جن معبودوں کو وہ اللہ کے بجائے پکارا کرتے تھے وہ ان کے ذرا بھی کام نہ آئے :

محمد عامر یونس نے 'گرافک کی دنیا' میں ‏اپریل 28, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس محسن

    شمولیت:
    ‏مارچ 3, 2014
    پیغامات:
    901
    جن معبودوں کو وہ اللہ کے بجائے پکارا کرتے تھے وہ ان کے ذرا بھی کام نہ آئے :

    [​IMG]

    ارشاد باری تعالی ہے۔

    وَمَا ظَلَمْنَاهُمْ وَلَـٰكِن ظَلَمُوا أَنفُسَهُمْ ۖ فَمَا أَغْنَتْ عَنْهُمْ آلِهَتُهُمُ الَّتِي يَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ مِن شَيْءٍ لَّمَّا جَاءَ أَمْرُ‌ رَ‌بِّكَ ۖ وَمَا زَادُوهُمْ غَيْرَ‌ تَتْبِيبٍ ﴿١٠١﴾

    ہم نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا (١) بلکہ خود انہوں نے ہی اپنے اوپر ظلم کیا (٢) اور انہیں ان کے معبودوں نے کوئی فائدہ نہ پہنچایا جنہیں وہ اللہ کے سوا پکارا کرتے تھے، جب کہ تیرے پروردگار کا حکم آپہنچا، بلکہ اور ان کا نقصان ہی انہوں نے بڑھایا (٣)

    ١٠١۔ ١ ان کو عذاب اور ہلاکت سے دو چار کر کے۔
    ١٠١۔ ٢ کفر ومعاصی کا ارتکاب کر کے۔
    ١٠١۔ ٣ جب کہ ان کا عقیدہ یہ تھا کہ یہ انہیں نقصان سے بچائیں گے اور فائدہ پہنچائیں گے۔ لیکن جب اللہ کا عذاب آیا تو واضح ہوگیا کہ ان کا یہ عقیدہ فاسد تھا، اور یہ بات ثابت ہوگئی کہ اللہ کے سوا کوئی کسی کو نفع نقصان پہنچانے پر قادر نہیں۔

    ارشاد باری تعالی ہے۔

    وَيَوْمَ يَحْشُرُ‌هُمْ وَمَا يَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ فَيَقُولُ أَأَنتُمْ أَضْلَلْتُمْ عِبَادِي هَـٰؤُلَاءِ أَمْ هُمْ ضَلُّوا السَّبِيلَ ﴿١٧﴾ قَالُوا سُبْحَانَكَ مَا كَانَ يَنبَغِي لَنَا أَن نَّتَّخِذَ مِن دُونِكَ مِنْ أَوْلِيَاءَ وَلَـٰكِن مَّتَّعْتَهُمْ وَآبَاءَهُمْ حَتَّىٰ نَسُوا الذِّكْرَ‌ وَكَانُوا قَوْمًا بُورً‌ا ﴿١٨﴾

    اور جس دن اللہ تعالی انہیں اور سوائے اللہ کے جنہیں یہ پوجتے رہے انہیں جمع کرکے پوچھے گا کہ کیا میرے ان بندوں کو تم نے گمراہ کیا یا یہ خود ہی راہ سے گم ہو گئے۔ ﴿١٧﴾

    وہ جواب دیں گے کہ تو پاک ذات ہے خود ہمیں ہی یہ زیبا نہ تھا کہ تیرے سوا اوروں کو اپنا کارساز بناتے بات یہ ہے کہ تو نے انہیں اور ان کے باپ دادوں کو آسودگیاں عطا فرمائیں یہاں تک کہ وہ نصیحت بھلا بیٹھےیہ لوگ تھے ہی ہلاک ہونے والے۔ ﴿١٨﴾

    سورة الفرقان آیت 18۔17

    دنیا میں اللہ کے سوا جن کی عبادت کی جاتی رہی ہے اور کی جاتی رہے گی ان میں ﴿پتھر لکڑی اور دیگر دھاتوں کی بنی ہوئی مورتیاں﴾ بھی ہیں جو غیر عاقل ہیں اور اللہ کے نیک بندے بھی ہیں جو عاقل ہیں مثلا حضرت عزیر حضرت مسیح علیہما اسلام اور دیگر بہت سے نیک بندے اسی طرح فرشتے اور جنات کے پجاری بھی ہوں گے اللہ تعالی غیر عاقل جمادات کو بھی شعور و ادراک اور گویائی کی قوت عطا فرمائے گا اور ان سب معبودین سے پوچھے گا کہ بتلاو تم نے میرے بندوں کو اپنی عبادت کرنے کا حکم دیا تھا یا یہ اپنی مرضی سے تمہاری عبادت کرکے گمراہ ہوئے تھے؟ وہ کہیں گے ہم خود تیرے سوا کسی کو اپنا کارساز نہیں سمجھتے تھے تو پھر ہم اپنی بابت کس طرح لوگوں کو کہہ سکتے تھےکہ تم اللہ کے بجائے ہمیں اپنا ولی اور کارساز سمجھو۔
     
    Last edited: ‏اپریل 28, 2015
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  2. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,323
    اللہ اکبر !
    قیامت والے دن بھی یہ معبود ان کا انکار کردیں گے !
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس محسن

    شمولیت:
    ‏مارچ 3, 2014
    پیغامات:
    901
    رب کائنات اللہ سبحانہ وتعالی کی حکم سے آئی ہوئی بھونچال (زلزلہ) اور مشرکین کی باطل معبودں کی حالت زار
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    حقیقی رب و مالک اللہ سبحانہ وتعالی نے جب اپنے حکم سے زمین کو ہلایا تو بھارت ونیپال کے مشرکین وبت پرستوں کو بچانا دور کی بات ان کے معبودان باطلہ خود اُوندھے منہ گِر کر ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے یعنی یہ باطل معبود دوسروں کو کیا خود اپنے آپ کو بھی اللہ تعالی کی عذاب سے نہ بچا سکے۔

    [HIGHLIGHT]اس زلزلے میں بت پرست اور قبرپرست دونوں مشرکین کے لئے بہت عبرت اور مؤعظت ہے، کہ شرک سے توبہ کریں اور اپنے حقیقی مالک و معبود کی طرف رجوع کریں۔ اور صحیح دین اسلام قبول کریں اور متبعین کتاب وسنت بن جائیں۔[/HIGHLIGHT]


    بت پرست و قبرپرست مشرکین کے لئے مندرجہ ذیل قرآنی آیات کریمہ میں کافی عبرت و نصیحت موجود ہے

    ﴿ وَالَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ لَا يَخْلُقُونَ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ (20) أَمْوَاتٌ غَيْرُ أَحْيَاءٍ ۖ وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ (21) إِلَٰهُكُمْ إِلَٰهٌ وَاحِدٌ ۚ فَالَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ قُلُوبُهُم مُّنكِرَةٌ وَهُم مسْتَكْبِرُونَ

    (22) ﴾ [ النحل 16]

    "اور جن لوگوں کو یہ الله تعالی کے سوا پکارتے ہیں وہ کوئی چیز بھی تو نہیں بنا سکتے بلکہ خود ان کو اور بناتے ہیں (20) لاشیں ہیں بےجان۔ ان کو یہ بھی تو معلوم نہیں کہ اٹھائے کب جائیں گے (21) تمہارا معبود تو اکیلا الله تعالی ہے۔ تو جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل انکار کر رہے ہیں اور وہ سرکش ہو رہے ہیں (22)"

    ﴿ يَا أَيُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوا لَهُ ۚ إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ لَن يَخْلُقُوا ذُبَابًا وَلَوِ اجْتَمَعُوا لَهُ ۖ وَإِن يَسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَيْئًا لَّا يَسْتَنقِذُوهُ مِنْهُ ۚ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوبُ (73) مَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ (74) [ الحج :22 ]

    "لوگو! ایک مثال بیان کی جاتی ہے اسے غور سے سنو۔ کہ جن لوگوں کو تم اللہ تعالی کے سوا پکارتے ہو وہ ایک مکھی بھی نہیں بنا سکتے اگرچہ اس کے لئے سب مجتمع ہو جائیں۔ اور اگر ان سے مکھی کوئی چیز لے جائے تو اسے اس سے چھڑا نہیں سکتے۔ طالب اور مطلوب ( یعنی عابد اور معبود دونوں ) گئے گزرے ہیں (73) ان لوگوں نے اللہ تعالی کی قدر جیسی کرنی چاہیئے تھی نہیں کی۔ کچھ شک نہیں کہ اللہ تعالی زبردست اور غالب ہے(74)"

    واللہ تعالی أعلم
     
    Last edited: ‏اپریل 28, 2015
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں