خنزیر کے چمڑے سے بنائے گئے جوتے

ابن قاسم نے 'آپ کے سوال / ہمارے جواب' میں ‏دسمبر 1, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابن قاسم

    ابن قاسم محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2011
    پیغامات:
    1,717
    خنزیر کا گوشت مسلمانوں کے لیے حرام ہے مگر خنزیر کے چمڑے سے بنائے گئے جوتے اور چپل استعمال کیے جاسکتے ہیں یا نہیں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  2. ابن قاسم

    ابن قاسم محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2011
    پیغامات:
    1,717
    @نصراللہ بھائی سے گزارش ہے قرآن یا سنت رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم سے جواب دیں
     
  3. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,323
    دراصل شیخ رفیق بہت مصروف ہیں۔
    یہاں پر اس کا جواب موجود ہے لیکن عربی میں۔
    خلاصہ کلام یہ ہے :
    کہ خنزیرکی جلد نجس ہے اور دباغت سے پاک نہیں ہوتی لہذا جو بھی چیز اس سے بنی ہو اس میں نماز نہیں ہوتی کیوں کہ نماز کیلئے طہارت شرط ہے۔ صرف سخت مجبوری کی حالت میں خنزیر کے جوتے بطور حاجت نماز سے باہر پہنے جاسکتے ہیں اس کے برعکس خنزیر کی جلد سے بنی چیزیں پہننا اور ان کی خرید وفروخت ناجائز ہے۔ (یہ سائٹ پر فتوے سے لیے گئے بعض نکات ہیں)
    اس سے ملتا جلتا جواب
    http://islamqa.info/ur/1695
     
    Last edited: ‏دسمبر 3, 2015
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,323
  5. نصر اللہ

    نصر اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2011
    پیغامات:
    1,845
    وعلیکم السلام.
    جواب تو اعجاز بھائی نے دے دیا بحمدللہ میں تاکیدا ہی بات کرتا ہوں کہ خنزیر ایک نجس جانور ہے جس کی کھال سے بنائے گئے جوتے استعمال کرنا بھی ناجائز ہیں الا کہ آپ سخت مجبوری میں ہوں لیکن مجبوری ختم ہوتے ہی آپ سے حکم ساقط ہو جائے گا اور آپ ان جوتوں کو اتارنے کے پابند ہوں گے.
    نمبر دو ایسے جوتوں میں ادا کی گئی نماز بھی درست نہیں، کیونکہ نماز کے لئے طہارت شرط ہے وہ جسمانی ہو یا جگہ کے لحاظ سے ہو یا لباس کے لحاظ سے ہو، اگر آپ نے جانتے ہوئے بھی ان جوتوں میں نماز ادا کی تو آپ کو نماز کا اعادہ کرنا ہو گا آپ کی وہ نماز درست نہیں اور اگر آپ نے لا علمی میں ان جوتوں میں نماز ادا کی تو اعادہ نہیں کرنا ہو گا.
    واللہ اعلم بالصواب.

    Sent from my CHM-U01 using Tapatalk
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  6. ابن قاسم

    ابن قاسم محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2011
    پیغامات:
    1,717
    جی در اصل میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ اللہ تعالٰی نے صرف اس کا گوش کھانے سے حرام فرمایا ہے یا اس کے جسم کو کسی بھی طریقے سے استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں سمجھا دیجیے گا۔
     
  7. نصر اللہ

    نصر اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2011
    پیغامات:
    1,845
    کھال کے اندر ہر چیز ہی گوشت کے حکم میں آجاتی ہے اگر گوشت اور باقی چیزوں کی اکگ الگ وضاحت ہوتی تو مشکل پیش آجاتی، اسلئے گوشت کا کہہ کر اس میں ہر چیز کا داخل کر لیا، (قُلْ لَا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَىٰ طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلَّا أَنْ يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَمًا مَسْفُوحًا أَوْ لَحْمَ خِنْزِيرٍ فَإِنَّهُ رِجْسٌ أَوْ فِسْقًا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ فَإِنَّ رَبَّكَ غَفُورٌ رَحِيمٌ) الانعام.

    باقی بچ جاتی ہے کھال تو یہ نجس العین جانور ہے جس کا ذبح کرنا بھی جائز نہیں اور اس کی کھال کو رنگ لینے سے یہ پاک نہیں ہوتی، صرف مأکول اللحم جانوروں کی رنگنے سے پاک ہو جاتی ہے جس کے لئے کئی احادیث موجود ہیں.

    جانور گوشت اور کھال دو ہی چیزوں کا مجموعہ ہوتا ہے دونوں چیزوں کی وضاحت موجود ہے لہذا نجس جانور کی کھال اور گوشت دونوں ہی حرام ہیں.
    واللہ اعلم الصواب.

    Sent from my CHM-U01 using Tapatalk
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  8. ابن قاسم

    ابن قاسم محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2011
    پیغامات:
    1,717
    جزاک اللہ خیرا
     
  9. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ عَامَ الْفَتْحِ وَهُوَ بِمَكَّةَ ‏"‏ إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ حَرَّمَ بَيْعَ الْخَمْرِ وَالْمَيْتَةِ وَالْخِنْزِيرِ وَالأَصْنَامِ ‏"‏ ‏.‏ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ شُحُومَ الْمَيْتَةِ فَإِنَّهُ يُطْلَى بِهَا السُّفُنُ وَيُدْهَنُ بِهَا الْجُلُودُ وَيَسْتَصْبِحُ بِهَا النَّاسُ فَقَالَ ‏"‏ لاَ هُوَ حَرَامٌ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عِنْدَ ذَلِكَ ‏"‏ قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمَّا حَرَّمَ عَلَيْهِمْ شُحُومَهَا أَجْمَلُوهُ ثُمَّ بَاعُوهُ فَأَكَلُوا ثَمَنَهُ ‏"‏‏.‏
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں