افطاری کے مسائل

بابر تنویر نے 'ماہِ رمضان المبارک' میں ‏جون 29, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. بابر تنویر

    بابر تنویر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,318
    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    افطاری کے مسائل
    از قلم : شیخ رفیق طاہر حفظہ اللہ


    افطاری کا وقت :
    سورج غروب ہوتے ہی روزہ افطار کر دیں ۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے :

    إِذَا أَقْبَلَ اللَّيْلُ مِنْ هَا هُنَا وَأَدْبَرَ النَّهَارُ مِنْ هَا هُنَا وَغَرَبَتْ الشَّمْسُ فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ (صحيح البخاري : 1954)
    جب ادھر سے رات آ جائے اور دن ادھر کو چلا جائے اور سورج غروب ہو جائے تو روزہ دار کی افطاری کا وقت ہوگیا ۔

    افطاری میں جلدی کرنا:

    سورج غروب ہوتے ہی فورا روزہ افطار کر لینا چاہیے ۔ نبی مکرم ﷺ نے فرمایا :
    لَا يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الْفِطْرَ(صحيح البخاري : 1957)
    لوگ اس وقت تک بھلائی پر رہیں گے جب تک وہ جلدی افطاری کرتے رہیں گے ۔

    افطاری میں بلا وجہ تاخیر کرنا یہود ونصاری کا کام ہے ۔ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے :
    لَا يَزَالُ الدِّينُ ظَاهِرًا مَا عَجَّلَ النَّاسُ الْفِطْرَ لِأَنَّ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى يُؤَخِّرُونَ (سنن أبي داود : 2353)
    دین اس وقت تک غالب رہے گا جب تک لوگ افطاری میں جلدی کرتے رہیں گے , کیونکہ یہود ونصارى تاخیر سے افطار کرتے ہیں ۔

    جان بوجھ کر وقت سے پہلے روزہ افطار کرنے والوں کے لیے وعید :
    جس طرح سورج غروب ہو جانے کے بعد بلا وجہ تاخیر کرنا ممنوع ہے اسی طرح غروب آفتاب سے قبل جان بوجھ کر افطاری کرنا بھی ناجائز ہے ۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں :
    بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ إِذْ أَتَانِي رَجُلَانِ، فَأَخَذَا بِضَبْعَيَّ، فَأَتَيَا بِي جَبَلًا وَعْرًا، فَقَالَا: اصْعَدْ، فَقُلْتُ: إِنِّي لَا أُطِيقُهُ، فَقَالَا: إِنَّا سَنُسَهِّلُهُ لَكَ، فَصَعِدْتُ حَتَّى إِذَا كُنْتُ فِي سَوَاءِ الْجَبَلِ إِذَا بِأَصْوَاتٍ شَدِيدَةٍ، قُلْتُ: مَا هَذِهِ الْأَصْوَاتُ؟ قَالُوا: هَذَا عُوَاءُ أَهْلِ النَّارِ، ثُمَّ انْطُلِقَ بِي، فَإِذَا أَنَا بِقَوْمٍ مُعَلَّقِينَ بِعَرَاقِيبِهِمْ، مُشَقَّقَةٍ أَشْدَاقُهُمْ، تَسِيلُ أَشْدَاقُهُمْ دَمًا قَالَ: قُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ؟ قَالَ: هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يُفْطِرُونَ قَبْلَ تَحِلَّةِ صَوْمِهِمْ
    (صحيح ابن خزيمة : 1986)

    اس دوران کہ میں سو رہا تھا کہ خواب میں اچانک میرے پاس دو آدمی آئے , انہوں نے میرے بازوؤں سے پکڑا اور مجھے ایک دشوار گزار پہاڑ پر لے گئے , اور کہنے لگے کہ چڑھ ۔ میں نے کہا میں اسکی طاقت نہیں رکھتا ۔ تو انہوں نے کہا ہم آپ کے ساتھ تعاون کرتے ہیں ۔ میں نے چڑھنا شروع کیا حتى کہ میں جب پہاڑ کی چوٹی پر پہنچا تو وہاں سخت قسم کی آوازیں آنے لگیں۔ میں نے پوچھا کہ کیسی آوازیں ہیں ؟ تو انہوں نے بتایا کہ یہ جہنمیوں کی چیخ وپکار ہے ۔ پھر وہ مجھے لے کر گئے جہاں میں نے کچھ لوگوں کو پاؤں کے پٹھوں کے بل الٹا لٹکے ہوئے دیکھا ۔ جن کی باچھیں چیر دی گئی تھیں اوران سے خون بہہ رہا تھا ۔ میں نے پوچھا یہ کون لوگ ہیں ؟ انہوں نے بتایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو وقت سے پہلے روزہ افطار کر دیا کرتے تھے ۔
    جان بوجھ کر وقت سے قبل روزہ افطار کر دینے والوں کا اتنا عبرت ناک انجام ہے تو وہ لوگ جو روزہ رکھتے ہی نہیں ‘ بلکہ رمضان کے مہینے میں دن بھر کھاتے پیتے رہتے ہیں , ان کا انجام کیا ہوگا ؟!

    غلطی سے جلدی افطاری کربیٹھیں تو ....؟
    البتہ وہ شخص جو غلطی سے وقت سے قبل افطاری کر بیٹھے تو اس پر لازم ہے کہ حقیقت کا علم ہوتے ہی فورا کھانا پینا ترک کر دے اور اپنا روزہ مکمل کرے ۔ اور پھر جب افطار کا صحیح وقت ہو تو اس وقت روزہ افطار کرے ۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ذی شان ہے :
    مَنْ أَكَلَ نَاسِيًا وَهُوَ صَائِمٌ فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ فَإِنَّمَا أَطْعَمَهُ اللَّهُ وَسَقَاهُ(صحيح البخاري : 6669)
    جس شخص نے روزہ کی حالت میں بھول کر کھا لیا ,تو اس پر لازم ہے کہ وہ اپنا روزہ مکمل کرے ۔ یقینًا اللہ ہی نے اسے کھلایا اور پلایا ہے ۔

    وصال سے ممانعت :
    وصال کا معنى ہے ملانا ۔ افطاری کیے , اور آئندہ دن سحری کھائے بغیر روزہ رکھنا وصال کہلاتا ہے ۔ یا دوسرے لفظوں میں ایک دن سحری کھا کر روزہ رکھا جائے اور دوسرے یا تیسرے دن افطار کیا جائے تو یہ وصال ہے ۔ یعنی دو یا تین روزوں کو آپس میں ملا دینے کا نام وصال ہے ۔ اور شریعت اسلامیہ نے ایسا کرنے سے سختی کے ساتھ منع کیا ہے ۔البتہ نبی مکرم ﷺ کو اللہ تعالى نے اس کی اجازت دے رکھی تھی ۔ یہ آپ ﷺ کا خاصہ تھا ۔سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :

    نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْوِصَالِ قَالُوا إِنَّكَ تُوَاصِلُ قَالَ إِنِّي لَسْتُ مِثْلَكُمْ إِنِّي أُطْعَمُ وَأُسْقَى(صحيح البخاري : 1962)
    رسول اللہ ﷺ نے وصال سے منع فرمایا ۔ لوگوں نے کہا آپ بھی تو وصال کرتے ہیں ! آپ ﷺ نے فرمایا میں تمہاری طرح نہیں ہوں , مجھے کھلایا اور پلایا جاتا ہے ۔

    سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :

    نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْوِصَالِ فِي الصَّوْمِ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ الْمُسْلِمِينَ إِنَّكَ تُوَاصِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَأَيُّكُمْ مِثْلِي إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِ فَلَمَّا أَبَوْا أَنْ يَنْتَهُوا عَنْ الْوِصَالِ وَاصَلَ بِهِمْ يَوْمًا ثُمَّ يَوْمًا ثُمَّ رَأَوْا الْهِلَالَ فَقَالَ لَوْ تَأَخَّرَ لَزِدْتُكُمْ كَالتَّنْكِيلِ لَهُمْ حِينَ أَبَوْا أَنْ يَنْتَهُوا
    (صحيح البخاري : 1965)
    رسول اللہ ﷺ نے روزہ کے ساتھ روزہ ملانے سے منع فرمایا تو مسلمانوں میں سے کسی شخص نے کہا آپ بھی تو ایسا کرتے ہیں۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا تم میں سے میرے جیسا کون ہے ؟ میں رات گزارتا ہوں تو اللہ (خواب میں ہی) مجھے کھلا پلا دیتا ہے ۔ تو جب انہوں نے باز آنے سے انکار کیا تو آپ ﷺ نے انہیں ایک دن پھر دوسرے دن بھی وصال کروایا اور پھر انہوں نے چاند دیکھ لیا , تو آپ ﷺ نے فرمایا اگر یہ (چاند ) لیٹ ہوتا تو میں تمہیں اور زیادہ (وصال) کرواتا ۔ یہ آپ ﷺ نے انہیں ڈانٹے کے لیے کیا کیونکہ وہ باز نہیں آ رہے تھے ۔

    افطاری کے آداب :

    بسم اللہ پڑھ کر افطاری کریں ۔
    (صحیح بخاری : ۵۳۸۶)

    اور افطاری کرنے کے بعد یہ دعاء پڑھیں :
    ذَهَبَ الظَّمَأُ وَابْتَلَّتْ الْعُرُوقُ وَثَبَتَ الْأَجْرُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ (سنن أبي داود : 2357)
    پیاس چلی گئی , رگیں تر ہو گئیں , اور اجر ثابت ہوگیا ۔ ان شاء اللہ ۔

    انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
    كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُفْطِرُ عَلَى رُطَبَاتٍ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ فَإِنْ لَمْ تَكُنْ رُطَبَاتٌ فَعَلَى تَمَرَاتٍ فَإِنْ لَمْ تَكُنْ حَسَا حَسَوَاتٍ مِنْ مَاءٍ ( جامع الترمذي : 2356)
    رسول اللہ ﷺ نماز سے قبل چند تر کھجوریں کھا کر افطاری کرتے , اگر تر کھجوریں نہ ہوتیں تو خشک کھجوروں سے افطاری کرتے , اگر وہ بھی دستیاب نہ ہوتیں تو پانی کے چند گھونٹ بھرتے ۔

    کسی کو روزہ افطار کروانے کا اجر :

    رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں :
    مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ غَيْرَ أَنَّهُ لَا يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِ الصَّائِمِ شَيْئًا (جامع الترمذي : 807)
    جس نے کسی روزہ دار کو افطاری کروائی تو اسے بھی روزہ دار جتنا اجر ملے گا , اور روزہ دار کے اجر میں سے کچھ بھی کمی نہیں کی جائے گی ۔

    روزہ افطار کروانے والے کے لیے دعاء :

    أَفْطَرَ عِنْدَكُمْ الصَّائِمُونَ وَأَكَلَ طَعَامَكُمْ الْأَبْرَارُ وَصَلَّتْ عَلَيْكُمْ الْمَلَائِكَةُ (سنن أبي داود : 3854)
    آپکے ہاں روزہ داروں نے افطاری کی , اور آپکا کھانا نیک لوگوں نے کھایا , اور فرشتے آپکے لیے دعاء کریں ۔
    لنک
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  2. انا

    انا -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 4, 2014
    پیغامات:
    1,400
    جزاک اللہ خیرا
     
  3. Bilal-Madni

    Bilal-Madni -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 14, 2010
    پیغامات:
    2,469
    جزاک اللہ خيرا شيخ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. حیا حسن

    حیا حسن رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 6, 2017
    پیغامات:
    118
    استغفراللہ اللہ ہم سب کی بخشش فرمائے،
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  5. حیا حسن

    حیا حسن رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 6, 2017
    پیغامات:
    118
    سبحان الله
    بہت پیاری دعا ہے، پانی کا ایک گلاس پیتے ہی تازگی کا احساس ہوتا ہے، اور در حقیقت یہی محسوس ہوتا ہے کہ رگیں تر و تازہ ہو گئیں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  6. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,398
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں