بحر وفا ۔ خیر القرون کا دور

Abu Turab نے 'تاریخ اسلام / اسلامی واقعات' میں ‏مئی 6, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. Abu Turab

    Abu Turab رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مئی 2, 2015
    پیغامات:
    21
    بحرِ وفا ۔۔۔۔خیر القرون کا دور ----- (تحریر : ابو تراب)
    ایک مسلمان کے لیے اس کے نبی آخر الزمان ﷺ کی محبت اس کی سب سے قیمتی اور سب سے بڑی متاعِ حیات ہے ۔ وہ اِس کی حرمت و آبرو کے لیے ہر دور میں تڑپتا اور سلگتا ہوا دکھائی دیا ہے ۔
    دور نبوی ﷺ کے حسین ترین دور سے لیکر خیر القرون کے شاندار دور کے اختتام تک کے تمام واقعات لازوال قربانیوں ، وفاء و جفا ، جود و سخا ، سخاوت و صداقت ، شجاعت و عدالت ، فتوحات و امارت ، محبت الہیٰ ، خشیت الہیٰ ، محبت مصطفیﷺ ، برائی سے عداوت و نفرت ، نیکی و راست بازی سے محبت اور ہر طرح کی روحانی تسکین پہچانے والی دل آفریں لذتوں سے مامور ہیں ۔ صحبت محمد ﷺ میں تربیت یافتہ صرف یافتہ ہی نہ تھے بلکہ ان کے وجود سے لاکھوں نفیس قلوب و اذہان تربیت یافتہ بنے اور تا حیات آئندہ نسل نو کی ترقی کے لیے تربیت کے ماحول تخلیق کرتے رہے ۔ صحبت محمد ﷺ میں رہنے والے رحماء بینھم کی تفاسیر ، جانثاران محمد ﷺ ، فدائیان کتاب و سنت ، غازیان صف شکن ، قول و عمل ، کردار و وعظ ، فعل و تقریر میں یکتا ۔ خطہ ارضی پر اُڑنے والے بہشتی سبز پرندوں کی مانند ، کوئل جیسی سُریلی آواز کے حاملین ، دشمن کے لیے بپھرے شیر کی آوازکی طرح گرج دار ،کڑکتی بجلیوں کی طرح عدو کے لیے پیغام اجل ، قوت ، شجاعت ، حمیت ، عزیمت ، عدالت ، سخاوت ، صداقت جیسے ان گنت القابات کے مقلب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہ مجمعین ہی صرف اپنے دور میں دن کے شاہسوار اور راتوں کے عبادت گزار نہ تھے بلکہ نبی ﷺ کے خوشبو دار باغ کے یہ چہکتے پھول ہزاروں ، لاکھوں ، ان گنت فرزندان توحید ، ناموس رسالت کے چوکیداروں کے روحانی باپ یعنی استاذ بھی تھے ۔ صحابہ کرامؓ کی لازوال قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرنا ایک طرف لیکن محمد عربی ﷺ کے حسین باغ کے یہ خوشبو دار مگر پر رعب پھول اس باغ کی خوشبو کو تا قیامت معطر رکھنے کی جد جہد کرنیوالوں میں بھی شمار تھے ۔ صحابہ نے اپنی اولادوں ، شاگردوں کو جو سبق دیا وہ صرف حلال و حرام میں تمیز ، مانع و مکروع امور کا علم ہی نہ تھا بلکہ سپہ گری ، شمشیر زنی ، رمی ، گھڑ سواری ، جنگی تدابیر سکھلانے کے بعد یہ درس بھی چھوڑا کہ اپنی آئندہ نسلوں کی بھی حفاظت کرنا ، ان کو قرآن و سنت کے لامحدود خزانے سے دور نہ ہونے دینا ، ان کے قلوب میں توحید اللہ کی وہ کرن روشن کر دینا جس کے بجھنے پر وہ موت کو ترجیح دیتے ہوں ، ان کے وجود میں محبت مصطفیﷺ کی وہ چنگاری بھڑکا دینا کہ جس کے گل ہونے پر وہ سر تا پا جلن محسوس کرتے ہوں ۔ اپنی نسل نو کو بھی فنون حرب سکھلانا ، اپنی عورتوں کو بھی جہاد کی ترغیب دینا ۔ دیکھنا کہیں ایسا نہ ہو کہ تم عورتوں کے رسیا بن جاؤ، شراب اور دولت کی ریل پیل میں مست ہو جاؤ اور فصیل اسلام درجہ بدرجہ ڈھنا شروع ہو جائیں ۔ خدارا ہمارے اس پیغامِ عزیمت و حمیت کا پاس رکھنا ۔ اپنے مستقبل کی بجائے اسلام کے مستقبل کی فکر کرنا ۔ تم دنیا میں امام و رہبر بنا کر اُتارے گئے ہو ۔ یہی وہ پیغام تھا جس کی عکاسی اقبال نے یوں کی کہ :
    سبق پھر پڑھ شجاعت کا عدالت کا صداقت کا
    لیا جائیگا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا ۔۔۔۔۔
    خدا کی قسم مفکر اسلام خیر القرون کی حسین یادوں اور اپنی حالت شکستہ کو لیکر راتوں گئے ٹرپتا ، محو اضطراب رہتا ۔ اور یقیناًیہی وہ ایمان افروز تڑپ تھی جس کے اظہار نے اشعار کا لبادہ اوڑھ لیا ۔
    تاریخ گواہ ہے کہ جب تک ایک صحابی اور ان کا ایک تابعی زندہ رہا دشمنان اسلام کو جرات نہ ہو سکی کہ اپنی میلی آنکھ کی پلک بھی اسلام کے خلاف اُٹھا سکیں ۔ لیکن اے میرے نبی ﷺ کے جمہوریت پسند امتی یہ ترا ہی تو قانون ہے کہ زمانے کے حالات کو سمجھ کر اس سے سمجھوتہ کر کے اپنے تن کا لباس ، اپنے پیٹ کی خوراک ، اپنا طرز زندگی ، اپنی طرزِ حکومت بدل لو ۔ لوگ بدل جاتے ہیں زمانہ اپنی اُسی ڈگر پر اُسی طرح گامزن ہے ۔ فاقے و مجاہدے جھیلنے والا ، ساری عمر خیمے اور جھونپڑے میں رہنے والا ، سارا سارا وقت رکوع و سجود کرنے والا ، دن کا نصف سے زیادہ حصہ مساجد میں گزارنے والا ، عالم شباب میں ہو کر بھی عالم تنہائی میں خشیت الہیٰ میں رونے والا آج حطین کے میدان میں کھڑا ہے اور اس کی للکار سے سارے یورپ کی پارلیمنٹ ، معبد خانے ، گرجا گھر ، آتش کدے سہم گئے ہیں ۔ کیونکہ اس نے 88سال صرف صوفی صافی بن کر نہ گزارے تھے ، بلکہ اس عرصہ طویل میں ایک ایک لمحہ وہ ان لمحوں کی یاد میں گزار چکا تھا کہ جب القدس کی مقدس زمین میں خون مسلم نصرانیوں کے گھوڑوں کے گھٹنے تک آ پہنچا تھا ۔ آج وہ حطین کے ریگزاروں میں کھڑا تاریخ کا سب سے خونی اور ہولناک قتال فی سبیل اللہ کر رہا تھا ۔ اگلے ہی لمحے انبیاء کی مقدس سرزمین اس کے خون آلودہ قدموں کے تلے تھے ۔ حطین کی جنگ بہت ہی ہولناک جنگ تھی اور اس جنگ میں اس نے عیسائیوں سے تمام مظالم کا بدلہ لیا تھا ۔ 88سال کی کٹھن محنت کے بعد بالآکر سید صلاح الدین ایوبی ؒ نے خطہ ارض کا حسین ترین خطہ مسلمانوں کی بوسیدہ جھولیوں میں ڈال دیا اور اگلی مہمات کو انجام دینے کی تدابیر سوچنے لگا ۔ جب سید صلاح الدین جیسا بہادر اس دنیا سے جا رہا تھا تو ابو سلیمان خالد ابن الولیدؓ کی طرح آنسو بہا رہا تھا کہ ہائے کاش اگر شہادت مل جاتی ۔۔۔۔۔
    اس کے ترکے میں سوائے تلواروں اور 14گھوڑوں کے علاوہ اور کچھ نہ تھا ۔۔۔۔۔ تاریخ ایسے بطل جلیل کو کیسے فراموش کر سکتی ہے ؟ وہ ترک کا غیور شہزادہ جس نے بشارت جنت کی حدیث سن لینے کے بعد دیوار قسطنطنیہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور موجودہ استنبول کو فتح کرتے ہوئے بالآخر تاریخ کے سنہری قلم و دوات کی نذر ہو گیا ۔ سلطان محمد فاتح ۔۔۔۔
    وہ بنو امیہ جس سے ازلی ذاتی دشمنی پالنے والے مذھب کے ٹھیکیدار بن بیٹھے اور اپنی ساری توانائی یہ ثابت کرنے میں صرف کر دی یہ اموی خاندان تو غاصبوں کا اکھنڈ ہے اور بنو اُمیہ کے بہادر اور راست باز حکمرانوں کی شخصیات پر تنقید کرنے کے لیے اپنے ہی قلم کیچڑ آلود کرتے رہے خود کو ہی گندا کرتے رہے۔ اِسی بنو امیہ کے جد امجد نے سائبیریا ، تاشقبد ، آذربائیجان ، ترکمانستان ، داغستان ، قفقاز و شیشان کی ریاستوں کیساتھ ، ملتان و کشمیر اور غزنی و زابل تک پرچم توحید بزور شمشیر گاڑ دیا۔ اسی بنو امیہ کا وہ جاندار جرنیل تھا جس نے جبرالٹر اندلس کے ساحل پر کشتیوں کو آگ لگا کر اندلس و اسپین کو فتح کرنے کا عزم مصمم کر لیا تھا ۔ پھر اسی کی نسل کا وہ یوسف ابن تاشفین ؒ تھا جو 800سال کے بعد بھی اسپین کا مایہ ناز ، عادل حکمران تھا ۔ یہ سب صحابہ کے شاگرد ، شاگردوں کے شاگرد اِسی عزم سے بڑھتے رہے تھے کہ ہم نے شجاعت و بہادری کی نادر داستانیں رقم کر کے اپنی نسل نو کو اپنے نقش پا پر چلانے کی طرف رہنمائی کرنی ہے۔ وہ جیت پر جیتیں سمیٹتے گئے ، اپنے ہی لہو میں ڈوبتے گئے۔ آج وقت کا تقاضہ ہے کہ ان کے لہو ، ان کے وجود ، ان کی تعلیمات حسنہ کا پاس رکھا جائے ، نتائج اخذ کیے جائیں ، اپنی سوسائٹی کو اسی طرز پر استوار کیا جائے ، اپنے مدارس ، سکولز ، کالجز کا نصاب ری شیڈول کیا جائے ۔ جس یورپی استعمار کے سامنے ہماری پیشانیاں سجدہ ریز ہیں اسی یورپ میں ہمارے آباء کے تحت لگتے تھے ۔ آج ان اسلاف کی یادوں کو یاد کر لو تو اچھا ہو گا ۔۔۔ جو معرکہ جہاد بپا کرنے کے ساتھ ساتھ عظیم الشان مدارس و مراکز کا سنگ بنیاد بھی رکھ گئے ۔ صلاح الدین جب فتوحات پر فتوحات کرتا چلا جا رہا تھا تو مفتوحہ علاقوں میں مسلمان یونیورسٹیاں تعمیر کر کے ان کو قفل لگا رہے تھے اور اعلان کر رہے تھے کہ یہ اس وقت تک مقفل ہیں جب تک صلاح الدین خود آکر اس کا افتتاح نہ کر لے ۔ جب اسلاف کی قدر تھی تب اسلام بھی زندہ ، تاباں ، فرحاں و شاداں تھا ۔ جب اپنے ہی مورخین اسلاف پر کیچڑ اچھالنے کے لیے قلم بردار ہو گئے تب اسلام بھی اجنبی ہو گیا اور آج اسلام دنیا میں تیزی سے پھیل رہا تھا لیکن یوں لگتا ہے کہ اسلام دن بدن گھٹتا ہی جا رہا ہے۔ مسلمان تو ہر سو ہیں لیکن مسلمانی ناپید ہو چکی ہے۔ آج اسلاف کی قبریں تو عیاں ہیں لیکن ان میں پڑوں کی یادیں خزاں کا شکار ہیں ۔۔۔۔۔۔ خیر القرون ۔۔۔ بہت گزرے جو اُس دور کی یادیں دل میں لیے تڑپتے رہے اور اس دور کی حلاوت کو پانے کے لیے میدان جہاد کا رخ کر گئے اور قربانیوں کی لازوال داستان رقم کر گئے ، کتنے اب بھی ہیں جو اسی انتظار میں ہیں کہ کب استاد کی پکار سنائی دے اور وہ فتح یرموک ، قادسیہ و القدس کی فضاؤں کو از سر نو مسخر کر دیں ۔ اللہ کی کروڑوں رحمتیں ہو سر بکف مجاہدین پر ۔۔۔۔۔ میری امت کی یہ نوجوان لاج ہیں ۔۔۔۔ یہ طلب گار راہ ہدایت رہیں ۔۔۔ رہ روان سبیل شہادت رہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    سلگتے قلم کے ساتھ ۔۔۔۔۔ والسلام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ابو تراب
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  2. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,921
    جزاکم اللہ خیرا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں