انسانیت اسلام کی آغوش میں" خطبہ جمعہ مسجد نبوی 24-01-1437

بابر تنویر نے 'خطبات الحرمین' میں ‏نومبر 6, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. بابر تنویر

    بابر تنویر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,318
    بسم الله الرحمن الرحيم

    فضیلۃ الشیخ ڈاکٹرعبد الباری بن عواض ثبیتی حفظہ اللہ نے مسجد نبوی میں 24- محرم الحرام- 1437کا خطبہ جمعہ " انسانیت اسلام کی آغوش میں" کے موضوع پر ارشاد فرمایا جس کے اہم نکات یہ تھے: ٭انسانی اجزائے ترکیبی ٭ انسانیت کے تحفظ اور تکمیل کیلئے اسلام کے اقدامات: نفاذِ حدود، عبادات، مراقبۃ اللہ ، درست سمت کا تعین، غلط نظریات و افکار سے تحفظ٭ انسانیت کی خصوصیت ٭ انسانیت کے تقاضے ٭انسانیت کے مظاہر: والدین، ماں، بیوی، بیٹی، بہن سے حسن سلوک٭ انسانیت سے متصادم امور: اسلامی تعلیمات سے رو گردانی، حلال و حرام سے لا پرواہی، عیش پرستی، توہم پرستی، بد عقیدگی، مساجد میں قتل عام، نورِ قرآن سے دوری٭ صحابہ کرام اور انسانیت٭ انسانیت مبلغین اور واعظین کی صورت ٭ مصیبت زدہ کو سودی قرضہ کی فراہمی انسانیت کا چہرہ مسخ کرتی ہے۔
    پہلا خطبہ:
    تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں ، تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں جس نے انسان کی تخلیق فرمائی اور اسے قوت گویائی سے نوازا، میں ہدایت و ایمان کی نعمت پر اسی کیلئے حمد و شکر بجا لاتا ہوں ، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے، وہی کریم، عظیم اور احسان کرنے والا ہے، میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اسکے بندے اور رسول ہیں، آپ کا مقام و مرتبہ بہت ہی اعلی ہے، اللہ تعالی آپ پر ، آپکی آل ، اور وفا دار صحابہ کرام پر رحمتیں نازل فرمائے جب تک مہتاب و آفتاب دمکتے رہیں۔
    حمد و صلاۃ کے بعد:
    میں اپنے آپ اور تمام سامعین کو تقوی الہی کی وصیت کرتا ہوں، فرمانِ باری تعالی ہے: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللہ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ}
    ایمان والو! اللہ سے ایسے ڈرو جیسے ڈرنے کا حق ہے، اور تمہیں موت آئے تو صرف اسلام کی حالت میں ۔[آل عمران : 102]
    اللہ تعالی نے انسان کو پیدا فرمایا، اور اسے دیگر مخلوقات پر فضیلت دیتے ہوئے امتیازی اور منفرد جسم، اجزائے ترکیبی اور ذمہ داریاں عطا کیں۔
    انسان روح، عقل، جسم، مٹھی بھر زمین کی مٹی اور اللہ کی پھونک کا مرکب ہے، فرمانِ باری تعالی ہے:
    {إِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي خَالِقٌ بَشَرًا مِنْ طِينٍ (71) فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُوحِي فَقَعُوا لَهُ سَاجِدِينَ }
    جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا میں مٹی سے ایک بشر بنانے والا ہوں [71] تو جب میں اسے ٹھیک ٹھاک کر دوں اور اس میں اپنی [پیدا کی ہوئی] روح پھونک دوں تو تم اس کے سامنے سجدہ ریز ہو جانا۔ [ص : 71 - 72]

    اللہ تعالی نے انسان کو بہترین شکل و صورت میں پیدا فرمایا، اور اس کے اندر اخلاق، جذبات، اور ذوق سلیم جا گزیں کیا ، چنانچہ جو لوگ قلب و روح ، اور جذبات کو سمجھتے ہیں وہی اسلامی تعلیمات سے کشید کردہ انسانی اقدار کے علمبردار ٹھہرتے ہیں۔
    اسلام نے انسانیت کو شرعی حدود کے نفاذ کے ذریعے تحفظ فراہم کیا، ان شرعی حدود کا اہم ترین مقصد انسانی حقوق کی پاسداری ہے، نیز حدود کو قرآنی منہج کی روشنی میں بلندی کی معراج پر پہنچایا، چنانچہ انسان نماز، عبادت، اور دعاؤں کے ذریعے اللہ تعالی کا جتنا قرب تلاش کرے اس کی انسانیت اتنی ہی بلند ہو جاتی ہے، فرمانِ باری تعالی ہے:
    {وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ}
    صبر اور نماز کے ذریعے مدد طلب کرو۔[البقرة : 45]
    اسی طرح فرمایا:
    {إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ}
    بیشک نماز برائی اور بے حیائی کے کاموں سے روکتی ہے۔[العنكبوت : 45]
    ایک جگہ فرمایا:
    {خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِمْ بِهَا}
    ان کے اموال سے زکاۃ لیکر انہیں پاک کریں اور پاکیزہ بنائیں۔[التوبہ : 103]

    یہ تمام عبادات انسانی دل پر براہِ راست مؤثر ہو کر اسے صبر، اخلاص اور بلند اخلاقی اقدار سے مزین کر دیتی ہیں نیز مذموم صفات سے تحفظ بھی دیتی ہیں۔
    اسلام انسانیت کی تکمیل چاہتا ہے، اس کیلئے ہر وقت اللہ کو نگہبان و نگران سمجھنے کی ثقافت اجاگر کرتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے:
    {بَلِ الْإِنْسَانُ عَلَى نَفْسِهِ بَصِيرَةٌ (14) وَلَوْ أَلْقَى مَعَاذِيرَهُ }
    بلکہ انسان اپنے بارے میں زیادہ جانتا ہے [14] چاہے کتنے ہی بہانے پیش کرے۔[القیامہ: 14 - 15]

    اگر انسان اپنی صحیح رہنمائی کرتے ہوئے خوب محنت اور جد و جہد کرے تو انسانی نفس اطاعت گزار بن جاتا ہے، اور انسانیت چمک دمک اٹھتی ہے، فرمانِ باری تعالی ہے:
    {وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا}
    جو لوگ ہماری راہ میں جد و جہد کرتے ہیں ہم ان کی اپنے راستوں کی طرف رہنمائی کر دیتے ہیں۔[العنكبوت : 69]
    جس انسانیت کو اسلام نے پروان چڑھایا اس میں ہر جنس اور ہر رنگ کے لوگ یکساں شامل ہیں؛ تا کہ باہمی تعارف اور محبت کیساتھ بھائی بھائی بن کر رہیں اور زمین پر خلافت کی ذمہ داریوں کو نبھائیں، فرمانِ باری تعالی ہے:
    {يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللہ أَتْقَاكُمْ إِنَّ اللہ عَلِيمٌ خَبِيرٌ}
    لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے، پھر تمہیں اقوام و قبائل کی صورت میں تقسیم کیا تا کہ تم ایک دوسرے کو پہچانو، بیشک اللہ کے ہاں وہی با عزت ہے جو تم سب سے بڑھ کر متقی ہے، بیشک اللہ تعالی جاننے والا اور خبر رکھنے والا ہے۔[الحجرات : 13]

    اسلام میں انسانیت کا تقاضا یہ ہے کہ: باہمی تعاون، تکافل، محبت، رحمت اور عفو و درگزر کی فضا پیدا کریں، نیز کینہ، تکبر، انتقام، دھوکہ دہی اور غداری چھوڑ دیں، ظلم نہ کریں، غریب لوگوں کی مدد کریں، رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: (اللہ کی بندگی کرتے ہوئے بھائی بھائی بن جاؤ)
    جس طرح قرآن کریم انسانیت کا مفہوم اجاگر کرتے ہوئے انسان کی شان دلوں میں بٹھاتا ہے؛ بالکل اسی طرح انسانی جذبات کو اہداف سے منحرف نہیں ہونے دیتا، نیز انسانیت کو باہمی روابط سے متصادم لڑائی جھگڑوں سے بھی تحفظ دیتا ہے، جس کی وجہ سے انسانیت سچائی اور بھلائی کے بارے میں بصیرت و معرفت حاصل کر لیتی ہے، انسانی سوچ میں ضبط اور عدل و انصاف کی چاہت پیدا ہوتی ہے، رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:
    ("وَأَسْأَلُكَ كَلِمَةَ الْحَقِّ فِيْ الرِّضَا وَالغَضَبِ"[یا اللہ!] میں تجھ سے غصے اور رضا مندی ہر دو حالت میں کلمہ حق کہنے کی توفیق چاہتا ہوں)
    قرآن کریم انسانیت کو سدھارتا ہے مبادا جسمانی تبدیلیاں اور نفسانی چاہتیں اسے ایسی حد تک نہ گرا دیں جہاں پر انسان اپنے نفس کا غلام بن جاتا ہے، نیز زندگی کو بھی تحفظ دیتا ہے کہ کہیں خوفناک لڑائیاں، اور تباہ کن جنگیں انسانیت کو کچل نہ دیں۔
    انسانیت کو اسلام میں بہت ہی بلند مقام و مرتبہ اور درجہ ملا ہے، اسلام میں انسانیت کے کچھ اہداف اور اسباب یہ ہیں: والدین کیساتھ حسن سلوک؛ جو کہ ان کیساتھ اچھے برتاؤ، انکے اخراجات اور نرمی کی شکل میں ادا ہونگے، اسی طرح خواتین ماں، بیوی، بیٹی، اور بہن کسی بھی صورت میں ہوں ان کی نگہداشت سے انسانیت حاصل ہوگی، فرمانِ باری تعالی ہے:
    {إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا}
    اگر تمہاری زندگی میں دونوں والدین یا ان میں سے کوئی ایک بوڑھا ہو جائے تو تم انہیں اف تک نہ کہوں اور نہ ہی ڈانٹ پلاؤ، ان دونوں سے بات کرتے ہوئے اچھی بات کرو۔[الإسراء : 23]
    اور آپ ﷺ کا فرمان ہے: (جس کی بیٹیوں کے ذریعے آزمائش کی جائے ؛ اور وہ ان کیساتھ اچھا سلوک کرے، تو یہ بیٹیاں اس کیلئے آگ سے بچاؤ کا ذریعہ ہونگی)
    آپ ﷺ کا یہ بھی فرمان ہے: (جو شخص بالغ ہونے تک دو بچیوں کی کفالت کرے، تو وہ اور میں کل قیامت کے دن ایسے آئیں گے، آپ ﷺ نے اپنی دونوں انگلیوں کو ملا کر دکھایا)
    آپ ﷺ کا فرمان ہے: (تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کیلئے بہتر ہے، اور میں اپنے اہل و عیال کیلئے سب سے زیادہ بہتر ہوں)
    انسانیت اس وقت بالکل معدوم ہو جاتی ہے بلکہ انسانیت کے اثرات بھی مٹ جاتے ہیں جب خلق الہی کے متعلق اللہ کے احکامات کو پامال کیا جائے، حلال و حرام کے بارے میں شرعی حدود کو پھلانگا جائے، فرمانِ باری تعالی ہے:
    {خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ نُطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مُبِينٌ}
    اللہ نے انسان کو نطفے سے پیدا کیا، تو وہ جھگڑا کرنے والا بن گیا۔[النحل : 4]
    اسی طرح اللہ تعالی کا فرمان ہے:
    {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُحَرِّمُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللہ لَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا إِنَّ اللہ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ}
    ایمان والو! اللہ کی تمہارے لیے حلال کردہ پاکیزہ چیزوں کو حرام مت کہو، اور نہ ہی زیادتی کرو، یقیناً اللہ تعالی زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔[المائدة : 87]
    انسانیت جس وقت عیش پرست لوگوں کے پاس پہنچتی ہے تو یہ اس وقت ظلم و زیادتی، بغاوت، سنگ دلی میں تبدیل ہو جاتی ہے جب انہیں دنیا جہاں کی نعمتیں میسر ہوں، فرمانِ باری تعالی ہے:
    {كَلَّا إِنَّ الْإِنْسَانَ لَيَطْغَى (6) أَنْ رَآهُ اسْتَغْنَى }
    سچ مچ انسان تو آپے سے باہر ہو جاتا ہے۔ [6] جب وہ اپنے آپ کو مالدار دیکھتا ہے۔[العلق : 6 - 7]

    اور وقت کے ساتھ ساتھ یہ سنگ دلی اور بغاوت ، سزاؤں اور بلاؤں تک پہنچا دیتی ہیں، جس کے نتیجے میں ہر چیز کمی، بے برکتی، اور اللہ کی طرف سے عنایت کردہ رزق میں تنگی کا شکار ہو جاتی ہے، فرمانِ باری تعالی ہے:
    {وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْقُرَى آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَرَكَاتٍ مِنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَلَكِنْ كَذَّبُوا فَأَخَذْنَاهُمْ بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ} اور اگر ان بستیوں کے رہنے والے ایمان لے آتے اور پرہیز گاری اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکتیں کھول دیتے لیکن انہوں نے تکذیب کی تو ہم نے ان کے اعمال کی وجہ سے ان کو پکڑ لیا۔ [الأعراف : 96]

    کسی بھی انسان کی انسانیت اس وقت تک قابل قدر و قیمت نہیں ہو سکتی جب تک انسان کی عقل گمراہی سے اور فکر خرافات سے آزاد نہ ہو جائے، چنانچہ جادو گری، نجومیت، روحوں سے ہم کلامی، دست شناسی اور تنویم کاری جیسی اشیاء انسان کی انسانیت کو تباہ و برباد کر رہی ہیں، ان سے مسلمان کا عقیدہ، اخلاق اور عقل و دانش سب متاثر ہوتے ہیں۔
    اور جو لوگ گولہ بارود کے ذریعے مسلمانوں کو مساجد میں قتل کر رہے ہیں ، ان کی انسانیت اور بصیرت سب کچھ ختم ہو چکا ہے۔
    دوسری طرف جو لوگ رسول اللہ ﷺ کی جائے معراج کو اپنے بوٹوں تلے روند رہے ہیں ، بلکہ مسجد اقصی کے صحن میں خواتین، بچوں، اور جوانانِ حریت کو قتل کر رہے ہیں، ان قاتلوں کے ضمیر مردہ اور یہ انسانیت سے بالکل عاری ہو چکے ہیں، فرمانِ باری تعالی ہے:
    {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تَنْصُرُوا اللہ يَنْصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ}
    ایمان والو! اگر تم اللہ کی مدد کرو تو وہ تمہاری مدد کریگا، اور تمہیں ثابت قدم بنائے گا۔[محمد : 7]

    یہی وہ ایمان ہے کہ اگر انسانیت اسے بھلا دے، یا نورِ قرآن سے روشنی لینا چھوڑ دے، تو انسانیت گھٹیا ترین کھائی میں جا گرے، اور انسان کی کوئی قدر و قیمت باقی نہ رہے، چنانچہ انسان اللہ کے دیے ہوئے مقام و مرتبے سے بھی نیچے جا گرتا ہے۔
    یہی وجہ ہے کہ مسلمان پوری دنیا کیلئے ایک عظیم پیغام اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے ہیں، اسی پیغام کے ذریعے دنیا میں انسانی اقدار کو جلا ملے گی، اور پیش آمدہ مسائل کا حل نکلے گا، اگرچہ دنیا میں بھوک افلاس اور بیماروں کی بھر مار ہے، لاکھوں پناہ گزینوں اور تنازعات نے انسانیت کو اپنا اسیر بنایا ہوا ہے، لیکن ہر مسلمان کے سینے میں انسانیت سے بھر پور زندہ ضمیر ہے جو اسے ہر وقت آگہی و رہنمائی، مظلومو ں کی مدد، محتاجوں کے جسم میں امید جگانے اور مصیبت زدہ لوگوں کو تعاون فراہم کرنے کیلئے ابھارتا رہتا ہے، ساتھ میں مسلمان سلامتی و رحمت سے مزین اسلام کا پیغام بھی پہنچاتا ہے، اس لیے یہ اہداف حاصل کرنا بالکل ممکن ہے۔
    ہم جس وقت رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام کی سیرت پر غور و فکر کریں تو ہمیں ایسے واقعات نظر آتے ہیں جو انہوں نے انسانیت کے سینے پر ان مٹ انداز میں نقش کر دیے ہیں۔
    مسلمان اللہ کی وسیع زمین پر پھیل کر اسلام کی دعوت پہچانے کیلئے دنیا کے ہر خطے میں جاتے ہیں، خلق الہی پر ترس کھاتے ہوئے انہیں سچائی کا راستہ بتلاتے ہیں، اور رضائے الہی کے حصول کیلئے انسانیت کا درس دیتے ہیں۔
    ہر آن و مکان میں اپنی جانیں اور مال و دولت راہِ الہی میں لگانے والے واعظین اور مبلغین ، رفاہی کاموں ، حلقات قرآنیہ ، اور دوسروں کی مدد کیلئے اپنے آپ کو وقف کرنے والے لوگ ہی خوش قسمت ہیں جنہیں اللہ تعالی نے سچی انسانیت سے نوازا ہے، ان کی اس دریا دلی کو حقیقت میں قرآن سے غذا ملی، واقعی یہ لوگ دنیا میں خوشحالی اور آخرت میں دائمی نعمتوں کے مستحق ہیں۔
    انسانیت کا مفہوم اس ملک کی قیادت اور عوام دونوں میں عیاں ہے؛ کیونکہ دنیا بھر کے مختلف علاقوں میں امدادی منصوبے انکے تعاون سے چل رہے ہیں، بلکہ کسی بھی خطے کے مسلمان مظلوم اور مصیبت زدہ لوگوں کی امداد اور تعاون میں کسی قسم کی کمی روا نہیں رکھتے؛ کیونکہ تمام مسلمان سچی انسانیت اور بھر پور گرم جوشی کیساتھ مدد کیلئے ہاتھ بڑھاتے ہیں، فرمانِ باری تعالی ہے:
    {فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ (11) وَمَا أَدْرَاكَ مَا الْعَقَبَةُ (12) فَكُّ رَقَبَةٍ (13) أَوْ إِطْعَامٌ فِي يَوْمٍ ذِي مَسْغَبَةٍ (14) يَتِيمًا ذَا مَقْرَبَةٍ (15) أَوْ مِسْكِينًا ذَا مَتْرَبَةٍ }
    مگر اس نے دشوار گھاٹی سے گزرنے کی ہمت نہ کی [11] اور آپ کیا جانیں کہ کیا ہے وہ دشوار گھاٹی ؟[12] وہ کسی گردن کو غلامی سے چھڑانا [13] یا فاقہ کے دنوں میں کھانا کھلانا [14] یا قریبی یتیم کو [15] یا کسی خاک نشین مسکین کو [کھانا کھلانا ہے] [البلد : 11 - 16]

    اللہ تعالی ہم سب کیلئے قرآن مجید کو با برکت بنائے ، مجھے اور آپ سب کو قرآن مجید سے مستفید ہونے کی توفیق دے، میں اپنی بات کو اسی پر ختم کرتے ہوئے اللہ سے اپنے اور تمام مسلمانوں کے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں، آپ سب بھی اسی سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگیں وہی بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

    دوسرا خطبہ:
    ڈھیروں بابرکت، اور پاکیزہ تعریفیں اللہ تعالی کیلئے ہیں، میں اللہ تعالی کی حمد خوانی اور شکر بجا لاتا ہوں، اور گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں، وہ یکتا ہے، نیز یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اسکے بندے اور رسول ہیں، ، اللہ تعالی آپ پر، آپکی آل ، تمام صحابہ کرام پر درود و سلامتی نازل فرمائے ۔
    حمدو صلاۃ کے بعد:
    میں اپنے آپ اور تمام سامعین کو تقوی الہی کی نصیحت کرتا ہوں، یہی تمام مشکلات سے تحفظ کا قلعہ ، اور عظیم کامیابی کا راز ہے۔
    انسانیت کا چہرہ اس وقت مسخ ہو جاتا ہے جب سنگین بحرانوں ، مشکلات، اور ضرورت مندی کے وقت سودی قرضے دیے جائیں، حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے سودی لین دین کرنے والوں کی قیامت کے دن کیا حالت ہوگی؟ یہ بتلاتے ہوئے فرمایا: (میں نے رات خواب میں دیکھا میرے پاس دو آدمی آئے اور وہ مجھے ارض مقدس لے گئے ، پھر اس کے بعد ہم آگے چلے تو ہم خون کی ایک نہر کے پاس جا پہنچے، اس میں ایک آدمی کھڑا ہے اور دوسرا آدمی نہر کے کنارے ایک پتھر کے آگے کھڑا ہے، جب نہر میں موجود آدمی باہر آنے لگتا ہے تو کنارے پر کھڑا شخص اس کے منہ پر پتھر دے مارتا ہے، اس طرح وہ شخص دوبارہ اپنی جگہ پہنچ جاتا ہے! چنانچہ جب بھی وہ شخص باہر نکلنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ اس کے منہ پر پتھر دے مارتا ہے اور وہ واپس اپنی جگہ پہنچ جاتا ہے! میں نے پوچھا نہر میں مجھے کیا نظر آ رہا تھا؟ تو کہا: نہر میں نظر آنے والا شخص سود خور تھا)
    اللہ کے بندو!
    رسولِ ہُدیٰ پر درود و سلام پڑھو، اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں اسی کا تمہیں حکم دیا ہے: }إِنَّ اللہ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا{
    اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی اس پر درود و سلام بھیجا کرو۔ [الأحزاب: 56]

    یا اللہ! محمد -ﷺ- پر انکی اولاد اور ازواج مطہرات پر رحمت و سلامتی بھیج، جیسے کہ تو نے ابراہیم کی آل پر رحمتیں بھیجیں، اور محمد -ﷺ- پر انکی اولاد اور ازواج مطہرات پر برکتیں نازل فرما، جیسے تو نے ابراہیم کی آل پر برکتیں نازل فرمائیں، بیشک تو لائق تعریف اور بزرگی والا ہے۔
    یا اللہ! چاروں خلفائے راشدین ابو بکر، عمر، عثمان، اور علی رضی اللہ عنہم سے راضی ہو جا، انکے ساتھ ساتھ اہل بیت، اور تمام صحابہ کرام سے راضی ہو جا، اور اپنے رحم و کرم، اور احسان کے صدقے ہم سے بھی راضی ہو جا، یا ارحم الراحمین!
    یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ نصیب فرما، یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ نصیب فرما، یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ نصیب فرما، اور کافروں کیساتھ کفر کو بھی ذلیل و رسوا فرما، یا اللہ! اپنے اور دین کے دشمنوں کو نیست و نابود کر دے، یا اللہ! اس ملک کو اور سارے اسلامی ممالک کو امن کا گہوارہ بنا دے۔
    یا اللہ! جو کوئی بھی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بری نیت رکھے تو اسے اپنی جان کے لالے پڑ جائیں، اس کی مکاری اسی کی تباہی و بربادی کا باعث بنا دے، یا سمیع الدعا! یا اللہ! جو کوئی بھی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بری نیت رکھے تو اسے اپنی جان کے لالے پڑ جائیں، اس کی مکاری اسی کی تباہی و بربادی کا باعث بنا دے، یا سمیع الدعا! یا اللہ! جو کوئی بھی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بری نیت رکھے تو اسے اپنی جان کے لالے پڑ جائیں، اس کی مکاری اسی کی تباہی و بربادی کا باعث بنا دے، یا سمیع الدعا!
    یا اللہ! کتاب کو نازل کرنے والے! بادلوں کو چلانے والے، تمام اتحادی افواج کو شکست سے دوچار فرما، یا اللہ! مشرکوں اور کافروں کے خلاف مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، یا اللہ! اپنی رحمت کے صدقے مسلمانوں کو فتح مبین جلد از جلد عطا فرما، یا ارحم الراحمین!
    یا اللہ ! باغی اور سرکش لوگوں نے ظلم و بربریت کی انتہا کر دی ہے، یا اللہ! ان کے قدموں تلے سے زمین نکال دے، اوپر سے اپنا عذاب برسا، اور انہیں سب کیلئے عبرت بنا دے، یا رب العالمین!
    یا اللہ! دین دشمن قوتوں کا اکٹھ تباہ فرما، ان میں انتشار پیدا فرما، اور اپنے عذاب کا کوڑا ان پر برسا، یا رب العالمین!
    یا اللہ! مسلمانوں کے دلوں میں باہمی الفت پیدا فرما، ان کی صفوں میں اتحاد پیدا فرما، اور انہیں حق بات پر جمع فرما، یا رب العالمین!
    یا اللہ! پوری دنیا میں کمزور مسلمانوں کی مدد فرما، یا اللہ! مسلمانوں کی مدد، نصرت اور پشت پناہی فرما، یا اللہ! مسلمان بھوکے ہیں ان کے کھانے کا بند و بست فرما، پاؤں سے ننگے ہیں انہیں جوتے عطا فرما، تن پر کپڑے نہیں ہیں انہیں کپڑے عطا فرما، وہ مظلوم ہیں ان کا انتقام لے، وہ مظلوم ہیں ان کا انتقام لے، وہ مظلوم ہیں ان کا انتقام لے، یا رب العالمین!
    یا اللہ! ہم تجھ سے تیری رضا اور جنت کا سوال کرتے ہیں، اور تیری ناراضی اور جہنم سے تیری پناہ چاہتے ہیں۔
    یا اللہ! ہمارے دینی معاملات کی اصلاح فرما، اسی میں ہماری نجات ہے، یا اللہ! ہماری دنیا بھی درست فرما دے اسی میں ہمارا معاش ہے، اور ہماری آخرت بھی اچھی بنا دے ہم نے وہیں لوٹ کر جانا ہے، اور ہمارے لئے زندگی کو ہر خیر کا ذریعہ بنا، اور موت کو ہر شر سے بچنے کا وسیلہ بنا دے، یا رب العالمین!
    یا اللہ! ہم تجھ ہدایت، تقوی، عفت، اور غنی کا سوال کرتے ہیں۔
    یا اللہ! ہم تجھ سے ابتدا سے لیکر انتہا تک ہر قسم کی خیر کا سوال کرتے ہیں، شروع سے لیکر آخر تک ، اول سے آخر تک ، ظاہری ہو یا باطنی اور جنت میں بلند درجات کے سوالی ہیں، یا رب العالمین! یا اللہ! ہم تجھ سے ابتدا سے لیکر انتہا تک ہر قسم کی خیر کا سوال کرتے ہیں، شروع سے لیکر آخر تک ، اول سے آخر تک ، ظاہری ہو یا باطنی اور جنت میں بلند درجات کے سوالی ہیں، یا رب العالمین!
    یا اللہ! ہماری مدد فرما، ہمارے خلاف کسی کی مدد نہ کر، یا اللہ! ہمیں غلبہ عطا فرما، ہم پر کسی کو غلبہ نہ دے، یا اللہ! ہمارے حق میں تدبیر فرما، ہمارے خلاف کوئی تدبیر نہ ہو، یا اللہ! ہمیں ہدایت دے اور ہمارے لئے ہدایت آسان بھی بنا دے، یا اللہ! ظالموں کے خلاف ہماری مدد فرما۔
    یا اللہ ہمیں تیرا ذکر کرنے والا بنا، تیرا شکر گزار بنا، تیرے لئے مٹنے والا بنا، تیری ہی جانب لوٹنے والا اور رجوع کرنے والا بنا۔
    یا اللہ! ہماری توبہ قبول فرما، ہمارے گناہوں کو دھو ڈال ، ہماری حجت ثابت کر دے، ہماری زبان کی حفاظت فرما، اور ہمارے سینے کی تمام بیماریاں ختم کر دے۔
    یا اللہ! فوت شدگان پر رحم فرما، بیماروں کو شفا یا ب فرما، قیدیوں کو رہائی عطا فرما، اور ہمارے تمام معاملات کی باگ ڈور سنبھال، اور ہماری مکمل رہنمائی فرما، یا رب العالمین!
    یا اللہ! ہم پر اپنی برکت، رحمت، فضل، اور رزق کے دروازے کھول دے، یا اللہ! ہم پر اپنی برکت، رحمت، فضل، اور رزق کے دروازے کھول دے۔
    یا اللہ! ہم تجھ سے نیکیاں کرنے کی توفیق ، گناہوں سے خلاصی ، غریبوں سے محبت مانگتے ہیں، اور یہ بھی سوال کرتے ہیں کہ تو ہم پر رحم فرما، اور ہمارے سارے گناہ معاف فرما، اور تو اپنے بندوں کی آزمائش کرنا چاہے تو ہمیں بغیر کسی آزمائش کے اپنی طرف بلا لینا۔
    یا اللہ! ہم بری تقدیر، دشمنوں کی پھبتی ، بد بختی، اور سخت آزمائش سے تیری پناہ چاہتے ہیں، یا اللہ! ہم تیری رحمت و مغفرت سے سوالی ہیں، یا رب العالمین!
    یا اللہ! ہمارے والدین، اور تمام مسلمانوں کو بخش دے، یا رب العالمین!
    یا اللہ! ہمارا خاتمہ بالخیر فرما، اور ہمارے تمام معاملات خیریت کیساتھ نمٹا دے، یا اللہ! ہمیں تمام معاملات کے مثبت نتائج عطا فرما، اور ہمیں دنیا و آخرت کی رسوائی سے محفوظ فرما۔
    یا اللہ!ہمارے حکمران خادم حرمین شریفین کو اپنے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق دے، یا اللہ!انہیں اپنے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق دے، اور تیری راہنمائی کے مطابق انہیں توفیق دے، اس کے تمام کام اپنی رضا کیلئے بنا لے ، یا رب العالمین! یا اللہ!ان کے دونوں نائب کو اپنے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق دے، یا ارحم الراحمین!
    یا اللہ! تمام مسلم حکمرانوں کو تیری شریعت نافذ کرنے کی توفیق عطا فرما، یا رب العالمین!
    یا اللہ! تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے، تو ہی غنی ہے ہم تیرے در کے فقیر ہیں، ہم پر بارش نازل فرما، اور ہمیں مایوس مت فرما، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ! رحمت والی بارش ہو، عذاب، تباہی و بربادی والی بارش نہ ہو، یا اللہ! رحمت والی بارش ہو، عذاب، تباہی و بربادی والی بارش نہ ہو۔
    }رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ
    { ہمارے پروردگار! ہم نے اپنے آپ پر ظلم کیا اور اگر تو نے ہمیں معاف نہ کیا اور ہم پر رحم نہ کیا تو ہم بہت نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے [الأعراف: 23] }
    رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ{
    اے ہمارے پروردگار! ہمیں بھی بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان لائے تھے اور جو لوگ ایمان لائے ہیں, ان کے لیے ہمارے دلوں میں کدورت نہ رہنے دے, اے ہمارے پروردگار! تو بڑا مہربان اور رحم کرنے والا ہے[الحشر: 10] }رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ{ ہمارے رب! ہمیں دنیا اور آخرت میں بھلائی عطا فرما، اور ہمیں آخرت کے عذاب سے محفوظ رکھ۔ [البقرة: 201]
    }إِنَّ اللہ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ {
    اللہ تعالیٰ تمہیں عدل، احسان اور قرابت داروں کو (امداد) دینے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی، برے کام اور سرکشی سے منع کرتا ہے۔ وہ تمہیں اس لئے نصیحت کرتا ہے کہ تم اسے (قبول کرو) اور یاد رکھو [النحل: 90]
    تم اللہ کا ذکر کرو وہ تمہیں یاد رکھے گا، اسکی نعمتوں کا شکر ادا کرو وہ تمہیں اور زیادہ عنایت کرے گا، اللہ کی یاد بہت ہی بڑی عبادت ہے، اور اللہ تعالی کو تمہارے تمام اعمال کا بخوبی علم ہے۔
    مترجم شیخ شفقت الرحمن مغل (ابن مبارک)
    رکن مجلس علماء اردو مجلس
    جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  2. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,323
    بارک اللہ فیک یا شیخ
    بہت خوب
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں