شاعری یا ہفت خوان رستم

عفراء نے 'نقد و نظر' میں ‏ستمبر 18, 2014 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عفراء

    عفراء webmaster

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2012
    پیغامات:
    3,918
    شاعری یا ہفت خوان رستم​
    ایک زمانہ تھا کہ جب کسی شاعر کے اوصاف بیان کیے جاتے تھے تو سب سے پہلے یہ کہا جاتا تھا کہ اس کا مجموعۂ کلام شائع ہوچکا ہے لیکن اب معاملہ اس کے برعکس ہے۔ اگر کسی شاعر کا مجموعہ شائع نہ ہوا ہو تو اسے شاعر کی خوبی سمجھا جاتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ پہلے زمانے میں شاعر کے مجموعے سے اس کے کلام کی خوبیوں کا اندازہ ہوتا تھا، اب خامیاں سامنے آجاتی ہیں۔ اس لیے سمجھ دار شاعر اپنا مجموعہ نہیں چھپواتے اور جو شاعر صرف شاعر ہوتے ہیں وہ نہ صرف مجموعہ چھپواتے ہیں بلکہ یکے بعد دیگرے مجموعوں کی قطار باندھ دیتے ہیں۔
    ہمارے سامنے کئی ایسی مثالیں ہیں کہ کسی شاعر کے بارے میں اچھی رائے اس وقت خراب ہو گئی جب اس کا پہلا مجموعۂ کلام شائع ہوا۔ دوسرے مجموعے کی اشاعت پر مزید خراب ہوگئی۔ تیسرے مجموعے کے چھپنے کے بعد خرابی ہی خرابی رہ گئی شاعری غائب ہوگئی۔
    جون ایلیا کا معاملہ عام شاعروں سے مختلف ہے۔ مجموعۂ کلام کی اشاعت سے پہلے وہ جتنے اچھے شاعر سمجھے جاتے تھے، اشاعت کے بعد وہ اس سے کہیں زیادہ اچھے شاعر کی حیثیت سے سامنے آئے ہیں۔ ہم نے اب تک ان کی نظمیں اور غزلیں فردا فردا پڑھی تھیں اور ان سے ایک خوشگوار اثر قبول کیا تھا۔ اب جو ان کا مجموعۂ کلام "شاید" پڑھنے کا اتفاق ہوا تو ایسا محسوس ہوا جیسے بکھرا ہوا شاعر سمٹ کر ہمارے سامنے آگیا ہو۔ ایسا شاعر جس کے خیالات اپنے ہیں، الفاظ اپنے ہیں اور پیرایۂ بیان اپنا ہے۔ خوبیاں تو الگ رہیں، خامیاں اور گمراہیاں بھی جو ہیں وہ ان کی اپنی ہیں۔ اس معاملے میں بھی وہ کسی کے مقلد یا مرہون منت نہیں۔ خود کفیل ہیں۔ اسی لیے اپنا راستہ الگ بنایا ہے۔
    جون ایلیا ایک ایسا شاعر ہے جس نے اردو شاعری کی روایات سے انحراف نہیں کیا لیکن روایتی ہونے سے اپنے آپ کو بچایا ہے۔ جہاں تک قادر الکلامی کا تعلق ہے، موجودہ دور کے دو ایک شاعروں کو چھوڑ کر شاید ہی کوئی ان کا مقابلہ کر سکے۔ اس معاملے میں وہ اپنے حقیقی بڑے بھائی رئیس امروہوی کے حقیقی جانشین ہیں۔ فرق یہ ہے کہ مرحوم قادرالکلام ہی نہیں، قادر انداز بھی تھے۔ مگر جون ایلیا ہمیشہ سپر انداز رہتے ہیں۔ مزاج ہی ایسا پایا ہے کہ کسی کو نشانہ بنا سکتے ہیں اور نہ خود بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ خدا کرے ہمارا یہ کالم ان کی نظر سے نہ گزرے، اور گزرے تو اس کے مطالب ان پر ناخوش گوار اثر نہ چھوڑیں۔
    جون ایلیا بلاشبہ ہمارے عہد کے ایک اہم شاعر ہیں لیکن حیرت ہے کہ آج تک ان کی شاعری کو قابل اعتنا نہیں سمجھا گیا۔ کسی ڈھنگ کے نقاد نے ان کے بارے میں دو سطریں بھی نہیں لکھیں۔ حالاں کہ یہی نقاد معمولی درجے کے شاعروں کی تعریف میں آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں۔ لیکن وہ جو کہتے ہیں کہ زمانہ سدا ایک سا نہیں رہتا سو جون ایلیا کو بھی ان کو حق ملا اور خوب ملا۔دبئی میں ان کا جشن منایا گیا۔ اس موقع پر ان کا مجموعہ "شاید" شائع ہوا۔ اس کے ساتھ ہی ایک ضخیم مجلہ بھی منظر عام پر آیا جس میں ساٹھ ستر ہم عصروں نے انھیں "خراج تحسین" پیش کیا ہے۔ یہ دوسری بات ہے کہ اس خراج تحسین کے ڈانڈے "تحسین ناشناس سے ملتے ہیں۔
    بہرحال یہ خوشی کی بات ہے کہ جون ایلیا کی گھر میں نہ سہی، گھر سے باہر قدر ہوئی۔ دوبئی کے جنگل میں مور ناچا، دیکھنے والوں نے دیکھا اور رقص بسمل کی داد دی۔ دوبئی جیسے متمدن مقام کو ہم نے جنگل اس لیے کہا ہے کہ وہاں درہم و دینار کے سائے دور دور تک پھیلے ہوئے ہیں۔ کچھ دنوں سے ہمارے مور یعنی شاعر رقص کرنے کے لیے اسی جنگلا کا رخ کر رہے ہیں۔
    جون ایلیا کے کلام کے مطالعے سے دل خوش ہوا لیکن اس سے کہیں زیادہ خوشی اس طویل دیباچے کے مطالعے سے حاصل ہوئی جس کے ضمیمے کے طور پر کلام شائع کیا گیا ہے۔ مولانا حالی نے اپنے دیوان کا مقدمہ لکھا تھا۔ یہ مقدمہ ایسا مقبول ہوا کہ لوگ دیوان کو بھول گئے۔ اندیشہ ہے کہ کہیں جون ایلیا کے ساتھ بھی یہی واقعہ پیش نہ آئے۔ شاعروں کو طویل اور دلچسپ دیباچے لکھنے سے اجتناب کرنا چاہیے کیوں کہ یہ شاعری کی مقبولیت کی راہ میں رکاوٹ ثابت ہوتے ہیں۔

    مزید نیچے پڑھیے۔۔۔
    از خامہ بگوش کے قلم سے
    مرتبہ: مظفر علی سید
    کمپوزنگ برائے اردو مجلس: عفراء
     
    Last edited by a moderator: ‏ستمبر 23, 2014
    • پسندیدہ پسندیدہ x 6
  2. عفراء

    عفراء webmaster

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2012
    پیغامات:
    3,918
    جون ایلیا نے دیباچے میں اپنی ذات کے انکشافات کے ساتھ ساتھ حیات و کائنات کے مسائل کو بھی پانی کر دیا ہے اور جہاں کہیں عالمانہ زبان استعمال کی ہے وہاں مفاہیم و مطالب بھی پانی پانی ہوتے نظر آتے ہیں۔ مثلا ایک جگہ فرماتے ہیں: منطق جب انتاج اور استنتاج کے مندرج عمل میں غیر مندرج ہوجائے تو مابعد الطبیعیات وجود میں آتی ہے۔ منطق جب انتاج اور استنتاج کے استخراجی اور استقرائی عمل میں مندرج رہے تو سائنس وجود میں آتی ہے اور منطق جب احساس کی مکانیت اور زمانیت میں تخیل اور جذبے کے جمالیاتی آہنگ کے ساتھ صورت پذیر ہو تو شاعری وجود میں آتی ہے۔
    ہماری طرح بے شمار لوگوں کو پہلی مرتبہ معلوم ہوا ہو گا کہ شاعری کتنی مشکل سے وجود میں آتی ہے۔ ردیف قافیے کی حد تک تو کام آسان ہے لیکن احساس کی مکانیت اور زمانیت میں تخیل اور جذبے کے جمالیاتی آہنگ کے ساتھ منطق کو صورت پذیر کرنا، ہفت خوان رستم طے کرنے سے زیادہ مشکل کام ہے۔ اتنی مشقت کے بعد ہی اس قسم کے شعر کہے جا سکتے ہیں:
    ڈھونڈتی ہے اک آہو کو
    اک مادہ آہو مجھ میں

    مجھ کو تو کوئی ٹوکتا بھی نہیں
    یہی ہوتا ہے خاندان میں کیا

    صبح دفتر گیا تھا کیوں انساں
    اب یہ کیوں آرہا ہے دفتر سے
    نہیں بد تر کہ بد ترین ہوں میں
    ہوں خجل اپنے نصف بہتر سے

    بھاری بھرکم اصطلاحوں میں جون ایلیا نے شاعری کی جو تعریف کی ہے اس سے عام قاری یہ نتیجہ نکال سکتا ہے کہ جون ایلیا کی شاعری بھی ان کے علم و فضل کی طرح ثقیل ہو گی اور اس میں بھی حیات و کائنات کے انھیں مسائل سے دھینگا مشتی ہوگی جو دیباچے میں نظر آتے ہیں۔ مقام شکر ہے کہ جون ایلیا شاعری میں فلسفہ نہیں جھاڑتے، شاعر ہی نظر آتے ہیں اور شاعر بھی ایسے کہ کچی عمر کے پڑھنے والوں پر جادو کر دیتے ہیں۔ "شاید" کے آخری صفحے پر یہ دو قطعے ہیں:
    شرم، دہشت، جھجھک، پریشانی
    ناز سے کام کیوں نہیں لیتیں
    آپ، وہ، جی، مگر یہ سب کیا ہے
    تم مرا نام کیوں نہیں لیتیں

    پسینے سے مرے اب تو یہ رومال
    ہے نقدِ نازِ الفت کا خزینہ
    یہ رومال اب مجھی کو بخش دیجیے
    نہیں تو لائیے میرا پسینہ

    دیباچے کے اتنے گہرے فلسفے کے بعد اتنی سامنے کی شاعری ایک معجزہ ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ فلسفی پر شاعر بلکہ نو عمر عاشق غالب آگیا ہے۔ دوسرا قطعہ اس اعتبار سے بھی اہمیت رکھتا ہے کہ اس سے یہ بات غلط ثابت ہوجاتی ہے کہ شاعر اپنے خونِ جگر سے شعر لکھتا ہے۔ اعلیٰ شاعری پسینے سے بھی لکھی جا سکتی ہے بہ شرطے کہ شاعر میں لکھنے کی اور خون کی جگہ پسینہ بہانے کی صلاحیت ہو۔ شاید یہی وہ پسینہ ہے جسے علامہ اقبال ، "عرق انفعال" کہا کرتے تھے۔
    دیباچے میں جہاں کہیں جون ایلیا نے اپنے بارے میں کچھ لکھا ہے وہاں رنگیلے پیا جان عالم واجد علی شاہ اختر یاد آجاتے ہیں۔ واجد علی شاہ نے اپنی خود نوشت سوانح عمری "محل خانۂ شاہی (جو "پری خانہ" کے نام سے شائع ہو چکی ہے) میں لکھا ہے کہ انھوں نے پہلا عشق آٹھ برس کی عمر میں کیا تھا۔ جون ایلیا نے بھی اسی عمر میں راہ راست پر چلنا سیکھا۔ فرماتے ہیں: میری عمر کا آٹھواں سال میری زندگی کا سب سے اہم اور ماجرا پرور سال تھا۔ اس سال میری زندگی کے دو سب سے اہم حادثے پیش آئے۔ پہلا حادثہ یہ تھا کہ میں اپنی نرگسی انا کی پہلی شکست سے دوچار ہوا یعنی ایک قتالہ لڑ کی کی محبت میں گرفتار ہوا۔ دوسرا حادثہ یہ تھا کہ میں نے پہلا شعر کہا:
    چاہ میں اس کی طمانچے کھائے ہیں
    دیکھ لو سرخی میرے رخسار کی
    پہلے حادثے پر تو حیرت کی ضرورت نہیں کہ پیدائشی شاعروں کے ساتھ ایسا ہوتا ہی رہتا ہے۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ ایسا عمدہ شعر اور آٹھ برس کی عمر میں۔ سعادت یار خان رنگین تو ساٹھ برس کی عمر میں ایسا شعر نہیں کہہ سکے تھے۔ ہم نے اوپر جون ایلیا کے جو شعر نقل کیے ہیں، انھیں ایک مرتبہ پھر ملاحظہ کیجیے تو معلوم ہوگا کہ موصوف کا رنگ سخن جو آٹھ برس کی عمر میں متعین ہوا تھا زندگی بھر برقرار رہا۔

    جاری ہے۔۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  3. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    واہ بہت عمدہ
    رستم، ہفت خوان رستم دراصل فارسی کردار رستم کے ایڈونچرز کی طرف اشارہ ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. عطاءالرحمن منگلوری

    عطاءالرحمن منگلوری -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 9, 2012
    پیغامات:
    1,480
    جون ایلیا کو زیادہ نہیں پڑھا تھا.یہ خوبصورت نقد ونظر پڑھنےکےبعد لگتا ہےکہ انہیں نہ پڑھنا غلطی تھی.مبصر کا تبصرہ اور انتخاب قابل داد ہیں.
     
  5. عفراء

    عفراء webmaster

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2012
    پیغامات:
    3,918
    (مضمون کا بقیہ حصہ)
    پہلے حادثے کے سلسلے میں جون ایلیا نے ایک دلچسپ بات لکھی ہے: "ایک دن کا ذکر ہے وہ لڑکی ہمارے گھر آئی۔ میں اس وقت کھانا کھا رہا تھا۔ میں نے اسے دیکھتے ہی فورا لقمہ نگل لیا۔ محبوبہ کے سامنے لقمہ چبانے کا عمل مجھے انتہائی نا شائستہ، غیر جمالیاتی اور بے ہودہ محسوس ہوا تھا۔ میں اکثر یہ سوچ کر شرمندہ ہوجایا کرتا کہ میرے جسم میں مجھ ایسے لطیف لڑکے کے جسم میں بھی معدے جیسی کثیف اور غیر رومانی چیز پائی جاتی ہے۔ اگر آپ تاریخ کے کسی ہیرو کا اور دیوی کا مجسمہ دیکھ کر یہ سوچیں کہ زندگی میں اس شخصیت کے جسم میں معدہ بھی ہو گا اور انتڑیاں بھی تو آپ کے ذہن کو دھچکا لگے گا یا نہیں؟"
    مجنوں کے بارے میں بھی یہی سننے میں آیا ہے کہ وہ تہذیب و جمالیاتی وجوہ سے لیلیٰ ہی کے سامنے نہیں، اوروں کے سامنے بھی کچھ نہیں کھاتا تھا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ آج تک اس کی پسلیوں کو ککڑیوں سے تشبیہ دی جاتی ہے۔
    آٹھ برس کی عمر میں جو دو کام شروع ہوئے تھے وہ زندگی بھر جاری رہے۔ ابتدا میں تو صرف یہ پریشانی تھی کہ شاعر کے پاس معدہ کیوں ہے، بعد میں ایک اور پریشانی بھی لاحق ہو گئی۔ فرماتے ہیں: "مادے روح اور ذہن کی تباہی کے بعد میں ایک جاںکاہ ارتباتیت میں مبتلا ہوگیا۔ میری اذعانیت اور ادعائیت بد ترین انجام سے دوچار ہوئی تھی۔ اب ایک بیزار کن تشکک تھا۔ محلے کی ایک لڑکی بلکہ شہر کی کتنی ہی لڑکیوں کے شوق اور اس شوق کے اظہار نہ کرنے کی اذیت تھی"۔
    اس اذیت کے ساتھ ایک اور مسئلہ بھی جون ایلیا کو پریشان کرتا رہا' اس کی تفصیل بھی انہیں کے الفاظ میں سنیے: "ایک اور مسئلہ بھی مجھے پریشان کرتا ہے کہ کائنات کی کوئی غایت ہے یا نہیں۔ میں اکثر سوچتا ہوں کہ ارسطو اور ہٹلر کے پیدا ہونے کی غایت کیا تھی؟ اگر ہمالیہ شمال کے بجائے جنوب میں واقع ہوتا تو اس میں آخر کیا استحالہ تھا؟ میں شاعر، عاشق، معشوق کے طور پر ان مظاہر کی توجیہ کرنے کا قطعاً ذمہ دار نہیں ہوں مگر ایک سوچنے والے غیر جذباتی فرد کے طور پر میں یہ سوال کرنے کا حق رکھتا ہوں کہ ایسا کیوں ہے"؟
    مقام شکر ہے کہ جناب جون ایلیا نے ارسطو اور ہٹلر کے ساتھ اپنا نام نہیں لیا، ورنہ صورت حال مزید تشویش ناک ہوجاتی۔ بہرحال جو شخص بیک وقت شاعر ہو، عاشق ہو اور معشوق بھی ہو، اس کے لیے ایسے دقیق مسائل پر سوچنے کے لیے وقت نکالنا بہت بڑی بات ہے۔ ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی سے کسی نے پوچھا کہ آپ اتنا زیادہ کام کیسے کر لیتے ہیں۔ انھوں نے جواب دیا: "میں ۲۴ گھنٹوں میں ۲۷ گھنٹے کام کرتا ہوں"۔ جون ایلیا ۲۴ گھنٹوں میں ۲۷ گھنٹے سوچتے ہوں گے، تب کہیں اتنے بہت سے مسائل کو وہ سلجھا پاتے ہوں گے۔
    یہاں یہ سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ اگر جون ایلیا ہر وقت سوچتے رہتے ہیں تو پھر شاعری کس وقت کرتے ہوں گے۔ ہمارا خیال ہے کہ سال چھ مہینے میں ایسے چند لمحے ضرور آتے ہوں گے جب موصوف سوچنے کا کام چھوڑ کر شاعری شاعری کی طرف توجہ فرماتے ہوں گے۔ جب دنیا کے بے شمار کام بلا سوچے سمجھے انکام دیے جا سکتے ہیں تو شاعری کیوں نہیں کی جاسکتی؟
    (۱۷ مئی ۱۹۹۰)
     
    Last edited: ‏اکتوبر، 27, 2014
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  6. عفراء

    عفراء webmaster

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2012
    پیغامات:
    3,918
    اچھا؟ :eek: ہمارا تو خیال تھا لوگ اس تنقید کو پڑھنے کے بعد جون ایلیا کو پڑھنے پر افسوس کریں گے۔۔۔
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں