فلسفہ وحدت الوجود کی ارزانی!

عفراء نے 'نقد و نظر' میں ‏جولائی 11, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عفراء

    عفراء webmaster

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2012
    پیغامات:
    3,918
    "وحدت الوجود" کی بات صحیح بھی ہو تو بھی اس میں خلجانات اور مزلات کا بہت کچھ احتمال ہے،اور خالق و مخلوقات کے بارے میں سوچنے کا یہ پیچیدہ انداز کتاب و سنت اور آثار صحابہ کی زبان و بیان کی سادگی کے مقابلے میں اجنبی اور عجیب سا لگتا ہے!اس لئے احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ خلجانات و مزلات میں پڑنے سے اجتناب کیا جائے!قیامت میں کسی انسان سے یہ ہرگز نہیں پوچھا جائے گا کہ تم نے کائنات کو اسماء و صفات کی تجلی سمجھا تھا یا ظل!حضرت شیخ اکبر جیسے ذہین اور باریک بیں لوگ دنیا میں بہت کم پیدا ہوتے ہیں،مگر انہوں نے اپنی ذہانت، بصیرت اور قابلیت جن نازک اور دقیق مسائل میں صرف کی ہے،ان میں مسائل کے جاننے کے نہ وہ مکلف تھے اور نہ امت پر اللہ اور رسولؐ نے یہ ذمہ داری ڈالی ہے!شیخ اکبر کے پیش کئے ہوئے ادب میں "یسر" کی جگہ شدید عسرت،دقت اور غموض ہایا جاتا ہے!وہ محدث اور فقیہ جس نے کتاب و سنت کی روشنی میں صرف وضو کے مسائل اور آداب بتائے ہیں،اس کی تنہا یہ سعی وحدت الوجود کے پورے ادب پر بھاری اور اللہ اور رسولؐ کے نزدیک مقبول اور مشکور ہے"

    ماہر القادری
    فاران_اپریل۱۹۶۲‬
    بحوالہ فیس بک
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
  2. نیر مدنی

    نیر مدنی رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏دسمبر 13, 2013
    پیغامات:
    94
    یہ کہنا کہ ۔۔ وحدۃ الوجود۔ صحیح بھی ہو ، یہ تعبیر غلط ہے کیونکہ وحدۃ الوجود کا نظریہ باطل ہے اور ایسا عقیدہ رکھنے والامسلمان نہیں آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چھوٹی بچی ۔۔ جس کے لئے حدیث میں جاریہ کا لفظ آیا ہے۔۔ سے پوچھا ۔اللہ کہاں ہے اس نے بر جستہ جواب دیا :آسمان میں ،پھر پوچھا :میں کون ہوں ۔جواب دیا :اللہ کے بندے اور رسول۔یہ جواب سنکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا یہ جنتی ہے۔ ۔۔ یہ صوفیؤن کا نظریہ ہے مسلمانوں کو اس سے بچنا چاہئے ۔واللہ اعلم بالصواب
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • مفید مفید x 1
  3. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    اصل میں یہ ماہرالقادری کی تحریر کا ایک اقتباس ہے۔ اقتباس میں خامی یہ ہوتی ہے کہ سیاق معلوم نہیں ہو سکتا۔ پھر بھی معلوم یہی ہوتا ہے کہ مصنف نے وحدت الوجود کے فلسفے کا رد کرتے ہوئے یہ کہا ہے کہ اگر فرض کیا جائے کہ یہ بات صحیح ہو تو بھی اس میں وقت خرچ کرنے والا کمتر ہے اس لے ابن عربی نے کوئی کارنامہ نہیں کیا، اس سے بڑا کارنامہ امت کو نماز و وضو کے مسائل سکھانا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ وحدت الوجود کی بحث ایک بے کار کام ہے۔ مجھے اس میں کوئی خلاف شرع بات معلوم نہیں ہوتی۔ الہیات کا ماہر اپنے انداز میں بات کرتا ہے، ادیب اپنے طریقے سے بات کہتا ہے لیکن دفاع تو دونوں اسلامی عقیدے کا کر رہے ہوتے ہیں۔ ہمیں دوسروں کے اسلوب کو بھی سمجھنا چاہیے۔
    عفرا اس مفید اقتباس کو شریک مجلس کرنے کا شکریہ۔ مجھے یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوتی ہے کہ ہماری نئی نسل پہلوں کے کام سے واقف ہے اور ان سے رشتہ برقرار رکھے ہوئے ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں