3 امریکی فوجی قیدی چھوڑنے سے طالبان کا انکار

توریالی نے 'خبریں' میں ‏اپریل 7, 2014 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. توریالی

    توریالی -: مشاق :-

    شمولیت:
    ‏فروری 23, 2014
    پیغامات:
    434
    3 امریکی فوجی قیدی چھوڑنے سے طالبان کا انکار-سویلین کے لیے رویہ لچکدار
    حقانی نیٹ ورک نے امریکی فوجی امانتاً رکھوائے تھے-لاہو رسے اغوا امریکی شہری کو عافیہ صدیقی کے بدلے رہا کرنے کی پیشکش-آپریشن کی صورت میں طالبان قیادت غیر ملکی ہاتھ میں جانے کا انتباہ

    اسلام آباد(وقائع نگار خصوصی) کالعدم تحریک طالبان نے 3امریکی قیدی چھوڑنے سے انکار کر دیاہے اور حکومت سے کہا کہ وہ آپریشن کرنا چاہے تو کر لے۔ امریکی فوجیوں کو کسی صورت رہا نہیں کیا جائے گا، کیوں کہ وہ ان کے پاس امانت ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ کالعدم تحریک طالبان کے محسود گروپ کے پاس حقانی نیٹ ورک نے 3امریکی فوجی قیدی بطور امانت رکھوائے تھے، جب حقانی نیٹ ورک کے خلاف سرحد کے دونوں طرف سے آپریشن کا دباؤ بڑھ رہا تھا۔ذریعے کا کہنا ہے کہ ان 3کے علاوہ 4دیگر امریکی سویلین قیدی بھی ہیں اور ان میں لاہور سے اغوا ہونے والا وہ امریکی باشندہ وارن وینسٹن(Warren Weinstein)بھی شامل ہے ، جو این جی او کے لیے کام کرتا تھا۔ اسے ڈھائی برس قبل لاہور میں اس کی رہائش گاہ سے اغوا کیا گیا تھا ۔

    اہم ذرائع کا کہنا کہ پاکستان پر امریکی دباؤ ہے کہ مقامی طالبان کی قید سے امریکی فوجیوں اور سویلین کو رہا کیا جائے۔ اس سلسلے میں طالبان سے غیر رسمی اور خفیہ رابطوں کے نتیجے میں جو معاملات سامنے آئے ہیں ان کے مطابق حکومت کے مذاکرات کاروں نے امریکی قیدیوں کی رہائی کے لیے بھاری مراعات کی پیش کش کی ہے، تاہم طالبان نے امریکی فوجی قیدیوں کا رہا کرنے سے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ یہ قیدی ان کے پاس امانتاً رکھوائے گئے ہیں۔ اس لیے وہ کسی صورت میں انہیں رہا نہیں کر سکتے۔ حکومت آپریشن کرنا چاہے تو کر لے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ ان میں سے ایک امریکی فوجی حقانی نیٹ ورک نے طالبان کمانڈر ملا سنگین کے حوالے کیا تھا جنہوں نے محسود قبائل کے ولی الرحمان اور حکیم اللہ محسود گروپوں کے پاس امانتاً رکھوا دیا، جب کہ ملا سنگین کچھ ماہ قبل ایک ڈرون حملے میں مارے جا چکے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دیگر 2امریکی فوجی بھی افغان طالبان نے امانتاً محسود قبائل کے پاس رکھوائے ہیں۔ یہ فوجی ممکنہ طور پر خوست اور پکتیکا سے اغوا کیے گئے تھے۔ انہین ابتدا میں افغانستان ہی میں رکھا گیا تھا، لیکن کوئی 3برس قبل حقانی نیٹ ورک کے خلاف آپریشن کے لیے امریکی دباؤ بڑھا تو افغان طالبان نے یہ قید ی محسود قبائل کے حوالے کر دیے۔ امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ قیدی شمالی وزیرستان میں کسی جگہ رکھے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہےکہ ان3 فوجیوں کےعلاوہ 4سویلین امریکی قیدی بھی طالبان کی قید میں ہیں۔ان میں سےایک امریکی باشندہ لاہور میں این جی او چلا رہا تھا۔

    ذریعے کے بقول سویلین قیدیوں کے حوالے سے طالبان کے رویئے میں کسی حد تک لچک پائی جاتی ہے اور طالبان نے غیر رسمی رابطوں میں یہ پیشکش کی ہے کہ اگر امریکا ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو رہا کر دے تو اس کے بدلے میں لاہور سے اغوا ہونے والے امریکی باشندے کو چھوڑا جا سکتا ہے، لیکن طالبان نے 3امریکی فوجیوں کو رہا کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے اور کہا ہے کہ ایسا کسی قیمت پر نہیں کیا جائےگا، کیوں کہ یہ قیدی امانت ہیں۔حکومت چاہے تو شمالی وزیرستان میں آپریشن کر لے۔ پھر کوئی قیدی زندہ نہیں بچے گا۔ ذریعے کے بقول طالبان نے یہ پیشکش بھی کی ہے کہ شہباز تاثیر کی رہائی پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔اگر سلمان تاثیر کو ختم کرنے والے ممتاز قادری کی سزا میں نرمی کی جائے اور اسے پھانسی نہ دی جائے، نیز اس کا مقدمہ ختم کرنے کے لیے پیشرفت کی جائے۔ ذریعے کے بقول طالبان کے پاس قیدیوں کی خاصی بڑی تعداد ہے، جن میں اہم افراد کے علاوہ خاصہ دار، واپڈا کے ملازم اور دیگر کئی سرکاری محکموں کے اہلکار شامل ہیں۔ آپریشن کی صورت میں ان سب کی جانوں کو خطرہ لاحق ہو جائے گا۔

    دریں اثنا حکومت سے غیر رسمی رابطوں کے دوران بعض قبائلی عمائدین نے حکومتی افراد کو باور کرایا کہ شمالی وزیرستان میں اگر آپریشن کیا جاتا اور اس کے نتیجے میں موجودہ طالبان قیادت ماری جاتی ہے جن میں مولانا اعظم طارق اور قاری شکیل جیسے امن کے خواہاں لوگ بھی شامل ہیں تو ان کی جگہ اسلامک موومنٹ آف ازبکستان اور اسلامک موومنٹ آف تاجکستان کے وہ سخت گیر لوگ لے لیں گے جو کسی صورت مذاکرات کے قائل نہیں اور ہر صورت میں لڑنا چاہتے ہیں۔ ایسی صورت میں تحریک طالبان پر ان کا کنٹرول ہو جائے گا اور اس کے نتائج پورا ملک بھگتے گا۔ ادھر ذریعے کے بقول طالبان کا کہنا ہے کہ امریکی فوجی قیدی جب تک ان کے پاس ہیں، آپریشن کے امکانات کم سے کم ہوں گے۔ اسی لیے انہیں چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ دریں اثنا ذرائع نے بتایا کہ نو مسلم یورپی باشندے بڑی تعداد میں افغانستان کا رخ کر رہے ہیں، جہاں ضروری جنگی تربیت کے بعد وہ شام چلے جاتے ہیں۔ اس سلسلے میں کنہار اور نورستان میں تربیتی کیمپ بھی قائم کر دیے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ افغانستان میں موجود یورپی باشندوں میں سب سے زیادہ تعداد جرمن نو مسلم باشندوں کی ہے جو فیس بک پر اپنی ویب سائٹ بھی چلا رہے ہیں۔

    روزنامہ امت، پاکستان



    ********************************************************************************​


    روزنامہ امت کے وقائع نگار خصوصی کو "اہم ذرائع" سے ملنے والے انکشافات کی خبرمیں مغوی امریکی شہری کے ضمن میں جو اہم باتیں مفقود پائی جاتی ہیں ذیل میں تذکرہ کی جاتی ہیں:

    لاہور سے اغوا کیے گئے امریکی سویلین Warren Weinsteinجرمن نژاد یہودی ہیں اور امریکہ اور اسرائیل کی شہریت کے بھی حامل ہیں ۔مغوی امریکی شہری ایک امریکی تجارتی ادارے جے ای آسٹن ایسوسی ایٹس کے ملازم تھے اور اپنے تجارتی ادارے کو یو ایس ایڈ کی جانب سے دیئے گئے ٹھیکے کی بنیاد پر پاکستان میں امریکی حکومت کے ایما پر عرصہ نو سال سےمختلف ترقیاتی منصوبوں اور پاکستانی ادروں کو فنی مشاورت دینے میں مصروف تھے۔

    اغوا کار پہلے سے ترتیب دی گئی حکمت عملی کے تحت ان کی رہائش گاہ پر موجود عملے کے افراد اور مسلح محافظوں کی آنکھوں میں دھول جھونک کر ان پر قابو پا لینے کے بعد امریکی شہری کو لے کر چلتے بنے۔ حیران کن امر یہ ہے کہ اغوا کار انہیں لاہور سے لے کر قبائلی علاقہ جات تک ، چپے چپے پر موجود ناکوں اور چیک پوسٹوں سے بنا پکڑے کیسے لے کر گئے۔ چند غیر مصدقہ ذرائع کا کہنا ہے کہ تفتیش کار جدید ترین آلات کے باوجود یہ عقدہ تا حال حل نہیں کر پائے اور وہ اس ضمن میں اپنے سر چکراتے اور اپنی عقلوں کو عاجز پا رہے ہیں۔غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق اغوا کاروں نے ایک عجیب حرکت کی وہ یہ تھی کہ اغوا کے بعد موقعہ سے فرار ہونے سے قبل وہ امریکی شہری کے کمرۂ ملاقات کی دیوار پر ایک شعر رقم کر گئے:

    دھم سے نہ یوں گھر میں تیرے کُودا کوئی ہوگا
    جو کام کیا ہم نے وہ رُستم سے نہ ہو گا

    ذرائع ابلاغ میں گردش کرتی مصدقہ اطلاعات کے مطابق مغوی امریکی شہری، اپنے ویڈیو پیغام میں امریکی صدر باراک اوباما سے اپنی رہائی کی فریاد کر چکے ہیں جو تا حال بے سود رہی ہے جس کی وجہ امریکی انتظامیہ کادہشت گردوں اور اغوا کاروں کی شرائط، ان کے مطالبات تسلیم کرنے اور ان سے مذاکرات کرنے سے سخت انکار ہے۔ صدر اوباما کے کان پر جُوں نہ رینگنے کے باعث مغوی امریکی شہری، اسرائیلی سربراہ بن یامین نیتن یاہو سے بھی ایک ویڈیو پیغام میں اپنی رہائی کی فریاد کر چکے ہیں جس میں انھوں نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے درخواست کرتے ہوئے کہا:

    "امریکی صدر باراک اوباما نے میری رہائی کے سلسلے میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی اور وہ القاعدہ کے مطالبات کے ضمن میں کوئی جواب دینے یا ان کے مطالبات تسلیم کرنے میں ناکام رہے ہے ہیں۔ لہٰذا میں بطور ایک یہودی، وزیر اعظم نیتن یاہو، اسرائیلی ریاست کے سربراہ، جو میری ہی طرح ایک یہودی ہیں ، سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ میرے تصفیے کے لیے مجاہدین سے مل کر کام کریں تاکہ میری رہائی عمل میں لائی جا سکے اور میں اپنی بیوی، بچوں اور ان کی اولاد سے دوبارہ مل سکوں"۔

    عالمی دہشت گرد تنظیم القاعدہ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک ویڈیو میں مغوی امریکی اہلکار سفید قمیص شلوار میں ملبوس ایک کرسی پر بیٹھے دکھا ئے گئے ہیں اور ان کے سامنے ایک میز پر کھانے پینے کی اشیاء، پھل اور بہت سی کتابیں دھری ہوئی ہیں۔ اس ویڈیو میں وہ اپنی بیوی ای لین Elain کے نام پیغام میں یہ کہتے دکھائے گئے ہیں کہ وہ خیریت سے ہیں، بالکل ٹھیک ہیں اور انہیں تمام ضروری ادویات مہیا کی جا رہی ہیں اور ان کا خیال رکھا جا رہا ہے۔ اس ویڈیو پیغام میں وہ گفتگو کے دوران اطمینان سے کچھ کھاتے بھی دکھائے گئے ہیں۔

    واضح رہے کہ مغوی امریکی شہری کی ویڈیو کی یہ معلومات سائٹ انٹیلی جنس گروپ SITE Intelligence Group نے جاری کی ہیں جو القاعدہ اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کی نگرانی کا ایک نجی امریکی ادارہ ہے۔
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں