اس راہ میں جو سب پہ گزرتی ہے وہ گزری

مریم جمیلہ نے 'کلامِ سُخن وَر' میں ‏اگست 13, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. مریم جمیلہ

    مریم جمیلہ رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 26, 2015
    پیغامات:
    111
    چاہا ہے اسی رنگ سے لیلائے وطن کو
    تڑپا ہے اسی طور سے دل اس کی لگن میں
    ڈھونڈی ہے یونہی شوق نے آسائشِ منزل
    رخسار کے خم میں کبھی کاکل کی شکن میں

    اُس جانِ جہاں کو بھی یونہی قلب و نظر نے
    ہنس ہنس کے صدا دی، کبھی رو رو کے پکارا
    پورے کیے سب حرفِ تمنا کے تقاضے
    ہر درد کو اجیالا، ہر اک غم کو سنوارا

    واپس نہیں پھیرا کوئی فرمان جنوں کا
    تنہا نہیں لوٹی کبھی آواز جرس کی
    خیریتِ جاں، راحتِ تن، صحتِ داماں
    سب بھول گئیں مصلحتیں اہلِ ہوس کی

    اس راہ میں جو سب پہ گزرتی ہے وہ گزری
    تنہا پسِ زنداں، کبھی رسوا سرِ بازار
    گرجے ہیں بہت شیخ سرِ گوشہء منبر
    کڑکے ہیں بہت اہلِ حکم برسرِ دربار

    چھوڑا نہیں غیروں نے کوئی ناوکِ دشنام
    چھوٹی نہیں اپنوں سے کوئی طرزِ ملامت
    اس عشق، نہ اُس عشق پہ نادم ہے مگر دل
    ہر داغ ہے اس دل میں بجز داغِ ندامت
    (فیض احمد فیض)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 5
  2. بابر تنویر

    بابر تنویر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,318
    بہت خوب.
    شئر نگ کا شکریہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں