شروع کے روزے مشکل کیوں لگتے ہیں؟ استقبال رمضان سنت کے مطابق

عائشہ نے 'کچن کارنر' میں ‏جون 15, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    رمضان جیسے مبارک مہینے کی آمد پر جہاں ہر مسلمان کا چہرہ تروتازہ دکھائی دینے لگتا ہے وہیں ہر سال یہ فقرہ سننے میں آتا ہے کہ "شروع کے روزے مشکل لگتے ہیں پھر ٹھیک ہو جاتا ہے۔" تو سوال یہ ہے کہ شروع کے روزے مشکل کیوں لگتے ہیں؟ اس کا جواب سنت نبوی کی حکمتوں اور ذرا سی سائنس میں ملتا ہے۔
    ہمارے جسم میں قدرت کی جانب سے ایک گھڑی ہوتی ہے جس کی وجہ سے یہ کھانے پینے سونے جاگنے کے مقررہ اوقات کا عادی ہوتا ہے۔ آپ اسے جب جو چیز دیتے ہیں یہ آئندہ اسی وقت پر اس کی توقع کرتاہے جسے ہم طلب کہتے ہیں۔
    رمضان سے ایک ہفتہ قبل ہمیں اپنے جسم کو عن قریب بدلنے والے معمولات کا عادی بنانا شروع کر دینا چاہیے تا کہ ہم رمضان کا استقبال مکمل جسمانی اور روحانی اطمینان کے ساتھ کر سکیں۔
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی کہ ہر مہینے ایام بیض کے تین روزے رکھتے، اس کی وجہ سے ان کا مبارک جسم سال کے ہر موسم میں روزے رکھنے کی کیفیت سے آشنا ہوتا۔دن بڑے ہوں یا چھوٹے، موسم گرم ہو یا سرد، آپ ہر موسم میں روزے کا لطف اٹھا سکیں یہ اس سنت پر عمل کر کے ممکن ہے۔ اس کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان سے قبل شعبان میں خوب نفلی روزے رکھتے، جس کی وجہ سے ان کا پاکیزہ بدن اس موسم کے روزوں کا عادی ہو جاتا۔ اس کے بعد رمضان کے شروع کے روزے کبھی مشکل نہیں لگتے۔
    اب رمضان میں چند دن باقی ہیں۔ اس دوران ہم کچھ نکات پر عمل کر کے رمضان کا پہلا ہفتہ خوش گوار ترین بنا سکتے ہیں۔
    1- تہجد کے وقت اٹھنا شروع کردیں۔ رمضان کے لیے تقوی بھی حاصل ہو گا اور سحر خیزی کی عادت بھی پڑے گی۔ سنت پر عمل کرتے ہوئے رات کے تین حصے کر لیں۔ آخری حصے میں پہلے دن ہلکے قیام اللیل سے آغاز کریں، اور دورانیہ روز بڑھاتے جائیں۔
    2- تہجد کے وقت اٹھ کر دو گلاس پانی پینے کی عادت ڈالیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وضو کے بعد وضو سے بچا پانی پیتے تھے۔ اس کی بہت سی حکمتیں شروح حدیث میں مذکور ہیں لیکن اس کے طبی فائدے بھی کم نہیں۔
    3- ناشتے کا وقت فجر کے فورا بعد کی طرف کھسکانا شروع کر دیں۔ اس سے سحری کی عادت پڑے گی۔
    4- ناشتہ بھاری کریں ۔
    5۔ دوپہر میں بہت ہلکی چیزیں لیں جو اگلے ہفتے بند ہونے پر جسم احتجاج نہ کرے۔ ایک سیب یا ایک پیالہ سوپ بہتر ہے۔
    6- مغرب کے فورا بعد جوس، سوپ یا کچھ ہلکا پھلکا لیں۔رات کا کھانا عشا سے پہلے کھا لیں۔
    7- شام میں کیفین (چائے، کافی) اور تمباکو (نسوار، سگریٹ، پائپ، شیشہ، حقہ تمباکو والا پان) استعمال کرنے والے اسی ہفتے سے اس کو مغرب کے بعد تک لے جائیں۔ اگر آپ نے اس ہفتے اپنی عادت نہیں بدلی تو رمضان کا پہلا ہفتہ چڑچڑاتے گزرے گا۔ تمباکو اور کیفین کے عادی لوگ سردرد، چکر وغیرہ کی شکایت اسی وجہ سے کرتے ہیں کہ ان کا جسم بروقت مطلوبہ مقدار پوری نہ ہونے پر رد عمل ظاہر کرتا ہے۔ (نوٹ: یہ ایک طبی نکتہ ہے اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ تمباکو، کیفین، یا ایسے دوسرے نشوں کا عادی ہونا کوئی اچھی بات ہے یا راقمہ اس کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ نفس کو بے بس کر دینے والی ہر چیز سے بچنا چاہیے۔ )
    یہ وہ باتیں ہیں جومیرے ذہن میں تھیں، آپ لوگ اپنے تجربات کا اضافہ کرنا چاہیں تو مجھے خوشی ہو گی۔
    امید ہے کہ ان نکات پر عمل کر کے آپ کا رمضان ابتدا سے ہی خوش گوار گزرے گا۔ اور میرے حصے کی دعائیں مجھے ضرور پہنچا دیجیے گا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 11
  2. ام محمد

    ام محمد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 1, 2012
    پیغامات:
    3,120
    جزاک اللہ خیرااچهے مشورے تهے میں نے ابهی پڑهے .
    مجهے رمضان میں روزے رکهنے الحمد للہ کبهی مشکل نہیں لگے ایک تو نیت سے بهی فرق پڑتا ہے اور رمضان تو روزوں کا موسم ہی لگتا ہے سب روزے رکه رہے ہوتے ہیں اورالحمد للہ شوال میں بهی یہی چلتا ہے .
    لیکن بڑی دعا ہے کہ ایام بیض کے روزے بهی آسان ہوں میرے لیے.
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 6
  3. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    ماشاء اللہ اچھی بات ہے۔
    مجھے روزے مشکل نہیں لگ رہے لیکن روزمرہ کاموں کے جدول پر فرق پڑا ہے۔ تراویح سے سحر کے درمیان صرف چار گھنٹے ہیں اس وجہ سے دن میں سونا ضروری ہوتا ہے۔ پڑھنے کاکام فجر بعد ہو جائے تو ٹھیک ورنہ بعد میں وقت نہیں ملتا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. بابر تنویر

    بابر تنویر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,318
    میرا خیال ہے کہ ہم لوگ رمضان آنے سے پہلے ہی بھوک، پیاس اور دوسرے معاملات میں تبدیلی کے لیے ذہنی طور پر تیار ہوتے ہیں۔ شائد اس لیے کوئ زیادہ مشکل پیش نہیں آتی۔
    ویسے رمضان سے پہلے باوجود کوشش کے کھانے پینے کے معمولات میں کوئ تبدیلی ممکن نہیں ہوپاتی۔ شروع کے ایک دو روزوں میں چا‏ئے کی وجہ سے سر میں درد ہو جایا کرتی تھی۔ لیکن الحمد للہ اس سال ایسا نہیں ہوا۔
    سونے اور جاگنے کے معمولات میں رمضان میں کافی تبدیلی آجاتی ہے۔ صبح نماز کے بعد تقریبا 5 سے 9 بجے تک سونا، پھر آفس جانا، دو بجے واپسی پھر عصر سے پہلے اور بعد میں سونے کی کوشش کرنا ۔ نماز عشاء اور تراویح کے بعد پھر آفس اور 12 بجے تک واپسی اور پھر تقریبا ڈیڑھ گھنٹے کی نیند۔ اور پھر سحری کی تیاری۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں