تفسیر واسرار السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

ابوعکاشہ نے 'تفسیر قرآن کریم' میں ‏نومبر 27, 2014 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,925
    تفسیر واسرار السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

    سلام کے ساتھ رحمت و برکت کو کیوں بیان کیا گیا ہے ؟
    حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی سے فائدہ نہیں اٹھایا سکتا تاوقتیکہ اس کو تین چیزیں حاصل نہ ہو جائیں ـ
    1-ان تمام عیوب ، مصائب و تکالیف سے سلامتی جو انسانی زندگی کو تلخ اور ناخوشگوار بنانے والی ہیں ـ
    2- خیر و سعادت کا حصول
    3-اس خیر و سعادت کا بقا ودوام
    اسلامی سلام ایسا مقرر کیا گیا ہے جس سے یہ تینوں فائدے حاصل ہو سکتے ہیں ـ" سلام علیکم" ہر قسم کے شر سے سلامتی ہے ـ " رحمت اللہ " حصول خیر بتلاتا ہے ـ" وبرکاتہ سے اس خیر کے دوام و ثبات کی طرف اشارہ ہے کیونکہ برکت نام ہے کثرت خیر اور اس کے بقاودوام کا ـ اس توجیہ سے قرآن حکیم میں رحیم کے ساتھ غفور کےبیان کرنے کی حکمت بھی معلوم ہوجاتی ہے ـ جبکہ یہ تینوں امورہر ایک انسان کے بلند مقاصد میں سے ہیں ـ اسی لیے سلام وتحیہ میں ایسے الفاظ خصوصیت کے ساتھ لائے گئے ہیں جو ان مطالب کوواضح کرسکیں ـ اگر یہ تینوں الفاظ لائے جائیں تو ان تینوں امور مذکورہ کا بیان مطابقہ یعنی پورا پورا ہو گا ـ اگر صرف سلام ورحمت کو بیان کیا جائے تو ضمنی طور پر"برکات" کی طرف بھی اشارہ ہو جائے گا ، اور اگرصرف "سلام علیکم" کہا جائے تورحمت اور برکات کی طرف اشارہ لزوما ہوگا ـ ہر قسم کے شر سے کامل سلامتی اسی وقت حاصل ہو سکتی ہے ، جب کہ دائمی طور پر خیرکا حصول بھی ہو جائے یہ سلام اپنی ان خوبیوں کی بنا پر دنیا میں مسلمانوں کے لیے تعارف و ملاقات کا بہترین ذریعہ اور کنجی ہے اور آخرت میں بھی جامع محاسن سلام ان کی زبانوں پر ہوا ـ
    تمام ادیان و مذاہب پربرتری اور فوقیت ثابت کرنے کے لیے یہ کیا کم دلیل ہےـ حقیقت یہ ہے کہ صرف سلام پر کیا منحصر ہے بلکہ شریعت کا ہرحکم عقل و فطرت دونوں کے مطابق ہے ـ رب العالمین کا سب سے بڑا احسان یہی ہے کہ اس نے اپنے بندوں کو کامل بے داغ شریعت اوردین قیم کے ساتھ نوازا ہے ـ اسی لیے مقام احسان میں فرمایا :
    لَقَدْ مَنَّ اللَّـهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْ أَنفُسِهِمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِن كَانُوا مِن قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ ﴿آل عمران١٦٤﴾
    "بے شک مسلمانوں پر اللہ تعالی کا بڑا احسان ہے کہ ان ہی میں سے ایک رسول ان پر بھیجا ، جو انہیں اس کی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب و حکمت سکھاتا ہے ، یقننا یہ سب اس سے پہلے گمراہی میں تھے ـ"
    اور فرمایا:
    يَمُنُّونَ عَلَيْكَ أَنْ أَسْلَمُوا ۖ قُل لَّا تَمُنُّوا عَلَيَّ إِسْلَامَكُم ۖ بَلِ اللَّـهُ يَمُنُّ عَلَيْكُمْ أَنْ هَدَاكُمْ لِلْإِيمَانِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ ﴿الحجرات،١٧﴾
    "بلکہ دراصل اللہ کا تم پر احسان ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کی ہدایت کی اگرتم راست گو ہو"
    غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن میں یہ لفظ من (احسان کرنا) شریعت کاملہ کے ذکر کے ساتھ ہی لایا گیا ہے ـ واقعہ بھی یہی ہے کہ اس سے بڑھ کر عظیم احسان اور کیا ہو سکتا ہے ـ

    اس میں کیا حکمت ہے کہ رحمت و برکات کو اللہ کی طرف مضاف اور منسوب کرتے ہوئے رحمتہ اللہ اوربرکاتہ کہا گیا ہے ـ لیکن لفظ سلام بلا اضافت لایا گیا ہے ؟
    "سلام" اللہ تعالٰی کا نام ہے ـ اس لیے اللہ کی طرف اضافت کی ضرورت ہی نہ تھی ـلیکن رحمت وبرکات کا معاملہ دوسرا ہے ـ اگر ان دونوں کی اضافت اللہ کی طرف نہ ہوتی تو کیسے معلوم ہوتا کہ رحمت و برکت کس سے طلب کی جارہی ہے ـ اس لیے رحمت و برکت والے کے نام کی تصریح ضروری تھی ـ
    "سلام " سے مراد سلام کرنے والے کا قول "سلام علیکم" ہوتا ہے اور معنی یہ ہوتے ہیں " سلام" یعنی اللہ تعالٰی سے سلامتی مطلوب ہے ـ ایسی صورت میں اضافت اللہ تعالی کی طرف ہوتی ہے ـ اور کبھی اس کو مصدر قرار دے کر اس کی نسبت طالب کی طرف ہوتی ہے ـ یہاں بغیراضافت کےمطلق بیان کیا گیا تاکہ دونوں مفہوم لیے جاسکیں ـ بخلاف رحمت و برکت کے کہ ان کی اضافت صرف اللہ تعالٰی کی طرف ہی ہو سکتی ہے ـ " رحمتی وبرکتی علیکم"کوئی نہیں کہ سکتا ـ ہاں " سلام منی یا سلام فلان " کہ سکتے ہیں ـ اس فرق میں راز یہ ہے " سلام" جملہ قولیہ '' السلام علیکم" پر بھی بولا جاتا ہے ـ لیکن رحمت و برکت کا اطلاق اس کے معنی پر ہی ہوتا ہے ـ الفاظ و کلمات مقصود نہیں ہوتے (یعنی رحمت و برکت کہ کر " رحمتہ اللہ وبرکاتہ ''مراد نہیں لیا جاتاـ از ـ مترجم)
    رحمت و برکت کا مفہوم سلامتی سے کہیں زیادہ جامع اور کامل ہے ـ سلامتی کے معنی تو ہیں شر سے بچنا ، اور رحمت و برکت کے معنی ہیں خیر کا حصول اور اس کا دوام ، اس میں جو کمال ہے وہ سلامتی کے مفہوم میں نہیں ہے ـ رحمت وبرکت تواصل مقصود بالذات ہیں اور سلامتی اس اہم مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ذریعہ ووسیلہ ـاس لیے اہل جنت کا نعمتوں کا حاصل کرنا زیادہ کمال رکھتا ہے ، محض جہنم کے عذاب سے محفوظ رہ جانے سے ـ تو یہاں اللہ تعالی کی طرف کامل ترین معین صراحتا منسوب کیے گئے ہیں ـ اور ''سلام" کو بلا اضافت رکھا گیا ہے ـ اس کی نسبت اللہ تعالٰی کی طرف عطف اور سیاق وسباق سے معلوم ہو سکتی ہے ـ حقیقت یہ ہے کہ اس جملہ کے اندازِ بیان کی خوبی اور حسن ترتیب سے کسے انکار ہو سکتا ہے ـ(بدائع : 2/182،183)

    ''سلام " اور " رحمت " کو مفرد اور '' برکاتہ " کو جمع لانے کی وجہ
    " سلام " یا تو مصدر ہے ، اس صورت میں وہ شیء واحد ہے اس کے جمع لانے سے کوئی خاص فائدہ حاصل نہیں ہوتا ، یا " سلام" اللہ کا نام مانا جائے تب بھی اس کا جمع لانا ناجائز ہے ـ اس کی جمع بھی نہیں آتی ـ رحمتہ کی " تہ " ضربہ اور ثمرہ کی طرح تحدید اور حد بندی کے لیے نہیں ہے ، بلکہ یہ محبت اور رافت (شفقت) کی طرح ہے ـ جس طرح رافات ، محبات نہیں کہا جاتا ہے اسی طرح رحمات بھی نہیں کہا جا سکتا ـ یہاں جمع لانے کی صورت میں تحدید کی صورت پیدا ہو سکتی تھی ـ اس مقام پرمفرد لانا ہی عموم و کثرت بتلانے کے لیے زیادہ مناسب ہے ـ اور یہ بھی ایک عجیب نادر نکتہ ہے کہ مفرد کے مفہوم میں جمع سے زیادہ وسعت پائی جائے ـ یہی وجہ ہے مندرجہ ذیل آیات میں بجائے جمع کے مفرد کلمات مذکور ہیں
    قُلْ فَلِلَّـهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ ﴿الانعام،١٤٩﴾
    " آپ کہیے بس پوری حجت اللہ ہی کی رہی "
    فللہ الحجج البوالغ" نہیں کہا گیا ـ
    وَإِن تَعُدُّوا نِعْمَتَ اللَّـهِ لَا تُحْصُوهَا ﴿ابراھیم،٣٤﴾
    "اگرتم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو گن نہیں سکتے"
    یہاں نعم اللہ کہنے کی صورت میں عموم و کمال حاصل نہ ہو سکتا
    رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ﴿البقرہ:،٢٠١
    "ائے رب ! دے ہم کو دنیا میں بھلائی اور آخرت میں بھلائی "
    "حسنہ" میں حسنات سے کہیں زیادہ معنوی کمال پایا جاتا ہے ـ

    ''برکات " کو جمع بیان کرنے میں یہ حکمت ہے کہ برکت کے مفہوم میں شیئا فشیئا (آہستہ آہستہ تدریجی طورپر) خیر وسعادت کی کثرت اور دوام ملحوظ ہے گویا کہ وہ دائمی خیر ہے جس کے افراد نوبت بہ نوبت ظہور میں آتے رہتے ہیں ـ ایک فرد گزرا اور دوسرے فرد نے اس کی جگہ لے لی ، یہاں جمع کا صیغہ بھی اصل مقصود کی دلالت کو واضح کرتا ہے ـ اسی بناء پر قرآن میں فرمایا گیا ہے :
    قَالُوا أَتَعْجَبِينَ مِنْ أَمْرِ اللَّـهِ ۖ رَحْمَتُ اللَّـهِ وَبَرَكَاتُهُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ ۚ إِنَّهُ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ ﴿ھود،٧٣﴾
    "رحمہ اللہ وبرکاتہ علیکم ـ
    اسی طرح تشہد میں ہے ـ
    السلام علیک ایھا النبی ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
    (بدائع : 2/182،183)

    تفسیری نکات وا فادات
    ابن القیم رحمہ اللہ،
    ترجمہ : عبدالغفارحسن رحمہ اللہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 5
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں