عجمی مجوس اور انکی تباہ کاریاں

علی رضوان نے 'تاریخ اسلام / اسلامی واقعات' میں ‏جون 4, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. علی رضوان

    علی رضوان رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏دسمبر 28, 2014
    پیغامات:
    18
    عجمی مجوس اور انکی تباہ کاریاں

    کتاب: صحیفہ ٹیپوسلطان (محمود خان بنگلوری) ۔ صفحہ 214

    اسلام کی تاریخ پر اگر خلیفہ چہارم حضرت علی رضی الہ عنہ کے زمانے سے لیکر اس وقت تک گہری نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوگا کہ مسلمانوں کے افتراق و زوال کا ذمہ دار تقریبا سو فیصد عجم ہے۔ اور یہی افتراق مسلمانوں کے زوال کا اصلی سبب ہے۔

    یہ عجم ہی ہے جس نے شروع سے لیکر اب تک اسلام میں رخنے ڈالے اور اسلامی سلطنتوں کو تباہ کردیا۔ دکن میں سلطنت خداد (میسور کی وہ ریاست، جہاں ٹیپو سلطان رحمہ اللہ حکومت کیا کرتے تھے) کی تباہی میں بھی عجم کا بہت زبردست ہاتھ تھا۔ جسطرح دوسری اسلامی حکومتیں عموما اور دکن کی اسلامی حکومتیں خصوصا عجم کے ہاتھوں تباہ ہوئیں، تاریخ نے بہتیروں واقعات کو اس سلطنت میں بھی دھرایا۔

    "میر" ایک خطاب ہے جو ان سلطنتوں نے اختیار کیا۔ جو عرب و عجم کی مخلوط پیداوار تھے۔ خطاب کی انتہاء اس طرح ہوئی کہ جس لڑکے کا باپ عجمی ہو اور ماں سیدہ ہو تو اسکو "میر" کہا گیا۔ اسی طرح جنوبی ہند میں جس لڑکے کا باپ شیخ اور ماں سیدہ ہو تو اسکے نام کے ساتھ "شریف" استعمال ہوتا ہے۔ عرب میں خطاب "سید" کا رواج اسلام کے ساتھ ساتھ آیا، بعد میں یہ خطاب اہل بیت کے لئے مخصوص تھا، عجم نے عرب کو نیچا دکھانے کے لئے جن حربوں کا استعمال کیا، ان میں ایک یہ بھی تھا کہ عرب و عجم کے اتصال سے جو اولاد پیدا ہوئی، اسکو "میر" کا خطاب دیا۔ جو خالصتا ایک فارسی لفظ ہے، مگر سید کے ہم معنی ہے۔

    عجم کا سب سے بڑا حربہ "سازش" ہے۔ جس سے اس نے بہت بڑا فائدہ اٹھایا۔ اس سازش نے بنی امیہ، بنی عباس اور دوسری اسلامی سلطنتوں کا تختہ الٹ دیا۔ اسی لئے ایک مورخ کا یہ کہنا بالکل ٹھیک ہے کہ

    "عجم ، گھن کا کیڑا تھا، جو عصائے اسلام کو اندر ہی سے کھا گیا"

    لہذہ جو اثر شروع سے خون میں آچکا تھا۔ اس سے ہندوستان میں آئے "میر"کسطرح علیحدہ رہ سکتے تھے؟ بنگال کا میر جعفر، حیدرآباد دکن کا میر عالم اور میسور کا میر صادق ، اسکی بین مثالیں ہیں (میر صادق اور میر غلام علی دونوں شیعہ تھے)۔ یا دوسرے الفاظ میں یہ میر ہی تھے جنہوں نے سازشوں سے ہندوستان کو تباہ کرکےرکھ دیا۔

    (جعفر از بنگال و صادق از دکن، ننگ ملت، ننگ دین، ننگ وطن) اقبال

    عجم کے حربوں میں ایک "حربہ" امتیاز حسب و نسب اور رنگ و خون بھی ہے۔ اسلام نے اسکو عرب میں مٹا دیا ۔ عجم نے اسکو زندہ کیا۔ اور اس نظریہ کو ہندوستان میں پھیلانے والےوہ اہل "نوائط" ہیں جو عجم (کوفہ) سے ہندوستان آئے۔ ان اہل نوائط کے متعلق کرنل ولکوکس اپنی تاریخ میسور میں خود اہل نوائط کی تاریخ "سعادت نامہ" کے حوالے سے اور نوائط کے بہت سے افراد کی زبانی تصدیق کرکے اس طرح لکھتا ہے۔

    "پہلی صدی ہجری کے آخر میں حجاج بن یوسف نے جو خلیفہ عبدالمالک بن مروان کی جانب سے عراق کا گورنر تھا۔ اور جو اپنے ظلم و ستم کے لئے مشہور ہے، چند معزز اور مالدار افراد بنی ہاشم کو اس قدر ستایا کہ وہ اپنا وطن کوفہ (جو اس زمانے کا مشہور شہر تھا اور جو حضرت علی رض کے مقبرے کے نزدیک اور دریائے فرات کے کنارے پر ہے)، چھوڑنے پر آمادہ ہوگئے۔ اور یہاں کے باشندوں کی مہربانیوں سے اپنےاہل عیال اور سامان وغیرہ ساتھ لیکر نکلے۔ اور خلیج فارس کے کنارے سے آکر جہازوں پر سوار ہوکر ہندوستان آئے۔

    آگے آکر ولکوکس لکھتا ہے، "کوفہ سے نکل بنی ہاشم کا یہ خاندان ہندوستان کے اس حصے میں پناہ گزین ہوگیا، جسکو "دکن" کہا جاتا ہے، اور یہاں یہ "نوایت" کہلائے، جسکے معنی "نئے آنے والے" کے ہیں۔ یہ لفظ فارسی اور مرہٹی زبان کا مخلوط لفظ ہے۔ جسکے معنی فارسی لفظ "نو" سے لیا اور مرہٹی لفظ "آیت" سے آنے والا ہے۔ ان لوگوں نےاپنے حسب و نسب اور خون کو آمیزش سے پاک رکھنے کےلئے ، عام مسلمانوں کے بڑے بڑے خاندانوں میں شادی کرنے سے انکار کیا اور احتراز کیا۔ "

    سعادت نامہ کی اس روایت کو جسکی خود نوائط نے تصدیق کی ہے، تسلیم نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔ البتہ تاریخی نقطہ نظر سے دیکھنا یہ ہےکہ جو لوگ کوفہ سے نکل کر ہندوستان آئے وہ بنی ہاشم تھے یا کوئی اور؟ اہل نوائط کی اس روایت میں کہا گیا ہے کہ حجاج بن یوسف کے ظلم سے بچنے کے لئے یہ لوگ ہندوستان میں آئے۔ تاریخ سے ثابت ہے کہ حجاج بن یوسف کا زمانہ 73ھ کا ہے۔ یعنی حضرت حسین رض کی شہادت کے گیارہ سال کے بعد۔

    حضرت حسین رض (جو خاندان بنی ہاشم کے چشم و چراغ تھے) کی شہادت 61ھ میں ہوئی تھی۔ اسکے بعد اہل بیت کو امیر یزید نے بہ اعزاز و اکرام حجاز میں بھیج دیا۔ امیر یزید کا انتقال 64ھ میں ہوا تھا۔ اسکے بعدمعاویہ بن یزید نے چند دن کےک حکومت سے دست برداری حاصل کرلی تھی۔ اسی سال ذی الحجہ میں مروان بن حکم خلیفہ ہوا۔ اور رمضان 65ھ میں اسکی وفات پر عبدالملک بن مروان خلیفہ ہوا۔

    یہ وہ زمانہ ہے جب کہ مکہ معظمہ میں حضرت حسین رض کی شہادت کے بعد ، حضرت عبداللہ بن زبیر رض نے خلافت کا دعویٰ کیا۔ تو دوسری جانب کوفہ میں مختار ثقفی قاتلان حسین سے بدلہ لینے کے لئے کھڑا ہوگیا۔ اور بنی ہاشم سے ساز باز شروع کردی۔ اس کام کے لئے اس نے اپنے ایجنٹوں کو مکہ روانہ کیا۔ اب بنی ہاشم کے رویہ کا دیکھ کر اس خاندان کے معزز افراد یا سوار مندرجہ زیل اصحاب تھے (1) حضرت علی بن حسین (زین العابدین) (2) حضرت ابن عباس رض (3) حضرت محمد بن الحنفیہ

    ان تینوں نے حضرت عبداللہ بن زبیر رض کی بیعت نہیں کی۔ بلکہ بالکل غیر جانبدار رہے۔ 73 ھ زیقدہ میں عبدالملک نے حجاج بن یوسف کو حضرت ابن زبیر رض کے مقابلہ پر روانہ کیا۔ اس نے کعبہ پر آتش زنی اور سنگ باری کی، یہاں تک حضرت عبداللہ بن زبیر رض شہید ہوگئے۔ اس وقت حضرت زین العابدین، حضرت محمد بن الحنفیہ اور حضرت ابن عباس رض مکہ ہی میں مقیم رہے۔ اس لئے حجاج بن یوسف پر یہ الزام کہ اس نے بنی ہاشم پر مظالم کئے، بالکل بے بنیاد ہے۔ اب دوسرا واقعہ مختار ثقفی کا دیکھئے۔

    مختار کے ایجنٹ نے جب مکہ آکر قاتلان حسین سے بدلہ لینے کے لئے بنی ہاشم کی مدد چاہی۔ تو حضرت زین العابدین نے اسکی درخواست قبول نہیں کی بلکہ اسکی مخالفت کی۔ مختار ثقفی نے یہ تحریک اپنی خاص سیاسی مصلحتوں کے مدنظر رکھ کر شروع کی تھی، کوفی اسکے ساتھ مل گئے تھے جو تمام تر عجمی تھے۔ (سیر الصحابہ ، جلد ششم صفحہ 270)

    ان مندرجہ بالا تحریروں سے صاف پتہ چلتا ہے بنی ہاشم ، مکہ یا مدینہ چھوڑ کر باہر نہیں گئے تھے اور اس سلوک ، جو ابھی گیارہ سال پہلے ان کوفیوں نے حضرت حسین رض اور اہل بیت سے کیا تھا (انکی شہادت میں سب سے بڑا ہاتھ، ان کوفیوں ہی کا تھا) دیکھتے ہوئے قیاس میں بھی نہیں آسکتا کہ بنی ہاشم پھر کوفہ جائیں۔ لہذہ یہ روایت قطعا غلط ہے کہ حجاز میں حجاج بن یوسف کے مظالم سے تنگ آکر بنی ہاشم کوفہ آگئے ہوں۔ اور پھر کہا جاتا ہے کہ یہاں بھی جب حجاج کے مظالم شروع ہوئے تو یہ ہندوستان آگئے تھے۔

    اوپر ثابت کیا گیا ہے کہ بنی ہاشم حجاز چھوڑ کر باہر نکلے ہی نہیں تھے، نیز یہ حجاج نے پر کوئی ظلم ہی نہیں کیا تھا، کیونکہ ان لوگوں نے اس وقت عبداللہ بن زبیر یا مختار ثقفی کا ساتھ نہیں دیا تھا۔ ہاں اسمیں شک نہیں کہ حجاج نے ابن زبیر کے معاملے سے فارغ ہوکر کوفہ کی گورنری سنبھالی تھی، اور یہاں ان لوگوں سے انتقام لیا، جو مختار ثقفی کے حلیف تھے۔ یہ لکھا جاچکا ہے کہ مختار کا ساتھ دینے والے تمام عجمی کوفی تھے۔ حجاج نے ان سے انتقام لیا۔ (حضرت حسین کے حالات سے پتہ چلتا ہے کہ کوفی پہلے تو حضرت حسین کے طرفدار تھے، انہوں نے حضرت حسین رض کا کوفہ بلایا، لیکن جب امیر یزید کے گورنر،عبیداللہ بن زیاد نے سیم و زر کی تھیلیاں پیش کی اور ڈرایا دھمکایا۔ تو انہوں نے ہوا کا رخ دیکھ کر حضرت مسلم ، جو حضرت حسین کےسفیر تھے، شہید کردیا۔ اور بعد میں انہی لوگوں نے حضرت حسین کو بھی شہید کردیا۔ اس واقعہ کے چند سال بعد جب بنی امیہ کے خلاف مختار ثقفی نے قاتلان حسین سے انتقام لینے کا دعویٰ کیا، تو سوائے چند کوفیوں کے جنکو مختار نے قتل کیا تھا، باقی قاتلان حسین ، اسکے ساتھ مل گئے۔ اور یہی وہ کوفی تھے جنکو امیر حجاج نے قتل کروایا تھا اور ان سے انتقام لیا۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جو لوگ کوفہ سے بھاگ گئے تھے وہ یہی باقی ماندہ قاتلان حسین تھے ۔ (سیر الصحابہ جلد ششم، صفحہ 233)

    اسطرح یہ بات پایہ ثبوت کہ پہنچ جاتی ہے کہ امیر حجاج بن یوسف کے وہ قتل و غارتگری کے افسانے ، افسانے ہی ہیں جسمیں اسکو ایک ظالم درندہ ثابت کیا گیا ہے۔جس نے اہل بیت ، شیعوں اور عام مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ ڈالے۔ امیر حجاج نے صرف ان لوگوں سے انتقام لیا اور انکو قتل و غیرہ کیا جو شورش اور بغاوت میں عملی کردار ادا کررہے تھے اور بدقماش اور بدفطرت ٹائپ کےلوگ تھے۔ حکومت وقت کے لئے ایک خطرہ وپریشانی کا باعث بنے ہوئے تھے۔ اس لئے حجاج نے نہ صرف انہی لوگوں کو تہہ تیغ کیا جو حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ پرامن لوگوں اور بے گناہ لوگوں پر کبھی اس نے ہاتھ نہیں اٹھایا۔ اس لئے یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ اس کے ظم و ستم سے عاجز آکر لوگ عرب چھوڑ کر ہندوستان چلے آئےتھے۔

    حجاج جب کوفہ کا گورنر ہوا تو اس نے کوفہ والوں سے بلکہ صحیح تو یہ ہے کہ ان عجمیوں سے بدلہ لیا جو مختار کے ساتھ تھے اور بنی امیہ کے مخالف تھے۔ سعادت نامہ کی روایت کو بے اضافہ لکھا جائے اور اوپر دئے ہوئے تاریخی واقعات کو دیکھیں تو بلامبالغہ معلوم ہوگا کہ یہ بنی ہاشم نہیں ہیں جو ہندوستان بھاگ کر آئے تھے۔ بلکہ کوفی اور عجمی تھے۔ اب رہا نسب نامہ، تو یہ ولکس کے قول کے مطابق ہمیشہ سے دستور رہا ہے، کہ مسلمانوں میں جو شخص مالدار ہوا، نسب نامہ تیار کرنے لگا۔ اس لحاظ سے بنی ہاشم سے،قریش سے یا کسی اور سے نسب کو جوڑنا کوئی مشکل امر نہیں ہے۔ اور یہ کام آج بھی جاری ہے۔
     
    • مفید مفید x 1
  2. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    مصنف کا حوالہ مل سکتا ہے؟
     
  3. Ishauq

    Ishauq -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 2, 2012
    پیغامات:
    9,612
    بڑا ہی عجیب سا مضمون ہے. سمجھ نہی آئی. کیا مضمون کی عجم سے مراد صرف شیعہ ہیں?
    اگر اس سے مراد سارے غیر عربی مسلمان ہیں تو کیا اسلام کو عجم میں نہی آنا چاہیے تھا???
     
  4. علی رضوان

    علی رضوان رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏دسمبر 28, 2014
    پیغامات:
    18
    اسحق بھائی، جی بالکل اس مضمون میں عجم سے مراد شیعہ ہی ہیں۔ کیونکہ اہل سنت و الجماعت کبھی اس قسم کی سازشوں و ریشہ روانیوں میں مبتلا نہیں ہوئی جس طرح یہ قوم ملوث ہوئی ہے۔ اقبال نے انہی عجمی مجوس اور انکی ہندوستان میں خفیہ سازشوں کی طرف اسطرح اشارہ کیا تھا

    جعفر از بنگال و صادق از دکن
    ،ننگِ ملت، ننگِ دین، ننگِ وطن

    (بنگال کا جعفر اور دکن کا صادق ملت اسلامیہ کیلئے باعث ننگ ، دین اسلامی کے لئے باعث عار اور وطن کے لئے باعثِ شرم ہیں)​
     
  5. نصر اللہ

    نصر اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2011
    پیغامات:
    1,845
    بڑا تنگ نظر سا مضمون لگ رہا ہے اور مخاطب کا انداز بالکل غیری معیاری ہے، بہرحال جو مشہور تاریخی باتوں کے علاوہ ہجرتوں کا ذکر ہے یہ کن تاریخی کتب سے ماخوز ہے..؟
    کوئی خاطر خوالہ حوالہ جات فراہم نہیں کیئے گئے.

    Sent from my CHM-U01 using Tapatalk
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں