نعیم بن حماد ثقہ ہے یا نہیں

قرطبی نے 'آپ کے سوال / ہمارے جواب' میں ‏دسمبر 24, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. قرطبی

    قرطبی رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏دسمبر 23, 2015
    پیغامات:
    59
    قال ابْن حَمَّاد قَالَ غيره كَانَ يضع الحديث فِي تقوية السنة وحكايات عن العلماء فِي ثلب أبي حنيفة مزورة كذب.
    الکامل 8۔251 ط العلمیۃ

    "غیرہ" سے مراد غیر احمد بن شعیب ہیں۔ ہو سکتا ہے اس پر یہ اعتراض ہو کہ یہاں جارح مجہول ہے۔ لیکن اس جرح کو اسی جہالت کے ساتھ ابن عدی اور ذہبی نے ذکر کیا ہے۔
    لیکن اس جرح کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے جسے ذہبی نے سیر میں ذکر کیا ہے:
    ثُمَّ قَالَ ابْنُ عَدِيٍّ: ابْنُ حَمَّادٍ مُتَّهَمٌ فِيْمَا يَقُوْلُ؛ لِصَلاَبَتِهِ فِي أَهْلِ الرَّأْيِ (2) .
    وَقَالَ لِي ابْنُ حَمَّادٍ: وَضَعَ نُعَيْمٌ حَدِيْثاً عَنْ عِيْسَى بنِ يُوْنُسَ، عَنْ حَرِيْزِ بنِ عُثْمَانَ -يَعْنِي: فِي الرَّأْيِ-.
    اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نعیم کا یہ فعل صرف ابو حنیفہؒ کے خلاف نہیں تھا بلکہ وہ اہل الرائے کے بارے میں ایسے متشدد تھے کہ حدیث گھڑنے سے بھی نہیں چوکتے تھے۔
    اسی لیے ذہبی نے اپنا فیصلہ یوں دیا ہے:
    قُلْتُ: لاَ يَجُوْزُ لأَحَدٍ أَنْ يَحْتَجَّ بِهِ، وَقَدْ صَنَّفَ كِتَابَ (الفِتَنِ) ، فَأَتَى فِيْهِ بِعَجَائِبَ وَمَنَاكِيْرَ.
    سیر اعلام النبلاء 10۔609 ط رسالہ
    امام ذہبیؒ کا ان کے بارے میں صریح قول ہے جو میں نے ما قبل میں سیر کے حوالے سے عرض بھی کیا ہے:
    قُلْتُ: لاَ يَجُوْزُ لأَحَدٍ أَنْ يَحْتَجَّ بِهِ
    اشکال
    مام ذهبي رحمه الله (المتوفى748)نے کہا:
    نعيم بن حماد الخزاعي المروزي الفرضي الحافظ أحد علماء الأثر سمع أبا حمزة السكري وهشيما وطبقتهما وصنف التصانيف وله غلطات ومناكير مغمورة في كثرة ما روى[العبر في خبر من غبر 1/ 405]
    جواب
    "میں کہتا ہوں: کسی کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ ان سے دلیل پکڑے۔"
    اس صریح قول کی موجودگی میں تاویلات کر کے انہیں ذہبی کے نزدیک ثقہ ثابت کرنا میرا خیال ہے کہ کوئی بہتر چیز نہیں ہے۔
     
  2. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران

    رکن انتظامیہ

    ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,939
    نعيم بن حماد صدوق ‘ حافظ ہے۔ البتہ مختلف فیہ ہے۔
    صحیح بخاری میں اسکی روایات مقرونا اور صحیح مسلم کے مقدمہ میں بھی ہیں۔
    امام ذہبی نے کاشف میں کہا : الحافظ ، مختلف فيه ، امتحن فمات محبوسا بسامراء
    حافظ ابن حجر نے تقریب میں کہا: صدوق يخطىء كثيرا ، فقيه عارف بالفرائض
    قال يوسف بن عبد الله الخوارزمي: سألت أحمد بن حنبل، عن نعيم بن حماد. فقال: لقد كان من الثقات. «الكامل» (1959)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں