تنقید اور احترام شخصیت

عفراء نے 'نقد و نظر' میں ‏جولائی 20, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عفراء

    عفراء webmaster

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2012
    پیغامات:
    3,918
    وہ شخص انتہائی بدبخت ہے جس نے اپنے اگلے پچھلے بزرگوں پر تنقید کو محبوب مشغلہ بنالیا ہو،مگر یہ بھی ہوتا رہا ہے کہ اخلاف نے اسلاف کی بھول چوک پر ادب کے حدود کے اندر رہ کر تنقید کی ہے۔اگر دین میں نقد و احتساب کی روایت نہ ہوتی تو پھر تفاسیر،مغازی،احادیث و سیر اور فقہ و کلام میں جو کچھ اگلے لوگ لکھ دیتے ان کی بس نقل در نقل ہوتی چلی آتی اور کھرا کھوٹا اور حق و باطل اس قدر گڈمڈ ہوجاتے کہ آنے والی نسلیں ان میں امتیاز ہی نہ کرسکتیں۔اللہ تعالیٰ ان اہلِ علم،اربابِ تحقیق اور ناقدین پر اپنی رحمت نازل فرمائے جنہوں نے حق کے معاملہ میں کسی شخصیت کے احترام کو حائل نہیں ہونے دیا اور انہوں نے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی الگ کر کے دکھا دیا۔

    ماہر القادری
    اقتباس از ‏فاران_نومبر۱۹۵۵‬
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 5
  2. نیر مدنی

    نیر مدنی رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏دسمبر 13, 2013
    پیغامات:
    94
    تنقید براے تنقید نہیں بلکہ تنقید براے اصلاح ہونی چاہئے جیساکہ ہمارے اسلاف کا شعار تھا علامہ معلمی ،شیخ ناصرالدین البانی ،شیخ ابن بازرحمھم اللہ اورموجودہ وقت میں ڈاکٹرسید عابدی ،شیخ ارشاد الحق اثری وغیرھما واضح مثال ہیں ۔
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں