باجماعت نماز تراویح کے متعلق کچھ سوالات

علی رضوان نے 'آپ کے سوال / ہمارے جواب' میں ‏فروری 10, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. علی رضوان

    علی رضوان رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏دسمبر 28, 2014
    پیغامات:
    18
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ براکاۃ

    یہاں موجودمحترم اہل علم حضرات سے مجھے ذرا صحیح بخاری کی اس تراویح سے متعلق حدیث کے متعلق کچھ سوالات پوچھنا ہے، جو مندرجہ ذیل ہے

    صحیح البخاری۔ کتاب "کتاب و سنت کو مطبوطی سے تھامے رکھنا"، حدیث نمبر 7290

    حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، سَمِعْتُ أَبَا النَّضْرِ، يُحَدِّثُ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم اتَّخَذَ حُجْرَةً فِي الْمَسْجِدِ مِنْ حَصِيرٍ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِيهَا لَيَالِيَ، حَتَّى اجْتَمَعَ إِلَيْهِ نَاسٌ، ثُمَّ فَقَدُوا صَوْتَهُ لَيْلَةً فَظَنُّوا أَنَّهُ قَدْ نَامَ، فَجَعَلَ بَعْضُهُمْ يَتَنَحْنَحُ لِيَخْرُجَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ " مَا زَالَ بِكُمُ الَّذِي رَأَيْتُ مِنْ صَنِيعِكُمْ، حَتَّى خَشِيتُ أَنْ يُكْتَبَ عَلَيْكُمْ، وَلَوْ كُتِبَ عَلَيْكُمْ مَا قُمْتُمْ بِهِ فَصَلُّوا أَيُّهَا النَّاسُ فِي بُيُوتِكُمْ، فَإِنَّ أَفْضَلَ صَلاَةِ الْمَرْءِ فِي بَيْتِهِ، إِلاَّ الصَّلاَةَ الْمَكْتُوبَةَ "

    ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا کہا ہم کو عفان بن مسلم صفار نے خبر دی کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا کہا ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے کہا میں نے ابو النضر سے سنا وہ بسر بن سعید سے روایت کرتے تھے وہ زید بن ثابت سے کہ نبیﷺ نےمسجد میں چٹائی گھیر کر ایک حجرہ بنا لیا اور رمضان کی کئی راتوں میں) اس میں عبادت کرتے رہے ( تراویح پڑھتے رہے) کئی لوگ بھی جمع ہونے لگے ( وہ آپ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھا کرتے ) ایک رات ایسا ہوا لوگوں نے آپ ﷺ کی آواز بالکل نہ سنی وہ سمجھے آپ ﷺ سو گئے یہ خیا ل کرکے بعضے لوگ کھنگھارنے لگے تا کہ آپ ﷺ برآمد ہوں ۔آپ ﷺ نے فرمایا میں تمہارے حال سے واقف ہوا میں اس خیال سے نہ نکلا ایسا نہ ہوکہ ( تراویح اور تہجد کی) تم پر فرض ہو جائے پھر تم اس کو نہ بجا لاسکو ۔لوگو تم اپنے گھروں میں یہ نماز پڑھ لیا کرو افضل نماز وہی ہے جو اپنے گھر میں ہو ایک فرض نماز مسجد میں پڑھنا افضل ہے۔

    میرے اس ذمن میں سوالات کچھ یہ ہیں:

    1) کیا حضور اکرم ﷺ نے صلواۃ التراویح کو مسجد میں جماعت کے ساتھ پڑھنے سے منع فرمایا تھا اور یہ کہا تھا کہ اسکو اپنے گھر میں ہی ادا کیا کرو؟

    2) حدیث کے اصلی عربی متن میں تو "تراویح" یا "رمضان" وغیرہ کا کوئی ذکر نہیں ہے، لیکن پھر بھی ترجمہ میں ان الفاظ کا اضافہ کیوں کیا گیا ہے؟

    3) اگر حضور اکرم ﷺ نے صلواۃ التراویح کو گھر میں ہی ادا کرنے کا حکم دیا تھا، تو نعوذباللہ کیا سیدنا عمر رض تراویح کے لوگوں کو مسجد میں جمع کرنا، بدعت نہیں کہلوائے گا؟ جبکہ سیدنا عمر رض نے اس امر کو ایک "بدعت" ہی سے تشبیہ دی تھی؟

    4) صحابہ رضوان اللہ علیھم اجمعین کا اس امر میں کیا رویہ تھا؟ کیا انکا معمول تھا؟ خصوصا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے متعلق کے انکا کیا معمول تھا اور انکی خلافت میں وہ خود اور دوسرے اہل بیت حضرات کا تروایح سے متعلق کیا معمول تھا؟ (برائے کرم یہ ایک بہت اہم سوال ہے، اگر آپکو اسکے متعلق کچھ روایات کا علم ہو تو وہی روایت نقل کیجئے گا جو صحیح ہوں اور ان میں کسی طرح کا ضعف اور علت نہ پائی جائے)

    5) صلواۃ التراویح کو "تراویح" کے الفاظ سے کب اور کس وقت سے کہہ کر پکارا گیا، جبکہ احادیث کی کتب میں "عربی متن" کے اندر اسکو صلواہ الیل وغیرہ ھم سے لکھا گیا ہے، کیا یہ صرف تراجم میں ہوتا ہے یا اسکے متعلق کچھ صحیح احادیث میں بھی یہ لفظ استعمال ہوا ہے؟

    ازرائے کرم ان سوالات کا ایک مکمل اور مدلل جواب عنایت کیجئے گا اور اگر ہوسکے تو روایت جو آپ پیش کریں انکے بارے میں یہ ضرور بتادیجئے گا کہ انکا درجہ کیا ہے، مطلب صحیح، حسن، غریب، ضعیف وغیرہ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  2. بابر تنویر

    بابر تنویر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,318
  3. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران

    رکن انتظامیہ

    ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,938
    ۱۔ یہ تو فرمایا تھا کہ گھر میں ادا کرو ۔ یہ نہیں فرمایا کہ گھر میں ہی ادا کیا کرو ۔ اور نہ ہی مسجد میں باجماعت ادا کرنے سے منع فرمایا !

    ۲۔ رات کی نماز کو
    ۔۱۔ رات کے وقت قیام کی بناء پر " قیام اللیل"
    ۔۲۔ رمضان میں ادا کرنے کی نسبت سے " قیام رمضان"
    ۔۳۔ لمبے قیام کے باعث کبھی ایک پاؤں پر وزن ڈال کر دوسرے کو راحت پہنچانے اور کبھی دوسرے پر وزن ڈال کر پہلے کو راحت دینے کی نسبت سے " نماز تراویح"
    ۔۴۔ رات کے آخری حصہ میں ادا کرنے کی نسبت سے " تہجد"
    ۔۵۔ وتر پر مشتمل ہونے کی بناء پر سارے قیام اللیل کو " صلاۃ وتر"
    کہتے ہیں ۔

    ۳۔ گھر ہی میں ادا کرنے کا حکم نہیں دیا ! ۔ بلکہ گھر میں ادا کرنے کا حکم دیا تھا اور یہ حکم استحباب کے لیے ہے ۔ یعنی مسجد میں بھی تراویح ادا کی جاسکتی ہے اور گھر میں بھی ۔ البتہ گھر میں پڑھنا مسجد میں پڑھنے کی نسبت افضل ہے ۔
    سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا اسے بدعت کہنا لغوی اعتبار سے تھا ، اصطلاحی بدعت مراد نہ تھی ۔ اور اسے انکا لغۃً بدعت کہنا بھی درست نہ تھا کیونکہ ان سے قبل رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کے دور مسعود میں یہ کام ہو چکا تھأ ۔

    ۴۔ دور فاروقی سے قبل لوگ مسجد میں آتے اور متفرق ٹولیوں میں باجماعت نماز تراویح ادا کیا کرتے تھے ۔اسکے بعد وہ ایک امام کے پیچھے جمع ہو گئے ۔ ان میں سب مہاجرین وانصار اور اہل بیت وغیرہ سبھی موجود ہوتے تھے ۔ (موطا مالک : 252، صحیح)

    ۵۔ مجھے نہیں معلوم کہ کسی مرفوع حدیث میں اس نماز کے لیے " تراویح کا لفظ استعمال کیا گیا ہو ۔
    اس لفظ کے استعمال کا آغاز کب ہوا ؟ یہ بھی میرے علم میں نہیں !
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 6
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں