحت کی تربیت کے لیے سابقہ روس کی ریاست جورجیا کی ڈاکٹر ناتا مینابدی(Dr Nata Menabde) کی خدمات حاصل کی گئیں اور بھارت کی
    ڈاکٹر پونم کھیتر پال سنگھ( Dr Poonam Khetrapal Sing) کو بھارت میں ایڈز سے بچاؤ اور پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے جنوب مغربی ایشیائی خطے کے ممالک بانگلا دیش، بھوٹان، جنوبی کوریا، بھارت، انڈونیشیا، مالدیپ، میانمار، نیپال، سری لنکا، تھائی لینڈ اور تیمور کے لیے بین الاقوامی ادرہ صحت(WHO)کے ذیلی ادارے، ایس ای اے آر او(SEARO-Regional Office for South East Asia) کا ریجنل مینیجر تعینات کیا گیا۔ جنوب ایشیائی خطے کے مذکورہ علاقوں کے لیے دفتر نئی دہلی میں قائم کیا گیا۔ اس دفتر کے قیام کے بنیادی مقاصد میں خطے کے مذکورہ ممالک میں امراض کی روک تھام اور صحت کی سہولیات بہتر بنانا ہے۔اس دفتر کے قیام کے بعد مذکورہ ممالک بشمول بھارت سے پولیو کے مکمل خاتمے کا اعلان کیا گیا اور بھارت کو پولیو فری سرٹیفیکیشن دیا گیا۔

    یہاں ایک بات کی یاد دھانی ضروری ہے کہ بین الاقوامی ادرہ صحت(WHO) نے دنیا کے ترقی پذیر اور تیسری دنیا کے ممالک سے پولیو کے خاتمے کی مہم کی آڑ میں پاکستان کو بھی پابند کیا۔ اس پولیو مہم کی آڑ کے پیچھے امریکا ، مغربی ممالک ،اسرائیل اور بھارت کے پاکستان کے خلاف کئی پوشیدہ عزائم تھے اور تا حال ہیں۔ ان میں سے ایک بڑا مقصد امریکا کی جانب سے پاکستان میں ایک طرف تواسامہ بن لادن کی نام نہاد موجودگی کا کھوج لگانا، پولیو ورکرز پر قاتلانہ حملوں کے ذریعے عوام میں خوف و ہراس، عدم احساس تحفظ پھیلانا تھا تو دوسری جانب اس کا الزام پاکستانی طالبان پر عائد کرکے حکومت پاکستان، افواج اور قبائل کے درمیان کشیدگی پیدا کرنا تھا۔ اور ان مقاصد خبیثہ کے حصول کے لیے بین الاقوامی ادرہ صحت(WHO) کےدہلی دفتر اور بھارتی خفیہ ادارے را کے اشتراک اور پاکستان میں موجود بھارت نواز عناصرکی معاونت سے پاکستان میں صحت سے متعلق سہولیات خصوصاً پولیو کی مہم کو ناکام بنانے کے اقدامات کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ بھارتی خفیہ ادارے را کے علاوہ دہلی میں واقع مذکورہ بھارتی ذیلی دفتر کی پاکستان کے خلاف سازشی خدمات سن 2013سے ایک نئی جہت اختیار کرتے ہیں، جس کا مقصد جیسا کہ آپ سیف اللہ خالد کی رپورٹ میں پڑھ چکے ہوں گے، پاکستان کے لیے مشکلات پیدا کرنا اور پاکستانیوں کے لیے بیرون ممالک سفر میں دشواریاں پیدا کرنا ہیں۔ یہ تمام تفاصیل اب اچانک سامنے نہیں آئیں بلکہ یہ تمام تفاصیل پہلے سے موجود اور معلوم تھیں اور ان معلومات تک دسترس نہ صرف پاکستانی حکام بلکہ صحافیوں اور با خبر عوامی حلقوں کو بھی حاصل ہیں۔ مذکورہ تفاصیل کا ثبوت جیسا کہ پہلے بھی کہا گیا ہے ذرائع ابلاغ میں موجود ہے۔ کچھ حساس تفاصیل ایسی ہیں جو رپورٹ میں موجود نہیں اور جن کو بیان کرنے کی خواہش تو ہے لیکن فی الوقت قصداً کسی بہتر موقعے کے لیے اٹھا رکھی جاتی ہیں۔تاہم امید ہے کہ ذرائع ابلاغ میں بھی آ جائیں گی۔
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں