تحکیم بغیر ما انزل اللہ کے متعلق چند سوالات

خطاب نے 'آپ کے سوال / ہمارے جواب' میں ‏اپریل 23, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. خطاب

    خطاب -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 1, 2015
    پیغامات:
    74
    کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ عبد اللہ بن عباس کا قول موجودہ حکم بغیر ما انزل اللہ کے مطابق حکام پر فٹ نہیں آتا کیونکہ :::::

    ۱۔ یہ اس آیت کی باقاعدہ تفسیر نہیں بلکہ خوارج کے باطل استدلال کا ردّ ہے ۔

    ۲۔ یہ بنو امیہ کے حکام کے لئے کہا تھا جنکہ آج کے حکام ان سے مختلف ہیں وہ قرآن و سنت کو ناقض کیے ہوئے تھے جبکہ آج کے حکام انگریزی قوانین کو مانتے ہیں ۔

    ·۳۔ اس لئے ابن عباس کے مراد ایسے حکام ہر گز نہیں جو ملک کے طول و عرض میں اپنے خلاف شریعت فیصلے کو واجب الاتباع کہتے ہیں بلکہ ابن عباس کی مراد وہ حکام ہیں جو کسی مفاد یا دنیاوی محبت کے تحت شریعت سے ہٹ کر فیصلہ کرے ۔

    ·۴۔ حامد صاحب کہتے ہیں کہ " کفر دون کفر " صرف ان حکام کے لئے ہے جو دنیاوی مفاد کے لئے حکم بغیر ما انزل اللہ کے مطابق ہو ، موجودہ حکام پر یہ فٹ نہیں ہوتا ۔ کیونکہ اس دور میں اس کے حکام تھے ہی نہیں ۔

    · ۵۔ شیخ ابراہیم آل شیخ نے کہاکہ انگریزی قوانین کو قانونی مراجع بنانا کفر اکبر ہے جو کہ آج کے حکام کرتے ہیں ۔

    · ۶۔اور شیخ صاحب نے کہا کہ وضعی قوانین کو باطل سمجھ کر بھی نافذ کرنا کفر اکبر ہے ۔ لہذا وضعی قوانین کے ساتھ استحلال ، جہود اور اعتقاد کی شرط نہیں لگائی جاتی ۔

    ·۷۔ نیز شیخ احمد شاکر اور شیخ محمود شاکر نے موجودہ وضعی قوانین پر " کفر دون کفر " کا انطباق کرنے والوں کو گمراہ اور فتنہ پرور کہا ہے ۔

    · ۸۔نیز شیخ امین اللہ نے بھی ابن عباس کے قول کو فقہ الواقع نہ دیکھنے کی وجہ سے موجودہ حکام پر انطباق کرنے والوں کو غلط کہا ہے اور شیخ امین اللہ نے اسلام کے نفاذ کی قدرت ہونے کے باوجود شریعت سے ہٹ کر فیصلہ کرنے والے کو کافر کہا ہے ۔

    ·۹۔ آیت تحکیم کے علاوہ مزید آیات بھی ہیں وضعی قوانین کے کفر ہونے پر ۔
     
  2. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران

    رکن انتظامیہ

    ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,938
    پاکستان میں برٹش لاء کا خاتمہ اسی وقت ہو گیا تھا جب دستور کتاب وسنت قرار دے دیا گیا ۔
    پھر اس دستور کو سامنے رکھ کر قوانین مرتب کیے گئے اور بہت سی ا صلاحات کی گئیں ، چونکہ پاکستان میں اکثریت فقہ حنفی والوں کی تھی سو انکی فقہ کے مطابق انکے مفتیان نے ان قوانین کو شریعت سے متصادم قرار نہیں دیا کیونکہ یہ سب فقہ حنفی کے عین مطابق تھے ۔
    اور فیصلے انہی قوانین کے مطابق ہو رہے ہیں جو کہ فقہ حنفی کے مطابق ہیں ۔ اور صرف پاکستان بننے کے بعد نہیں بلکہ سابقہ ادوار میں بھی ایک طویل عرصہ انہیں فقہ حنفی کے قوانین کا اسلامی ممالک پر راج رہا ہے ۔ حتى کہ انگریز کی آمد سے قبل بھی برصغیر میں یہی قوانین رائج تھے ۔ اور اس وقت بھی ان قوانین کے باوجود حکام کو مسلمان اور حکومتوں کو اسلامی حکومتیں سمجھا جاتا تھا ۔
    سو جس تأویل کی بناء ابوحنیفہ صاحب سے لے کر آج تک کے تمام تر فقہاء ومقلدین احناف کو فتوى دینے اور قبول کرنے کے باوجود مسلمان تصور کیا جاتا ہے ، اسی مانع کو ان حکام وقضاۃ کے لیے بھی سامنے رکھنا چاہیے ۔
    یہ نہایت ہی بے انصافی ہے کہ فقہ حنفی کے مدارس میں جو قوانین ہدایہ و قدوری ، کنز الدقائق ، فتاوى ہندیہ وغیرہ میں پڑھائے جائیں اور حنفی مفتیان انکے مطابق فتوى دیں اور حنفی عوام ان پر عمل کریں اور اگر کبھی خالص حنفی حکومت قائم ہو جائے تو وہ اسکے مطابق فیصلے بھی کریں لیکن وہ مسلمان ہی رہیں مگر جب آج کے حکام انہی قوانین کو اپنا لیں اور ججز انکے مطابق فیصلہ سنا دیں تو وہ کافر اور واجب القتل ہو جائیں ؟
    تلک اذا قسمۃ ضیزى
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  3. خطاب

    خطاب -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 1, 2015
    پیغامات:
    74
    شیخ صاحب ان دلائل کا وزن کیا ہے۔۔ ایک ایک کر کے بتا دیں ۔۔ جزاک اللہ خیر
     
  4. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران

    رکن انتظامیہ

    ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,938
    پہلی تین باتوں کی ان سے دلیل طلب کر لیں ۔
    اور باقی باتوں کے حجت ہونے کی دلیل مانگ لیں ۔
    سب کا وزن معلوم ہو جائے گا ۔ ان شاء اللہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...
Similar Threads
  1. خطاب
    جوابات:
    1
    مشاہدات:
    544
  2. علی رضوان
    جوابات:
    3
    مشاہدات:
    1,441
  3. محمد عامر یونس
    جوابات:
    0
    مشاہدات:
    669
  4. ’’عبدل‘‘
    جوابات:
    0
    مشاہدات:
    1,678
  5. اسرار حسین الوھابی
    جوابات:
    0
    مشاہدات:
    276

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں