عراق: شیعہ حکمرانوں کی جانب سے سنی مسلمانوں کا وحشیانہ قتل عام ہیومن رائٹس واچ رپورٹ

عائشہ نے 'اسلام اور معاصر دنیا' میں ‏جولائی 13, 2014 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    عراق میں وزیراعظم نوری المالکی کے تحت سکیورٹی فورسز اور ان کی اتحادی ملیشیاؤں نے گذشتہ ایک ماہ کے دوران دوسو پچپن سنی قیدیوں کو غیرقانونی طور پر قتل کردیا ہے۔

    خانہ جنگی کا شکار ملک میں اہل سُنت کی ان ہلاکتوں کا انکشاف انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو) نے جمعہ کو جاری کردہ ایک بیان میں کیا ہے اور بتایا ہے کہ ان قیدیوں کو 9 جون کے بعد غیر قانونی طور پر گولیوں کا نشانہ بنا دیا گیا ہے۔

    نیویارک میں قائم ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ ''اتنے بڑے پیمانے پر ماورائے عدالت ہلاکتیں جنگی جرائم یا انسانیت کے خلاف جرائم کا ثبوت ہوسکتی ہیں''۔تنظیم کے مطابق ان سُنی قیدیوں کو بظاہر عراق کے شمالی صوبوں میں جنگجو تنظیم دولت اسلامی عراق وشام (داعش) کی سرکاری فوج کے خلاف جنگی کارروائیوں اور فتوحات کے ردعمل میں قتل کیا گیا ہے۔

    ایچ آر ڈبلیو کے مشرق وسطیٰ کے ڈپٹی ڈائریکٹر جو اسٹارک نے کہا ہے کہ ''قیدیوں کو اس طرح فائرنگ سے ہلاک کیا جانا بین الاقوامی قانون کی شرمناک خلاف ورزی ہے''۔

    اںھوں نے کہا کہ دنیا اگر داعش کے بھیانک مظالم کی بجا طور پر مذمت کررہی ہے تو اس کو عراق کی سرکاری یا حکومت نواز فورسز کے ہاتھوں فرقہ وارانہ ہلاکتوں سے آنکھیں موند نہیں لینی چاہئیں۔

    اس تنظیم کا کہنا ہے کہ اس نے گذشتہ ماہ موصل میں قیدیوں کے قتل عام کے علاوہ تل عفر ،بعقوبہ ،جمرخا اور راوا کے قصبوں اور دیہات میں لوگوں کی ہلاکتوں کے دستاویزی ثبوت اکٹھے کیے ہیں۔

    اس نے بتایا ہے کہ ایک کیس میں قاتلوں نے بیسیوں قیدیوں کو آگ لگا دی تھی اور دو کیسوں میں قیدیوں کی کوٹھڑیوں میں دستی بم پھینکے تھے۔ایچ آر ڈبلیو نے عراق میں فرقہ وارانہ بنیاد پر ہونے والی ان ہلاکتوں کی بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ العربیہ کی خبر
    http://urdu.alarabiya.net/ur/middle-east/2014/07/12/عراقی-فورسز-نے-255-سُنی-قیدیوں-کو-قتل-کردیا-رپورٹ-.html


    ہیومن رائٹس واچ کی اپنی ویب سائٹ پر موجود رپورٹ
    http://www.hrw.org/news/2014/07/11/iraq-campaign-mass-murders-sunni-prisoners
    Gunning down prisoners is an outrageous violation of international law. While the world rightly denounces the atrocious acts of ISIS, it should not turn a blind eye to sectarian killing sprees by government and pro-government forces.
    Joe Stork, deputy Middle East director at Human Rights Watch.​
    http://www.hrw.org/world-report/2014/country-chapters/iraq

    یہ جمہوری اسلامی ایران کی حمایت یافتہ عراقی شیعہ حکومت کی سیاہ کاریاں ہیں جس نے غیر جانب دار حلقوں کو بھی بلبلانے پر مجبور کر دیا ہے ۔ یہ کسی سنی کی مرتب کر دہ رپورٹ نہیں ایک غیر جانب دار ادارے کی رپورٹ ہے ۔

    نوبت یہاں تک آ چکی ہے کہ:
    اہالیاں فلوجہ میتیں فریزر میں رکھنے پر مجبور
    میتوں کی تدفین باغیچے میں کرنے پر
    عراق میں نوری المالکی کے مظالم کا شکار سنی اکثریتی شہر فلوجہ کے باشندے فوج کے ہاتھوں قتل ہونے والے اپنے عزیزو اقارب کی میتیں فریرز میں رکھنے اور گھروں سے متصل باغیچوں میں دفنانے پر مجبور ہیں۔

    العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یہ انکشاف فلوجہ کی عبوری مقامی کونسل کی جانب سے حال ہی میں کیا گیا۔ کونسل کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ نوری المالکی کے زیر کمان فورسز کے ہاتھوں وحشیانہ بمباری میں مارے جانے والے شہریوں کے لواحقین کو اپنے پیاروں کے کفن دفن کا موقع بھی فراہم نہیں کیا جاتا۔

    فورسز تعزیتی کیمپوں پر بھی جنگی جہازوں اور فوجی ہیلی کاپٹروں سے گولہ باری کرتی ہے اور شہری خوف کے مارے گھروں کے اندر محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔

    فلوجہ کی عبوری کونسل کے رکن محمد المحمدی نے اپنے ایک بیان میں بتایا کہ شہر پر نوری المالکی کی فورسز پچھلے سات ماہ سے وحشیانہ بمباری کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ شہر میں غیر اعلانیہ کرفیو نافذ ہے۔

    فوج کی بمباری میں مارے جانے والوں کے کفن دفن کا انتظام بھی مشکل ہو گیا ہے۔ شہری میتوں کو فریزر میں رکھنے اور انہیں گھروں کے چھوٹے موٹے باغیوں اور صحنوں میں دفن کرنے پر مجبور ہیں۔ محمد المحمدی نے بتایا کہ فوجی ہیلی کاپٹروں اور بمبار طیاروں کا ہدف کوئی دہشت گرد نہیں بلکہ عام شہری ہیں۔
    اسی ضمن میں فلوجہ کے جنرل اسپتال کے چیئرمین ڈاکٹر احمد الشامی نے اپنے ایک بیان میں بتایا ہے کہ گذشہ ماہ فوج کی بمباری سے چار بچوں سمیت اٹھارہ افراد کو اسپتالوں کے ایمرجنسی وارڈز میں داخل کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ پچھلے چھ ماہ کے دوران فوج کی بمباری سے 541 شہری جاں بحق اور 1905 زخمی ہوئے۔ جاں بحق اور زخمیوں میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی بھی شامل ہے۔
    خیال رہے کہ فلوجہ شہر میں حکومت مخالف عوامی مظاہروں کے بعد وزیر اعظم نوری المالکی نے فوجی طاقت کے ذریعے مظاہرین ختم کرنے کی کوشش کی تھی۔ مظاہرے تو ختم نہیں ہوئے تاہم المالکی فوجی نہتے شہریوں پر ایک عذاب بن کر مسلط ہیں۔ پچھلے کئی ماہ سے روزمرہ کی بنیاد پر فلوجہ میں سرکاری فوج بمباری کرتی اور نہتے شہریوں کو موت کے گھاٹ اتار رہی ہے۔ بمباری میں مساجد اور اسپتالوں کو بھی برابر نشانہ بنایا جاتا ہے۔
    http://urdu.alarabiya.net/ur/middle...یاں-فلوجہ-میتیں-فریزر-میں-رکھنے-پر-مجبور.html
     
    Last edited: ‏جولائی 13, 2014
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,329
    انا للہ وانا الیہ راجعون ایرانی رافضی درندے کھل کر سامنے آ رہے ہیں ۔
     
  3. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,329
    [​IMG]

    کالے کرتوت ، کالے منہ کالے عبایوں والے رافضی درندے
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں