یہ ہنگامہ کیوں بپا ہے؟

توریالی نے 'مضامين ، كالم ، تجزئیے' میں ‏مئی 14, 2014 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. توریالی

    توریالی -: مشاق :-

    شمولیت:
    ‏فروری 23, 2014
    پیغامات:
    434
    یہ ہنگامہ کیوں بپا ہے؟
    سیف اللہ خالد

    یہ ہنگامہ آخر کس بات پر ہے۔ کیا پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسیاں دنیا کا پہلا تجربہ ہے یا میڈیا کوئی کل کی ایجاد ہے، جو تعلقات میں دشواری پیش آ رہی ہے۔ اگر نہیں اور یقیناً نہیں تو پھر ہنگامہ کیوں؟ امریکا، یورپ، اسرائیل حتیٰ کہ بھارت تک میں میڈیا، جیو گروپ کی طرح بین کیوں نہیں ڈالتا؟ ریاستی اداروں کے خلاف آسمان سر پر کیوں نہیں اٹھاتا؟ اگر وہاں کوئی کوئی میکنزم موجود ہے جو اس تصادم کو روکتا ہے تو وہی رویہ پاکستان میں کیوں اختیار نہیں کر لیا جاتا؟
    بات شائد صرف اتنی سی ہے کہ وہاں کا میڈیا اپنا کام کرتا ہے اور اداروں کے کام میں دخل اندازی نہیں کرتا۔ جب کہ پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ جنہیں ٹھیک سے لفظ’’صحافی‘‘ کا تلفظ بھی ادا کرنا نہیں آتا، دفاع سے خارجہ تک اور امن و امان سے مذہبی امور تک خود کو حرف آخر خیال کرتے ہیں اور جب ان کی بونگیوں کو درخورِ اعتنا نہیں جانا جاتا، تو مرکھنے سانڈ کا تویہ اختیار کر لیتے اور یہی وہ وقت ہوتا ہے جب ملک دشمن ادارے ان کو راتب ڈال کر استعمال کرتے ہیں۔
    ایجنسیاں ہر ملک میں ایک ہی طرح کام کرتی ہیں۔ ان کے تحفظات ، ان کے اقدامات ایک ہی طرح سے ظاہر ہوتے ہیں۔

    ہم دیکھتے ہیں کہ جنوری 1964ء میں امریکہ کے صحافی David Wise اور Thomas B Ross نے CIA کے کردار پر The Invisible Government یعنی’’نادیدہ حکومت‘‘ کے نام سے ایک کتاب لکھی۔ 237 صفحات پر مشتمل یہ کتاب Random House پبلشر نے شائع کی اور پھر اس کے فوراً بعد ہی امریکی میڈیا کو اپنے لیے ایک ضابطہ اخلاق طے کرنا پڑا اور Embeddedجرنلزم کی اصطلاح بھی وجود میں آئی۔ اس کے بعد 1978ء میں اس امریکی سی آئی کو خفیہ جیلیں بنانے اور خفیہ عدالتیں قائم کرنے کا اختیار ملا، مگر مجال ہے جو امریکی میڈیا نے کوئی اعتراض اٹھایا ہو۔ یہ صرف قصہ ماضی نہیں ہے بلکہ 9/11 کے بعد اب تک یہ خفیہ عدالتیں اتنی طاقتور ہو چکی ہیں کہ انہیں متوازی سپریم کورٹ کا نام دیا جاتا ہے، مگر اس پر نہ امریکی سپریم کو کوئی اعتراض ہے ، نہ امریکی میڈیا کوئی چیخ و پکار کرتا ہے اور نہ ہی پاکستان میں آسمان سر پر اٹھانے والے یہ آزادئ اظہار کے بکاؤ لیڈر اس پر لب کشائی پر آمادہ ہوتے ہیں۔

    اسی طرح برطانوی انٹیلیجنس کی مثال بھی ہمارے سامنے ہے کہ جہاں 25 اپریل کو ابھی کل کی بات ہے جسٹس اینڈ سیکورٹی ایکٹ کے تحت خفیہ عدالتیں بنانے کا اختیار MI6 کو دے دیا گیاہے۔ وہاں کے کسی ایک صحافی نے وہ رویہ اختیار نہیں کیا جو پاکستان کے چڑی مار بڑ بولے اختیار کیے ہوئے ہیں۔ ابھی کل کی بات ہے کہ امریکا میں نیشنل انٹیلیجنس کے چیف جیمزکلیپر James Clapper کے کہنے پر امریکی سینیٹ نے Intelligence Bill سے وہ شق اڑا دی ، جس کے تحت وائٹ ہاؤس ڈرون حملوں میں مارے جانے والوں کے نام بتانے کا پابند تھا۔ بات بات پر امریکی اقدار ، مغربی روشن روایات کے حوالے دینے والا جیو گروہ وہاں کے میڈیا کی پیروی کیوں نہیں کرتا؟

    بات صرف امریکا اور برطانیا کی نہیں بلکہ جہاں ان کی ’’آشا ناچتی‘‘ہے، بھارت کی مثال بھی پیش کرنا لازم ہے کہ ان کے لیے بھارت رویئے محبت کا درجہ رکھتے ہیں۔وہاں را اور دیگر اداروں کو کس طور تصرف حاصل ہے ، اس کا اندازہ ان کو بھی ہے کہ واہگہ پار کرتے ہی ہر لمحہ را کاخوف انہیں سانس تک نہیں لینے دیتا، حالانکہ یہ اسکا دھندہ کرتے اور ہاتھ بٹاتے ہیں۔کیا انہیں نہیں معلوم کہ بھارت میں ٹاڈاTerrorist and Disruptive Activities (Prevention) Act نام کا قانون کیا ہے؟ اور ٹاڈا عدالتیں کیا کرتی ہیں؟ بلکہ وہاں کی روایتی عدلیہ کا رویہ ہی اس قدر شرمناک ہے کہ انسان پریشان ہو کر رہ جاتا ہے،جس عدلیہ کا چیف یہ کہے کہ’’ملزم پر کوئی جرم ثابت نہیں ہوا، مگر چوں کہ وہ مسلمان ہے اس لیے عوامی جذبات ٹھنڈے کرنے کی خاطر اسے پھانسی دے دی جائے‘‘۔اس عدلیہ کو جیو ہی آزاد کہہ سکتا ہے کوئی دوسرا نہیں۔ یہی نہیں بھارتی ایجنسیاں صرف کشمیر سے 4ہزار افراد کو لاپتہ کر چکی ہیں۔ اسی سبب ہاف وڈوHalf Widow(آدھی بیوہ) کی اصطلاح تک پیدا ہو گئی۔ مگر بھارتی میڈیا نے اس پر کبھی ایک سطر نہیں لکھی۔بھارتی میڈیا ایک طرف، امن کی آشا کے ان دلالوں کو بھی توفیق نہیں ہوئی کہ اس کی مخالفت کر سکیں۔

    ان دنوں ہماری حکومت اور میڈیا میں جیسے ترکی کی محبت ابل ابل پڑرہی ہے۔ اس برادر اسلامی ملک کی قیادت کی پالیسی اور اقدامات کو مد نظر ر رکھے بغیر میاں نواز شریف کے مشیروں کا مطالبہ ہے کہ ترکی کی طرح جرنیلوں کو لٹکا دیں، وقت آپ کے ساتھ ہے ۔ اس ترکی میں ابھی پچھلے دنوں ترک پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد صدر عبداللہ گل نے اپنی ایجنسی MIT کے اختیارات میں اضافے کے قانون پر دستخط کر دیئے ہیں، جس کے تحت ترک انٹیلیجنس کو بے شمار اختیارات ہی حاصل نہیں ہوں گے بلکہ ملکی مفاد کے خلاف کام کرنے والوں کے خلاف کاروائی پر کئی قوانین سے استثنامل گیا ہے۔ اور حد تو یہ کہ ملکی مفاد کے خلاف خبر دینے پر صحافی کو بھی 10برس قید کا قانون پاس کر لیا گیا ہے۔
    ہر معاملے میں یورپ، امریکا، بھارت اور ترکی کو ماڈل قرار دینے والے مطالبہ کیوں نہیں کرتے کہ پاکستان میں بھی ایسا ہی سسٹم اختیار کیا جائے تاکہ جنگی حالات میں کام کرنے والے اداروں کو پوری صلاحیتیوں سے بروئے کار آنے کا موقع مل سکے۔

    سوال یہ ہے کہ جب پوری دنیا میں میڈیا اپنی ایجنسیوں پر تینقید نہیں کر سکتا، تو پاکستان میں یہ حق کیوں مانگا جا رہا ہے۔ جواب اس کا وہی ہے جو برگ صحافی ڈاکٹر مجید نظامی نے ایک بار کہا تھا کہ، ’’پاکستان کے میڈیا کا ایک حصہ بھارتی میڈیا کا کردار ادا کر رہا ہے‘‘ اور اس وقت جو تنازعہ کھڑا ہے ، اس کا پس منظر بھی حامد میر پر قاتلانہ حملہ نہیں ہے ۔یہ حملہ تو ایک بہانہ بنا، ورنہ حقیقت یہ ہے کہ اس گروپ کو ایک عرصے سے اسی مقصد کی خاطر تیار کیا جا رہا تھا اور اب جب کچھ لوگ درمیان میں صلح کی کوشش میں تھے تو اس گروپ کے سرپرستوں نے نہ صرف اسے تھپکی دی ہے بلکہ حکومت میں اپنے گھس بیٹھوں کو بھی الرٹ کر دیا ہے۔مگر میاں نواز شریف کی جانب سے آئی ایس آئی کے کردار کو سراہنے اور آرمی چیف سے ملاقاتوں میں خوش گوار تعلقات کے بعد اس امر کا کوئی جواز نہیں دکھائی دیتا کہ حکومت پیمرا پر اثر انداز ہو اور اپنی مرضی کے فیصلے کے لیے اصرار کرے۔ مگر ایسا ہو ا ہے اورہو رہا ہے۔

    روز نامہ امت،پاکستان


    بقیہ: ان شاءاللہ کل
     
  2. توریالی

    توریالی -: مشاق :-

    شمولیت:
    ‏فروری 23, 2014
    پیغامات:
    434
    گزشتہ روزسیف اللہ خالد صاحب کا مضمون پڑھ کر ایک فی البدیہہ مضمون سرزد ہو گیا۔ تاہم اسے پڑھنے کے بعد دل نہیں مانا کہ اسے پیش کیا جائے لہٰذا مضمون کو Kill کر دیا ہے۔ لیکن میں چاہتا ہوں کہ سیف اللہ خالد صاحب کی چند اغلاط کی نشاندہی کی جائے جن کی توقع مجھے ان سے ہر گز نہ تھی۔ لیکن میں ایسا آج کمی وقت کے باعث نہ کر پاؤں گا اور آج کا کام کل پر چھوڑتے ہوئے ان شاءاللہ بروز ہفتہ فرصت سے پیش کروں گا۔
     
  3. توریالی

    توریالی -: مشاق :-

    شمولیت:
    ‏فروری 23, 2014
    پیغامات:
    434
    بقول سیف اللہ خالد، جنوری 1964ء میں امریکہ کے صحافی David Wise اور Thomas B Ross نے CIA کے کردار پر The Invisible Government یعنی’’نادیدہ حکومت‘‘ کے نام سے لکھئ گئی کتاب کے حوالے سے امریکی میڈیا کا اپنے لیے ایک ضابطہ اخلاق طے کرنا ، خلافِ واقعہ، تاریخی حقائق کے خلاف ایک بد ترین جھوٹ (صحافتی بد دیانتی اور نا اہلی)سے کم نہیں۔ یا تو سیف اللہ خالد نے مذکورہ کتاب کا کہیں سے نام ہی سن لیا ہے یا پھر مذکورہ کتاب کےصرف صفحات ہی گنے ہیں جو ان کے کسی عبارت کو پڑھ کر فہم Reading Comprehension کی صلاحیت کے فقدان کو ظاہر کرتی ہے۔ با الفاظِ دیگر ، امریکا میں 1964ء کے بعد بھی ذرائع ابلاغ نے حکومت، امریکی افواج اور اور اس کی انٹیلی جنس ایجنسیوں سے متعلق خلاف قانون و آئین قدامات و کاراوئیوں کو طشت از بام کرنے کا کام جاری رکھا۔ اس حوالے سے ہم بھی درجِ ذیل طریق سے دیکھتے ہیں:

    امریکا میں 1964ء کے بعد امریکی حکومت اور اسکی افواج کے خلاف سب سے بڑا واقعہ ویتنام کی جنگ میں مائی لائی قتلِ عامMy Lai Massacre کے انکشاف کا ہے جو مارچ1968ء میں وقوع پذیر ہوا۔ امریکی صحافی سیمور ہرشSEYMOUR HERSH نےامریکی افواج کے ہاتھوں اس قتلِ عام جسے امریکی حکومت نے ایک سال تک چھپائے رکھا 12 نومبر 1969ءکو اس کا انکشاف کر دیا۔ اس خبر کو امریکا کے تمام بڑے اور مقبول ذرائع ابلاغ نے شائع کیا اور اس کے نتیجے میں جہاں ایک طرف پوری دنیا میں امریکی حکومت اور افواج کا وقار مجروح ہوا تو دوسری طرف امریکی سینٹ کو تحقیقات کے بعد امریکی فوجیوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنا پڑی(یہ الگ بات ہے کہ جنگی جرائم میں ملوث امریکی فوجی تیسرے ہی روز رہا کر دیے گئے ۔ یہ واقعہ سیف اللہ خالد کے اس دعوے کو زمین بوس کر دیتا ہے کہ 1964ء کی مذکورہ بالا کتاب کے فوراًبعد امریکی میڈیا نے اپنے لیے ایک ضابطۂ اخلاق طے کر لیا تھا۔ جس قسم کا ضابطۂ اخلاق سیف اللہ خالد صاحب چاہ رہے ہیں، اس کو’’ امریکی صدی ‘‘(امریکی صدی کا خواب مٹھی بھر دہشت گردوں ، جو خوارج بھی کہلاتے ہیں ، نے شرمندۂ تعبیر نہ ہونے دیا اور ایک حسین خواب کو نائٹ مئیر بنا دیا)کے مقاصد کے لیے امریکی صدر بل کلنٹن کے زمانے سے طے کرنا شروع کر دیا گیا تھا جس کی تکمیل امریکا میں ہوئے نو گیارہ کے واقعے کے بعد کر دی گئی۔ جس کا مقصد ملٹی نیشنل کمپنیوں، کارپوریٹ سیکٹر کے مفادات کا تحفظ ہے جو امریکی اور اس کے حلیف ممالک کی افواج اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ذریعہ عمل میں لایا جاتا ہے ۔ اس کا اطلاق عالمی ذرائع ابلاغ کے مشہور اداروں، مثلاً سی این این، بی سی سی، امریکی و برطانوی اخبارات کے ساتھ ساتھ مسلم ممالک کے ذرائع ابلاغ وغیرہ پر کیا گیا۔ اگر کتاب پڑھنے کے بعد سمجھ آئی ہوتی تو پتہ چلتا کہ کتاب کا اصل مقصد امریکی حکومت ، اس کی افواج اور انٹیلی جنس اداروں سے بین الاقوامی اور ملکی قوانین اور آئین کے ضابطۂ اخلاق پر کاربند رہنے کا تقاضا تھا ، نہ کہ ایک خاموش سمجھوتا ۔1964ء کے بعد ایک اور بڑی مثال سامنے آتی ہے جو واٹر گیٹ سکینڈل کے نام سے مشہور ہوئی جس کے نتیجے میں امریکی صدر نکسن کو اپنی حکومت سے سبکدوش اور عوام سے ٹیلی ویژن نشریے میں معافی مانگنا پڑی۔ اس کے پیچھے بھی صحافیوں کا ہاتھ ہی تو تھا نہ کہ سیف اللہ خالد کا ذرائع ابلاغ کے لیے تجویز کردہ نام نہاد ضابطہ اخلاق یا بال الفاظ دیگر جرائم سے صرف نظر کے لیے ایک خاموش سمجھوتا۔

    Embeddedجرنلزم کا مذکورہ بالا کتاب سے دور کا بھی تعلق نہیں تھا۔ Embeddedجرنلزم کی اصطلاح اور اس کا اطلاق عراق کے خلاف جنگ کے دوران پہلی بار 2003ء میں عمل میں لایا گیا۔ اس کا مقصد ایسی اطلاعات کو دنیا میں پھیلانا تھا جس کے ذریعے امریکا ، برطانیہ اور اس کے حلیفوں کی جانب سے عراقی جنگ کے فیصلے کو جائز اور قبولِ عام قرار دینا تھا۔ لگتا ہے کہ سیف اللہ خالد صاحب نے اس ضمن میں بھی اپنا مضمون بلا تحقیق و مطالعہ داغ دیا۔

    سیف اللہ خالد صاحب نے برطانوی انٹیلی جنس کی مثال بھی دی ہے جس پر سطورِ آئندہ میں بات ہو گی لیکن پہلے امریکا میں نیشنل انٹیلی جنس کے چیف جیمزکلیپر James Clapper کی بات ہو جائے۔ یہاں بھی واضح ہے کہ سیف اللہ خالد صاحب کی معلومات نہایت ناقص ہی نہیں ناقابلِ اعتبار بھی ہیں۔ یہاں پر ایک بار پھر یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ امریکی ذرائع ابلاغ اور وکلاء نے اپنے لیے امریکی حکومت ، افواج اور انٹیلی جنس اداروں کے حق میں کسی بھی خاموش ضابطۂ اخلاق کو نہیں طے کر رکھا۔ مختصر یہ کہ امریکی صحافت اور وکلاء کے مسلسل دباؤ کے باعث جیمز کلیپر کو امریکی کانگریس کے سامنے جوابد ہی کے لیے حاضر ہونے(کیا آپ کے ملک میں ایسا ممکن ہے؟) اور جھوٹ بولنے کے الزام میں اپنے عہدہ سے نہ صرف سبک دوش ہونا پڑا بلکہ تحریری معذرت نامہ بھی جاری کرنا پڑا۔ یہ امرحیران کن ہے کہ سیف اللہ خالد اس سب کے باوجود ایک احمقانہ سوال کرتے ہیں کہ،’’ جب پوری دنیا میں میڈیا اپنی ایجنسیوں پر تنقید نہیں کر سکتا، تو پاکستان میں یہ حق کیوں مانگا جا رہا ہے‘‘۔
    [​IMG]

    [​IMG]

    برطانوی انٹیلی جنس: اس حوالے سے بھی سیف اللہ خالد صاحب کی معلومات نقص کا شکار ہیں۔ پہلی اور بڑی مثال سابقہ صحافی اور برطانوی انٹیلی جنس کے افسر David Shayler کی ہے جس نے برطانوی انٹیلی جنس ادارے کی جانب سے بین الاقوامی سطح پر کیے جانے والےجرائم کا انکشاف کیا۔ ڈیوڈ شیلر نے 1989ء میں برطانوی خفیہ ایجنسی کی جانب سے بیرون ممالک کی جانے والی خلاف قانون کاراوئیوں کا انکشاف ایک اخبار کو اطلاعات فراہم کر کے کیا جس میں اسلامی ممالک کے سربراہان کے قرل کی سازشیں شامل تھیں۔ اسے بعد میں قید بھی بھگتنا پڑی۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک اور برطانوی انٹیلی جنسی کی افسر اینی میک ہون Annie Machon ہے جس نے ڈیوڈ شیلر کی انحراف کے بعد مدد کی اور برطانوی خفیہ ایجنسی کی مذموم کاروائیوں کے بارے میں میں ایک کتاب Spies, Lies and Whislteblowers شائع کی ۔ اس کتاب میں برطانوی خفیہ ایجنسیوں کے خلاف قانون اقدامات کی پر زور مخالفت کی گئی ہے۔ برطانیہ سے انٹیلی جنس اداروں پر تنقید کے حق سے ایک بہت بڑی اور اہم مثال ایک برطانوی سفیر کریگ مری Craig Murray کی ہے جو ازبکستان میں برطانیا کے سفیر رہ چکے ہیں۔ کرگ مری نے برطانوی حکومت اور وزارتِ خارجہ کو ازبکستان کی حکومت کی جانب سے عوام کے اغوا، حبس بے جا میں رکھے جانے اور دورانِ حراست تشدد (ازبک حکومت کی انٹیلی جنس ایجنسی کی جانب سے ایک مسلمان کو زندہ ابلتے ہوئے تیل میں ڈالے جانے) کے بارے میں آگاہ کیا اور مؤثر جواب نہ پانے پر برطانوی انٹیلی جنس اداروں کو بے نقاب کرنا شروع کر دیا۔ جس کی پاداش میں کریگ مری کو قید کی سزا بھگتنا پڑی۔ کریگ مری کی کتاب، Murder in Samarkand ایک با ضمیر، قانون پسند، بہادر عادل کی آواز ہے جو انٹیلی جنس ایجنسیوں کی خلاف قانون کاروائیوں کی بلا خوف و تردد پر زور مذمت کرتی ہے جو سیف اللہ خالد کے خفیہ ایجنسیوں کے ساتھ سمجھوتے کے نظریات پر پورا نہیں اترتی۔

    انٹیلی جنس اداروں کے غیر قانونی اقدامات کی مذمت کی ایک اور بڑی مثال برطانوی حکومت کے ایما پر انٹیلی جنس ادارے کی جانب سے برطانیا کے ڈاکٹر ڈیوڈ کیلیDavid Kelley کا قتل ہے۔ ڈاکٹر ڈیوڈ کیلی وسیع تباہی کے ہتھیاروں، جوہری، کیمیائی و حیاتیاتی ہتھیاروں کا ماہر تھا جس نے ٹونی بلیئر کے حکم کے خلاف عراق کو متذکرہ ہتھیاروں اور مغربی ممالک کو کسی بھی فوجی حملے کے امکان سے پاک قرار دیا تھا اور اس ضمن میں اس نے ایک برطانوی صحافی سے بات چیت کے دوران انکشافات بھی کیے تھے، جس کی پاداش میں اسے ٹھکانے لگا دیا گیا۔ لیکن برطانوی ذرائع ابلاغ اور صحافت نے کسی بھی خاموشی کا مظاہرہ نہ کیا۔ اس پر برطانوی حکومت اور اس کے خفیہ اداروں کی مذمت میں کئی کتابیں بھی لکھی جا چکی ہیں ۔ اس حوالے سے برطانوی وزیر اعظم پر براہِ راست تنقید اس وقت دیکھنے میں آئی، جب جاپان میں ایک مغربی صحافی نے ایک پریس کانفرنس کے دوران ٹونی بلیئر سے سوال کیا کہ، ’’جناب وزیر اعظم کیا آپ کے ہاتھ مقتولوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں‘‘؟ اس پر برطانوی وزیر اعظم سکتے میں آ کر ٹک ٹک دیدم، دم نہ کشیدم کی مجسم صورت ہو گئے تھے۔ اس پر ایک کتاب حال ہی میں دوسری کئی کتابوں کے علاوہ Robert Lewis:Dark Actors: The Life and Death of David Kelly نے بھی لکھی ہے۔
    المختصر!ذرائع ابلاغ کسی بھی معاشرے یا ملک میں ، لا قانونیت،بد عنوانی، ظلم و جبر اور عوام کے استحصال کے خلاف اداروں پر نظر رکھنے اور محتسب کا کام کرتے ہیں۔ صرف ذرائع ابلاغ اور صحافی ہی نہیں دنیا کے ممتاز قانون دان بھی حکومتوں اور ان کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے غیر قانونی اقدامات پر نہ صرف تنقید کرتے ہیں بلکہ ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جنگ بھی برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ اس ضمن میں امریکی وکیل، کلائیو سٹیفورڈ اسمتھ Clive Stafford Smith، برطانوی وکیل، مدثر آرانیMuddassar Arani اور گیرتھ پیئرس Gareth Peirce قابلِ ذکر ہیں جو امریکی، برطانوی حکومتوں اور ان کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے غیر قانونی اقدامات کے خلاف نہ صرف قانونی جدو جہد میں مصروف عمل ہیں بلکہ خلاف قانون نام نہاد دہشت گردی کے الزامات میں گرفتار افراد کو قانونی خدمات بلا قیمت فراہم کر رہے ہیں جس کے نتیجے میں گوانتانا مو بے اور برطانوی غیر قانوی حراست سے کئی بے گناہوں کو رہائی نصیب ہوئی ہے۔ ماسوائے عافیہ صدیقی کے جس کی براہِ راست ذمہ داری ان پر عائد ہوتی ہے جن کے حق میں سیف اللہ خالد ایک نامعقول اور ناقابل قبول ضابطہ اخلاق کا تقاضا کر رہے ہیں۔
    ہم نے اختصار سے کام لیتے ہوئے صرف موٹی موٹی مثالیں پیش کی ہیں جو سیف اللہ خالد صاحب کے بودے نظریات اور دعووں کو غلط ثابت کرتی ہیں۔ انٹیلی جنس اداروں کے غیر قانونی اقدامات، جن میں بے گناہ افراد کےقتل سے لے کر، لوگوں کو غائب کرنا، غیر قانونی حراست میں رکھنا، ان پر تشدد کرنا، تشدد کے ذریعے معلومات کے حصول کے لیے دوسرے یا تیسرے ممالک کی ایجنسیوں کے حوالے کرنا ، سب غیر قانونی اور غیر انسانی اقدامات ہیں جو انسانیت کے خلاف گھناؤنے جرائم کے دائرے میں آتے ہیں۔ انٹیلی جنس ایجنسیوں کی جانب سے خواہ ان کا تعلق کسی بھی ملک سے ہو، نہ صرف خلافِ قانون اقدامات اور مروجہ بین الاقوامی قوانین کی رو سے ناقابل قبول ہیں بلکہ اسلامی قوانین کے تو حد درجہ منافی ہیں اور ان کے خلاف ہر اٹھنے والا قدم، ہر لکھا گیا اور بولا ہوالفظ انسانیت کے حق میں ضمیر اور قانونی ذمہ داری کے فرائض کی ادائیگی کا مظہر ہے۔
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں