پردہ اٹھتا ہے! ماھرالقادری

ابوعکاشہ نے 'نقد و نظر' میں ‏اگست 11, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,921
    پردہ اٹھتا ہے!
    مضمون نگار : ماھرالقادری
    فاران جنوری1952ء
    ٖFaran January 1952


    شاعرو ادیب "ماھرالقادری " کا ابوالکلام آزاد رحمہ اللہ کی سیرت پر ایک مضمون پڑھا ــ نہیں ، شاید سیرت پر نہیں بلکہ ان پر تنقید ہے ـ انہوں نے اعتراض کیا ہے کہ مولانا بہت بڑی شخصیت ہونے کےساتھ شاید مغرور ، متکبر بھی تھے ـ علاوہ ازیں ان کے ایران ، عراق ، لبنان کے سفرناموں پر بھی نقد ہے کہ وہ کبھی وہاں نہیں گئے ـ ان کا آبائی گاؤں دہلی نہیں بلکہ کھیم کرن تھا ـ لیکن انہوں نے کبھی تذکرہ نہیں کیاـ اس کے علاوہ بھی بہت کچھ لکھا ہے ـ جتنی بڑی شخصیت ہوگی ـ اس پر اعتراض بھی اسی کثرت سے ہوتے ہیں ـ عموما بڑی شخصیت بڑوں پر اعتراض نہیں کیا کرتی ـ میرے علم میں نہیں کہ اس مضمون کا کہیں رد ہے یا نہیں ـ یہ تنقید کہاں تک درست ہے ـ یہ پڑھنے والے ہی بتائیں گے ـ ہم مکمل مضمون نقل کردیتے ہیں ـ

    مضمون کا "حوالہ"
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,921
    پردہ اٹھتا ہے!
    یہ مضمون بہت سوں کو حیرت میں ڈال دے گا،کسی کسی خوش فہم کو شاید پوری طرح یقین بھی نہ آئے کہ جو کچھ کہا جا رہا ہے اس میں اصلیت کتنی ہے اور "سخن طرازی" سے کس حد تک کام لیا گیا ہے!بہت سے لوگ سوچ میں ڈوب جائیں گے کہ ہم یہ کیا پڑھ رہے ہیں،جن باتوں کا سان گمان بھی نہ تھا،وہ باتیں بے نقاب ہو کر سامنے آرہی ہیں،عجیب بلکہ عجیب ترانکشاف!مگر لوگوں کی حیرت واقعات کو تو نہیں بدل سکتی،کوئی سر سے پیر تک چاہے حیرت میں ڈوب ہی کیوں نہ جائے اس طرح غرقِ حیرت ہوجانے سے حقیقت اور واقعیت تو نہیں چھپ سکتی،اربابِ نظر کی خدمت میں میری مخلصانہ گزارش ہے کہ وہ حیرت اور خوش فہمی،عقیدت اور حسنِ ظن سے اگر بالکل خالی الذہن نہیں ہوسکتے تو کم سے کم اس کے غلبہ اور شدت کو کم کر کے اس مضمون کا مطالعہ فرمائیں۔
    مولاناابو الکلامؔ آزاد کے سفرِ عراق و ایران اور مصر میں تعلیم حاصل کرنے کے بارے میں کچھ باتوں کی بھنک جب راقم الحروف کے کان میں پڑی تو مجھے خود بہت تعجب ہوا،شروع شروع میں دل کو کسی طرح یقین ہی نہ آتا تھا کہ اتنا بڑا آدمی خود اپنے بارےمیں اس قسم کی غلط بیانیوں سے کام لے سکتاہے،دل بہت دن تک یہی تاویلیں کرتا رہا کہ بڑے آدمیوں کے بارے میں کچھ غلط اور بے سروپا باتیں بھی مشہور ہوجاتیں ہیں بلکہ مشہور کردی جاتی ہیں،کیا عجب ہے کہ یہ باتیں بھی اسی قبیل کی ہوں۔۔۔۔سب سے پہلےدہلی کے مشہور علمی ماہنامہ"برہان" میں مولوی مہر محمد خاں صاحب شہابؔ مالیرکوٹلوی کا ایک مضمون میری نظر سے گزرا،اس مضمون کے پڑھنے کے بعد خیال ہوا کہ باتوں کو اب تہمت و الحاق یا محض افواہ سمجھ کر نظرانداز نہیں کیاجاسکتا،معاملہ اب زبان و گوش تک ہی محدود نہیں رہا،بات خامہ و قرطاس تک آپہونچی ہے۔
    مگر سنی سنائی باتوں پر جھٹ سے فیصلہ کر دینا بے احتیاطی ہی نہیں،بے دانشی اور ناانصافی بھی ہے،لہذا ابھی تک میں نے کوئی قطعی رائے قایم نہیں کی لیکن ہاں!یہ ضرور ہوا کہ شروع شروع میں جن باتوں نے مجھے غرقِ حیرت کردیا تھا اس حیرت میں کمی آگئی،یہ باتیں بہرحال تحقیق طلب تھیں اور میں نے جستجو شروع کر دی اسی عرصہ میں مشہور صحافی اورانشاپرداز جناب رئیس احمد جعفری کا ایک مقالہ "فاران" میں چھپنے کے لئے آیا،یہ مقالہ مولانا ابوالکلام آزادؔ کےسفرِ عراق و ایران کے متعلق تھا ،جس میں اس بات کو کنایوں،اشاروں اور استعاروں سےہٹ کر، دو ٹوک انداز میں پیش کیا گیا کہ مولانا آزادؔ کے عراق و ایران کی سیاحت وسفر کا واقعہ ایک افسانہ سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا،میری جگہ کوئی اور ہوتا تو شاید اس مضمون کو اپنے رسالے میں فوراً چھاپ دیتا کہ اس طرح کچھ نہ ہوگا تو کم سےکم لوگوں کو گرمئ محفل اور بحث و سخن کے لئے تو مسالہ مل جائے گا،مگر"فاران" کا ایک ایک صفحہ اس کا شاہد ہے کہ میں نے سستی شہرت کے لئے اس قسم کی بےاحتیاطیوں کا ارتکاب نہیں کیا،گرمئ محفل اور ہنگامہ آرائی میرے پروگرام میں شامل نہیں ہے،مسلمان اور پھر انکے ۔۔واہی تباہی باتیں منسوب کردینا بہت بڑااخلاقی جرم ہے،"فاران" اس روشِ عام سے ہمیشہ بچ کر چلا ہے اور اس توفیق پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہے۔
    میں ابھی واقعات کی چھان بین ہی کر رہا تھا کہ اتنے میں سہ روزہ "مدینہ"(بجنور)(مورخہ17اگست1951ء) کا ایک شمارہ نظر سے گزرا،جس میں اخبار مدینہ کے ایڈیٹر نےمولانا ابوالکلام آزادؔ سے مل کر بعض مسائل پر بالمشافہہ گفتگو کی تھی اور اس میں مولانا کے سفرِ عراق کا بھی ذکر آیا۔۔۔۔اب تک اس سلسلہ میں بہت سی باتیں میرے علم میں آچکی تھیں اور میں چاہتا تو ان معلومات اور اطلاعات کو منظرِ عام پر لے آتامگر ضمیر نے اس کی اجازت نہ دی،دل نے کہا اور وجدان نے اس کی تائید کی کہ مولاناابوالکلام آزادؔ جن سے ان واقعات کا تعلق ہے،خود ان سے استفسار اور تحقیق کرناضروری ہے،چوں کہ یہ ان کی ذات کا معاملہ ہے اس لئے صاحبِ ممدوح بہتر طریقہ پرروشنی ڈال سکیں گے،چنانچہ میں نے ایک نیازنامہ مولانا موصوف کی خدمت میں31اگست1951ء کو رجسٹری کے ذریعہ روانہ کیا،جسے بلفظہ درجِ ذیل کیا جاتا ہے:
    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
    صاحب المجددالکرم دامت معالیکم!
    السلام علیکم وعلیٰ من لدیکم!جناب والا سے چند ضروری باتیں دریافت طلب ہیں:
    ۱ ۔مکہ مکرمہ آپکا مولد بتایا جاتا ہے مگر آپ کا منشاء کونسا مقام ہے؟
    ۲۔"الہلال"کے سرورق پر "المکنی بابی الکلام الدہلوی" چھپتا رہاہے،"دہلی" کی مرزبوم سے آپ کی کیا نسبت اور کیا تعلق ہے؟
    ۳۔کیا"قصور(پنجاب) سے آپ کا کوئی خاندانی تعلق ہے؟
    ۴۔"غبارِخاطر" میں آپ نے مصر،ایران،شام اور عراق کے سفر کا ذکر فرمایا ہے یہ سفر آپنے کس سنہ اور کس ماہ یا مہینوں میں فرمایا تھا؟
    ۵۔(الف) مسٹرمہادیو ڈیسائی(آنجہانی) نے آپ کے حالاتِ زندگی لکھے ہیں،جن کا اردو ترجمہ مسٹر آصف علی نے کیا ہے اس میں لکھا ہے کہ آپ نے جامعہ ازہر میں تعلیم پائی تھی،براہِ کرم مطلع فرمایا جائے کہ آپ کس سنہ میں جامعہ ازہر کے طالبِ علم رہے ہیں؟
    (ب) آپ کے زبانی حوالہ کی بنیاد پر یہ بھی لکھا گیا ہے کہ آپ کی شیوخ جامعہ ازہر سے علمی صحبتیں رہی ہیں،اس سلسلہ میں بھی سنہ کی ضرورت ہے۔
    جناب والا کی گوناگوں مصروفیات کو دیکھتے ہوئے مختصر سے مختصر عریضہ لکھا گیا ہے تاکہ جناب کم سے کم وقت میں جواب عنایت فرما سکیں،ان پانچ سوالوں کے لئے زیادہ سے زیادہ پانچ سطروں کے لئے(بلکہ اس سے بھی کم) جناب کو زحمت کرنا ہوگی۔
    یقین ہے کہ جواب سے ضرور مفخر فرمایا جائے گا!
    نیاز کیش:ماہرؔالقادری

    دو ہفتہ سے کچھزائد میں نے جواب کا انتظار کیا،جب اٹھارہ دن تک جواب نہ آیا تو میں نے یاددہانی کے لئے دوسرا عریضہ(پہلے رجسٹرڈ خط کا نمبر (193) اور دوسری رجسٹری کا نمبر (908)ہے!) مولانا ابوالکلام آزادؔ کی خدمت میں 18ستمبر 1951ء کو رجسٹری کے ذریعہ ہیبھیجا،جس کی یہ عبارت ہے:
    گرامی منزلت دامت معالیکم!
    ہدیہ سلام ورحمت!میں نے ایک رجسٹرڈ نیازنامہ 31اگست کو خدمتِ گرامی میں گزرانا تھا اس کے جوابکے لئے چشم براہ ہوں،براہِ کرم جواب جلد عنایت فرمایا جائے۔
    والسلام
    نیازمند:ماہرؔالقادری
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,921
    انقلابِ تقسیم ہند کے بعد پاکستان اور ہندوستان دونوں حکومتوں میں ڈاک کا انتظام زیادہ اچھا نہیںرہا،اس لئے میں نے بہ نظرِ احتیاط مولانا آزادؔ کی خدمتِ گرامی میں دونوں خط رجسٹری کے ذریعہ حاضر کئے تھے کہ گم ہونے کا امکان باقی نہ رہے،میں بہت دنوں تک انتظار کرتا رہا کہ اب جواب آتا ہے،تب جواب آتا ہے مگر افسوس ہے کہ اس باب میں مجھے مایوس ہی ہونا پڑا،پہلے خط کو لکھے ہوئے ساڑھے تین ماہ ہوچکے لیکن مولاناممدوح کی طرف سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
    مولاناابوالکلام آزادؔ یقیناً عظیم شخصیت کے مالک ہیں اس سے انکار بلکہ اس میں شبہ کرنےکی جرات بھی کوئی نہیں کرسکتا مگر مراسلت و گفتگو کا ایسا معاملہ ہے کہ اس میں رتبہ،منصب اور مراتب کا امتیاز روا نہیں رکھا جاتا،اکابر،اصاغر کے خطوں اور نیازناموں کے جواب بھی عنایت فرما دیا کرتے ہیں اور ان کو اپنی محفلوں میں بار پانے کیاجازت بھی عنایت فرماتے ہیں،اگر ایسا نہ ہو اور بڑے آدمی صرف اپنے ہی جیسے بڑےآدمیوں سے ربط ضبط رکھنا پسند کریں اور چھوٹے آدمیوں کو لائقِ خطاب اور سزاوارِالتفات ہی نہ سمجھیں تو پھر بڑے آدمیوں کی زندگی خود ان کے لئے اجیرن بن کر رہ جائے،اس لئے کہ قریوں،قصبوں،شہروں اور ملکوں میں بڑے آدمی تو گنتی ہی کہ ہوتے ہیں اور کہیں کہیں تو ایک آدھ ہی ہوتا ہے تو ایسی صورت میں وہ اپنے گھروں میں بندبیٹھے رہیں کہ جب ان کے جوڑ کا کوئی آدمی آئے گا اسی وقت لب ہائے مبارک کو جنبش ہوگی،اگر بڑے آدمیوں کا یہی دستور رہتا تو تمدن اور ترقی،فیض و استفادہ،علم واطلاع تحقیق و تفحص کی سعادتوں سے دنیا محروم رہتی۔
    گاندھی جی کی مصروفیات کا بھلا کوئی ٹھکانا تھا اور ان کی شخصیت تو روزولٹ،چرچل اور اسٹالن سےبھی بلند تھی مگر وہ بھی معمولی معمولی لوگوں کے خطوں کا جواب دیا کرتے تھے،مسٹرکلیم الرحمٰن (جو منٹو سرکل ہوسٹل مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے نگران تھے) مجھے ایک خط دکھایا تھا جو مسٹر ولبھ بھائی پٹیل آنجہانی نے ان کے ایک استفسار کے جواب میں بھیجا تھا،یہ خط دراصل گاندھی جی کے نام روانہ کیا گیا تھا اس مکتوب کا دفتری تعلق چونکہ سردار پٹیل نائب وزیراعظم حکومت سے تھا اس لئے مہاتما جی نے وہ خط مسٹر پٹیل کے پاس بھیجدیا اور مسٹر پٹیل نے مکتوب نگار کو جواب دیا اور خط پر خود انکے دستخط ثبت تھے حالانکہ اس کام کو سردار پٹیل کے سکریٹری بھی انجام دے سکتے تھے۔
    شیخ الہند حضرت مولانا محمود الحسن،حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی،امیر شکیب ارسلان،عوام کےخطوں کا جواب دیا کرتے تھے،"برنارڈشا" اپنی انتہائی ادبی اور علمی مصروفیات کے باوجود خطوں کے جواب دینے میں بخیل نہیں تھا اور ظاہر ہے خط لکھنےوالوں میں رڈیارڈ کپلنگ،ایچ،جی،ویلز اور چرچل جیسی شخصیت کے لوگ کہاں ہوسکتےتھے!میری سادگی پر شاید لوگ ہنسیں گے کہ میں نے لفافہ نہیں ایک جوابی کارڈ علامہ اقبالؔ مرحوم کی خدمت میں بھیجا،یہ میرے اوائل شباب کا واقعہ ہے میں ان دنوں اپنےوطن (کسیر کلاں،ضلع بلند شہر) میں تھا،اقبالؔ نے خود اپنے ہاتھ سے جواب لکھ کرروانہ فرمایا،مجھے جہاں تک یاد پڑتا ہے آٹھ دن کے اندر اندر جواب آگیا تھا۔۔۔۔سناہے کہ پنڈت جواہر لال نہرو خطوں کا جواب دینے میں خاص طور پر فیاض واقع ہوئے ہیں۔
    میں یہ بھی مانتا ہوں کہ بعض خطوں کے جواب نہیں دیئے جاتے،یعنی ایسے خطوط جن سے خواہ نخواہ کی چھیڑ اور نزاع مقصود ہو،یا جن کے جواب میں مکتوب الیہ کو بہت زیادہ کاوش کی ضرورت اور فرصت درکار ہو اور سرسری طور پر جواب دینے سے الجھنیں پیدا ہونے کا خطرہ ہو یامکتوب نگار کے بارے میں مکتوب الیہ کو اس کا علم ہو کہ وہ اس سے کد،دشمنی اورعداوت رکھتا ہے اور اس مرسلت،گفت و شنید اور نامہ و پیغام کا مقصد کسی فتنہ کو ہوادینا ہے۔۔۔۔۔۔۔مگر میرا خط اس طرح کا خط نہیں تھا مولانا ابوالکلام آزادؔ نے مجھ خاک نشین اور ہیچمدان کا شاید نام بھی نہیں سنا ہوگا،میرا خط ان کے پاس بالکل ایک اجنبی شخص کی تحریر کی حیثیت سے پہونچا،میں نے ان سے کوئی علمی مسئلہ بھی دریافت نہیں کیا کہ اس کے لئے طویل فرصت درکار ہوتی اور نہ میں نے ان کے کسی علمی،ادبی،سیاسی اور مذہبی نظریہ پر کوئی تنقید لکھ کر ان کی خدمت میں بھیجی کہ اسکا سرسری جواب بہت سے فتنوں کا باعث ہوسکتا تھا،میرے استفسار کے جواب کے لئےمولانا ابولکلام آزادؔ کو ذرا سی بھی زحمت گوارا کرنے کی ضرورت نہ تھی،تین چار منٹ میں جواب لکھا یا لکھوایا جا سکتا تھا،مولانا موصوف حکومتِ ہند کے وزیر تعلیم ہیں،مددگاروں،کام کرنے والوں اور ماتحتوں کی ہر قسم کی سہولت بھی ان کو میسرہے۔۔۔یہ باتیں اہم اس لئے تھیں کہ زبانوں سے نکل کر کاغذ پر آچکی تھیں ان کی حیثیت محض "افواہ" کی نہیں رہی تھی،یہ بات مولانا آزادؔ کے علم میں تھی،اس صورتمیں غلط فہمی رفع کرنے کے لئے میرے سوالوں کا جواب دینا اور زیادہ ضروری تھا کہ جواب نہ دینے اور سکوت اختیار کرنے سے غلط فہمیاں اور مضبوط اور شاخ در شاخ ہوجائیں گی۔
    پھر یہ بات بھی نہیں ہے کہ مولانا آزادؔ خطوں کے جواب دینے میں فطرتاً بے پروا واقع ہوئے ہوں اورخطوں کا جواب نہ دینا اور اس معاملہ میں بے نیازی برتنا ان کی عادت ہو "غبارِخاطر" کے مقدمیں خود مولانا کے پرائیوٹ سکریٹری محمد اجملؔ صاحب نے لکھا ہے:
    "مولانا کوسینکڑوں خط لکھنے اور لکھوانے پڑتے ہیں۔"
    میں نے اوپر جوکچھ کہا ہے وہ مفروضات اور قیاس آرائیاں نہیں ہیں یہ واقعات ہیں جو بتاتے اور ظاہرکرتے ہیں کہ میرے نیاز نامہ کے جواب دینے سے مولانا ابوالکلامؔ کا پہلو تہی کرنایقیناً "معنیٰ خیز" ہے اورمولانا آزادؔ نہیں چاہتے کہ ان چیزوں پر گفتگو ہو،یہ باتیں کھل کر سامنے آئیں اورواقعات بے نقاب ہوں۔
    میں عند اللہ اور عندالناس ہر ذمہ داری سے بری ہوں کہ تحقیق و استفسار کی جو ممکنہ کوشش میرے بس میں تھی وہ کرچکا مولانا آزادؔ کی خدمت میں عریضہ اسی غرض کے لئے بھیجا تھا کہ یہ باتیں محض غلط اندیشی اور غلط فہمی پر اگر مبنی ہیں تو وہ اس کا ازالہ فرمادیںگے،اس سے اور اچھی کیا بات ہوسکتی ہے کہ کسی بڑے آدمی کی ذات اور شخصیت کے بارےمیں کوئی غلط فہمی اس کے جیتے جی لوگوں میں پیدا ہو اور اس کو وہ خود دور کر دے مولانا آزادؔ کو زندگی ہی میں اس کا موقع ملا مگر وہ اس موقع سے فائدہ اٹھانا نہیںچاہتے ،کیوں؟ اس کا جواب آپ کو آگے ملے گا،شاید اس موقع سے فائدہ نہ اٹھانے ہی میں وہ اپنی بہتری سمجھتے ہیں۔
     
  4. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,921
    چند گزارشیں:
    دنیا میں ہر طرح کے لوگ پائے جاتے ہیں،کیا عجب ہے کہ کوئی صاحب میری اس تحریر کو مسلم لیگ اورکانگریس کی کشمکش کا انتقامی نتیجہ قرار دیں،خدا جانتا ہے کہ لیگ اور کانگریس کی کشمکش سے دور کا واسطہ بھی نہیں ہے اور مولانا آزادؔ کو خدانخواستہ بدنام کرنے اورانکی بلند شخصیت کو مجرور کرنے کے لئے یہ کام کرنا تھا تو اس کا سب سے زیادہ مناسب وقت تقسیم ہند کا زمانہ تھا جبکہ کانگریس اور مسلم لیگ کے بہت سے جوشیلے کارکن ایک دوسرے کی پگڑیاں اچھال رہے تھے،یہ بحث میں اس وقت چھیڑتا تو ایک طبقہ میں مقبولیت حاصل ہوسکتی تھی مگر اس قسم کی ضمیر فروشانہ مقبولیت کا تصور نہ اس وقت میرے ذہن میں تھا اور نہ اب ہے ،اس طرح کی اوچھی باتوں سے مجھے ہمیشہ نفرت رہی ہے۔
    ہندوستان بٹ گیا،پاکستان بنے ہوئے بھی چار سال ہوچکے،لیگ اور کانگریس کی نزاع کبھی کی ختم ہوچکی،ہندوستان میں جو مسلمان رہتے ہیں تقسیم ہند سے قبل چاہے ان کی روش کچھ بھی رہی ہو مگر اب وہ مظلومیت کی زندگی بسر کر رہے ہیں اس لئے پاکستانی مسلمانوں کےتمام مظلوم بھائیوں سے ہمدردی ہے اور وہ کسی کے بارے میں برا جذبہ نہیں رکھتے۔۔۔۔۔اگر میں پاکستان کے بجائے ہندوستان میں ہوتا اور ان واقعات کا انکشاف ہوتا تو میں وہاں بھی اس انکشاف کو منظرِ عام پر لے آتا۔
    کہا جاسکتا ہےکہ اس وقت اس انکشاف کی آخر کون سی ضرورت محسوس ہوئی!اس کے جواب میں عرض ہے کہ اسی وقت چونکہ یہ واقعات منکشف ہوئے اس لئے ان کو ظاہر کیا جارہا ہے اگر وہ اس سے پہلےمعلوم ہوجاتے تو اسی وقت ان کو آشکار کردیا جاتا اور ہر وہ بات جو کسی واقعہ کی غلطی ظاہر کرتی ہو اس کے لئے کسی موسم وقت اور زمانہ کی قید نہیں ہے سوائے اس صورت کے جبکہ اس کے اظہار سے کسی بڑے فتنہ کے پیدا ہونے کا اندیشہ اور کسی وقومی،دینی اور اخلاقی نقصان کا خطرہ ہو۔
    آگر کوئی شخص اس بات کا اعلان کرے کہ "ماہرؔ القادری شراب پیتا ہے " تو اس کے بارے میں کئی طرح کی رائیں ہوں گی،کوئی کہے گا کہ مسلمان کے کسی گناہ اور اخلاقی کمزوری کااس طرح افشا نامناسب ہے،چھپانا،چشم پوشی سے کام لینا اور نظرانداز کردینا ہی بہتر ہے ،جو کوئی بندوں کے عیب چھپاتا ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے عیبوں کوچھپائے گا ،کہیں سے آواز آئے گی کہ ممکن ہے کہ اپنی زندگی کے پچھلے دور میں ماہرؔشراب پیتا ہو اور اس نے اب شراب خواری سے توبہ کرلی ہو،کیا کہنے والا اپنی آنکھ سےماہرؔ کو شراب پیتے ہوئے دیکھ آیا ہے،کوئی کہے گا کہ فاسق اور فجار اسی قابل ہیں کہ ان کو رسوا کیا جائے تاکہ دوسروں کو عبرت اور نصیحت ہو۔۔۔۔۔غرض اس باب میں لوگوں کی مختلف رائے ہوں گی مگر اکثریت کا رجحان "پردہ پوشی" کی جانب ہی ہوگا،مگر میں یہ کہوں کہ میں نے دارالعلوم دیوبند میں تعلیم پائی ہے اور حضرت مولانا انورؔ شاہ مرحوم نے اپنے ہاتھ سے میرے سر پر دستارِ فضیلت باندھی ہے"حالانکہ میں نے دیوبند کے مدرسہ میں کبھی تعلیم نہیں پائی اور جب وہاں میں نے پڑھاہی نہیں تو دستارِ فضیلت اور سندِ تکمیل کا سرے سے سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،ہاں!تو میری اس غلط بیانی کے سلسلہ میں سب کی ایک رائے ہی ہوگی،دو یا اس سے زیادہ رائیں ہو ہی نہیں سکتیں،جو شخص واقفِ حال ہوگااس کا فرض ہوگا کہ وہ میری اس غلط بیانی کی تردید کرے!میری اخلاقی کمزوریوں کےاعلان و اظہار اور میری غلط بیانی کی تردید کی نوعیت ایک جیسی نہیں ہے،اس کا حال ایسا ہی ہے جس طرح تاریخی غلطیوں اور علمی فروگزاشتوں پر احتساب کیا جاتاہے۔۔۔۔۔اب اگر کوئی شخص کسی کی شخصیت اور ذات و صفات پر ایمان بالغیب رکھتا ہو اوراس نے یہ طے ہی کر لیا ہو کہ "میں فلاں شخصیت کے بارے میں کچھ سننا ہی نہیںچاہتا ،کیسی ہی روشن دلیلیں کیوں نہ لائی جائیں مگر میری عقیدت اور حسنِ ظن میں کمی نہیں آسکتی تو اس ذہنیت کے افراد کو افسوس ہے میں مطمئن نہیں کرسکتا اور ان کی دشنام طرازیوں کو میں پہلے ہی معاف کئے دیتا ہوں،میرے مخاطب وہ اہلِ حق اور اربابِ بصیرت ہیں جو "حق" کو شخصیتوں سے بلند سمجھتے ہیں۔
     
  5. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,921
    خاموش سفر(؟) :
    جامعہ ازہرقاہرہ میں مولانا ابوالکلام آزاد کے تعلیم پانے کی سب سے پہلی اطلاع مسٹر مہادیوڈیسائی کی کتاب کے ذریعہ لوگوں تک پہونچی،مہادیو ڈیسائی(آنجہانی) کے نام اور کام سے لکھے پڑھے لوگ ناآشنا نہیں ہیں،وہ گاندھی جی کے نہایت معتمد علیہ رفیق شریک کاراور پرائیوٹ سکریٹری تھے،گاندھی جی کے صحافتی کاروبار انھی سے زیادہ تر متعلق تھے،مسٹر ڈیسائی انگریزی کے بہت اچھے انشاپرداز بھی تھے،انھی نے مولانا ابوالکلام آزاد کی "لائف"
    MAULANA ABULKALAM AZAD
    THE PRESIDENT OF THE INDIANNATIONAL CONGRESS
    A BIOGRAGHICAL MEMOIR
    BY
    MAHADEV DESAI
    لکھی ہے،اس کتاب پر "پیش لفظ"FOREWARD خود مہاتما گاندھی نےتحریر فرمایا ہے،یہ پیش لفظ بہت زیادہ مختصر ہے کل چھ سطریں ہیں اور ۱۸ مئی ۱۹۴۰ءتاریخ درج ہے،ایک صفحہ سے کچھ کم کا دیباچہ بھی ہے جس کے لکھنے والے مسٹر ہوریسالگزنڈر ہیں۔۔۔۔۔یہ اٹھاسی ۸۸ صفحوں کی کتاب ہے جس میں مولانا ابوالکلام آزاد کی زندگی کے واقعات کے ساتھ ساتھ بہت سے سیاسی مباحث بھی آگئے ہیں جن کا یہاں تذکرہ کیا جائے گا تو میں اپنے موضوع سے بہت دور چلا جاؤں گا،مولانا آزاد کے جو سوانح حیات اس کتاب میں درج ہیں ان کا مآخذ مولانا موصوف کی خود نوشت سوانح عمری"تذکرہ" اور خود ان کی زبان سے سنے ہوئے حالات ہیں۔
    اس کتاب کے صفحہ۸ پر یہ عبارت ہمیں ملتی ہے:
    (ترجمہ )
    "سرسیداحمد خاں نے قدامت پرستی کی طاقتوں کے خلاف مہم شروع کردی اور انگریزی اور جدیدسائنس کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے مسلم قوم سے پرجوش اپیل کی،میرے (یعنی مولاناابوالکلام آزاد کے) والد بہرحال اس چیز کو گوارا نہ کرسکتے تھے،انھوں نے مجھے اورمیرے بھائی کو قدیم طرز پر تعلیم دلائی،اس لئے میرے لئے کسی انگریزی اسکول میں بھیجے جانے کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا تھا،وہ چاہتے تھے کہ میں کسی نہ کسی طرح فاضل ترین علماء کی جماعت میں اپنا نام پیدا کروں،لہذا انھوں نے مجھے ۱۹۰۵ء میں اپنےذاتی مصارف سے مصر بھیجا تاکہ قاہرہ کی مشہور یونیورسٹی الازہر میں عربی کی اعلیٰ تعلیم حاصل کر سکوں،میں وہاں دو سال تک متعلم رہا اور ۱۹۰۷ء میں ہندوستان واپس آیا"
    اس بیان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مولانا ابوالکلام آزاد ۱۹۰۵ء میں مصر تشریف لے گئے اور دوسال یعنی۱۹۰۷ء تک وہاں قیام فرمایا۔۔۔۔۔اب میں اپنی تحقیق کی بنا پر مولانا موصوف کی زندگی کی مصروفیت کے چند سال تاریخی سنین کے ساتھ یہاں پیش کرتا ہوں،میری اس تحقیق کانقطہء آغاز ۱۹۰۲ء ہے!
    جولائی ۱۹۰۲ءمیں مولانا ابوالکلام آزاد کلکتہ میں موجود تھے،اسی مہینہ میں شاہ ایڈورڈ ہفتم کےجشنِ تاج پوشی کے سلسلہ میں ایک مشاعرہ منعقد ہوا تھا جس میں مولانا موصوف نے بھیمدحیہ قطعے پڑھے تھے۔۔۔۔فرماتے ہیں:
    شد تخت نشیں بہتخت انگلینڈ
    خوش بخت شد استبحتِ انگلینڈ
    یعنی ایڈورڈ شاہذی جاہ
    شد تخت نشیں بہعزت و جاہ
    ہوئی لندن میں از فضل الٰہی
    نہایت شان سے جب تاج پوشی
    کہا آزادؔ نے بڑھکر ادب سے
    مبارک شاہ کو اب تاج پوشی
    اس مشاعرہ کےصدر جناب رنجور عظیم آبادی تھے اور مولوی غلام یسین آہؔ نے تقریر کی تھی،اخبار"الپنج" بانکی پور(مورخہ ۵جولائی۱۹۰۲ء)میں اس مشاعرے کی کاروائی تفصیل کے ساتھ شائع ہوئی تھی۔
    ۱۹۰۳ء اور۱۹۰۴ءمیں مولانا آزادؔ کلکتہ سے "لسان الصدق" نکالتے تھے،۱۹۰۵ء اور۱۹۰۶ء میں الندوہ کے ایڈیٹر رہے اور ۱۹۰۶ء کے بعد ۱۹۰۸ء تک "الوکیل"(امرتسر) کی ادارت مولانا ممدوح سے متعلق رہی۔۔۔۔یہ ہے ۱۹۰۲ء سے لیکر ۱۹۰۸ء تک مولانا ابوالکلام آزادؔ کے ہندوستان میں قیام اور ان کی مصروفیات کی تفصیل!مسٹرمہادیو ڈیسائی نے اپنی کتاب میں جو کچھ لکھا ہے اس کی ان سنین سے کسی طرح مطابقت نہیں ہوتی،دو چار مہینہ کا فرق اور اختلاف ہوتا تو اسے کسی نہ کسی طرح کھینچ تان کر فِٹ کیا جاسکتا تھا مگر یہاں تو دوسال کی مدت کا فرق ہے جس کی کوئی توجیہ اورتاویل ہماری سمجھ میں نہیں آتی،مقصد عرض کرنے کا یہ ہے کہ جن دوسالوں میں مولاناآزادؔ کا قاہرہ میں قیام بتایا جاتا ہے ان میں وہ الندوہ اور الوکیل کی ایڈیٹری کےفرائض انجام دے رہے تھے۔
    مولاناابوالکلام آزادؔ نے "تذکرہ" میں اپنے خاندان کا جس انداز میں ذکر فرمایاہے اس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ ان کے خانوادے میں مدتوں ارشاد و تصوف کی شمعیں روشن رہی ہیں،اس لئے ان سنین اور واقعات کے اختلاف کو دور کرنے کے لئے مولانا کےخاندانی تصرفات ہی سے مدد لی جاسکتی ہے،یعنی یہ فرض کرلیا جائے کہ مولانا آزادؔ بہ وقتِ واحد ہندوستان میں بھی موجود تھے اور قاہرہ کے جامعہ ازہر میں بھی تعلیم پارہے تھے۔۔۔۔۔۔اس کے سوا اور کوئی تاویل،توجیہ اور تطبیق ہمارے ذہن میں نہیں آتی۔
    کسی شخص سےاظہارِ واقعہ میں کسی سبب سے بھول چوک ہوجائے اور وہ اس کا ایچ پیچ کے ساتھ نہیں،صاف اور واضح لفظوں میں اقرار کرلے تو معاملہ وہیں ختم ہوجاتاہے لیکن غلط بیانی کو صحیح اور درست ثابت کرنے کی کوشش جب بھی کی جائے گی،کچھ اور غلط بیانیوں کا اضافہ ہوجائے گا،یہی چیزیہاں مشاہدہ میں آرہی ہے۔
    مولاناابوالکلام آزاد کے سفر مصر و عراق کے بارے میں چہ میگوئیاں شروع ہوئیں اور یہ باتیں تحریر تک میں آگئیں تو اس حاشیہ آرائی کی ضرورت محسوس کی گئی،۱۶فروری۱۹۴۹ء کا"نیا ہندوستان" ہمارے سامنے ہے،جس میں ایک مضمون کا عنوان "امام الہند" ہے،اس مضمون کے شروع میں یہ نوٹ درج ہے:
    "کئی سال کی کوشش و محنت سے امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد کی سوانح حیات کا حصہ اول مرتب کیا گیا تھا اور اس میں شک نہیں کہ بے انتہا مصروفیت کے باوجود امام الہند نےہمارے مرتب کردہ سوالات کے تحریری و زبانی جوابات بھی ازراہِ کرم عنایت فرمائےلیکن جب ترتیب کے بعد اس کی اشاعت کا سوال آیا تو امام الہند نے سختی سے روکا اورفرمایا کہ کسی شخص کی سوانح حیات مکمل طور پر زندگی میں مرتب نہیں ہوسکتی ،اس لئےفی الحال اس ارادہ کو ملتوی کردیا جائے،اس کا ایک حصہ ہدیہ ناظرین کیا جارہا ہے اور ان شاءاللہ کبھی کبھی پیش ہوتا رہے گا۔۔۔۔شاہدؔ شیروانی"
    اس شذرہ کے بعدمولانا ابوالکلام آزاد کے سوانح حیات کا آغاز ہوتا ہے،اس مقالہ کے دوسرے پیراگراف کے شروع کے جملے یہ ہیں:
    "آپ کابچپن مکہ اور مدینہ میں بسر ہوا،مدینہ میں ان کے والد کا مکان دینی تعلیم کا ایک بہت بڑا مرکز تھا،ابتدائی تعلیم آپ نے والد سے حاصل کی آپ نے قاہرہ کی مشہور عالمیونیورسٹی الازہر میں میں بھی تعلیم حاصل کی ہے،چودہ سال کی عمر میں آپ نے جامعہالازہر میں علوم مشرقی کا نصاب پورا کرلیا تھا۔۔۔۔"
    یہاں پہونچ کر"کر لیا تھا" پر یہ نشان (؂۱) ثبت ہے اور ذیل کا فٹ نوٹ درج ہے،جسےبلفظہ نقل کرتے ہیں:
    "یہ غلط ہےکہ مولانا نے جامعہ ازہر قاہرہ میں تعلیم پائی ہے،مسٹر آصف علی کی طرح دوسرے سوانح نگاروں مہادیوڈیسائی وغیرہ نے بھی دھوکا کھایا ہے،۱۹۰۶ء میں مصر وغیرہ گئے تھے،ظاہرہے کہ اس وقت ۱۸سال کی عمر تھی اور ہندوستان کی صحافتی و علمی دنیا میں اپنے معرکۃالارا مضامین کی بدولت کافی شہرت و وقعت حاصل کرچکے تھے،تکمیل تعلیم ۱۵،۱۶ سال کی عمر میں ہی ہوچکی تھی،یہ ضرور ہے کہ مولانا شبلی نعمانی مرحوم کی طرح اکابر جامعہ ازہر اور مفتی محمد عبدہ کے "دارالعلوم" کے شیوخ سے استفادہ کیا اور انکی علمی مجالس کی زینت بنے،اس کی تحقیق ۲۳جنوری ۱۹۴۷ء کی ایک ملاقات میں خود امام الہند سے کرچکا ہوں،اس سفر میں برادرِ گرامی غلام یسین آہ مرحوم بھی امام الہند کےساتھ تھے مگر وہ عراق سے واپس آگئے اور مولانا ۱۹۰۷ء میں ایک سال کی سیر و سیاحت کے بعد واپس ہوئے۔۔۔شاہد شیروانی"
    مولاناابوالکلام آزاد کے سفرِ مصر کا واقعہ تو مسٹر مہادیو ڈیسائی کی کتاب اور جناب شاہدخاں شیروانی کے اس شذرہ میں مشترک طور پر پایا جاتا ہے،لیکن معاملہ یہیں ختم نہیں ہوجاتا ان میں دو زبردست اختلافات موجود ہیں۔ایک سنِ تاریخ کا اختلاف اور دوسرامقصد سفر اور وہاں کی مصروفیات کا اختلاف!مہادیو ڈیسائی نے لکھا ہے کہ مولانا۱۹۰۵ء میں مصر تشریف لے گئے تھے اور شاہد شیروانی اس سفر کا سنہ۱۹۰۶ء بتاتےہی،ڈیسائی لکھتے ہیں کہ مولانا جامعہ ازہر میں عربی کی تعلیم پانے کی غرض سے گئےتھے اور دوسال تک اسی سلسلہ میں وہاں قیام کیا اور شاہد شیروانی کا بیان ہے کہ مولانا نے جامعہ ازہر میں سرے سے تعلیم ہی نہیں پائی ہاں!یہ ضرور ہے کہ"اکابر جامعہ ازہر اور مفتی محمد عبدہ کے دارالعلوم کے شیوخ سے استفادہ کیااور ان کی علمی مجالس کی زینت بنے۔۔۔۔"
    یہ عجیب و غریب اختلاف اور تضاد ہے،عجیب و غریب ہم اس بنا پر کہہ رہے ہیں کہ مسٹر ڈیسائی اور شاہدشیروانی نے جو کچھ لکھا ہے خود مولانا ابوالکلام آزاد کی زبان سے سن کر لکھا ہے،آخر ہم ان دونوں میں سے کس کے بیان کو صحیح سمجھیں۔۔۔۔ایک واقعہ یا ایک بات بہت سے راویوں سے جب سنی جاتی ہے یا اصل شخص اور اس کے راویوں کے درمیان مدت اور زمانہ کے اعتبار سے فرق اور طول ہوتا ہے تو اس قسم کے اختلافات کے لئے گنجایش نکل سکتیہے،مگر یہاں تو راویوں کا سلسلہ ہی درمیان میں نہیں ہے،اصل شخص کہتا ہے اور سننے والا روایت کرتا ہے اور یہ روایتیں اس شخص کی زندگی ہی میں پھیلتی ہیں،اس اعتبارسے روایات کا یہ تضاد اور اختلاف یقیناً عجیب و غریب ہے
    مسٹر مہا دیوڈیسائی کی کتاب ۱۹۴۰ء میں شائع ہوئی تھی،ناممکن ہے کہ مولانا ابوالکلام آزاد نےاسے نہ پڑھا ہو،جب وہ لکھی جارہی تھی اس کا بھی مولانا کو علم تھا،مسٹر ڈیسائی نےمولانا کے سفرِ مصر کے سلسلہ میں اگر کوئی غلط بات لکھ دی تھی تو اس کی ہاتھ کےہاتھ تردید کردینی چاہیئے تھی،مگر نہیں کی گئی۔۔۔۔جب یہ بات موضوعِ بحث بنی تو۱۹۴۷ء میں اس کے بارے میں جو کچھ ارشاد فرمایا اسے شاہد شیروانی کے حوالہ سے اوپردرج کیا جاچکا ہے۔
    یہ تو مولاناابوالکلام آزاد کے سفرِ مصر کی داستان رہی،اب عراق،ایران اور لبنان کے سفر کا حال سنئے۔۔۔۔
    "شکر کےمعاملہ میں اگر کسی گروہ کو حقیقت آشنا پایا تو وہ ایرانی ہیں اگرچہ چائے کی نوعیت کے بارے میں چنداں ذی حس نہیں مگر یہ نکتہ انھوں نے پالیا ہے،عراق اور ایران میں عام طور پر یہ بات نظر آئی تھی کہ چائے کےلیے قند کو جستجو میں رہتے تھے اور اسےمعمولی شکر پر ترجیح دیتے تھے کیونکہ قند صاف ہوتی ہے اور وہی کام دیتی ہے جو موٹےدانوں کی شکر سے لیا جاتا ہے،نہیں کہہ سکتا کہ اب وہاں کیا حال ہے؟"(غبارِخاطر صفحہ ۱۷۹،۱۸۰)
    قند اور چائے کےبعد،موسم کا ذکر فرماتے ہیں:
    "غالباً۱۹۰۵ء کی بات ہے کہ بمبئی میں مرزا فرصت شیرازی صاحب آثار العجم سے ملنے کا اتفاق ہوا تھا وہ برسات کا موسم پونا میں بسر کر کے لوٹے تھے اور کہتے تھے کہ پونا کی ہوا کے اعتدال نے ہوائے شیراز کی یاد تازہ کردی
    اے گل بہ تو خرسندم تو بوئے کسے داری!
    میرا ذاتی تجربہمعاملہ کو یہاں تک نہیں لے جاتا لیکن بہرحال شیراز میں مسافر تھا اور مرزا موصوف صاحب البیت تھے و صاحب البیت ادری بما فیہا!" (غبارِ خاطر ۱۹۳،۱۹۴)
    شیراز کے بعدلبنان کا ذکر آتا ہے،لکھتے ہیں:
    "لوگ گرمیوں میں پہاڑ جاتے ہیں کہ وہاں کی گرمیوں کا موسم بسر کریں،میں نے کئی بارجاڑوں میں پہاڑوں کی راہ لی کہ وہاں جانے کا اصلی موسم یہی ہے،متنبیؔ بھی کیا بےذوق تھا کہ لبنان(اگر متنبیؔ کا اور حافظ کے شعروں کا ذکر کرنا تھا تو اس کے لئےلبنان اور شیراز و قزوین کی سیر و سیاحت کی افسانہ طرازی سے ہٹ کر،دوسرا پیرایہ بھی مولانا اختیار فرما سکتے تھے،مولانا آزاد فطرتاً خوش ذوق اور نفاست پسند واقع ہوئے ہیں،ایران کے چمن زاروں کی سیرونظارگی کو اس پر شاہد بنانے کی کوئی خاص ضرورت تو نہ تھی۔ماہرؔ) کے موسم کی قدر نہ کرسکا میری زندگی کے چند بہترین ہفتے لبنان میں بسر ہوئے ہیں۔"(غبارِ خاطر صفحہ ۱۹۸)
    ایران کے چمن زاروں میں مرغانِ خوش الحان کی نغمہ سنجی کا افسانوی احوال پڑھنے کی چیز ہے:
    "حقیقت یہ ہے کہ جب تک ایک شخص نے شیراز یا قزوین کے گل گشتوں کی سیر نہ کی ہو وہ سمجھ ہی نہیں سکتا کہ حافظ کی زباں سے یہ شعر کس عالم میں ٹپکے تھے:
    بلبل بہ شاخِ سرو بہ گلبانگ پہلوی
    می خواند دوشدرسِ مقامات معنوی
    یعنی بپا کہآتشِ موسیٰ نمود گل
    تا از درخت نکتہتحقیق ۔۔۔۔
    مرغانِ باغقافیہ سنجدو بذلہ گو
    تا خواجہ مےخورد بہ غزلہائے پہلوی
    یہ جو کہا کہمرغانِ باغ "قافیہ سنجی" کرتے ہیں تو یہ مبالغہ نہیں ہے،واقعہ ہے میں نے ایران کے چمن زاروں میں ہزار کوقافیہ سنجی کرتے خود سنا ہے۔(غبارِ خاطر صفحہ ۲۳۶)
     
  6. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,921
    گمنام سیاحت
    جہاں تک ہماری تحقیق اور معلومات کا تعلق ہے،ایران،عراق اور لبنان کے سفر کا ذکر "غبارِخاطر" کی تصنیف پہلے اور کہیں نہیں ملتا،مسٹر ڈیسائی نے اپنی کتاب میں سفرِمصر کا تو ذکر کیا ہے اور مولانا آزاد کے زبانی بیان کے حوالہ سے کیا ہے مگرعراق،ایران اور لبنان کی سیر و سیاحت کا کہیں ذکر تو کیا نام تک نہیں لیا۔احمد نگرکے قلعہ میں جب مولانا نظر بند تھے اور "غبارِ خاطر" کے خطوط لکھ رہےتھے،اس زمانہ میں عراق،ایران اور لبنان کے سفر کا ایکاایکی کس طرح کشف ہوگیا،اس سےپہلے لبنان کے پہاڑوں کے مناظر اور شیراز و قزوین کے چمن زاروں میں مرغانِ خوش الحان کی نغمہ سنجیاں،آخر مولانا کے قلب و دماغ کے کس گوشہ میں بند تھیں۔۔۔شاید اسیری اور قید و بند میں حافظہ ضرورت سے زیادہ تیز،حساس اور جدت طراز ہوجاتا ہے۔
    مصنفوں اورانشاپردازوں کی یہ عادت ہے کہ جب انھیں کوئی سفر درپیش آتا ہے تو وہ کسی نہ کسی عنوان سے غیر ممالک کی سیر و سیاحت کا ذکر ضرور کرتے ہیں اور وہ انشاپرداز جورسالوں اور اخباروں کے ایڈیٹر بھی ہوں وہ تو اپنے سفر کے ذکر سے باز آ ہی نہیں سکتے۔
    علامہ شبلی نعمانی نے مصر اور ترکی کا سفر فرمایا تو اس سفر کا حال کتابی صورت میں شائع کیا،رائیس الاحرار مولانا محمد علی مرحوم اور مولانا سید سلیمان ندوی کے سفرِ انگلستان کا حال ان کے خطوں سے معلوم ہوتا ہے،سر شیخ عبدالقادر مرحوم کا سفرنامہ ہماری نظر سے گزرا ہے،اور تواور پیسہ اخبار کے ایڈیٹر مولوی محبوب عالم انگلستان گئے تھے تو ان تک نے اپنے سفرکے حالات لکھ کر چھپوائے تھے،بڑے آدمیوں کے ساتھ اپنا ذکر مناسب نہیں سمجھتا مگر ضرورت آپڑی ہے تو عرض کرتا ہوں کہ میں نے ۱۹۳۳ء میں عراق کا سفر کیا تھا اور وہاں سے واپس آکر درجنوں مضامین لکھے اور "بغداد کے چمن میں ایک شام" کےعنوان سے ایک نظم بھی کہی جو میرے مجموعہ کلام میں موجود ہے!آخر مولانا ابوالکلامآزاد نے اپنے سفر اور سیاحت کا ذکر کیوں نہیں فرمایا اور جو ذکر ان کے حوالہ سےلوگوں تک پہنچا ہے وہ چند سال کی مدت کے اندر ہی کا ہے،اتنی مدت تک ان واقعات پرسکوت اور گمنامی کے پردے آخر کس لیے پڑے رہےاور ان مشاہدات اور واردات کو"شدید راز" کی طرح کیوں چھپایا گیا۔
    الندوہ،الوکیل اور الہلال کے صفحات مولانا آزاد کے ذکر سے آخر کیوں خالی ہیں اور یہ کس قسم کی گمنام سیاحت اور چپ چاپ سفر ہے کہ ان کے معاصرین اور دوستوں کو کانوں کان خبر تک نہیں ہوتی،نہ اس زمانے کے یا بعد کے کسی اخبار میں مولانا کے سفر کا کوئی حال،اطلاع،خبر یا تفصیل چھپتی ہے اور نہ مولانا ہندوستان میں اپنے کسی دوست اورعزیز کو مصر،عراق،ایران اور لبنان سے کوئی خط لکھتے ہیں۔۔۔۔اور پھر حیرت بالائےحیرت یہ ہے کہ مولانا آزاد اپنی خودنوشت سوانح عمری "تذکرہ" میں اپنےبارے میں اور تو سب کچھ لکھتے ہیں مگر اس سیر و سیاحت کا حال نہیں لکھتے۔
    بعض لوگ یقیناًاس طرح کے بھی ہوتے ہیں کہ ان کی جبلت پر تواضع اور انکسار کا غلبہ ہوتا ہے اور وہ اپنے بارے میں بہت ہی کم کہتے ہیں،مگر مولانا آزاد کا "تذکرہ" گواہ ہےکہ وہ منکسرالمزاج لوگوں میں سے بھی نہیں ہیں،اپنے خاندان اور اپنے بارے میں جوکچھ تحریر فرمایا ہے،بڑے آدمیوں میں سے شاید بہت ہی کم نے اپنے متعلق اتنا کچھ لکھا ہو،پھر جو شخص "چائے" کے ذکر میں صفحے کے صفحے لکھ سکتا ہے اورپرندوں کے تذکرے کو ایک مستقل باب میں پھیلا سکتا ہے،("غبارِ خاطر" میں یہ تمام تفصیل ہوجود ہے!ماہرؔ) وہ مصر،عراق،ایران اور لبنان کی سیاحت کرتا ہے اوراس کی زبان بالکل گنگ اور اس کا قلم قطعاً ساکن رہتا ہے اور سیر و سیاحت کے حالات قلم بند کرنے کا کوئی ولولہ ہی اس کے اندر پیدا نہیں ہوتا،ایک مدت گزر جانے کے بعدذکر بھی فرمایا تو اس قدر تشنہ بلکہ استعاروں اور افسانوی انداز میں کہ پڑھنے والےسیر و سیاحت پر مطلع بھی ہوجائیں اور بات زیادہ کھلنے بھی نہ پائے!
    حیرت ہے کہ مولانا آزاد ایران کا سفر کریں،شیراز اور قزوین بھی جائیں،اور وہاں کی صرف چائے،قند اور مرغانِ چمن کی نغمہ سنجی کا یوں ہی سا ذکر کے رہ جائیں،کیا پارس کےاکابر،علماء،مشاہیر،آثارِ قدیمہ،کتب خانے،بازار،علمی درسگاہیں،بیستون،رکناباد،گلگشت،مصلا اور سب سے بڑھ کر سیاسی حالات۔۔۔۔۔ان میں سے کوئی چیز بھی موضوعِ نگارش اور اور عنوانِ اظہار بننے کے قابل نہ تھی ان میں سے ہر "عنوان"سرسری نہیں تفصیل کا محتاج بلکہ مستحق تھا۔۔۔مولانا آزاد فارسی شاعری سے غیرمعمولی شغف رکھتے ہیں اس ذوق کی فراوانی کا یہ عالم ہے کہ فارسی شعر استعمال کرنےکے لئے نثر میں تمہید باندھتے اور زمین ہموار کرتے ہیں مگر ایران جاکر وہاں کے کسی شاعر(رہا مرزا فرصتؔ شیرازی کا ذکر،سو ان سے مولانا بمبئی میں پہلے ہی مل چکےتھے۔ماہرؔ) سے نہیں ملتے،اور جو ملتے ہیں تو اس کا ذکر نہیں فرماتے،یہ سکوت بھی قیامت کا سکوت ہے!
    کسی واقعہ کی تحقیق کے دو ذریعے ہیں روایت اور درایت،ہم نے ان دونوں ذریعوں سے کام لیا ہے،اورہم اس نتیجہ پر پہونچے ہیں کہ مولانا آزادؔ کے مصر،عراق،ایران اور لبنان کا سفر ایک افسانہ نگار کی شوخیء فکر سے زیادہحیثیت نہیں رکھتا۔
     
  7. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,921
    دلی۔۔۔یاکھیم کرن

    مولاناابوالکلام آزاد کی خدمت میں جب راقم الحروف نے خط بھیجا تھا،تو میں واقعات کی تحقیق ہی کر رہا تھا،واقعات پوری طرح کھلے نہ تھے اور یہ تحقیق نامکمل تھی،بہرحال تحقیق کا سلسلہ جاری رہا اور بہت سی دوسری باتیں بھی معلوم ہوئیں جن کا ذکر نہ کروں گا تو یہ مضمون ادھورا رہ جائے گا۔
    مولانا آزاد اپنے کو الہلال میں "دہلوی" لکھا کرتے تھے مگر دہلی نہ ان کا مولد ہےاور نہ ان کا منشاء ہے،مسٹر مہادیو ڈیسائی نے لکھا ہے(اور جو لکھا ہے اس کا مآخذمولانا آزاد کا "تذکرہ" اور ان کا زبانی بیان ہے) کہ مولانا ۱۸۸۸ء میں مکہ معظمہ میں پیدا ہوئے اور دس سال تک وہیں رہے،۱۸۹۸ء میں ان کے والد مولاناخیرالدین کلکتہ میں آکر مقیم ہوگئے اور مولانا آزاد بھی ان کے ساتھ چلے آئے اورکلکتہ ہی میں درسِ نظامی کی تکمیل کی۔۔۔دہلی سے مولانا آزاد کی وجہِ نسبت یہ البتہ ہو سکتی ہے کہ بقول مسٹر ڈیسائی ان کے والد دہلی میں رہتے تھے،۱۸۵۷ء کے آشوبِ غدرکے بعد انھیں دہلی چھوڑنی پڑی اور اپنے مرید نواب یوسف علی خاں والی رامپور(نوابیوسف،مولانا آزاد کے والدِ بزرگوار مولانا خیرالدین کے مرید اور عقیدت مند تھے یہ بھی تحقیق طلب ہے!)کے پاس چلے گئےاور نواب صاحب نے مولانا خیرالدین کے بمبئی جانےکا انتطام کردیا،بمبئی سے وہ مکہ چلے گئے۔
    عرض کرنا یہ ہےکہ مولانا نے اپنے خاندان حالات کے سلسلہ میں بہت کچھ لکھا ہے مگر انہوں نے کھیم کرن کا نام نہیں لیا،اس مضمون کے پڑھنے والے متحیر ہوں گے کہ یہ کھیم کرن کیا بلاہے؟سنئے،قصور(مغربی پنجاب) سے امرت سر ریل کےذریعہ جاتے ہوئے ایک قصبہ کھیم کرن پڑتا ہے مولانا آزاد کے دادا جن کا نام عمردین اور عرف "چھیکڑی" تھا کھیم کرن ہی میں بودوباش رکھتے تھے،مولانا خیرالدین کے بڑے بھائی یعنی مولانا آزادکے تایا کا نام امام دین تھا،عمر دین نے کھیم کرن کی سکونت ترک کردی تھی،مگر اس کاپتا نہ چل سکا کہ وہاں سے وہ پھر کس جگہ جاکر بس گئے،مولانا آزاد کی جب شہرت ہوئی تو وہاں کے لکھے پڑھے لوگ آپس میں کہا کرتے تھے کہ ہماری بستی کے عمردین کے پوتےنے اتنا نام پیدا کیا ہے!کوئی چاہے تو کھیم کرن جاکر اس واقعہ کی آج بھی تحقیق کرسکتا ہے۔

    رکن المدرسین

    مولانا آزاد نےاپنے "تذکرہ" میں لکھا ہے کہ ان کے اسلاف کو "رکن المدرسین"کا معزز عہدہ شاہانِ مغلیہ نے عطا فرمایا تھا(اس وقت تذکرہ میرے سامنے نہیں ہے،اپنے حافظہ کے اعتماد پر روایت بالعنیٰ کررہا ہوں)۔۔۔۔۔۔اپنے محدود مطالعہ پراکتفا اور اعتماد نہ کرتے ہوئے میں نے متعدد حضرات سے جو ہندوستان کی تاریخ پرگہری نظر رکھتے ہیں "رکن المدرسین" کے بارے میں دریافت کیا مگر سب نےلاعلمی ظاہر کی،ہر ایک نے یہی کہا کہ کسی تاریخ کی کتاب میں اس نام کا کوئی علمی عہدہ ہماری نظر سے نہیں گزرا،میں عرض کرتا ہوں کہ اول تو "رکن المدرسین"کی یہ ترکیب ہی غلط ہے،"رکن العلم" یا اسی قبیل کی کوئی ترکیب ہونی چاہئے تھی،"رکن المدرسین" کا انگریزی ترجمہ
    Pillar of teachers
    صحیح ہے،مگرمسٹر مہادیوڈیسائی نے انگریزی ترجمہ میں اصل لفظ کی معنوی غلطی کو دور کرتے ہوئےاس کا ترجمہ
    Pillar of learnings
    کیا ہے۔۔۔اس کےعلاوہ اگر شاہانِ مغلیہ کے یہاں واقعی "رکن المدرسین" کوئی معزز علمیعہدہ اور منصب تھا تو مختلف زمانوں میں اس عہدہ کے زیادہ مستحق عبدالنبی،مخدوم الملک،ملا عبدالقادر بدایونی،ابوالفضل،فیضیؔ،شیخ عبدالحق محدث دہلوی،ملا جیون،ملاعبدالحکیم سیالکوٹی،ملا نظام الدین اور حضرت شاہ ولی اللہ کے والد شاہ عبدالرحیماور دوسرے علماء و اکابر تھے۔
     
  8. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,921
    "الہلال"کے مضامین
    سہ روزہ"مدینہ" (بجنور) کا ۱۷ اگست ۱۹۵۱ء کا شمارہ میرے سامنے ہے صفحہ(۲) پر جو"اداریہ" ہے اس عنوان ہے:
    "خانقاہِعظمتِ اسلام"
    راجدھانی میں امام الہند کے چند لمحے
    اس مضمون میں"مدینہ" کے ایڈیٹر نے مولانا آزاد سے اپنی ملاقات کا حال تفصیل کے ساتھ لکھا ہے،جس کا ایک حصہ درج ذیل کیا جاتا ہے:
    "۱۹۴۷ء میں مولانا حیدرزمان صدیقی صاحب کی کتاب "اسلامی نظریہ سیاست" مکتبہ دین ودانش بانکی پور(پٹنہ) سے شائع ہوئی ہے،مولانا سید سلیمان ندوی نے اس کا دیباچہ لکھا،دیباچہ کے حاشیہ پر ایک جگہ انہوں نےلکھا ہے کہ "الہلال" میں چونکہ مضمون نگاروں کے نام نہیں لکھے جاتےتھے،اس لئے الہلال کے مضمونوں کے مجموعے شائع کرنے والوں نے بلا تحقیق ہر مضمون کومولانا ابوالکلام صاحب کی طرف منسوب کردیا حالانکہ یہ صحیح نہیں ہے۔۔"الحریۃ فی الاسلام" "تذکار نزولِ قرآن"،"حبشہ کی تاریخ کا ایک ورق"،"قصص بنی اسرائیل" ،مشہدِ اکبر"(یہ ان چندمضامین میں سے ایک مضمون ہے جس پر "الہلال" کو ناز ہے!ماہرؔ) وغیرہ میرےمضامین ہیں۔
    ۱۹۵۰ء میں مکتبہ علم و حکمت بہار شریف (پٹنہ) نے سید صاحب کے مضامین کا حصہ اول شائع کیا ہے اس مجموعہ میں وہ مضمون شامل ہے جسے "الہلال" ایجنسی لاہور نے کئی سال پہلے"حقیقتِ الصوم" نامی پمفلٹ کی شکل میں شائع کیا تھا۔۔۔۔میں نے (یعنی ایڈیٹر اخبار مدینہ نے) اس بات کا ذکر کیا تو مولانا(آزاد) نےفرمایا۔۔۔"ہاں!سید سلیمان صاحب نے میرے ساتھ "اسسٹنٹ ایڈیٹر کی حیثیت سےچھ مہینہ تک کام کیا ہے،وہ ترجمے بھی کرتے تھے اور مضامین بھی لکھتے تھے،خیر اگر وہ مضامین کو اپنا بتاتےہیں تو میری طرف سے آپ مدینہ میں اعلان کردیجئے کہ وہ مضمون سیدصاحب کا ہے،کچھ مضامین اگر میرے نام کے نہ ہوئے تو میرے بھائی!اس میں میرا بگڑتا کیا ہے؟"
    "آخری جملہ کہہ کر مولانا(آزاد) نے اپنے مخصوص انداز میں جس کی گونج اظہارِ بےنیازی کے موقعہ پر سنائی دیتی ہے ایک قہقہہ لگایا اورپھر سگریٹ کا ایک کش لیا۔۔۔"
    اخبارِ مدینہ کےاداریہ کا جو اقتباس اوپر درج کیا گیا ہے اس سے معاملہ کی نوعیت شاید قارئین سمجھ گئے ہوں گے،اور نہ سمجھے ہوں تو ان کو سمجھانے کے لئے میں تفصیل پیش کئے دیتا ہوں
    مولاناابوالکلام آزاد کا اخبار "الہلال" جب نکلتا تھا تو دوسرے اہلِ علم اوراربابِ قلم بھی مولانا موصوف کے شریکِ کار اور معاونین تھے،غیر زبانوں کےمضامین کے اردو ترجمے کا کام بھی انجام دیتے تھے اور اپنے اوریجنل مضامین بھی لکھتے تھے،ان مضامین پر عام طور سے ترجمہ کرنے اور لکھنے والوں کا نام درج نہیں ہوتا تھا۔
    ناشرین نےالہلال کے مضامین کا انتخاب کتابی صورت میں جب شائع کیا تو انھوں نے ہر اس مضمون کو جس پر کسی مترجم اور مصنف کا نام نہ تھا مولانا ابوالکلام آزاد ہی کا مضمون سمجھا اور ان سے منسوب کردیا،بےچارے ناشرین کی اس میں کوئی غلطی نہ تھی،خود مجھےبھی اسی طرح کا دھوکا ہو چکا ہے،جب آصفیہ ہائی اسکول حدرآباد دکن کی لائبریری سے"الہلال" کا پورا فائل میں نے لیکر پڑھا تو جن مضامین پر کسی کا نام نہ تھا ان کو میں نے مولانا آزاد ہی کے زورِ قلم اور کاوشِ تحقیق کا نتیجہ سمجھا۔
    ہوسکتا ہے"الہلال" کے مضامین کے یہ مجموعے مولانا ابوالکلام آزاد کی نگاہ سے نہ گزرے ہوں اور وہ اس سے بے خبر رہے ہوں مگر ان مضامین کے سلسلہ میں مولانا موصوف نےاخبار"مدینہ" کے فاضل مدیر کو جس انداز میں جواب عنایت فرمایا ہے،اس کی کم سے کم مولانا آزاد سے توقع نہ تھی۔۔۔۔اتنی بلندی،اتنی پستی!حیرت اور افسوس بھی!
    مولانا سید سلیمان ندوی نے مولانا آزاد کے بارے میں ایک لفظ بھی نہ کہا تھا بلکہ انھوں نےالہلال کے مضامین کے مجموعے شائع کرنے والوں کو ٹوکا تھا "مدینہ" کےایڈیٹر جب ان باتوں کو مولانا آزاد کے علم میں لائے تھے تو اس کا جواب یہ ہوناچاہیئے تھا کہ "جن مضامین کا سید صاحب نے حوالہ دیا ہے وہ واقعی انھی کےہیں" یہ بات کسی ایچ پیچ طنز اور ابہام و تشابہ کے بغیر دوٹوک انداز میں کہہ دینی چاہیئے تھی اور مولانا آزاد اگر اپنے احساسِ برتری اور وقار و تشخص کا اظہاربھی ضروری سمجھتے تو اس جواب کے ساتھ اس قسم کے لفظوں کا اضافہ بھی فرماسکتےتھے۔۔"سید صاحب کے جو مضامین الہلال میں چھپے ہیں،میری ذات سے ان کی نسبت میرے لئے ذرا بھی باعثِ فخر نہیں ہے۔۔!۔۔۔۔۔۔مگر جواب میں فرمایا یہ گیا۔۔۔۔" خیر اگر وہ مضامین کو اپنا بتاتے ہیں تو میری طرف سے آپ مدینہ میں اعلان کردیجئے کہ وہ مضمون سیدصاحب کا ہے،کچھ مضامین اگر میرے نام کے نہ ہوئے تو میرے بھائی!اس میں میرا بگڑتا کیا ہے!"
    مولانا آزاد کایہ جواب اپنی جگہ ایک عجیب و غریب قسم کا مغالطہ ہے،جیسی ضرورت آن کر پڑے"انکار" اور "اقرار" "نفی" اور "اثبات"کے دونوں پہلو پیدا کئے جاسکتے ہیں،جواب صاف بھی ہے،اور گول مول بھی ہے،یہ سلیمان ندوی پر طنز بھی ہے اور اپنی فیاضی اور فراخدلی کا ثبوت بھی ہے کہ "وہ مضامین ہیں تو میرے،مگر سید صاحب اپنے بتاتے ہیں تو ان کے ہی سہی۔۔۔۔"اور پھر آخری جملہ فرما کر مولانا آزاد ایک قہقہہ لگاتے ہیں!

    اس پوری بحث کو ذہن میں رکھ کر اب ذرا علامہ شبلی نعمانی کے دو خط ملاحظہ فرمائیے،جو مولاناعبدالسلام ندوی کے نام لکھے گئے تھے:
    ۔۔۔۔۔۔۔تم الہلال میں جاؤ مضائقہ نہیں یہ شرط کرلو کہ تم الہلال میں جذب نہ ہوجاؤ۔اس میں جوکچھ لکھو اپنے نام سے لکھو ورنہ تمھاری زندگی پر بالکل پردہ پڑجائے گا اور آئندہ ترقیوں کے لئے مضر ہوگا۔
    شبلیؔ۔۔۔الہ آباد ۳مارچ۱۹۱۴ء
    (مکاتیب شبلیؔ،حصہ دوم،مکتوب نمبر۵،صفحہ۱۵۲)
    2
    ۔۔۔۔۔۔۔۔تمہارےمضامین دیکھتا ہوں،مولوی ابوالکلام صاحب اجازت دیں تو نام لکھا کرو("مولوی ابوالکلام صاحب اجازت دیں" اس جملہ کے تیور اور اس کا پس منظر ملاحظہ کیجئے!ماہرؔ) ایسےمضامین گمنام ٹھیک نہیں،اس سے کیا فائدہ کہ ایک شخص کی زندگی گم ہوجائے،تمہاری قوت اور نمود سے بہرحال ہماری سوسائٹی کو فائدہ ہوگا۔
    شبلیؔ،اعظم گڑھ۵۔اکتوبر۱۹۱۴ء
    (آٹھواں خط،صفحہ نمبر ۱۸۰)
    ان خطوں کو خوب غور سے پڑھئے اور پھر مولانا آزاد کے اس جواب پر ایک نگاہ ڈالیئے جو"مدینہ" کے ایڈیٹر کے استفسار پر انھوں نے دیا ہے،اس کے بعد فیصلہ خود آپ ہی پر چھوڑتا ہوں،اپنی زبان سے کیا کہوں!اس خصوص میں اتنا عرض کردینا ضروری سمجھتاہوں کہ "الہلال" میں بےنام کے مضامین جو چھپتے تھے ان کے بارے میں علامہ شبلیؔ مشتبہ ضرور تھے اور وہ چاہتے تھے کہ مضمون نگاروں کا نام لکھا جائے تاکہ جسکی جو محنت اور کام ہے وہ اسی سے منسوب ہو،مولانا آزاد کے مزاج اور طبیعت کو بھی علامہ شبلیؔ نعمانی اچھی طرح جانتے پہچانتے تھے،چنانچہ شبلیؔ نے جس مغالطہ سےلوگوں کو بچانے کے لئے عبدالسلامؔ ندوی کو خطوط لکھے تھے،اس مغالطہ میں لوگ مبتلا ہو کر رہے،اس مغالطہ کوخود مولانا ابوالکلام آزاد دور فرما سکتے تھے مگر انھوں نے اس کو اور پیچ در پیچ بنا دیا اور اس کو قہقہوں اور سگریٹ کے کشوں میں اڑا دیا۔
    جزبہء فخر و ناز
    میں نے جو کچھ اوپر لکھا ہے وہ نہ تو معاذاللہ "وحی و الہام" ہے اور نہ "حرفِ آخر" ہے کہ اس پر کسی قسم کا اضافہ و ترمیم ممکن ہی نہیں ہے،جو باتیں میری تحقیق میں آئیں،وہ میں نے بیان کردیں اور خدا جانتا ہے کہ میں نے کسی قسم کی تلبیس اور تحریف یا غلط بیانی سے کام نہیں لیا،کوئی صاحب میری غلطیوں پر مجھے مطلع فرمادیں اور میں مطمئن ہوجاؤں تو "فاران" ہی کے صفحات پر اس کا اعلان کروں گا اور اپنی غلطی اورتحقیق کی کمزوری کو مان لوں گا۔
    مجھ تک اس تحقیق کے دوران جس قدر واقعات پہنچے ہیں،ان میں سے صرف چند واقعات میں ضبطِ تحریر میںلایا ہوں کہ اپنے اطمینان کی حد تک میں نے ان کو معتبر سمجھا،باقی بہت سی باتوں کو میں نے چھوڑ دیا۔۔۔۔۔۔مثلاً "تذکرہ" میں مولانا ابوالکلام آزاد نے اپنےاسلاف میں سے ایک بزرگ کو رفیع الدین سلامی کا شاگرد بتایا ہے اور لکھا ہے کہ یہ(رفیع الدین سلامی) علامہ سخاوی کے شاگرد تھے اور اپنی کتاب "۔۔۔الامع فی اعیان قرن التاسع" میں سخاویؔ نے ان کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔۔۔مگر ادبی عربی کے ایک بہت بڑے عالم اور ماہر نے مجھ سے کہا کہ میں نے علامہ سخاویؔ کی اس کتاب کو بہت غور و خوض کے ساتھ پڑھا لیکن رفیعؔ الدین سلامی کا نام مجھے کہیں نظر نہیں آیا۔
    جس نے بھی"تذکرہ" کو پڑھا ہے وہ جانتا ہے کہ "تذکرہ" انشاپردازی کےکمال کے علاوہ بہت سے تاریخی واقعات اور علمی مسائل کے حوالے کثرت کے ساتھ ملتےہیں جو بلاشبہ مصنف کی وسعتِ مطالعہ پر دلالت کرتے ہیں،مولانا آزاد نے لکھا ہے کہ میں "تذکرہ" کو اپنے حافظہ اور یادداشت کی بنا پر مرتب کررہاہوں۔۔۔۔۔مگر مجھ سے ایک نہایت ثقہ شخص نے بیان کیا کہ "محی الدین صاحب قصوری(جن کو مولانا آزاد نے "عزیزی" لکھا ہے)نے خود مجھ سے کہا کہ آزادؔجب رانچی میں نظر بند کر کے بھیجے گئے ہیں تو شروع شروع میں بےشک ان کے پاس کتابیں نہ تھیں مگر بعد میں ان کے پاس کتابیں بھیجوا دیں گئیں (کہنے والے کا مقصد غالباًیہ معلوم ہوتا ہے کہ جن چند کتابوں کا مولانا آزاد نے "تذکرہ" نے ذکرفرمایا ہے،ان کے علاوہ دوسری کتابیں بھی فراہم کردی گئی تھیں۔ماہرؔ) اور"تذکرہ" کی تصنیف کے زمانے میں وہ کتابیں مولانا کے پاس موجودتھیں"
    اس قسم کے بہت سے واقعات کا تذکرہ میں نے نہیں کیا کہ یہ صرف سماعی ہیں اور ان کی مزید تحقیق کےذرائع مجھے میسر نہ آسکے۔۔۔۔۔۔۔۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسی باتیں مولانا آزادسے آخر ظہور میں کیوں آئیں!اس کا جواب میں نہ دوں گا کہ یہ چھوٹا منہ بڑی باتہے،مسٹر ڈیسائی جنھوں نے مولانا ابوالکلام آزاد کے سوانح حیات لکھے ہیں جن کا اوپرذکر آچکا ہے،انھوں نے جب مولانا آزاد کی خودنوشت "لائف"(تذکرہ) کو پڑھااور مولانا کی زبانی ان کے حالات سنے تو مسٹر ڈیسائی کے قلم سے یہ جملے بےساختہٹپک پڑے:
    (ترجمہ)
    "کہاجاسکتا ہے کہ "فخرِ جائز" جو ایک شریف و اعلیٰ خانوادے اور علمی عظمت کی پیداوار ہے،مولانا صاحب کے خون میں دوڑ رہا ہے اور درحقیقت ایک حیثیت سے تو مولانااپنے مفخر اسلاف پر بھی سبقت لے گئے۔۔۔۔۔۔"
    مسٹرڈیسائی،مولانا آزاد کا احترام کرتے تھے سیاسی میدان میں وہ ایک دوسرے کے ہم خیالاور رفیق کار تھے،اس لئے انہوں نے بڑے محتاط انداز میں
    “Legitimate pride”
    یعنی "فخرِجائز" کہا ہے اوراس طرح ڈیسائی جی نےمولانا آزاد کے مزاج و طبیعت سے واقفیت اور نفسیات شناسی کا ثبوت دیا ہے،بس یہی"جزبہء فخر" ہے جو اپنے ظہور کے لیے طرح طرح کے کالبدا اختیار کرتا ہےجس کی چند جھلکیاں اوپر دکھائی جاچکی ہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔مولانا ابوالکلام آزاد کی ذات میں ایسی خوبیاں بلاشبہ موجود ہیں جن پر ان کا فخر کرنا بجا ہے مگر ان کے نیاز مندوں کو یہ دیکھ کر دکھ ہوتا ہے کہ اس "بابِ مفاخر" میں کچھ"افسانے" بھی شامل ہوگئےہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کاش!۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایسا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نہ ہوتا!
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں