توہم پرستی اوروہم بھی ایک وبال ھے

Ishauq نے 'گپ شپ' میں ‏مئی 25, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. Ishauq

    Ishauq -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 2, 2012
    پیغامات:
    9,612
    اسلام علیکم و رحمتہ اللہ و بر کاتہ
    چند دن پہلے ایک جاب میٹ کے بھائی فوت ہو گئے۔ ان سے تعزیت کے لیے ہم کچھ ساتھی ان کے گھر گئے۔ واپسی پر ایک صاحب بولے میں ذرا اپنے کمرے سے ہو کر آتا ھوں آپ اپنے آفس چلیں جائیں۔ میں نے یونہی پوچھ لیا کہ آپ نے کمرے میں کرنا کیا ہے؟ بولے پاؤں دھو کر آتا ھوں۔
    خیرپاؤں دھو کر آ گئے۔ اور وجہ بھی خود ہی بتانے لگے کہ وہ یا ان خاندان سے کوئی بھی فرد (عورت یا مرد) کبھی قبرستان یا کسی کی تعزیت کے لیے جائے تو واپسی پر گھر میں داخل ھوتے ھی پاؤں ضرور دھوتا ھے۔ وجہ پوچھی تو صاف ظاہر ھے کوئی بھی نہی تھی۔ بس توہم پرستی۔ یہ سن کر میری تو ہنسی نکل گئی اور اچانک ہی میرے منہ سے نکلا کہ وہم اور توہم پرستی تمہارے لیے ایک عذاب سے کم نہی ۔ (وہ صاحب ایسی باتیں پہلے بھی کرتے رہتے ھیں)۔
    واقعی اگر دیکھا جائے تو وہم اور توہم پرستی نے ہمارے معاشرے کو پوری طرح جکڑا ہوا ھے۔اور غضب یہ ہے کہ ان چیزوں کو دین کا حصہ سمجھ لیا گیا ہے۔
    وہم اور توہم پرستی جہاں تک ہمارے دینی معاملات میں دخل اندازی کر رہی ہے وہیں پہ دنیاوی معاملات بھی اس کی دسترس سے باہر نہی ھیں۔ ان خرافات سے وقت، پیسے اور ایمان کا ضیاع ہوتا ھے۔
    ہمارے معاشرے میں توہم پرستی اوروہم کی زد میں بچے زیادہ آتے ھیں۔ بچہ بیمار ہو جائے ، ڈر جائے تو بجائے کسی طبیب کے پاس جانے سے کسی نام نہاد پیر کے پاس لے جاتے ہیں۔ اور بر وقت علاج نا کرانے سے اس کا نتیجہ اچھا نہی ہوتا۔ غرض کہ اس قسم کی ان گنت مثالیں موجود ہیں۔
    وہم اور توہم پرستانہ رویوں نے ہی رسومات کا درجہ لے لیا ہے۔ نتیجتا سنت پیچھے چلی گئی ہے ۔ اور زندگی کو دینی و دنیاوی طور پر مشکل بنا دیا گیا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں