تقلیدکے مطلق چند شبہات اور انکا ازالہ

ابن ادریس نے 'آپ کے سوال / ہمارے جواب' میں ‏اپریل 29, 2014 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابن ادریس

    ابن ادریس رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏دسمبر 17, 2013
    پیغامات:
    48
    سوال نمبر 1: ہم صحیح حدیثوں کو ترجیح دیتے ہیں اور ضعیف حدیثوں کو مرجوح کہتے ہیں تو فرمائیں کہ ہر ہر حدیث کے صحیح یا ضعیف ہونے کا فیصلہ خود نبی معصوم صلی الله علیه وسلم سے ثابت ہے یا غیر معصوم امتیوں کے اقوال پر اعتماد کیا جاتا ہے اور تقلید کے جاتی ہے؟
    سوال نمبر 2: آپ فرمائیں کہ ہر ہر حدیث کے صحیح یا ضعیف ہونے کا فیصلہ صراحۃ تو آنحضرت صلی الله علیه وسلم سے ثابت نہیں ، البتہ جو حدیث صحیح کی تعریف کے موافق ہو وہ صحیح ہے ورنہ ضعیف ، تو صحیح حدیث اور ضعیف کی جامع مانع تعریف آنحضرت صلی الله علیه وسلم کی صحیح حدیث سے بتائیں؟
    سوال نمبر 3: احادیث مقبولہ کی کتنی قسمیں ہیں ، اور احادیث مردودہ کی کتنی ، ان اقسام کی وضاحت کسی صحیح صریح حدیث سے بیان فرمائیں؟ یا یہ ساری قسمیں غیر معصوم امتیوں نے بنائی ہیں؟ تو ان اقسام میں ان امتیوں کی تقلید فرض ہے ، یا واجب یا مکروہ یا حرام؟
    سوال نمبر 4: کسی راوی پر جرح اور تعدیل کے جو قاعدے اصول حدیث کی کتابوں میں درج ہیں - کیا وہ سب نبی معصوم صلی الله علیه وسلم سے ثابت ہیں؟ تو ان کا ثبوت کسی صحیح حدیث سے پیش فرمائیں؟ اگر یہ قاعدے غیر معصوم امتیوں نے بتائے ہیں تو ان قاعدوں کی مدد سے احادیث کو صحیح یا ضعیف کہنے والا متبع حدیث تو نہ ہوا امتیوں کا مقلد ہوا؟
    سوال نمبر 5: کیا امتیوں کے ان بنائے ہوئے قاعدوں کو اگر کوئی نہ مانے تو اسے الله تعالی یا رسول الله صلی الله علیه وسلم کا منکر تو نہیں کہا جائے گا؟
    سوال نمبر 6: حدیث کے سب راویوںکا ثقہ ہونا نبی معصوم صلی الله علیه وسلم کے ارشادات سے ثابت ہے یا غیر معصوم امتیوں کے اقوال سے؟ ان اقوال کو تسلیم کرکے کسی حدیث کو صحیح یا ضعیف کہنا ان امتیوں کی تقلید ہے یا نہیں؟
    ‏‎سوال نمبر 7: حضرات علمائے کرام!! اسماء الرجال کی جن کتابوں پر آج کسی راوی کو ثقہ یا ضعیف کہنے کا دارومدار ہے مثلا: تقریب التہذیب ، تہذیب التہذیب ، میزان الاعتدال ، تذکرۃ الحفاظ ، خلاصہ تہذیب الکمال ، لسان المیزان وغیرہ ان کتابوں میں نہ تو صاحب کتاب سے لیکر جارح یا معدل تک کوئی سند ہے نہ جارح ، اور معدل سے لے کر راوی تک کوئی سند ہے تو ان کتابوں میں درج اقوال کو محض صاحب کتاب سے حسن ظن کی وجہ سے تسلیم کرلینا یہ اس غیر معصوم امتی کی تقلید ہے یا نہیں؟
    ‏‎سوال نمبر 8: ان کتابوں میں %99 فیصد اقوال جرح و تعدیل بلادلیل ہیں یعنی ان کے ساتھ دلیل تفصیلی مذکور نہیں - یہ تسلیم القول بلادلیل تقلید ہے یا نہیں؟
    سوال نمبر 9:ان کتابوں کے راویوں کے بارہ میں بہت اختلاف ہے ایک محدث ایک راوی کو امیر المؤمنین فی الحدیث کہتا ہے - دوسرامحدث اس راوی کو دجالوں میں سے ایک دجال کہتا ہے - تو اس اختلاف کا فیصلہ غیر معصوم امتی ہی کریں گے یا کہ نبی معصوم صلی الله علیه وسلم سے؟
     
  2. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران

    رکن انتظامیہ

    ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,938
    سب سے پہلے تو یہ بات سمجھ لیں کہ تقلید کس چیز کا نام ہے ۔ تاکہ اس سے اجتناب کیا جائے ۔
    ہمارے ہاں تقلید سے مراد ہے : قرآن وحدیث کے خلاف کسی بات کو تسلیم کر لینا ۔
    سو کسی بھی شخص کی ایسی بات ماننا جو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کے خلاف نہ ہو , تقلید نہیں کہلاتا ۔
    اسکے بعد اپنے سوالات کے جوابات ملاحظہ فرمائیں:
    ۱۔ حدیث کی صحت اور ضعف کا فیصلہ کرنے کے لیے اللہ تعالى نے قرآن مجید فرقان حمید میں اصول مقرر فرمایا ہے ۔ لہذا جو روایت بھی صحت کے قرآنی اصول کے معیار پر پوری اترے گے وہ صحیح ہوگی اور جو نہ اترے گی وہ ضعیف ہوگی ۔
    تفصیل جاننے کے لیے یہ آڈیو سماعت فرمائیں :
    http://www.deenekhalis.ahlulhdeeth.com/play-699.html

    ۲۔ اسکا جواب سابقہ سطور میں گزر چکا ہے ۔ دوبارہ ملاحظہ فرما لیں ۔

    ۳۔ کسی بھی موضوع کو مختلف اقسام میں بآسانی سمجھانے کے لیے منقسم کرنا دین میں مباح وجائز ہے ۔ (سنن ابی داود : ۱۳۹۲) بشرطیکہ ان اقسام کے ذریعہ دین میں کوئی نئی چیز داخل نہ ہور ہی ہو ۔ اور تقلید کی تعریف سطور بالا میں کی جا چکی ہے ۔ سو ان اقسام کا اعتبار کرنا تقلید نہیں ہے ۔ اور نہ ہی یہ تقسیم بنانا غیر شرعی ہے ۔ بلکہ اگر کوئی شخص ان اقسام کا اعتبار نہ بھی کرے تو اس میں کوئی مضایقہ نہیں ۔ کیونکہ شریعت میں اصل مقصود احکامات الہیہ کی معرفت ہے نہ کہ اقسام کی معرفت !
    اس بارہ میں قدرے تفصیل یہاں ملاحظہ فرمائیں :
    جہاد بمعنی قتال کی اقسام و شروط ؟؟

    ۴۔ جی ہاں یہ تمام تر قاعدے بحمد اللہ تعالى کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں ۔ آپکو جس قاعدہ کے بارہ میں اشکال ہے اسکی نشاندہی فرما ئیں ۔ ہم اسکی دلیل قرآن وحدیث سے پیش کر دیں گے ۔ ان شاء اللہ

    ۵۔ یہ ثابت کیا جاچکا کہ یہ قاعدے امتیوں نے نہیں بلکہ اللہ اور اسکے رسول صلى اللہ علیہ وسلم نے بنائے ہیں ۔ امتیوں نے محض یہ کام کیا ہے کہ انہیں کم ذہین لوگوں کے لیے قدرے تفصیل اور انکے مستوى ذہنی کے مطابق الفاظ میں پیش کیا ہے ۔ لہذا آپکا یہ سوال ہی باطل ہوا ۔

    ۶۔ تمام تر رواۃ کا ثقہ یا ضعیف ہونا قرآن وحدیث میں موجود اصولوں کے مطابق ہے ۔

    ۷۔ یہ سوال فن جرح وتعدیل سے نا آشنائی کا ہی نتیجہ ہے ۔ کیونکہ کسی بھی راوی پر جرح یا کسی بھی راوی کی تعدیل اس وقت ہی قبول کی جاتی ہے جب جارح یا معدل سے وہ جرح یا تعدیل بسند صحیح ثابت ہو ۔
    اور جارح یا معدل یعنی کسی بھی ناقد کا کسی بھی راوی کے بارہ میں فیصلہ بھی تبھی قبول کیا جاتا ہے جب وہ اس راوی کے بارہ میں بخوبی علم رکھتا ہو۔خواہ بذریعہ سند , خواہ بذریعہ استقراء تام ۔

    ۸۔ ننانوے فیصد اقوال کو بلا دلیل کہنا ہی بلا دلیل بات ہے ۔ حقیقت اس سے بہت مختلف ہے ۔ اور پھر اسے تقلید کہنا بھی درست نہیں کیونکہ تقلید تو کتاب وسنت کے منافی قول کو تسلیم کرلینے کا نام ہے ۔ جبکہ اس میں کتاب وسنت کی موافقت ہے نہ کہ مخالفت ۔

    ۹۔ کوئی ایسا راوی پیش کر دیں جسکے بارہ میں ایک محدث سے بسند صحیح امیر المؤمنین فی الحدیث کہنا ثابت ہو اور کسی دوسرے سے بسند صحیح اسی کو کذاب کہنا ثابت ہو ۔
    ھاتوا برھانکم ان کنتم صادقین !
     
  3. ابن ادریس

    ابن ادریس رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏دسمبر 17, 2013
    پیغامات:
    48
    جزاکم اللہ خیراً یہ سوال امین اکاڑوی دیوبندی کی کتاب "تجلیات صفدر" سےلئےگئے تھے جو انھوں نے اپنی ویب سائٹ پرلگائے تھے
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں