اقسامِ اولیاء اللہ کے بیان میں !

ابوعکاشہ نے 'غیر اسلامی افکار و نظریات' میں ‏جون 14, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,919
    اقسامِ اولیاء اللہ کے بیان میں !
    مصنف : حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی


    نوٹ :: اس مضمو ن کو شیئر کرنے کا مقصد کسی پر تنقید نہیں لیکن لمحہ فکریہ یہ ہے کہ : ـ اعلی حضرت اور بریلوی حضرات نے نبیﷺ کو خدا کا درجہ دیا تو اہل دیوبند نے اپنے علماء اولیاء کو نبی ﷺ بنا ڈالا ـ صحابہ کرامؓ اس صف سے غائب ، سلف الصالحین علماء بھی غائب ـ اور خود امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ بھی جگہ نا بنا سکے ـ


    ابدال - یہ چالیس ھوتے ھیں، بائیس یا بارہ شام میں اور اٹھارہ یا اٹھائیس عراق میں رھتے ھیں !
    اخیار - پانچ سو یا سات سو ھوتے ھیں ، ان کو ایک جگہ قرار نہیں ،،سیاح ھوتے ھیں اور ان کا نام حسین ھوتا ھے -
    اقطاب -قطب العالم ایک ھوتا ھے، اس کو قطب العالم و قطبِ اکبر و قطب الارشاد و قطب الاقطاب و قطب المدار بھی کہتے ھیں ،، عالم غیب میں اس کا نام عبداللہ ھوتا ھے !
    اس کے دو وزیر ھوتے ھیں جو امامین کہلاتے ھیں، وزیرِ یمین کا نام عبدالملک اور وزیرِ یسار کا نام عبدالرب ھوتا ھے ،، اس کے علاوہ بارہ قطب اور ھوتے ھیں، سات تو سات اقلیم میں رھتے ھیں ان کو قطبِ اقلیم کہتے ھیں،،اور پانچ یمن میں ان کو قطبِ ولایت کہتے ھیں،،یہ عدد تو اقطابِ معینہ کا ھے، اور غیر معین ، ھر شہر اور ھر قریہ میں ایک قطب ھوتا ھے ! شیخ ابنِ عربی نے تو یہاں تک لکھا ھے کہ ھر بستی میں خواہ وہ کفار ھی کی ھو ایک قطب ھوتا ھے،، اس کلام کے دو مطلب ھو سکتے ھیں،، ایک تو یہ کہ وہ بظاھر وھاں کے ھی باشندوں میں سے ھو مگر اندر ھی اندر مسلمان ھو،،اور یہ بعید ھے ! دوسری صورت یہ ھے کہ وہ وھاں مقیم نہ ھو مگر وہ بستی اس کے تصرف میں ھو ،جیسا تھانیدار کہ اس کا تعلق شہر کے ساتھ دیہات سے بھی ھوتا ھے، اور ایک اور صورت جو ابنِ عربی کے ھی کلام سے مفہوم ھوتی ھے وہ یہ ھے کہ اس میں عقل نہ ھو ،،لہٰذا وہ شریعت کا مکلف ھی نہ ھو ( جس مذھب پر مرضی عمل کر لے ،،یا کسی بھی مذھب پر نہ چلے،،) ،، مگر ایسے آدمی کی خاص علامت ھے کہ اھلِ باطن اس کا ادب کرتے ھیں،،تو اھلِ باطن کو دیکھا جائے،،جس کا(کافر،پاگل ) قطب کا ادب وہ کرتے ھوں عام شخص بھی اس کا احترام اور ادب کرے، ورنہ ھر کافر کا معتقد نہ بنے،کیونکہ اس طرح تو جہاد وغیرہ سب بند ھو جائے گا،،
    اوتاد - یہ چار ھوتے ھیں ،،عالم کے چاروں کونوں میں رھتے ھیں،،
    عمد - یہ بھی چار ھوتے ھیں،، زمین کے چاروں گوشوں میں رھتے ھیں اور سب کا نام محمد ھوتا ھے !
    غوث - قطب الاقطاب کو ھی غوث کہتے ھیں، غوث ترقی کر کے فرد ھو جاتا ھے اور فرد ترقی کر کے قطبِ وحدت ھو جاتا ھے !
    نجباء - یہ ستر ھوتے ھیں اور مصر میں رھتے ھیں ،، سب کا نام حسن ھوتا ھے !
    نقباء -تین سو ھوتے ھیں،ملکِ مغرب میں رھتے ھیں ،، سب کا نام علی ھوتا ھے !(338،39 )
    اولیاء اللہ کی دو قسمیں ھوتی ھیں،ایک اھلِ ارشاد ،، ان میں اتم و اعم قطبِ ارشاد ھوتا ھے، یہ حضرات انبیاء کے حقیقی نائب ھوتے ھیں ، لوگوں کے قلوب میں انوار و برکات ان کی وجہ سے آتے ھیں، برکات سے فائدہ اٹھانے کے لئے ان کے ساتھ اعتقاد کا ھونا ضروری ھے،،ان کا طرز،،طرزِ نبوت ھوتا ھے،،
    دوسرے وہ اولیاء ھیں، جن کے متعلق خدمتِ اصلاحِ معاش و انتظامِ امورِ دنیویہ و دفعِ بلیات ھے کہ اپنی ھمتِ باطنی سے باذنِ الہی ان امور کی درستگی کرتے ھیں،،
    بعض علماء نے کرامت کی حد مقرر کی ھے مگر محققین کے نزدیک سوائے قرآن جیسا کوئی معجزہ لانے کے ،،باقی ھر چیز ولی سے ممکن ھے ،مثلاً بٖغیر باپ بچہ پیدا کرنا،یا کسی جماد کا حیوان بن جانا ،یا ملٰئکہ سے باتیں کرنا،،
    نیز جاننا چاھئے کہ ولی سے بعد از وفات بھی تصرفات و کرامات کا صدور ھوتا ھے اور یہ امر معنیً تواتر کی حد تک پہنچ گیا ھے(صٖفحہ،326،27 )
    شریعت و طریقت از مجدد الملۃ و حکیم الامۃ مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ

    منقول ۔۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
  2. بابر تنویر

    بابر تنویر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,318
    یعنی ان میں اور ان میں کوئ فرق نہیں۔ دو شہروں کی تقسیم صرف ظاہری ہے۔ اصل نہیں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,919
    نہیں ، انصاف یہی ہے کہ کچھ نا کچھ فرق تو ہے ۔ البتہ بنیادی عقیدہ و منہج میں انیس بیس کا ہی فرق ہے ۔ اور یہ سب خرافات بھی مشترکہ اثاثہ ہیں ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  4. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,397
  5. نصر اللہ

    نصر اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2011
    پیغامات:
    1,845
    بریلوی لوگ ان کی انہی باتوں اور عقائد کو دیکھ کر ہمارے اوپر الزام لگاتے ہیں کہ اگر ہم ایسے ہی تو تم کیسے ہو جبکہ ان کو یہ معلوم نہیں کہ اہلحدیث ایک خالص ایمان کا نام ہے جوان خرافات سے پاک وصاف ہے ان شاء اللہ۔
     
  6. T.K.H

    T.K.H رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏نومبر 18, 2014
    پیغامات:
    234
    حیرت ہے کہ جن لوگوں نے دینِ اسلام کے لیے شب و روز بے شمار قربانیاں دیں اور جن کی فضیلت قرآن مجید میں جگہ جگہ بیان ہوئی ہے وہ تو ان درجات میں سے ادنٰی درجہ بھی نہ پا سکیں اور جن شخصیات کا کوئی ثبوت قرآن و سنت میں نہ ہووہ ایسے محیر العقول درجات حاصل کر لیں کہ مرنے کے بعد ان کے کمالات میں ترقی ہوتی چلی جائے اور اسکا اتنا چرچا ہو کہ بات تواتر کی حد تک پہنچ جائے جس کی خبر سوائے قرآن وسنت کے ہر انسانی الہامی کتب میں پائی جائے۔جب اتنی بڑی بڑی کرامات صادر ہو سکتی ہیں تو کرامات کی حد مقرر کرنے کی کیا وجہ ہے کہ جس سے صرف قرآن مجید جیسی کوئی کتاب لانا مستثنیٰ ہو ؟ نعوذ باللہ من ذالک !
     
  7. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,323
    اور جو بارہ شام میں ہیں ان میں سے گیارہ داعش میں مل گئے اس کے علاوہ اٹھائیس میں سے ستائیس لگتاہے داعش کے ساتھ مل گئے ۔
    کوئی پوچھے کہ اتنی بڑی تعداد میں ابدال ہونے کے باوجود عراق و شام میں فساد کیوں ہورہا ہے اور بشار اور شیعہ رافضیوں کا قبضہ ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  8. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,919
    ایک مشہو راور سچا محاورہ ہے کہ
    " دشمن سے بچ گیا ہے لیکن دوست سے بچ کر کہاں جائے گا "
    یہی حال مندرجہ بالا مضون کے ناقل کا ہے ۔ آج کل اپنوں کے تیروں کے نشانے پر ہیں ۔ موصوف ویسے تو غامدی فکر سے متاثر ہیں ۔بخاری و مسلم کی احادیث کو اپنے عقلی دلائل کا نشانہ بناتے رہیں ۔ لیکن تصوف کی خرابیوں کے حوالے سے انہوں نے بہت سے غلطیوں کی نشاندہی کی تو اپنے ہی دشمن ہو گئے ۔ اور آج کل ان کے خلاف محاذ قائم ہے ۔ اور یہ محاذ ان لوگوں نے بنایا ہوا ہے جن کے بارے میں میری رائے تھی کہ یہ لوگ اختلاف کے آداب سے واقف ہے ۔ لیکن ان کی سطحی گفتگو دیکھ کر اور پڑھ کرمجھے غلطی کا احساس ہوا ۔ بلاشبہ مذہب پرستی ، شخصیت پرستی ور نفس کی پرستش ایسے ناسور ہیں کہ انسان کو کہیں نا کہیں شیطان کی پرستش پر مجبورکردیتے ہیں ۔ اللہ محفوظ رکھے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں