خلیفہ ثالث و مظلوم و شہید، سیدنا عثمان ذی النورین رضی اللہ عنہ

علی رضوان نے 'تاریخ اسلام / اسلامی واقعات' میں ‏مئی 20, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. علی رضوان

    علی رضوان رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏دسمبر 28, 2014
    پیغامات:
    18
    [​IMG]

    اس معلوم دنیا میں وہ وقت صرف ایک بار ہی آیا کہ چالیس لاکھ مربع میل پر مشتمل مہذب ترین انسانوں کی آبادی کا ملجاء و ماویٰ، ریگزار حجاز کا مرکزی مقام مدینۃ النبی ﷺ بنا۔ قیصر و کسریٰ کی ہزار سالہ عظیم الشان سلطنتیں صفحہ ارضی سے نیست و نابود ہوچکی ہیں۔ معلوم دنیا کا ہر ادنیٰ و اعلیٰ فرد وقت کے "شہنشاہ اعظم" کی خوشنودی کے حصول کے مدینہ النبی کا رخ کئے ہوئے ہے۔ وحدت دین، وحدت فکر، وحدت اعمال کا یہ دور اپنی مثال آپ ہے۔ امن، فراغت، آسودگی ، خوشحالی اور للہیت کا یہ عالم ہے کہ کوئی زکوۃ قبول کرنے والا نہیں ملتا۔ گویا اسلامی عروج کا نقطہ انجام ہے۔ اس عظیم الشان سلطنت کا شہنشاہ اعظم علم الہیٰ میں رحماء بینھم ملا، اعلیٰ کی زبان میں ذولنورین اور ساکنین سطح ارضی کی زبان میں امیرالمومنین کے لقب سے ملقب ہے۔ حجاز کے بدو اس کو "عثمان" کے نام سے پہنچانتے اور جانتے تھے۔


    مجوسیت کا باطنی بغض، ناطق باالصدوق خلیفہ دوئم کو ابولولو کی شکل میں شہید کرچکا تھا، جس سے متاثر ہوکر یہودیت عبداللہ بن سبا کی شکل میں پر پرزے نکال رہی ہے۔ اشدعلی الکفار کے بجائے رحماھئ بینھم کی رافت، نرم دلی، تواضع، انکسار اور رحم نے مجوسیت او ر یہودیت کو کھلم کھلا گٹھ جوڑ کا موقع دیا، تو تمام سلطنت میں انکی تخریبی سرگرمیوں نے ایک جال پھیلا دیا۔ امیر المومنین رض کو جب خبریں پہنچتی ہیں تو وہ سب کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتے ہیں

    مگر تخریبی عناصر مدینہ میں گھس کر قصر امارت کو گھیر لیتے ہیں۔ یہ دیکھ کر تمام بزرگ ہستیاں عرض پرواز ہیں۔ " امیر المومنین! حکم دیجئے کہ ان باغیوں کو بزور شمشیر مدینہ سے نکال دیا جائے"، "نہیں میرے بھائیوں!" ، امیر المومنین جواب دیتے ہیں " میں نہیں چاہتا کہ میری ذات نبی ﷺ کے شہر میں کسی انسانی جان کے ضیاع کو موجب بنے۔ اور پھر اپنے طور پر چند نوجوان قصر امارت پر پہرہ دے رہے ہیں۔ مگر باغی عقبی دیوار پھاند کر اس عظیم انسان کو شہید کردیتے ہیں۔

    آپکی شہادت ملت اسلامیہ کا وہ المیہ ہے جو آگے چل کر جمل و صفین کے معرکوں میں ایک لاکھ سے زائد مسلمانوں کی شہادت کا موجب بنا۔ مگر شہادت عثمان رض کا یہ قصاص بھی کارکنان قضا و قدر کی ہاں پورا نہ اترا۔ اور ربع صدی کے تمام عالم اسلام خاک و خون میں تڑپتا رہا اور آج تک شیعہ سنی کی چپلقش کی صورت موجود ہے۔


    ایک زرہ ناچیز اپنی حقیر ترین کوششوں کا یہ نذرانہ اسی شہید اعظم رض کے حضور میں عقیدتمندانہ پیش کرنے کی جرات کررہا ہے۔ اللہ تعالیٰ قبول فرمائیں۔ اور اس شہید اعظم کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


    حکیم فیض عالم صدیقی رح کی کتاب، حقیقت مذہب شیعہ سے ایک اقتباس
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں