فیضؔ کی شاعری پر ماہرؔالقادری کی تنقید

عفراء نے 'نقد و نظر' میں ‏مارچ 2, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عفراء

    عفراء webmaster

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2012
    پیغامات:
    3,918
    فیضؔ کی شاعری پر ماہرؔالقادری کی تنقید سے اقتباس پیش خدمت ہے۔ فیض احمد فیضؔ کے مداح ذرا دل سنبھال کر مطالعہ فرمائیں! :)


    "ملاقات" طویل نظم ہے مگر پوری کی پوری نظم بےلطف ہے،جگہ جگہ ابہام اور اہمال!ذرا اس نظم کا آغاز دیکھئے:
    یہ رات اس درد کا شجر ہے---جو مجھ سے تجھ سے عظیم تر ہے
    عظیم تر ہے کہ اس کی شاخوں---میں لاکھ مشعل بکف ستاروں
    کے کارواں کھو گئے ہیں---ہزار مہتاب اس کے سائے
    میں اپنا سب نور رو گئے ہیں
    رات کو یہ کہنا کہ وہ "اس درد کا شجر" ہے،کتنی بےتکی اور غیرشاعرانہ بات ہے!پھر یہ رات جس میں ستاروں کے کارواں کھو گئے اور ہزاروں مہتاب اس کے سائے میں اپنا نور ضائع کر گئے ہیں،اپنی اس خصوصیت کے سبب:"مجھ سے تجھ سے عظیم تر " آخر کیوں ہے؟رات اور انسان میں کوئی وجہ شبہ و مماثلت تو ہونی چاہئے!اس نظم کا آغاز جس طرح ایک مہمل شعر سے ہوا تھا اس کا اختتام بھی اسی طرح کے ایک شعر پر ہوا ہے۔
    یقیں جو غم سے کریم تر ہے---سحر جو شب سے عظیم تر ہے
    اس "کریم تر" کا بھلا کوئی جواب ہے!
    ٭٭٭٭٭​
    فیضؔ صاحب کی نظم ہے۔۔۔
    "ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے"
    یہ نظم فیضؔ صاحب خود اپنی پسند اور شوق سے بھی مشاعروں میں سناتے ہیں اور بعض لوگ فرمائش بھی کرتے ہیں!
    تیرے ہونٹوں کے پھولوں کی چاہت میں ہم---دار کی خشک ٹہنی پہ وارے گئے
    "دارکی خشک ٹہنی" کیا ہوتی ہے! لفظوں کا اس قدر عجیب انتخاب!؟
    سولیوں پر ہمارے لبوں سے پرے---تیرے ہونٹوں کی لالی لپکتی رہی
    اس طرح لفظوں کو جوڑ دینا،شاعری کی توہین ہے!لفظوں کی نشست،مصرعوں کا دروبست،شاعر کا بنیادی خیال اور پھر اظہار۔۔۔ان میں سے ہر چیز اپنی جگہ "مضحکہ خیز" ہے۔
    جب گھلی تیری راہوں میں شامِ ستم---ہم چلے آئے،لائے جہاں تک قدم---لب پہ حرفِ غزل،دل میں قندیل غم
    "راہوں میں شامِ ستم کا گھلنا" آخر یہ کس دیس کی زبان ہے؟یہ کیا جو الم غلم خیال جی میں آیا اسے نظم کر دیا۔
    قتل گاہوں سے چن کر ہمارے علم---اور نکلیں گے عشاق کے قافلے
    جن کی راہِ طلب سے ہمارے قدم---مختصر کر چکے درد کے فاصلے
    کر چلے جن کی خاطر جہاں گیر ہم---جان گنوا کر تری دلبری کا بھرم
    ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے
    ان مصرعوں میں کوئی شاعرانہ لطف؟کوئی سمجھ میں آنے والا پیام؟کوئی ڈھنگ اور قرینہ کی بات؟ایک شخص جو جی میں آتا ہے اور اس کے اظہار کے لئے جیسے بھی برے بھلے الفاظ ملتے ہیں،انہیں جوڑتا چلا جاتا ہے اور اس طرح ایک نظم کھڑی ہوجاتی ہے!قتل گاہوں میں "عَلم" آخر کہاں سے آگئے،یہ "عَلم" کس پیام اور مقصد کی آخر علامت ہے!پھر ان کا"چننا"اس پر مستزاد اس لفظ سے دو مفہوم ذہن میں آتے ہیں،ایک یہ کہ قتل گاہوں میں بہت سے علم نصب ہیں،ان میں سے بعض علموں کو منتخب کیا گیا،یا پھر یہ کہ "علم" قتل گاہوں میں زمین پر بکھرے پڑے تھے،ان کو چنا گیا(یعنی اٹھایا گیا)!تیسرے مصرعہ میں حرف"جار"(سے) کا استعمال سب سے زیادہ کھٹکتا ہے!"درد کے فاصلے"کیا ہوتے ہیں!تیسرے اور چوتھے مصرعوں کی نثر کر کے دیکھئے تو مفہوم اور الفاظ کی کوئی چول سیدھی نہیں بیٹھ سکتی!پھر "محبوب کی دلبری کے بھرم"کو جاں گنوا کر "جہاں گیر" بنا دینا کتنا غیر شاعرانہ انداز بیان ہے۔

    بشکریہ: https://www.facebook.com/MudirayFaran/posts/927318717299129
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  2. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,323
    اس پیج کا مجھے لنک موصول ہوا اپنے اسلام گرافکس پیج پر کہ اس کو پروموٹ کروں۔
    کیا اس پیج کو اسلامی پیج پر پروموٹ کیا جاسکتا ہے ؟
     
  3. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    بہت خوب
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,921
    : )شکریہ ،کوئی مسئلہ نہیں ۔ نقد ونظر کا زمرہ ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  5. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    پتہ نہیں لیکن آپ بھی اس پیج والوں کو مجلس پر بلا لیں : )
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں