شیرِ خدا حضرت حمزہ (رض) کی شہادت!

رفی نے 'تاریخ اسلام / اسلامی واقعات' میں ‏اپریل 29, 2008 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,397
    شیرِ خدا حضرت حمزہ (رضی اللہ عنہ) کی شہادت!

    (الرحیق المختوم صفحہ 356)

    حضرت حمزہ (رض) کے قاتل کا نام وحشی بن حرب تھا۔ ہم ان کی شہادت کا واقعہ اسی کی زبانی نقل کرتے ہیں۔ اس کا بیان ہے کہ میں جُبَیر بن مُطُعِم کا غلام تھا اور ان کا چچا طُعَیمہ بن عدی جنگِ بدر میں مارا گیا تھا۔ جب قریش جنگ اُحد پر روانہ ہونے لگے تو جبیر بن مطعم نے مجھ سے کہا، “اگر تم محمد (ص) کے چچا حمزہ (رض) کو میرے چچا کے بدلے قتل کر دو تو تم آزاد ہو“۔ وحشی کا بیان ہے کہ (اس پیش کش کے نتیجے میں) میں بھی لوگوں کے ساتھ روانہ ہوا۔ میں حبشی آدمی تھا اور حبشیوں کی طرح نیزہ پھینکنے میں‌ ماہر تھا۔ نشانہ کم ہی چُوکتا تھا۔ جب لوگوں میں جنگ چھڑ گئی تو میں نکل کر حمزہ (رض) کو دیکھنے لگا۔ میری نگاہیں ان کی تلاش میں تھیں۔ بلآخر میں نے انہیں لوگوں کے ہجوم میں دیکھ لیا۔ وہ خاکستری اونٹ کی طرح معلوم ہو رہے تھے۔ لوگوں کو درہم برہم کرتے جا رہے تھے۔ ان کے سامنے کوئی چیز ٹک نہیں پاتی تھی۔

    واللہ! میں ابھی انکے قتل کے ارادے سے تیار ہی ہو رہا تھا اور ایک درخت یا پتھر کی اوٹ میں چھپ کر انہیں قریب آنے کا موقع دینا چاہتا تھا کہ اتنے میں سباع بن عبد العزی مجھ سے آگے بڑھ کر ان کے پاس جا پہنچا۔ حمزہ (رض) نے اسے للکارتے ہوئے کہا، “ او! شرمگاہ کی چمڑی کاٹنے والی کے بیٹے! یہ لے“۔ اور ساتھ ہی اس زور کی تلوار ماری کہ گویا اس کا سر تھا ہی نہیں۔

    وحشی کا بیان ہے کہ اس کے ساتھ ہی میں نے اپنا نیزا تولا اور جب میری مرضی کے مطابق ہو گیا تو ان کی طرف اچھال دیا۔ نیزہ ناف کے نیچے لگا اور دونوں پاؤں کے بیچ سے پار ہوگیا۔ انہوں نے میری طرف اُٹھنا چاہا لیکن مغلوب ہوگئے۔ میں نے ان کو اسی حال میں چھوڑ دیا۔ یہاں تک کہ وہ فوت ہو گئے۔ اس کے بعد میں نے ان کے پاس جا کر اپنا نیزہ نکال لیا اور لشکر میں واپس جا کر بیٹھ گیا۔ (میرا کام ختم ہو چکا تھا) مجھے ان کے سوا کسی اور سے کوئی سروکار نہ تھا۔ میں نے انہیں محض اس لیے قتل کی اتھا کہ آزاد ہو جاؤں۔ چنانچہ جب مکہ آیا تو مجھے آزادی مل گئی۔(12)

    ===========================================
    12 :: ابنِ ہشام 2: 69-72، صحیح بخاری 2: 583، وحشی نے جنگ طائف کے بعد اسلام قبول کیا۔ اور اپنے اسی نیزے سے دور صدیقی میں جنگِ یمامہ کے اندر مسَیلمہ کذاب کو قتل کیا۔ رومیوں کے خلاف جنگِ یرموک میں بھی شرکت کی۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. منہج سلف

    منہج سلف --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2007
    پیغامات:
    5,047
    جزاک اللہ روفی بھائی!
    بہت ہی اعلی تحریر پیش کی ہے اسلامی تاریخ کے دروچے سے۔
    اللہ آپ کو اس کا اجر عطا فرمائے۔ آمین
    والسلام علیکم
     
  3. باذوق

    باذوق -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 10, 2007
    پیغامات:
    5,623
    صحیح بخاری کی حدیث میں درج ہے کہ :
    جب وحشی اسلام قبول کرنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    کیا تمہارا ہی نام وحشی ہے؟
    انہوں نے عرض کیا : جی ہاں !
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    کیا تمہی نے حمزہ (رضی اللہ عنہ) کو قتل کیا تھا؟
    انہوں نے عرض کیا :
    جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس معاملے میں معلوم ہے وہی صحیح ہے۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جواب پر فرمایا :
    کیا تم ایسا کر سکتے ہو کہ اپنی صورت مجھے کبھی نہ دکھاؤ ؟؟
    (صحیح بخاری ، کتاب المغازی ، باب قتل حمزہ رضی اللہ عنہ)

    شارح بخاری (اردو مترجم) مولانا داؤد راز لکھتے ہیں :
    چونکہ وحشی نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے محترم چچا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو قتل کیا تھا ، اتنی بےدردی سے کہ جب وہ شہید ہو گئے تو ان کا سینہ چاک کر کے اندر سے دل نکالا اور لاش کو بگاڑ دیا۔ اس لیے یہ ایک قدرتی بات تھی کہ انہیں دیکھ کر حمزہ رضی اللہ عنہ کی غم زنگیز شہادت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یاد آ جاتی تھی۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اپنے سے دور رہنے کے لئے فرمایا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو "سید الشہداء" قرار دیا۔

    شارح بخاری حافظ ابن حجر عسقلانی اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں کہ :
    ابن ھشام نے کہا :
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے حمزہ ! ایسا برتاؤ جیسا تمہارے ساتھ ان کافروں نے کیا ہے کسی کے ساتھ کبھی نہ ہوا ہوگا۔ اسی اثناء میں حضرت جبرئیل (ع) نازل ہوئے اور فرمایا کہ حضرت امیر حمزہ رضی اللہ عنہ آسمانوں میں یہ نام لکھ دیا گیا ہے کہ :
    یہ اسد ، اللہ اور اس کے رسول کے شیر ہیں !!
     
  4. منہج سلف

    منہج سلف --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2007
    پیغامات:
    5,047
    شکریہ بھائی اس اس مفید معلومات دینے کا۔
    جزاک اللہ
     
  5. عبدالمجید

    عبدالمجید -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 6, 2007
    پیغامات:
    68
    شکریہ اس مفید معلومات شیئر کرنے کا
     
  6. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,397
    جزاک اللہ خیر باذوق بھائی!
     
  7. ابو وقاص

    ابو وقاص -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏جون 13, 2008
    پیغامات:
    382
    اسلام علیکم باذوق بھائی
    میرا خیال ہے کہ وحشی نے نہیں بلکہ ھندہ نے حضرت ھمزہ رضی اللہ کا سینہ چاک کرکے کلیجہ چبایا تھا؟
    حضرت ھمزہ رضی اللہ نے ھندہ کے باپ کو جنگ بدر میں قتل کیا تھا۔
     
  8. محمدی

    محمدی -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 5, 2008
    پیغامات:
    81
    بہت ہی اعلٰی ۔
     
  9. فتاة القرآن

    فتاة القرآن -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 30, 2008
    پیغامات:
    1,444
    بھت شکریہ
    جزاکم اللہ کل خیر
    میری معلومات کے مطابق بھی ہندہ ابوسفیان کی بیوی نے حضرت حمزہ کا کلیجہ چبایا تھا
    اللھم صل علی سیدنا محمد وعلی اصحاب سیدنا محمد ​
     
  10. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    urdumajlis.net/index.php?threads/سید-الشہداء-حضرت-حمزۃ-بن-عبدالمطلب-کی-شہادت-کے-متعلق-حقائق.29239/
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں