آسٹریلیا: سڈنی پولیس نے 16 گھنٹے طویل آپریشن کے بعد ایرانی حملہ آور کو ہلاک کر دیا

dani نے 'اسلام اور معاصر دنیا' میں ‏دسمبر 16, 2014 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,329
    سڈنی (اے ایف پی، جنگ نیوز) آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں پولیس نے 16 گھنٹے بعد کیفے میں یرغمال بنائے گئے افراد کی رہائی کے لئے آپریشن کرتے ہوئے مسلح حملہ آور کو ہلاک کردیا، کارروائی میں ایک شہری بھی مارا گیا جبکہ متعدد زخمی ہوگئے۔ حملہ آور ایرانی شہری تھا اور اس نے پیر کی صبح کیفے میں داخل ہوکر وہاں موجود کئی افراد کو یرغمال بنالیا۔ سیکورٹی فورسز کی بھارتی تعداد نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے لیا اور منگل کی علی الصبح کارروائی کے بعد ملزم کو ہلاک کردیا۔ حکام کے مطابق ہارون مونس آسٹریلیا میں ایک پناہ گزین تھا اور اس کے خلاف کئی مقدمات درج ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کیفے کا محاصرہ ختم کردیا گیا ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے اسکائی نیوز کے مطابق حملے میںچار افراد زخمی ہوئے۔ محاصرے کے خاتمے کے بعد کیفے میں ممکنہ طور پر موجود بارودی مواد کی تلاش اور اسے ناکارہ بنانے کے لئے بم روبوٹ کا استعمال کیا گیا۔ کرسمس کی آمد سے قبل لندت چوکلیٹ کیفے کے محاصرے کے بعد سڈنی میں سیکورٹی انتہائی سخت کردی گئی ہے۔ مونس کے سابق وکیل مینی کونڈٹسس کا کہنا ہے کہ عوام کو یہ باور کرایا جائے کہ واقعے کے پیچھے کسی دہشتگرد گروپ کا ہاتھ نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ایک انفرادی عمل تھا اور اس کا دہشتگردی کے واقعے سے کوئی تعلق نہیں۔آسٹریلیا میں 40 سے زائد مسلمان گروپوں نے مشترکہ طور پر واقعے کی مذمت کی۔ایک مشترکہ اعلامیہ میں ان کا کہنا تھا کہ چند گمراہ افراد اس کا غلط استعمال کررہے ہیں جو کسی کی بھی نمائندگی نہیں کرتے۔آسٹریلوی وزیراعظم ٹونی ایبٹ نے واقعے کے بعد قومی سلامتی کا اجلاس طلب کرلیا۔ تفصیلات کے مطابق آسٹریلیا میں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے کیفے میں یرغمال بنائے گئے افراد کو بازیاب کروالیا ہے ۔ کارروائی میں حملہ آور سمیت دو افراد ہلاک جبکہ کئی زخمی ہوگئے ۔ آسٹریلوی اخبار کے مطابق حملہ آور مونس خود ساختہ شیخ تھا اور اس نے ماضی میں مارے جانے والے آسٹریلوی فوجیوں کے اہلخانہ کو دھمکی آمیز خط بھی بھیجے تھے جبکہ وہ اپنی بیوی کے قتل میں معاونت کے الزام میں ضمانت پر تھا۔ اخبار کے مطابق مونس 1996 سے بطور تارک وطن سڈنی میں رہ رہا تھا اور سخت گیر نظریات کا حامل تھا۔ آسٹریلوی حکومت کے مطابق حملے کا مقصد واضح نہیں ہوسکا تاہم اس کی جانب سے اسلامی جھنڈے لہرائے جانے کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔ مسلح شخص نے میڈٰیا کے ذریعے کئی مطالبات کئے تاہم پولیس کی درخواست پر اسے نشر کرنے سے روک دیا گیا۔ کیفے میں چھ گھنٹے تک یرغمال بننے کے بعد تین کے قریب مغوی اپنی جانیں بچا کر نکلنے میں کامیاب ہوئے جس کے ایک گھنٹے بعد دو خواتین کیفے سے نکلنے میں کامیاب ہوئیں جبکہ کئی افراد نے رات گئے بھاگ کر اپنی جانیں بچائیں۔ کیفے کے قریب ہی واقع مقامی ٹی وی چینل سیون کے رپورٹر کرس ریزن کے مطابق کیفے میں 15 کے قریب افراد کو یرغمال بنایا گیا تھا جن میں مرد اور خواتین شامل تھیں جبکہ بچے موجود نہیں تھے۔
    http://beta.jang.com.pk/NewsDetail.aspx?ID=262687
    http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2014/12/141214_sydney_gunman_hostages_tk
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,921
    شکرہے ۔ ورنہ آپریشن کے دوران یہ خبر بھی تھی کہ کوئی عربی ، پاکستانی ،سنی دہشت گرد ہے ۔ آپریشن کی کامیابی پر معلوم ہوا کہ ایرانی امن پسند تھا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  3. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,329
    :)
    [​IMG]


    [​IMG]

    [​IMG]
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  4. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,921
    عجیب ۔ ڈرا ہی دیا ہے ۔ ویسے صورتحال کچھ ایسی ہے ۔
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں