قرآن مجید اور سنت رسول کی تشریعی حیثیت (مباحثہ)

T.K.H نے 'نقطۂ نظر' میں ‏مئی 20, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. T.K.H

    T.K.H رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏نومبر 18, 2014
    پیغامات:
    234
    یہ میری بات کی صحیح ترجمانی نہیں ہے۔
     
  2. محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس محسن

    شمولیت:
    ‏مارچ 3, 2014
    پیغامات:
    901
    T.K.H

    آپ یہاں پر اپنی نماز کا طریقہ بیان کر دے تا کہ ھم سب بھی دیکھ لے کہ آپ نماز میں کیا پڑھتے ہیں - اس کا جواب دے گے تو آگے بات ہو گی ؟؟؟

    جواب لازمی دے تاکہ آگے بات ہو سکے !
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس محسن

    شمولیت:
    ‏مارچ 3, 2014
    پیغامات:
    901
    میرا سوال اب بھی وہی ہے کہ ::
    [HIGHLIGHT]’’ اس بات کی کیا دلیل ہے کہ یہ وہی قرآن ہے ، جو نبی اکرم ﷺ پر نازل ہوا تھا ،اور جو امت کو پہنچا کر اس دنیا سے تشریف لے گئے تھے ؟؟؟؟[/HIGHLIGHT]
    اور یہ تمنا عمادی کس ’’ وحی ‘‘ کا نام ہے۔۔ ہم تو اسے جانتے ہی نہیں۔۔
     
    Last edited: ‏مئی 21, 2015
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    بہترین شیئرنگ کیلئے شکریہ
     
  5. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,904
    ایک طالب علم جو کہ حدیث کے اصول سے واقف تک نہیں وہ اعتراضات کررہا ہے ـ اور بضد ہے کہ اس کی بات کو تسلیم کیاجائے ـ اب اور بیوقوفی کیا ہو سکتی ہے ـ اللہ محفوظ رکھے ـ
    ہم نے طالب علم سے وجوہات پوچھی ہیں کہ وہ کس وجہ سے قرآن کو حدیث کا ہم پلہ نہیں سمجھتے ـ قرآن سے اطیعوا الرسول کا لفظ نکال دینا چاہے وہاں بھی اطیعوا اللہ کے ہم پلہ موجود ہے ؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  6. T.K.H

    T.K.H رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏نومبر 18, 2014
    پیغامات:
    234
    مکرمی و محترمی ! میں بھی اسی طرح نماز ادا کرتا ہوں جس طرح اہلِ سُنّت و الجماعت ادا کرتے چلے آ رہے ہیں۔شائد آپ سمجھے کہ میں اہلِ قرآن والوں کی طرح نماز پڑھتا ہوں یا غلام احمد پرویز صاحب کے نظامِ ربوبیت قائم کرنے کو نماز ادا کرنا کہتا ہوں ۔ میرے محترم ایسا ہرگز نہیں ہے۔
    [TRADITIONAL_ARABIC]الم ﴿١﴾ ذَٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ ۛ فِيهِ ۛ [/TRADITIONAL_ARABIC]
    الف لام میم ،یہ اللہ کی کتاب ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔
    قرآن ، سورت البقرۃ، آیت نمبر 02-01
    [TRADITIONAL_ARABIC]الم ﴿١﴾ تَنزِيلُ الْكِتَابِ لَا رَيْبَ فِيهِ مِن رَّبِّ الْعَالَمِينَ ﴿٢﴾ [/TRADITIONAL_ARABIC]
    ا لف لام میم ،اِس کتاب کی تنزیل بلا شبہ رب العالمین کی طرف سے ہے۔
    قرآن، سورت السجدۃ، آیت نمبر 02-01
    مجھے تو قرآن کی یہ آیات کافی ہیں، باقی اگر آپ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ قرآن مجید ہم تک منتقل کیونکر ہوا ؟تو میں مطالعہ کرنے کے لیے علامہ تمنا عمادیؒ کی کتابوں کا حوالہ دے چکا ہوں وہاں آپکو اس کا تفصیلی حال معلوم ہو جائے گا ان شاء اللہ تعالٰی۔ لیکن ابھی تک آپ نے اس حدیث کی کتاب کا حوالہ نہیں دیا جو نبیﷺ نے اُمت کو دی تھی ۔
    آپ مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی ؒ کے مضمون ”مسلک ِ اعتدال“ کا مطالعہ کریں اور پھر اپنی بات کا جائزہ لیں۔شکریہ !
     
  7. محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس محسن

    شمولیت:
    ‏مارچ 3, 2014
    پیغامات:
    901
    ( 1) موجودہ دور میں منکرین حدیث کی تین اقسام ہیں :

    ۱) مکمل طور پر احادیث کا انکار کرنے والے۔
    ۲) ان احادیث کا انکار جو بظاہر قرآن مجید سے ٹکراتی ہیں ۔
    ۳) ان احادیث کا انکار جو (Common sense) یعنی عام عقل کے خلاف ہوں ۔


    [HIGHLIGHT]یہ تینوں اقسام قرآن مجید کی رو سے گمراہ ہیں اور قرآن مجید ان تینوں کا ردکرتا ہے ۔ کیونکہ قرآن مجید ہر صحیح حدیث پر ایمان لانے کا حکم صادر فرماتا ہے ۔[/HIGHLIGHT]

    (2) نبی کریم ﷺ کے دور مبارک میں مجموعی طور پر تین طریقوں سے احادیث کی حفاظت کا دارومدار تھا :

    ۱)حفظ کے ذریعے (Memorization of knowledge )
    ۲)احادیث پر فوری طور پر عمل یعنی (Practice)کرکے ۔
    ۳)احادیث کو قلمبند کرکے یعنی احادیث کو لکھا گیا ۔


    اب ہم یہاں تینوں نکتوں پر غور گفتگو کریں گے :

    نبی کریم ﷺکے وقت میں تقریباً چالیس (40)کے قریب صحابہ کرام ؓ تھے جو کتابت حدیث میں مصروف تھے ۔ ان علاوہ کئی صحابہ کرام ؓ احادیث کو حفظ کرنے پر معمور تھے جن میں سر فہرست سیدنا ابو ہریرہؓ ہیں ۔ بقول امام ذھبی ؒ کے اور دیگر محدثین ؒ کے مطابق سیدنا ابو ہریرہ ؓ کو (5374)پانچ ہزارتین سو چوہتر احادیث حفظ تھیں ان کے علاوہ کئی اور صحابہ کرام ؓ تھے جن کو احادیث حفظ تھیں ۔ حفاظ کرام اور کاتبین وحی کے نام یہ ہیں :

    علی بن ابی طالب و عثمان بن عفان ،وابو بکرالصدیق ، وعمر بن خطاب ، و خالد بن سعید بن العاص ، وعامر بن فھیرۃ، والأرقم بن أبی الأرقم ، وابوسلمۃ عبداللہ بن عبدلأسد المخزومی،و جعفر بن ابی طالب، وحاطب بن عمرو، والزبیر بن العوام ، وطلحۃ بن عبیداللہ، وعبداللہ بن ابی بکر ، أبو أیوب الأنصاری، خالد بن زید ، وأبی بن کعب ،وزید بن ثابت ، وعبداللہ بن رواحۃ ، ومعاذ بن جبل، ومعیقیب بن أبی فاطمۃ الدوسی ۔

    یہ 20حفاظ کرام اور کاتبین وحی کے نام ہیں تقریباً 40کے قریب حفاظ کرام اور کاتبین وحی تھے جن میں سے 20 کا ذکر ہم نے یہاں کیا ہے ۔

    اس کے علاوہ احادیث لکھنے کا سلسلہ بھی جاری رہا اور اس کی حفاظت کے لئے ایسے بلند معیار کا انتخاب کیا گیا کہ ضعیف حدیث صحیح حدیث سے الگ ہوگئی ۔ ایک صحیح حدیث تقریبا ساتھ معیارات سے گزرنے کے بعد اس کو صحیح کا درجہ حاصل ہوتا ہے۔فن اسماء الرجال یہ ایک ایسا فن ہے جس کے ذریعے احادیث کے راویوں کے حالات قلمبند کئے گئے ۔ قرآن مجید کی سینکڑوں آیات اس بات کی شاھد ہیں کہ جس طرح قرآن مجید سے شریعت ثابت ہوتی ہے بعین اسی طرح صحیح احادیث سے بھی شریعت کے احکامات ثابت ہوتے ہیں ۔ مثلا:

    لیجئے بھائی! آیات مبارکہ یہ ہیں۔

    1)’’قُلْ إِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ وَیَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوبَکُمْ وَاللّٰہُ غَفُورٌ رَّحِیْمٌ‘‘۔ (ال عمران 31/3)

    2)’’یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ أَطِیْعُواْ اللّٰہَ وَأَطِیْعُواْ الرَّسُولَ وَأُوْلِیْ الأَمْرِ مِنْکُمْ فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْْئٍ فَرُدُّوْہُ إِلَی اللّٰہِ وَالرَّسُوْلِ إِنْ کُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ ذَلِکَ خَیْْرٌ وَّأَحْسَنُ تَأْوِیْلاً‘‘ ۔(النساء 59/4)

    3)’’وَمَا أَرْسَلْنَا مِن رَّسُوْلٍ إِلاَّ لِیُطَاعَ بِإِذْنِ اللّٰہِ‘‘۔(النساء 64/4)

    4)’’فَلاَ وَرَبِّکَ لاَ یُؤْمِنُوْنَ حَتَّیَ یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْْنَہُمْ ثُمَّ لاَ یَجِدُواْ فِیْ أَنْفُسِہِمْ حَرَجاً مِّمَّا قَضَیْْتَ وَیُسَلِّمُواْ تَسْلِیْماً‘‘۔(النساء 65/4)

    5)’’وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَالرَّسُوْلَ فَأُوْلٰـئِکَ مَعَ الَّذِیْنَ أَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْْہِم مِّنَ النَّبِیِّیْنَ وَالصِّدِّیْقِیْنَ وَالشُّہَدَائِ وَالصَّالِحِیْنَ وَحَسُنَ أُولٰـئِکَ رَفِیْقاً‘‘۔(النساء 69/4)

    6)’’وَمَنْ یُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُ الْہُدَی وَیَتَّبِعْ غَیْْرَ سَبِیْلِ الْمُؤْمِنِیْنَ نُوَلِّہِ مَا تَوَلَّی وَنُصْلِہِ جَہَنَّمَ وَسَائَ تْ مَصِیْراً‘‘۔(النساء 115/4)

    7)’’إِنَّ الَّذِیْنَ یَکْفُرُوْنَ بِاللّٰہِ وَرُسُلِہِ وَیُرِیْدُوْنَ أَنْ یُّفَرِّقُواْ بَیْْنَ اللّٰہِ وَرُسُلِہِ وَیْقُولُونَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَنَکْفُرُ بِبَعْضٍ وَیُرِیْدُوْنَ أَن یَتَّخِذُواْ بَیْْنَ ذَلِکَ سَبِیْلاًoأُوْلَـئِکَ ہُمُ الْکَافِرُوْنَ حَقّاً وَأَعْتَدْنَا لِلْکَافِرِیْنَ عَذَاباً مُّہِیْناً‘‘۔(النساء 150,151/4)

    8)’’وَمَا آتَاکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ وَمَا نَہَاکُمْ عَنْہُ فَانتَہُوا ‘‘۔(الحشر7/59)

    9)’’لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ ‘‘۔(الاحزاب21/33)

    10)’’فَلْیَحْذَرِ الَّذِیْنَ یُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِہِ أَن تُصِیْبَہُمْ فِتْنَۃٌ أَوْ یُصِیْبَہُمْ عَذَابٌ أَلِیْمٌ‘‘ ۔ (النور63/24)



    [HIGHLIGHT]ان تمام آیات سے رسول اللہ ﷺ کی اطاعت ثابت ہوتی ہے جو ایک مستقل اور غیر مشروط اطاعت ہے ۔[/HIGHLIGHT]

    نبی کریم ﷺ کی احادیث کی حفاظت کئی طریقوں سے ہوئی خصوصاً علم اسماء الرجال رسول اللہ ﷺ کے صحابہ ؓ سے ہی شروع ہوگیا تھا چناچہ سیدنا ابو بکر صدیق ؓ اور امی عائشہ ؓ انساب کے ماہر تھے انساب کی مہارت بھی ایک بڑا فن ہے جس کا تعلق علم اسماء الرجال سے ہی ہے ۔صحابہ کرام ؓ میں سیدنا ابو ہریرہ ؓ، عمر فاروق ؓ ، عبداللہ بن مسعود ؓ،عبداللہ بن عباس ؓ، عبداللہ بن عمرو ؓ،عبداللہ بن عمرؓ،ابو سعید خدری، جابر بن عبداللہ ؓ، اور انس بن مالکؓ یہ وہ صحابہ ہیں جو صف اول کے رجال الحدیث ہیں ۔

    تابعین میں سعید بن جبیر (م ۹۵ھ) ابراہیم نخی (م۹۵ھ)عامر الشعبی (م۱۰۳ھ)امام طاؤس (م ۱۰۵ھ) حسن بصری(م۱۱۰ھ)نے رجال پر کام کیا ۔اسی طرح ایوب سختیانی (م۱۳۱ھ) عبداللہ بن عون (م۱۵۱ھ)سلیمان یتمی (م۱۴۳ھ)شعبۃ بن حجاج (م۱۶۰ھ) سفیان الثوری (م۱۶۱ھ) مالک بن انس (م ۱۷۹ھ) اوزاعی (م ۱۵۷ھ) عبداللہ بن مبارک (م۱۸۱ھ) یحیی بن سعید القطان (م۱۴۳ھ) وکیع بن الجراح(م۱۹۷ھ) اور عبدالرحمن بن المھدی (م۱۹۸ھ) جیسے اہل علم نے بھی رجال پر کلام کیا ہے ۔

    تیسری صدی ہجری میں علی بن مدینی (م ۲۳۴ھ) نے ’’کتاب العلل‘‘ ، امام احمد بن حنبل (م۲۴۱ھ) کتاب العلل ومعرفۃ الرجال میں، امام بخاری (م ۲۵۶ھ) نے تاریخ الکبیر ، تاریخ الاوسط میں امام مسلم (م ۲۶۱ھ) نے ’’مقدمہ صحیح مسلم ‘‘ میں امام ترمذی (م۲۷۹ھ) نے ’’کتاب العلل ‘‘ میں رجال پر کام کیا ہے۔

    چوتھی صدی ہجری میں اس فن پر کام کرنے والے درج ذیل حضرات ہیں ۔امام نسائی (م۳۰۳ھ) نے’’کتاب الضعفاء والمتروکین ‘‘ اور محمد بن احمد بن حما د الدولابی (م۳۱۰ھ) نے ’’کتاب الاسماء والکنٰی ‘‘تصنیف کی اس کتاب میں راویان حدیث کے ناموں اور کنیتوں کی وضاحت کی گئی ہے ۔ ابو محمد عبدالرحمن بن ابی حاتم الرازی (م۳۶۸ھ) ’’کتاب الجرح والتعدیل ‘ ‘ کے مصنف ہیں اس جا مقدمہ قابل دید ہے ۔ اس کے علاوہ ’’کتاب الکنٰی ‘‘ اور’’ کتاب المراسیل ‘‘ بھی ان کی تصانیف ہیں جو اسی موضوع پر مشتمل ہیں ۔ امام محمد بن حبان بستی (م۳۵۴ھ) نے ’’کتاب الثقات‘‘ اور ’’کتا ب المجروحین ‘‘لکھی ہیں ۔ ابو احمد علی بن عدی بن علی قطان (م ۳۶۵ھ) نے فن اسماء الرجال پر ’’الکامل فی ضعفاء الرجال ‘‘ کے نام سے کتاب لکھی ۔ دارقطنی (م۳۸۵ھ) نے اپنی ’’کتاب العلل ‘‘ میں رجال پر بہت مفید بحثیں کی ہیں امام دارقطنی نے ’’کتاب الضعفاء ‘‘تالیف کی جو شائع ہوچکی ہے ۔ اسی طرح ان کی کتاب ’’المؤتلف والمختلف ‘‘ بھی طبع ہوچکی ہے ۔

    پانچویں صدی ہجری میں ابو یوسف بن عمر بن عبدالبر (م۴۶۳ھ)اور خطیب بغدادی (م۴۶۳ھ) نے بھی اسماء الرجال پر بہت کام کیا ۔

    چھٹی صدی ہجری کے مؤلفین رجال میں سے امام بیہقی (م۵۵۸ھ) امام ابن جوزی (م۵۹۷ھ) ہیں ۔ ان کے علاوہ معروف محدث عبدالغنی مقدسی (م۶۰۰ھ) ے ’’الکمال فی اسماء الرجال‘‘ لکھی ۔

    ساتویں صدی ہجری میں امام نووی (۶۷۶ھ) نے اس فن پر گراں قدرکام کیا ہے ان کی کتاب ’’تہذیب الاسماء واللغات ‘‘ بہت معروف ہے ۔

    آٹھویں صدی ہجری میں حافظ یوسف بن ذکی مزی (م۷۴۲ھ) حافظ ذھبی (م۷۴۸ھ) نے ’’تاریخ الاسلام ‘‘سیر اعلام النبلاء ‘‘ تذکرۃ الحفاظ‘‘ اور ابو الفداء عماد الدین ابن کثیر (م۷۷۴ھ) نے ’’البدایہ والنھایہ‘‘ میں رجال پر کام کیا ۔

    نویں صدی ہجری میں حافظ ابن حجر (م۸۵۲ھ) نے اس فن پر گراں قدرکام کیا ۔ان کی کتب میں الاصابہ فی تمیز الصحابہ ‘‘ تہذیب التہذیب ‘‘تقریب التہذیب ‘‘لسان المیزان ‘‘ بہت معروف ہیں تقی الدین بن فہد (م۸۷۱ھ) نے بھی اس فن پر کام کیا ۔

    دسویں صدی ہجری میں شمس الدین سخاوی (م۹۰۲ھ) اور امام سیوطی (م۹۱۱ھ) نے بھی اس فن پر کام کیا ۔

    گیارہوں صدی ہجری میں رجال کے متعلق محمد المحبی نے ’’خلاصہ الاثر فی اعیان القرن الحادی عشر ‘‘ لکھی ۔

    بارہویں صدی ہجری میں اسما ء الرجال کے متعلق ابوالفضل محمد خلیل بن علی المرادی (م۱۲۰۶ھ) نے ’’سلک الدرد فی اعیان القرن الثانی عشر ‘‘لکھی۔

    الحمد للہ فن رجال پر بے انتہاکام ہوا حتٰی کہ ہزاروں کی تعداد میں اس فن کے ذریعے رجال کی حالات زندگی کو محفوظ کیا گیا ۔(دیکھئے :علوم الحدیث 196تا 198)

    http://www.islamicmsg.org
    http://www.facebook.com/IsLaHUnNNisa
    http://www.facebook.com/IslamicMessageOrganization
     
    Last edited: ‏مئی 22, 2015
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  8. محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس محسن

    شمولیت:
    ‏مارچ 3, 2014
    پیغامات:
    901
    جو نماز آپکے اہل سنت ادا کرتے ہیں ۔۔کیسے ثابت ہوا کہ وہی نماز نبی کریم ﷺ نےامت کو سکھلائی ۔۔اور خود بھی پڑھی تھی ؟
    ا
     
    Last edited: ‏مئی 22, 2015
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  9. محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس محسن

    شمولیت:
    ‏مارچ 3, 2014
    پیغامات:
    901
    کیا۔۔ تمنا عمادی۔۔ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کے بارے یہ ساری تفصیل جو اس نے بیان کی ہے، لکھوا کر گئے تھے ؟
     
  10. فہد جاوید

    فہد جاوید رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مئی 12, 2015
    پیغامات:
    83
    اہل حدیث کا منہج شخصیت پرستی نہیں ہے اس لئے ہم مولانا مودویؒ کی ہر بات کو اپنے لئے حجت نہیں مانتے مگر ان کا ادب تو بہرحال کرتے ہیں۔ اور جہان تک بات ہے طلوعِ اسلام والوں کی تو ان کا تو نہ کوئی منہج ہے اور نہ ہی فکر، وہ ایک فتنہ تھا جو اپنی موت آپ مر گیا مگر امت کہ چند نوجوانوں میں کچھ وسواسے چھوڑ گیا۔ اگر آپ نی مولانا کی کتاب کو اچھی طرح پڑھ لیا ہے تو ان سوالوں کو پھر سے کرنے کا کیا مقصد ہے؟ کیونکہ یہ تمام سوالواں کو مولانا نے مدلل جواب دے دیا ہے۔ اگر آپ اس سے مطمئن نہیں تو پھر آپ مزید سوال کریں۔
    مولانا مودودی میں انکارِ حدیث کہ مرض میں نہیں بلکہ اسخفافِ حدیث کہ مرض میں کچھ مبتلا تھے جس کہ اثرات آپ میں بھی پائے جاتے ہیں۔
    اہل حدیث کی دعوت ہی تعصب سے پاک ہے۔ ہم تو پوری امت کو سلفِ صالحین کے منہج سے جوڑتے ہیں۔ لیکن اگر حق کو حق کہنا آپ کہ نزدیک تعصب ہے توپھر آپ بھی مخالفینِ حق کی صف میں شامل ہیں۔ آپ اپنے متعصب رویہ پر زرا غور فرمائیں، آپ کی ساری تنقید اور تحقیق کا محور اہل توحید ہیں اور مشرکین، مقلدین اور تمام فتنہ پرور کو آپ سے امان حاصل ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  11. فہد جاوید

    فہد جاوید رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مئی 12, 2015
    پیغامات:
    83
    اہل سنت کہ کچھ ذیلی مکاتیبِ فکر ہیں جن میں مقلدین اور محدثین ہیں آپ کی نماز کس کہ مشابہ ہے؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  12. T.K.H

    T.K.H رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏نومبر 18, 2014
    پیغامات:
    234
    انا للہ و انا الیہ راجعون !
     
  13. T.K.H

    T.K.H رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏نومبر 18, 2014
    پیغامات:
    234
    مولانا مودودیؒ کی کتابوں کے بہت سے اقتباسات کو طلوعِ اسلام نے سیاق و سباق سے ہٹا کر اپنی کتابوں میں خوب استعمال کیا جس سے اہلِ حدیث حضرات کو وسوسہ لگا کہ شائد مولانا مودودیؒ استخفافِ حدیث کے مرض میں مبتلاء ہیں اور یہ بات شائد مولانا اسماعیل سلفیؒ نے اپنی کتاب میں کہی ہے۔جہاں تک مجھے معلوم ہے مولانا مودودیؒ نے بخاری کی دو روایات پر اپنی مدلل رائے کا اظہار فرمایا ہے اور اسی کو بنیاد بنا کر اہل ِحدیث نے مولانا مودودیؒ کو استحقار و استخفاف ِ حدیث کا مجرم بنا دیا ۔ اگر آپ انکی کتابوں کا مطالعہ کریں تو آپ کو کو انکا منہج سمجھ آ سکتا ہے۔ کون نہیں جانتا کہ مولانا مودودیؒ کی پوری زندگی طلوعِ اسلام کے پھیلائے ہوئے نظریات کے خلاف برسرِ پیکار رہی۔مولانا مودودیؒ نے بہت سے مقامات میں احادیث سے استفادہ بھی کیا ہے مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ وہ اہلِ حدیث کے مسلک کو ان کی تمام تر تفصیلات سمیت صحیح نہیں سمجھتے تھے۔ لیکن انہوں نے اہلِ حدیث کو کبھی گمراہ نہیں کہا۔حنفی حضرات کو تو مولانا مودودیؒ سے ایک خاص قسم کا بیر تھاجسکا شائد آپ کو بھی علم ہو۔بہر حال مولانا مودودیؒ کی بات سے اختلاف یقینا ً کیا جا سکتا ہے مگر اُن کو خارج از اہلِ سُنّت و الجماعت گرداننا تعصب کے جوش کا نتیجہ ہے۔
    اگر آپ احادیث کے متعلق میرا نظریہ جاننا چاہتے ہیں تو مولانا مودودیؒ کا مضمون ”مسلک ِ اعتدال“آپ کے لیے مفید رہے گا ۔ لیکن پھر افسوس کہ اہلِ حدیث حضرات نے مولانا مودودیؒ کے اس مضمون کو ”مسلکِ اعتزال“ سے منسوب کر دیا۔ حالانکہ سب سے پہلے مولانا مودودیؒ نے اُن ہی لوگوں کو مخاطب کیا ہے جو احادیث کو بالکل نا قابلِ اعتناء سمجھتے ہیں جن کو آج منکرینِ حدیث کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
     
  14. T.K.H

    T.K.H رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏نومبر 18, 2014
    پیغامات:
    234
    محترم ! یہی تو سوال ہے ”صحیح حدیث“ کی وہ کتاب کہاں ہے جو رسول اللہ ﷺ نے قرآن مجید کی طرح اُمت کو دی ہے؟ اس کتاب کا نام کیا ہے ؟یہ جو باتیں آپ نے لکھی ہیں ان کو ”منکرینِ حدیث“ بخوبی جانتے ہیں۔اور یہ قرآن مجید کی کون سی آیت ہے جس میں ”صحیح حدیث“ پر ایمان لانے کا تذکرہ آیا ہے ؟
     
  15. T.K.H

    T.K.H رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏نومبر 18, 2014
    پیغامات:
    234
    پہلے تو آپ اس اُصولی بات کا فیصلہ کر لیں کہ میں منکرِ حدیث ہوں یا نہیں ؟کیا یہ فرض ہے کہ کسی روایت کو اسی نظر سے دیکھا جائے جس نظر سے اہلِ حدیث دیکھتے ہیں اور سوئی کے ناکے کے برابر بھی اگر اہلِ حدیث سے اختلاف ہو جائے تو ”منکرِ حدیث“ کا فتویٰ جڑ دیا جائے۔اہلِ حدیث کے نزدیک کسی کو مسلمان سمجھنا اتنا آسان نہیں جتنا کسی کو منکرِ حدیث یا منکرِ قرآن کہہ دینا ۔ شائد ان کے ہاں یہ الفاظ بہت سستے ہیں۔
     
  16. محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس محسن

    شمولیت:
    ‏مارچ 3, 2014
    پیغامات:
    901
    کیوں بھائی حق کڑوا لگا -
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  17. محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس محسن

    شمولیت:
    ‏مارچ 3, 2014
    پیغامات:
    901
    ایک شخص صحیح حدیث کو نہیں مانے اور پھر کہے کہ میں منکر حدیث نہیں ہو -
     
  18. محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس محسن

    شمولیت:
    ‏مارچ 3, 2014
    پیغامات:
    901
    میرا سوال اب بھی وہی ہے کہ ::
    ’’ اس بات کی کیا دلیل ہے کہ یہ وہی قرآن ہے ، جو نبی اکرم ﷺ پر نازل ہوا تھا ،اور جو امت کو پہنچا کر اس دنیا سے تشریف لے گئے تھے ؟؟؟؟
     
  19. محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس محسن

    شمولیت:
    ‏مارچ 3, 2014
    پیغامات:
    901
    [HIGHLIGHT]اس تحریر کا بار بار پڑھے اور اللہ سبحان و تعالیٰ سے دعا کرے کہ آپ کے سینے کو کھول دے اور میں بھی اور اس فورم کے تمام ممبران بھی اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ آپ کو صراط مستقیم کا راستہ دکھا دے - آمین[/HIGHLIGHT]

    السلام علیکم ! کوئی چار سال پرانی ایک تحریر پیش خدمت ہے۔ یہ اس وقت تحریر کیا گیا تھا جب اردوپیجز اور دیگر اردو فورمز پر راقم کا واسطہ "انکارِ حدیث" نظریے سے رغبت رکھنے والے افراد سے اکثر و بیشتر پڑا کرتا تھا۔

    انکارِ حدیث پر تحریر کردہ چند کتب سے یہ مواد اخذ کیا گیا تھا اور جس کی اہمیت آج بھی اتنی ہی برقرار ہے جتنی کہ چار سال پہلے تھی۔ لیجئے ملاحظہ فرمائیں ۔۔۔۔۔۔
    ***

    حدیث کو دین میں حجت نہ ماننے والے لوگوں سے جب بھی ہم کچھ ایسا سوال کرتے ہیں :

    یہ جو آپ کے ہمارے ہاتھ میں قرآن ہے ، کیسے پتا چلے گا کہ یہ وہی قرآن ہے جو اللہ کا کلام ہے ؟

    تو اس سوال کا خاطر خواہ جواب کوئی نہیں دے پاتا۔

    حالانکہ پتا چلنے کا صرف ایک ہی ذریعہ ممکن ہے۔

    کوئی ہم کو بتائے کہ یہ کتاب " قرآن " ہے !

    اگر آپ کے والدین نے آپ کو بتایا کہ بیٹا ، یہ کتاب " قرآن " ہے اور یہ کتاب اُنہی آیات پر مشتمل ہے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) پر نازل ہوئی تھیں ۔۔۔ تو آپ کے والدین کو یہ بات پھر کس نے بتائی؟ جس نے بھی بتائی، اُس کو کس نے بتایا؟ ۔۔۔ اس طرح یہ سلسلہ پیچھے اور پیچھے کی طرف جائے تو معلوم ہوگا کہ آیات خود رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اپنی زبان سے سنائی تھیں جن کو " کاتبینِ وحی " نے لکھ لیا تھا۔

    رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے راست (direct) آپ کو تو آیات نہیں سنائی تھیں ، پھر کس بنیاد پر آپ کو یقین ہے کہ جو قرآن آپ کو والدین نے دیا ، اِس میں وہی آیات ہیں جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) پر اتری تھیں ؟

    اس سوال کا جواب عموماً درج ذیل آیت کے ذریعے دیا جاتا ہے کہ : یہ وہی آیات ہیں جو حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) پر نازل ہوئیں ۔

    بے شک ہم نے ہی نازل کی ہے یہ کتابِ نصیحت اور ہم ہی اس کے نگہبان ہیں ۔۔۔ ( سورہ الحجر 15 ، آیت : 9)۔

    یعنی ، اِس آیت سے ہی آپ کو پتا چلا ؟ ۔۔۔۔ یعنی " قرآن " کھول کر دیکھنے کے بعد ؟

    تو سوالات یہ ہیں کہ :

    یہ قرآن (جس میں سے آپ نے آیت QUOTE کی ) آپ کو کہاں سے ملا ؟

    کس نے دیا آپ کو؟

    یا آپ نے کہیں سے خریدا ؟

    جہاں سے بھی خریدا ، اُس شخص کو کس نے دیا ؟

    جس شخص نے بھی یہ قرآن چھاپا اُس نے بھلا کہاں سے کاپی کیا ؟

    کیا رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) نے راست اُس چھاپنے والے کو قرآن سنایا تھا ؟ اگر نہیں ، تو پھر اُس نے کہاں سے کاپی کیا ؟ کیا گارنٹی ہے کہ اُس نے بالکل وہی آیات کاپی کیں جو رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) نے " کاتبینِ وحی " کو سنائی تھیں؟

    اگر آپ پھر وہی بات دہرائیں کہ :

    اللہ نے قرآن کو محفوظ رکھنے کی گارنٹی دی ہے ۔۔۔ ( سورہ الحجر 15 ، آیت : 9)۔

    تو ہم پھر کہیں گے کہ یہ بات تو آپ کو قرآن کھولنے کے بعد معلوم ہوتی ہے۔
    جب کہ ہمارا بنیادی سوال یہی ہے کہ آپ کے ہاتھوں میں " قرآن " آیا کہاں سے ؟

    قرآن ، ایک مکمل کتاب کی شکل میں compiled ہوا رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) کے سنانے پر۔ اور ۔۔۔ اللہ کی آیات کو نہ تو خود اللہ نے اور نہ ہی رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) نے براہ راست آپ کو سنایا اور نہ کسی ناشر (publisher) کو۔

    انکار حدیث کے نظریے سے لگاؤ رکھنے والے تو خود کہتے ہیں کہ :

    حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے زمانے کا " قرآن " اب بھی موجود ہے ، استنبول اور تاشقند میں۔

    حالانکہ یہاں ان سے یہ سوالات بھی دریافت طلب ہیں کہ ۔۔۔

    یہ بات آپ کو کیسے معلوم ہوئی ؟

    کیا آپ نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ؟

    اگر دیکھا بھی تو کیسے یقین کیا ؟

    کس نے کس بنیاد پر آپ کو یقین دلایا ؟

    ہم ایسے سوالات کرنے پر اس لیے مجبور ہیں کہ ۔۔۔ احادیث کے متعلق بھی منکرینِ حدیث تقریباً اسی قسم کے سوالات ہمارے سامنے پیش کرتے ہیں ۔

    بلاشبہ " قرآن " کو دنیا میں بھیجنے کے لیے اللہ تعالیٰ کے پاس بے شمار ذرائع تھے ۔۔۔ مگر جس " ذریعے " سے اُس نے بھیجا ، وہ ایک معلوم شدہ حقیقت (a known fact) ہے ، اور وہ یہی کہ :

    قرآن کو خود اللہ تعالیٰ نے آسمان سے لکھوا کر نہیں بھیجا بلکہ نبی(صلی اللہ علیہ وسلم) کی زبان سے اس کو بندوں تک پہنچایا۔ اللہ نے پورا انحصار اِس بات پر کیا کہ جو لوگ نبی(صلی اللہ علیہ وسلم) کو سچا مانیں گے ، وہ نبی(صلی اللہ علیہ وسلم) کے اعتماد پر قرآن کو ہمارا کلام مان لیں گے !!

    نبی(صلی اللہ علیہ وسلم) نے قران اپنی زبان سے سنایا اور " کاتبینِ وحی " نے اُس کو لکھ لیا۔

    لیکن یہ بات آپ کو یا ہم کو کیسے معلوم ہوئی ۔۔۔ ؟ یعنی یہ بات کہ ۔۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) اپنے زمانے میں کاتبینِ وحی سے نازل شدہ وحی لکھوا لیتے تھے ؟

    اور اُن تحریروں سے نقل کر کے حضرت ابو بکر (رضی اللہ عنہ) کے زمانے میں قرآن کو " مصحف " کی شکل میں لکھا گیا اور بعد میں اسی کی نقلیں حضرت عثمان (رضی اللہ عنہ) نے شائع کیں۔

    یہ سب کچھ محض حدیث کی " روایات " سے ہی دنیا کو معلوم ہوا ہے ورنہ قرآن میں تو اس کا ذکر نہیں !

    اور نہ ہی حدیث کی اِن ہی " روایات " کے سوا اِس کی کوئی دوسری " شہادت " دنیا میں موجود ہے ۔

    اب اگر حدیث کی " روایات " ہی سرے سے قابلِ اعتماد نہیں ہیں تو پھر کس دلیل سے دنیا کو یقین دلایا جائے گا کہ فی الواقع قرآن ، رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کے زمانے میں لکھا گیا تھا ؟

    ** نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کو ہم نے دیکھا نہیں ، مگر " لوگوں " نے کہا کہ حضرت محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) دنیا میں آئے تھے۔ ہم نے لوگوں کی بات پر اعتماد کیا اور محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) کی ذات کو قبول کیا۔

    ** قرآن نبی(صلی اللہ علیہ وسلم) پر اُترا ، ہم نے نہیں دیکھا کہ کیسے اُترا ؟ اور نبی(صلی اللہ علیہ وسلم) نے کس طرح سنایا اور کس کو کس طرح لکھوایا؟ مگر " لوگوں" نے کہا کہ قرآن نبی(صلی اللہ علیہ وسلم) پر اُترا تھا اور اُنہوں(صلی اللہ علیہ وسلم) نے جوں کا توں (AS IT IS) لکھوایا اور وہی قرآن آج ہمارے پاس ہے۔ ہم نے لوگوں کی بات پر اعتماد کرتے ہوئے قرآن کھولا ، پڑھا اور اس کے ایک ایک حرف پر ایمان لے آئے۔

    ** اور جب یہی " لوگ " کہتے ہیں کہ ۔۔۔ نبی(صلی اللہ علیہ وسلم) نے اِس طرح نماز ادا کی ، اِس طرح زکوٰۃ دی ، اس طرح تنبیہ کی ، اِس طرح حرام / حلال قرار دیا ۔۔۔ تو یہاں ہم " لوگوں" کی بات پر اعتماد نہیں کرتے ؟؟ کیوں ؟؟

    شاید ۔۔۔۔

    صرف اسی لیے کہ جو " آزادی " ہمارا نفس چاہتا ہے ، جو آزادی ہمیں اپنی خودساختہ شریعت لاگو کرنے کے لیے درکار ہے ۔۔۔ اُس آزادی کی راہ میں " نبی(صلی اللہ علیہ وسلم) کے احکامات (احادیث) " بہت بڑی رکاوٹ ہیں !!

    دورِ حاضر کے محدثِ جلیل علامہ ناصرالدین البانی (رحمہ اللہ) فرماتے ہیں:

    شریعت کی تعبیر میں حدیث و سنّت دوسرے درجے کا مآخذ نہیں ہے بلکہ قرآن و سنت وحی اور شریعت ہونے کی بناء پر یکساں حجت ہیں۔ دونوں کو ملا کر شریعت حاصل ہوتی ہے۔ اگرچہ کلامِ اللہ ہونے کے اعتبار سے ایک کو 'قرآن' کہا جاتا ہے تو مرادِ اِلٰہی ہونے کے اعتبار سے دوسرے کو حدیث و سنّت !

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ، آپ کے اقوال و افعال سے محبت ، اُن کی اتباع پر منتج ہونی چاہئے۔ احادیثِ نبوی کو دین فہمی میں اہمیت نہ دینا گویا شانِ نبوت اور حبّ نبوی کا انکار ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ، شریعت کے شارح کی حیثیت کو ، کسی امّتی نے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے خود قرآن میں واضح کیا ہے۔ (مسئلہ تو صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے صحیح طور پر ثابت ہو جانے کا ہے۔)

    یہاں اس مسئلہ پر بھی غور کیا جانا چاہئے کہ : شریعت دورِ نبوی میں اور آج تک بالکل ایک رہی ہے۔ ایسا نہیں کہ کوئی ایک امر صحابہ رضی اللہ عنہ کے لئے تو شریعت ہو اور ہمارے لئے نہ ہو۔ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ اللہ کا دین صحابہ اکرام رضی اللہ عنہم اجمعین اور ہمارے لئے یکساں نہیں ۔

    ایک بات جسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمائیں تو وہ اس کو ماننے کے مکلّف ہوں ، لیکن ہم مرورِ زمانہ کے بعد اس کے پابند نہ رہ جائیں، کیوں کر ایسے ہو سکتا ہے ؟؟!!

    آخری اہم بات یہ کہ ۔۔۔

    قرآن تفاصیل سے بحث نہیں کرتا اور یہ صرف حدیث و سنت ہے جو دین اور معاشرے کی تفصیلی صورت گری کرتی ہے۔

    قرآن ، اللہ کی کتاب ہے ، وہ کلامِ باری تعالیٰ ہے ، اس کی حکومت بحر و بر پر چھائی ہوئی ہے ، وہ اللہ کی برہان اور مینارۂ نور ہے ۔۔۔۔۔۔ غرض قرآن کی عظمت بیان کرتے ہوئے جتنا بھی مبالغہ کر لیا جائے وہ صحیح اور برحق ہے ۔۔۔۔۔۔ لیکن ۔۔۔۔۔۔ لیکن اس کی قیمت یہ نہیں ہونی چاہئے کہ :
    جس پر قرآن نازل ہوا تھا ، قرآن کے نام پر اس کی سنّت کو پیچھے پھینک دیا جائے اور اُمت چودہ سو (1400) سال سے جن احادیث کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سمجھ کر ان پر عمل پیرا اور ان کے تقدس کی قائل ہے ، قرآن فہمی اور "مولویت" کے نام پر ان کو بے وقعت کر دیا جائے۔
    ظاہر ہے یہ موقف اسلام دشمنوں کو تقویت دینے والا ہے !!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  20. فہد جاوید

    فہد جاوید رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مئی 12, 2015
    پیغامات:
    83
    آپ پہلے یہ بتا دیں کہ ہماری بحث کا محور مولانا مودودی ہیں یا حدیث کا مقام؟ اعتدال کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپ ایک نیا مسلک نکال لے اور ایک نئے فرقے کی بنیاد رکھ دیں، یہی غلطی مولانا نے کی ہے۔ انہیوں نے سیاست، ریاست اور معاشیت میں تو بہت تحقیق کی تھی مگر نماز ساری عمر مقلدین والی پڑھی۔۔۔۔۔ ان کی دین کے لئے بہت خدمات بھی ہیں جس کا ہمیں اعتراف بھی ہے۔
    جہان تک طلوع اسلام والواں سے ان کہ مناظروں کی بات ہے تو اس طرح کی خدمت سرسید احمد خان نے بھی سر انجام دی تھی جس میں انہوں نے لائف آف محمد ﷺ نامی کتاب کا جواب دیا تھا مگر ان کہ اپنے نظریات جتنے گستاخانہ رہے ہیں یہ سب جانتے ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں