پردہ خواتین کے لیے حفاظتی ڈھال کیسے؟

انا نے 'مثالی معاشرہ' میں ‏اپریل 29, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. انا

    انا -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 4, 2014
    پیغامات:
    1,400
    اسلام علیکم

    پردہ فرض ہے ۔اسی طرح جیسے نماز ،روزہ ، اور اسلام کے دوسرے فرائض ہیں جن میں شک کی کوئی گنجاش نھیں ۔یہ اللہ تعالی کے واضح احکامات ہیں جو اس لیے نبھانے ہیں کہ یہ ایمان کا حصہ ہیں ،کسی سائنسی یا دنیاوی فائدہ کی خاطر نہیں۔ ہاں لیکن اگر کبھی کوئی سائنسی ،معاشی یا معاشرتی تحقیق آ بھی جاتی ہے جو اس حکم کے مزید فائدے اجاگر کرے تو اس کو اپنانے میں یا جرح کرنے میں کوئی حرج بھی نھیں ، کہ بہر حال یہ انسانی دعوے ہیں۔

    میں نے اکثریت خواتین بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ تقریبا وہ سبھی خواتین جو پردہ کرتی ہیں ،ان کو یہ کہتے سنا ہے کہ حجاب کرنے سے وہ اپنے آپ کو زیادہ محفوظ سمجھتی ہیں۔ اس دھاگے کو شروع کرنے کا مقصد ہی یہی ہے کہ ان خواتین کے موقف کو سمجھنا اور مفید بحث کرنا ہے۔

    وہ خواتین اور حضرات جو سمجھتے ہیں کہ پردہ کرنے والی خواتین اب گھر سے باہر محفوط ہو گئی ہیں ۔ ان کے مطابق وہ اپنے آپ کو باقی خواتین کی نسبت کس طرح اور کیوں زیادہ محفوط سمجھتی ہیں؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 7
  2. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    : ) بہت اچھا موضوع شروع کیا ہے انا۔
    جی لگتا تو یہی تھا جب شروع شروع میں کیا تھا۔ ابھی بھی کچھ عزت دار مرد، حجاب والی عورت کی تکریم کرتے ہیں ورنہ میڈیا حجاب والی عورت اور داڑھی والے مرد کو کرپٹ پورٹرے کرنے میں جو زور لگا رہا ہے اس کا بہت اثر ہے معاشرے پر۔ بعض مسلمانوں کی آنکھوں کو حجاب کانٹے کی طرح کھٹکتا ہے اپنی ماں بہنوں کا بھی اور غیر محرم لڑکیوں کا بھی۔بظاہر دین دار مرد بھی اندر سے انہی گڑیاؤں کے مداح ہیں جو سکرین پر جگمگاتی ہیں۔ بیوی ایک معاشرتی مجبوری کی وجہ سے گھر پر رکھی ہوتی ہے۔ وقت اسکرین کے ساتھ گزرتا ہے۔مجھے ان مردوں کی بھی سمجھ نہیں آتی جن کے خیال میں گھر کی عورتیں پردہ کر چکی ہیں سو اب اکیلی شاپنگ کریں، سودا سلف ڈھوئیں اور مرد گھر بیٹھے ہوں۔ کیا اسلام یہی ہے؟
    حجاب سے حفاظت تب ہوتی ہے جب باقی آداب کا بھی خیال رکھا جائے مثلا بچوں اور بچیوں کو بچپن میں ہی آداب سکھانا، بلا ضرورت گھر سے نہ نکلنا، گھریلو تقریبات میں مردوں عورتوں کی فری مکسنگ کو روکنا، گھر میں محرم نا محرم کی آمدورفت کو شرعی دائرے میں رکھنا، بچوں کو مخلوط تعلیمی اداروں سے بچانا، اولاد کی وقت پر شادی کر دینا، جن کی شادی ختم ہو گئی ہو ان کے گھر دوبارہ جلد بسا دینا۔ یہ سب کام صرف عورت کے نہیں مرد کے بھی ہیں۔
    اب میڈیا نے ہوس پرستی کی جو تبلیغ شروع کر رکھی ہے اس سے حجاب والی بھی خوف زدہ ہیں۔ حجاب گھر سے باہر بالکل بچاتا ہے لیکن گھروں کے اندر جو جنسی ہراس ہوتا ہے اس کے لیے کیا کریں مجھے نہیں معلوم۔
    ہمارے معاشرے میں حجاب پوری طرح نافذ نہیں ہے اس لیے یہاں بچیاں بھی محفوظ نہیں۔ سب سے نازک عمر میں لڑکیاں غیر محفوظ ہی ہیں بعد میں جب ان کی چال میں اعتماد آ جاتا ہے تو ان کو معاشرہ بخش دیتا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
  3. عفراء

    عفراء webmaster

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2012
    پیغامات:
    3,918
    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ
    کیوں کا جواب تو نہیں معلوم۔ مگر پردہ تو اب وجود کا حصہ بن گیا ہے، اس کے باہر کچھ سوچا نہیں جاتا۔
    باقی حفاظت کرنے والا تو اللہ ہے۔ جب اس کے حکم کی تعمیل کریں گے تو اعتماد سے جی سکیں گے کہ ہم اس کی ذمہ داری میں ہیں۔
    ورنہ معاشرہ کہاں تحفظ دیتا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  4. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,919
    پردہ دار خواتین اگر یہ سمجھتی ہیں کہ وہ پردہ کے بعد گھر سے باہر مکمل طور پر محفوظ ہو گئیں تو یہ صحیح نہیں ـ عورت ہر حال میں اپنے گھر میں محفوظ ہے ـ چاہے وہ باپردہ ہی کیوں نا ہو ـ اس لئے یہ سوچ کراور بے فکر ہو کر کبھی بھی گھر سے باہر نا جائے کہ وہ تو باپردہ ہے ـ مزید یہ کہ پردہ کے بعد اس کی ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں ـ اب نا صرف اسے اپنا خیال رکھنا ہے بلکہ دوسروں کے لئے نمونہ بننا ہے ـ لیکن مکمل محفوظ ہونے کا یہ مطلب بھی نہیں کہ وہ پردہ نا کرے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
  5. ام محمد

    ام محمد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 1, 2012
    پیغامات:
    3,120
    جزاک اللہ خیرا
    بالکل ٹهیک کہا
    عورت کے لیےپردہ کر کے بهی ضرورت کے تحت ہی باہر نکلنے میں خیر ہے .
    اللہ تعالی ہم سب مسلمانوں کو دین کی ٹهیک سمجه عطا فرمائے آمین یا رب
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  6. انا

    انا -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 4, 2014
    پیغامات:
    1,400
    متفق ۔ پردہ حفاطتی ڈھال نہیں ہے ،جیسا کہ اکثر دروس وغیرہ میں پردہ کے فوائد پر مبالغہ آرائیاں کی جاتی ہیں۔ نہ یہ کوئی جادو کی چھڑی ہے کہ آپ با پردہ ہو کر باہر نکلیں گے تو معاشرہ سدھرا ہوا ملے گا۔ دیکھا جائے تو معاشرے کی اخلاقی صورتحال کو سنوارنے میں یہ ایک بہت چھوٹا سا لیکن اہم عنصر ضرور ہے۔خواتین اپنے آپ کو اس وقت محفوظ نہیں سمجھ سکتیں جب تک مخالف صنف بھی اپنے کرنے کے کام یعنی نظر کی حفاطت کو اتنی اہمیت دینا شروع نہیں کر دیتے۔ اور اسی طرح کے بہت سارے چھوٹے چھوٹے لیکن اہم عناصر کو ملا کر ہی معاشرہ کو اخلاقی طور پر اتنا مضبوط کیا جا سکتا ہے۔کہ خواتین اپنے اپ کو باہر نکلتے وقت محفوظ سمجھ سکیں۔ نھیں تو آپ باپردہ باہر جائیں یا پردہ کے بغیر اپ کو یکساں مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بلکہ میرے ذاتی مشاہدے کے مطابق باپردہ خواتین خصوصی طور پر وہ خواتین جو نقاب بھی کرتی ہیں ان کو کہیں زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن خیر بات ساری وہیں پر آ کر ختم ہو جاتی ہے کہ یہ مشکلات تو عارضی ہیں۔

    بہت شکریہ ۔جزاک اللہ خیر
    جی آٹے میں نمک کے برابر۔
    بہت بہترین بات کی ۔ ان سب باتوں کا خیال رکھنا بھی بے پناہ ضروری ہے۔
    یہ دونوں موضوعات ہی ایسے ھیں کہ ان پر الگ تھریڈ میں تفصیلی بات کرتے ہیں۔

    یہ واقعی ایک المیہ ہے کہ معصوم بچیاں گھروں میں بھی محفوط نہیں رہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  7. انا

    انا -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 4, 2014
    پیغامات:
    1,400
    بلکل ٹھیک کہا۔ اللہ تعالی ہی حفاظت کرنے والا ہے۔
    متفق ۔ اس سے بہتر اور محفوظ کوئی جگہ نہیں۔
    لیکن اصل مسئلہ تو پھر وہیں آ جاتا ہے کہ ضرورتیں اتنی بڑھ گئیں ہیں کہ آدھے سے زیادہ دن تو ویسے ہی گھر سے باہر گزارنا پڑتا ہے۔ کبھی تعلیم کی غرض سے کبھی جاب کی غرض سے۔ یہاں پر میرا اشارہ ہر گز بھی ان چند خواتین کی طرف نھیں ہے جو دو کنال کی کوٹھیوں میں رہ کر بوریت دور کرنے کے لیے جاب کی تلاش میں نکلتی ہیں۔ میں ان اکثریت خواتین کی بات کر رہی ہوں جو مستقبل کی منصوبہ بندی کے لیے کہ بعد میں کسی کا محتاج نہ ہونا پڑے اس غرض سے ضرورت کے تحت نکلتی ہیں۔ آپ پاکستان میں انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی اسلام آباد کی ہی مثال لے لیں ۔یہاں پر اکثر جماعتیں شام کو پانچ بجے ختم ہوتی ہیں۔ سردیوں میں طالبات اندھیرے میں گھروں میں پہنچتی ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  8. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    اس سوچ کی پیخ کنی کی ضرورت ہے کہ پردہ ایک غلامی نہیں ہے جب تک ذہن کے کمرے میں یہ سوچ موجود رہے گی دل کا ماحول پردہ کش ہی رہے گا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  9. انا

    انا -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 4, 2014
    پیغامات:
    1,400
    پردہ کو غلامی سمجھنے والے لوگوں کی سوچ پر صرف افسوس کیا جا سکتا ہے۔ ایک مسلمان خاتون مکمل ہوش و حواس میں اپنی مرضی سے حجاب لے کر دینی و دنیاوی زندگی بھرپور طریقے سے گزار رہی ہوں اور میڈیا پھر بھی غلامی اور ظلم کا رونا رو کر لوگوں میں غلط تاثر ابھارتا رہے تو کیا کر سکتے ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  10. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    متفق،آپ نے بالکل درست کہا عورت کا نقاب، مرد کا غض بصر بہت چھوٹا اور انفرادی قدم ہے جب تک معاشرہ اجتماعی طور پر وہ سب کام نہیں کرے گا جو اسلام نے فرض کیے ہیں پاکیزہ معاشرہ بن نہیں سکتا۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے ہم وضو کو کافی سمجھ لیں نماز نہ پڑھیں۔
    گھریلو دروس والی باجیاں بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں جو اسلام پر عمل کے معاملے میں اپنے کمفرٹ زون سے باہر آنے کو تیار نہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  11. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    جی ممکن ہے۔ لیکن میرے نزدیک یہ حجاب کا حصہ ہیں۔ افراد نے حجاب کے آداب پورے کر دئیے لیکن معاشرتی طاقت کے مرکز ان کی مدد نہیں کر رہے تو وہ کتنا عرصہ ثابت قدم رہ سکیں گے؟ معاشرے کے با اختیار مگر مچھ، اپنے ماتحت افراد کے جو حق کھا رہے ہیں اس میں عفت کی حفاظت کا حق بھی شامل ہے۔ حجاب عفت کی حفاظت کا پہلا سٹیپ ہے۔
    جو ماں باپ بچپن اور لڑکپن کے مشکل وقت میں اولاد کی عفت کی حفاظت میں مدد نہ کر سکے وہ کس منہ سے خود کو ماں باپ کہتے ہیں؟
    جو باپ گھر میں فلمیں گانے چلنے دے، گھر میں غیر شادی شدہ بالغ چاچووں مامووں کا ڈھیر لگا رہنے دے، یا جو ماں بیٹی کو کزنز، بہنوئی، پھپھا دیور، جیٹھ جیسے نامحرم سے پردہ کرنے سے منع کرے وہ کیسے مسلمان ہیں؟
    جو ماں مناسب وقت پر بالغ بیٹے کی شادی کرنے کی بجائے اسے اپنی بری یا بہنوں کے جہیز کے لیے مال جمع کرنے پر لگا دے وہ اپنے اختیارات کا غلط استعمال کر کے بیٹے کی دنیا و آخرت تباہ کر رہی ہے اور اسلام کا نظام حجاب تباہ کر رہی ہے۔
    ایسے لڑکے کتنے دن نظر نیچی رکھیں گے جن کی شادیاں اس وجہ سے نہیں ہو رہیں کہ پہلے ان سے دس سال بڑی یا دس سال چھوٹی بہن کی شادی ہو گی پھر ان کی باری آئے گی۔
    جو شوہر، باپ یا بھائی گھر کی عورتوں کے لیے غیرت نہ کھائیں کو گھر میں آنے والے نامحرموں کی ایذا سے نہ بچا سکیں کیا وہ ولی رہنے کے لائق ہیں؟
    جس گھر کی چھت کے نیچے خاندان بھر کے نامحرم مل کر فلمیں دیکھیں اسے اسلامی گھر کیسے کہیں گے؟
    کتنے نوجوان اپنے گھروں کو اس شیطانیت سے پاک دیکھنا چاہتے ہیں لیکن ان کے بڑے ان کی مدد نہیں کر رہے۔
    ان سب باتوں کا اثر معاشرے کی عورت پر پڑتا ہے جس کے چہرے پر نقاب ڈال دینے کو ہم مسئلے کااسلامی حل سمجھ لیتے ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  12. ام محمد

    ام محمد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 1, 2012
    پیغامات:
    3,120
    ایک بات جو مشکل لگتی ہے مجهے وه یہ کہ بیٹیوں کو تو نامحرموں سے پردہ کروا لیا اب خاندان کی نامحرم عورتوں کو بیٹے یا شوہر کے سامنے آنے سے کیسے روکا جائے.اور اگر مرد خود بهی احتیاط نہ کرے سامنے جانے میں اور نمبر 2کیا اس سے بڑا کوئی لطیفہ ہے کہ پردہ میں کرتا ہوں وہ عورت تو نہیں آپ کےسامنے بنی سنوری اور کبهی ویسے عورت ہو تو کتنی دیر تک نگاه جهکی رہے گی؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  13. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,919
    جہاں تک میرا خیال ہے پردہ کو حفاظتی ڈھال کہنے والے لوگوں کی تین قسمیں ہیں ـ
    پہلی قسم وہ ہے جس میں تفریط ہے کہ پردہ کو بلکل ہی اہمیت نہیں دی جاتی ـ والدین بچوں کے لئے اس کو غیر ضروری سمجھتے ہیں ـ اس میں زیادہ تر روش خیال قسم کے لوگ اور کچھ داعی حضرات بھی ہیں ـ
    تیسری قسم ان لوگوں کی ہے جو کہ حد سے افراط سے کام لیتے ہیں ـ ان میں بعض و ہ لوگ بھی شامل ہیں جو جاہل ہیں ـ نا خود علم حاصل کیا اور نا بچیوں کو علم دلایا ـ لیکن مسجد کے مولوی سے سنا رکھا ہے کہ پردہ واجب ہے ـاور پھر مرد کی برتری اور غیرت کے زعم میں اپنی عورتوں کو زبردستی پردہ کرواتے ہیں ـ بعض ایسے بھی اس قسم میں شامل ہیں کہ وہ خود تو محرمات سے نہیں بچتے اور نا ہی اپنی نظروں کی حفاظت کرتے ہیں ، لیکن ان کو اپنے گھر کی عورتوں سے خطرہ ہوتا ہے کہ کہیں فتنہ میں مبتلا نا ہوجائیں ـ غیرضروری قسم کی پابندی لگاتے ہیں جن کی وجہ سے عورت اپنے جائز حقوق سے بھی محروم ہوجاتی ہے ـاور یہ زبردستی اکثر اوقات فتنہ اور بغاوت کا باعث بنتی ہے ـ اسی اثناء میں پہلی قسم کے لوگوں کوبھی موقع ملا جاتا ہے کہ وہ حجاب شرعی پر تنقید کرسکیں ـ
    لیکن دوسری قسم اعتدال کی ہے ـ اور یہ اہل علم کی راہ ہے ـ اس میں نا تو افراط ہے اور نا ہی تفریط ،یہ لوگ خود بھی محرمات سے بچتے اور اپنے گھروں کو بھی بچاتے ہیں ـ ان کے ہاں پردہ ضروری ہے، مبالغہ آرائی نہیں کرتے لیکن ان کے نزدیک اس سے معاشرے کے سدھارنے میں مددملتی ہے ـ حیا اور غیرت کا حصہ سمجھتے ہیں ـ ـ شریعت کی حدود میں رہتے ہوئے عورتوں کے گھروں سے نکلنے پر کوئی پابندی نہیں ـ نا ہی ان کے حقوق دبائے جاتے ہیں ـ
    لہذا ایسے علماء کا اس فکر کے لوگوں کا حجاب کے لئے کہنا مبالغہ آرائی میں نہیں آتا ـ اورنا ہی وہ اسے جادو کی چھڑی سمجھتے ہیں ـ جہاں وہ عورتوں کی اصلاح کرتے ہیں وہاں مردوں کی بھی کرتے ہیں ـ مختصر یہ کہ پردہ شریعت کا حکم ہے ـ اس کے اولین مخاطب اس امت کی سب سے بہترین عورتیں تھیں ـ انہی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے،افراط و تفریط سے دور رہتے ہوئے اپنا فرض ادا کرتے جائیں ـ اس کو ثانوی حیثیت نا دی جائے ـ مخالفت کرنے والے یا مخالف جنس کی پرواہ نا کریں ـ سب اپنے کیے کے خود ذمہ دار ہیں ـ اگر ہر شخص یہ سوچ لے کہ فلاں نے یہ کام نہیں کیا ـ میں کیوں کروں ـ تو پھر اعمال ضائع ہونے کا خدشہ رہے گا ـ باپردہ نکالنے سے مکمل معاشرہ تو سدھرنے کی امید نہیں ـ لیکن ان شاء اللہ اس میں بہتری آنے کی امید ہےـ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  14. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
  15. عفراء

    عفراء webmaster

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2012
    پیغامات:
    3,918
    میرے خیال سے اس کا حل یہی ہوتا ہے کہ اگر خاندان میں پردے کا رجحان نہیں ہے تو اتنی فری مکسنگ کو فروغ نہ دیا جائے۔ اپنے بچوں کو اپنے گھر کے علاوہ کہیں رہنے کی اجازت نہ دی جائے بھلے کتنا قریبی رشتہ دار ہو۔ آپ کے گھر کوئی نامحرم آئے تو ڈرائنگ روم سے آگے داخلہ ممنوع۔
    جس گھرانے کے لوگ پردے والے ہوں اور تھوڑے ریزرو رہیں ان سے خاندان والے ویسے ہی دبنے لگتے ہیں۔ لیکن اس کے لیے بھی گھر کے سربراہ کو سٹینڈ لینا ہوگا۔ لوگ سخت دل اور مغرور وغیرہ کے القاب سے بھی نوازیں گے۔ لیکن بڑے نقصانات سے بچنے کے لیے یہ برداشت کیا جاسکتا ہے۔
    یقین جانیں یہ نسخہ آزمودہ ہے، کافی فائدہ ہوتا ہے۔ آہستہ آہستہ خاندان والوں کی سوچ میں بھی تبدیلی آنے لگتی ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  16. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    اس کی وجہ وہی ہے کہ ہم حجاب کے مکمل تصور کو نہیں سمجھتے۔ عورت کے سر کی چادر یا چہرے کا نقاب اسلامی نظام اخلاق کا ایک بہت چھوٹا حصہ ہے۔ اسلام مردوں سے بھی باوقار لباس اور رویے کا تقاضا کرتا ہے۔ میاں خود دوسروں کی بے پردہ بیویوں سے فلرٹ کرے اور اپنی بیوی کو پردہ کروا کر اس سے عفت کا مطالبہ کرے یہ بالکل لغو خیال ہے اسلام اس کی قطعا اجازت نہیں دیتا۔ عورت و مرد دونوں کا اخلاق و کردار اسلامی احکام کا پابند ہو گا تو معاشرہ پاکیزہ ہو گا۔ اسلامی احکام کے چھوٹے چھوٹے بے قاعدہ ٹکڑے کر کے انہیں نافذ کرنے سے کچھ نہیں ہو گا۔
     
  17. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    مجھے لگتا ہے کہ یہ وقتی حل ہے لیکن اس کے نتائج میں بعض اوقات اس گھر کے بچوں کی سوشل لائف تباہ ہو جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ضروری ہے کہ اپنے جیسے دین دار گھروں سے تعلقات رکھے جائیں تا کہ آپ کا کوئی سوشل سرکل برقرار رہے ورنہ دین دار گھرانے سماجی تنہائی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ پردہ دار لوگوں کو چاہیے کہ وہ اپنے رشتہ داروں سے ملیں لیکن ان کے اصول سب کو معلوم ہوں کہ ان کے گھر مخلوط تقریبات نہیں ہوں گی اور ان کو بلانا ہو تو بھی مرد و خواتین کے لیے الگ انتظام کرنا ہو گا۔
     
  18. ام محمد

    ام محمد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 1, 2012
    پیغامات:
    3,120
    اس دفعہ جب خاندان والوں کو احساس ہو گیا کہ پردے کے معاملے میں یہ ڈهیٹ ہیں تو الحمد للہ اکثر جگہ مردو عورتوں کے لیے علیحدہ بیٹهنے کا انتظام کیا گیا.
     
    Last edited: ‏ستمبر 8, 2016
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  19. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    ماشاءاللہ یہ ہوئی نا بات!
    بس ہمت کرنے کی بات ہے۔ آج ہی میری ایک سٹوڈنٹ آنکھوں میں آنسو لے کر میرے پاس آئی کہ حجاب کرنے پر بڑی بے عزتی ہو رہی ہے۔ خاندان والے باتیں سنا رہے ہیں۔ میں نے کہا بیٹا اللہ کی خاطر لوگوں کی کڑوی باتیں انجوائے کرو اس پر بھی اجر ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں