الحاد اور ترقی پسندادب

عفراء نے 'نقد و نظر' میں ‏جنوری 31, 2016 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عفراء

    عفراء webmaster

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2012
    پیغامات:
    3,918
    ماہرؔ القادری
    28 اگست 1963ء

    یہ دور جس سے آج کی انسانی دنیا گزر رہی ہے،فتنوں کا دور ہے۔اللہ تعالیٰ کی زمین پر فتنے گھانس پھونس کی طرح چاروں طرف اگ رہے ہیں،ایمان و یقین اور اخلاق و نیکوکاری کو قدم قدم پر طرح طرح کی آزمائشوں،خطروں اور فتنوں سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔
    تجارت وسیاست اور معیشت و معاش میں جو اخلاقی فساد پایا جاتا ہے،شعر و ادب اور فکر و دانش کی دنیا بھی اس فساد سے محفوظ نہیں رہی،بلکہ یہاں تو اور زیادہ ابتری نظر آتی ہے،تعلیم کی وہ کثرت کہ فٹ پاتھ پر بیٹھنے والے موچی بھی اخبار اور رسالے پڑھتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں،مگر علم جسے "نیکی" کے ہم معنی اور مترادف کہا گیا ہے،اس کا ساری دنیا میں قحط ہے!اس دور میں بعض ایسے فتنے بھی پائے جاتے ہیں جو بظاہر بےضرر نظر آتے ہیں مگر ان کی مضرتوں اور خطرناکیوں کی کوئی حدوانتہا نہیں!
    شعر و ادب کی دنیا میں "انسان" نگارش و گفتگو کا موضوع بنا ہوا ہے اور اس کی عظمت اور بڑائی کو طرح طرح سے اجاگر کیا جا رہا ہے!یہ بات سو فیصدی درست ہے کہ انسان کو اللہ تعالٰی نے بڑا شرف اور عظمت و بزرگی عطا کی ہے مگر یہ کوئی ایسا راز نہیں ہے جو ہمارے دور کے شاعروں،ادیبوں اور دانشوروں پر منکشف ہوا ہے اور اس سے پہلے کی دنیا انسان کو ذلیل اور کمتر سمجھتی تھی اور لوگ اپنی صلاحیتوں اور توانائیوں سے ناآشنا تھے۔اس نظریہ اور کلیہ بلکہ عقیدے کو انسانی تاریخ کے ہر دور میں تسلیم کیا گیا ہے کہ مخلوقات میں سب سے زیادہ عظمت و بزرگی اور شرف و برتری "انسان" کو حاصل ہے،جمادات،نباتات اور حیوانات کی تمام خصوصیات کا جوہر "حضرتِ انسان" میں پایا جاتا ہے،اس لئے اس کی ذات خلاصہ کائنات ہے اور اس اعتبار سے اس "عالمِ صغیر" (انسان) میں پوری کائنات یعنی "عالمِ کبیر" سما گیا ہے،انسان تمام عناصر کائنات کا جوہر اور روح ہے،اور اسی ذوق و شوق کی پذیرائی کے لئے عالمِ کون و فساد کو رنگینیاں اور رعنائیاں دی گئی ہیں!اور دنیا کی یہ محفل آدمی ہی کے لئے سجائی گی ہے۔قرآن انسان کو زمین پر اللہ تعالٰی کا خلیفہ کہتا ہے۔ترقی پسندی کے نام سے جو ادب منظرِ عام پر آرہا ہے،اس میں انسان کو اس حیثیت سے نمایاں کیا جاتا ہے جیسے انسان مذہب کے پیش کئے ہوئے "خدا" کا حریف اور مدِ مقابل ہے اور اس کی صلاحیتیں اور توانائیاں خدائی صفات کو معاذ اللہ شکست دیدیں گی اور اس مادی کائنات کے پورے نظام پر کسی غیر مادی طاقت کی نہیں،بلکہ صرف انسان کی جو مادی طاقتوں کا سرچشمہ ہے حکمرانی ہوگی!چنانچہ ملحد ادیبوں اور شاعروں نے لا الہ الا اللہ کے "لا الہ الا انسان" اپنا کلمہ ایجاد کیا ہے!لوگ اس اندازکے مفکرین اور انشاپردازوں کو انسان کا بہت بڑا ہمدرد اور خیرخواہ سمجھتے ہیں!دعوے یہ کئے جارہے ہیں کہ انسان کی توانائیاں اور صلاحیتیں بالآخر اس دور میں پہونچ جائیں گی،جب آدمی موت پر قابو پالے گا،وہ پیدا ہونے کے بعد پھر فنا اور نابود نہ ہوگا۔اور نہ بیماریاں اسے ستائیں گی،نہ اس کے ارادے ٹوٹا کریں گے اور نہ اسے کوئی غم لاحق ہوگا!
    یہ دعویٰ کس حد تک صحیح ہے،اس کا فیصلہ تو مستقبل ہی کر سکے گا،انسان کا ماضی اور حال جو ہمارے سامنے ہے اس پر نظر کرتے ہوئے اس قسم کے بلند بانگ دعوے کھوکھلے اور بےبنیاد دکھائی دیتے ہیں!غلط کہتا ہے جو یہ کہتا ہے کہ وجودِ ذات باری کے عقیدہ کے سبب انسان کی توانائیاں اور صلاحیتیں دبی دبی رہی ہیں جیسے کسی فصل کو پالا مار جائے اور روئیدگی کی قوت ٹھٹھر کر رہ گئی ہو۔تمدن و تہذیب اور فلسفہ و سائنس کی اب تک جتنی ترقیاں ہوئی ہیں،ان کا نہ تو ذاتِ باری کے عقیدے سے کوئی تصادم ہوا ہے اور نہ یہ مقدس و معصوم عقیدہ سائنس کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنا ہے،اگر مریخ و مشتری اور ماہتاب و عطارو میں اس زمین کے آدمی جاکر بود و باش بھی اختیار کرلیں اور سائنس کی ایجادات اس مقام تک پہونچ جائیں کہ کرۂ ہوا میں ریل اور موٹر دوڑنے لگیں تو ایسا ہوجانے سے وجود باری کا عقیدہ ذرہ برابر متاثر نہیں ہوتا جبکہ سائنس و تہذیب کی یہ ایجادات اور ترقیاں تو اللہ تعالٰی کے وجود اور اس کی عظمت و ربوبیت کی زندہ دلیلیں ہیں!
    مذہب کہتا ہے،دین کہتا ہے بلکہ یوں کہنا چاہیئے کہ اسلام کہتا ہے کہ اللہ تعالٰی نے اس کائنات کو پیدا فرمایا اور اسے پیدا فرمانے کے بعد وہ اس سے غیر متعلق نہیں ہوگیا بلکہ اس کی رحمت،ربوبیت اور مشیت اس کارخانہ کو چلا رہی ہے اور کائنات کے نظام کو تھامے ہوئے ہے۔اور ایک لمحہ کے لئے بھی کسی قسم کی فترت،غفلت اور ڈھیل واقع نہیں ہوتی!سائنس جتنی ترقی کرتی جاتی ہے،یہ بات اور زیادہ آشکارا ہوتی جارہی ہے کہ یہ کائنات جتنی زیادہ پیچیدہ ہے،اس سے زیادہ منظم ہے،خاک کا ایک ایک ذرہ اور درختوں کی ایک ایک پتی اپنے اندر تنظیم و ترتیب کا ایک عالم رکھتی ہے اور عقلِ سلیم کسی طرح اس بات کو باور نہیں کرسکتی کہ یہ کائنات آپ ہی آپ پیدا ہوگئی ہے اور مادہ نے جو بالکل بےشعور ہے اپنی تنظیم آپ کی ہے!
    جو کوئی اس قسم کا عقیدہ رکھتا ہے وہ یا تو پاگل ہے اور اس کی مت ماری گئی ہے یا پھر وہ جان بوجھ کر حقیقت کو جھٹلاتا ہے!سائنس داں اشیا کے موجد ہیں خالق نہیں ہیں،کسی سائنس داں نے ایک ذرہ بھی آج تک تخلیق نہیں کیا،وہ خود جن صلاحیتوں کو بروئے کار لاتا ہے وہ اللہ تعالٰی کی پیدا کی ہوئی ہیں اور ان صلاحیتوں کو سائنس داں جن کیمیاوی عناصر میں صرف کرتا ہے وہ بھی خالقِ کائنات کی شانِ تخلیق کا مظہر ہیں،جس عقل و فراست کے زور سے سائنس دانوں نے "اسپٹنگ" ایجاد کیا۔وہ عقل و فراست بھی اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہے،اگر عقل و فراست آپ ہی آپ پیدا ہوجایا کرتیں تو نباتات و جمادات بھی صاحب عقل اور اہلِ شعور ہوتے!انسان کو عقل اس لئے دی گئی کہ اس کی ذمہ داریاں تمام مخلوقات سے زیادہ عظیم،پیچیدہ،نازک اور وسیع و بسیط ہیں،تمدن و تہذیب اور علم و دانش کی تمام رنگ آرائیاں اور بوقلمونیاں انسان ہی کے دم قدم سے پائی جاتی ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے اسے وہ صلاحیتیں عطا کی ہیں،جو دوسری مخلوقات کو نہیں دی گئیں!
    جب سے دنیا میں حیوانات کے وجود کا اتاپتا ملتا ہے،وہ جس انداز پر رہتے ہیں،غار اور کھوہ میں،گھونسلوں اور درختوں کے کھوکھلے تنوں میں کیچڑ اور پانی میں،سوراخوں اور بھٹوں میں!لاکھوں سال کی مدت گزر جانے کے بعد بھی ان کی بودوباش،طرز رہائش اور کھانے پینے اور چرنے جگنے کے انداز و طور طریق میں ذرہ برابر اضافہ نہیں ہوا مگر اس کے برخلاف انسان نے فنِ تعمیر میں جو ترقیاں کی ہیں وہ کس قدر حیرت انگیز بلکہ سحر کارانہ اور معجز نما ہیں،پھر مادی ترقیوں کا یہ سلسلہ کسی حد پر جاکر رک نہیں گیا،اس میں برابر کانٹ چھانٹ،ترقی،اضافہ اور نزاکتیں پیدا ہوتی رہتیں ہیں،آدمی کے جسم کی ساخت بھی اس قسم کی ہے کہ مدنی الطبع ہونا چاہیئے اور مدنیت کا یہ تقاضا ہے کہ مادی وسائل خوبی و ترقی کے نئے نئے روپ دھارتے رہیں!
    ان لوگوں کی عقل و فکر کا دیوالیہ نکل چکا ہے جو سائنس کی ترقیوں کے نام پر اللہ تعالٰی پر طنز کرتے ہیں،سائنس کی ترقیوں سے تو اللہ تعالیٰ کی خلاقی اور قدرت و عظمت کے لئے نئے نئے ثبوت فراہم ہوتے ہیں!ذہن و فکر اور دل و دماغ کی قوتوں کے اس افلاس کی بھلا کوئی انتہا ہے کہ سائنس کی جو ایجادات اللہ تعالیٰ کے وجود کے یقین کو بڑھانے والی ہونی چاہئیں،ان سے وہم و انکار اور کفر و الحاد کی طرف ذہن جاتا ہے!اس قسم کی باتیں دماغی امراض کا ثبوت دیتی ہیں اور اس دور میں دماغی امراض عام ہوتے جارہے ہیں!اور ستم بالائے ستم یہ ہے کہ یہ دماغی مریض اپنے کو صحت مند سمجھتے ہین اور جو کوئی ان کے مرض کی نشان دہی کرتا ہے اس الٹا بیوقوف اور قدامت زدہ بتاتے ہیں!
    سائنس کی رنگارنگ ایجادات اور نت نئی ترقیاں تو دینی عقائد کی صحت کے لئے دلیلیں فراہم کر رہی ہیں۔۔۔۔۔مثلاً "اسٹپنگ" کی ایجاد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے واقعہ معراج کی کتنی واضح اور روشن ماذی دلیل ہے یہ ایجاد جسم کی ماذی ساخت اس کی پرداخت اور خلا و ملا کے بہت سے نازک مسائل کی گرہیں کھول دیتی ہے اور واقعہ معراج کے سمجھنے میں انسانی عقل جس حیرت و استبعاد سے متوحش ہوجاتی تھی،"اسٹپنگ" کی ایجاد اس حیرت و استبعاد اور توحش میں عقلی طور پر امکانات پیدا کرتی ہے!قرآن کریم قیامت برپا ہونے کے منظر کو ان لفظوں میں پیش کرتا ہے:یوم یکون الناس کاالفراش المبثوث،وتکون الجبال کاالعھن المنفوش
    (جس دن ہوویں آدمی جیسے پتنگے بکھرے ہوئے اور ہوویں پہاڑ جیسے رنگی ہوئی اون یا روئی دھنکی ہوئی)کیا جوہری توانائی کی دریافت و ایجاد نے قیامت برپا ہونے کے اس منظر کے لئے مادی ثبوت فراہم نہیں کردیا؟اور ہیروشیما میں دنیا نے اپنی آنکھوں سے قیامت کے اس منظر کو نہیں دیکھ لیا؟سائنس کی ایجادات دراصل اللہ تعالیٰ کے وجود پر محسوس و مشہود حجت ہیں!عقلِ انسانی کی سب سے بڑی فضیلت اللہ تعالیٰ کو ماننا اور اس کی ربوبیت کی گواہی دینا ہے،جس کسی نے اللہ تعالیٰ کا انکار کیا،اس نے عقل کی فضیلت و شرف کو ضائع کردیا!

    اہلِ تدبیر کی داماندگیاں
    انسان نے سائنس کے شعبہ میں جو ترقیاں کی ہیں وہ یقیناً حیرت انگیز ہیں،مگر ان تمام ترقیوں کے باوجود انسان کی درماندگی،بیچارگی اور بےخبری کا یہ عالم ہے کہ کوئی بڑے سے بڑا سائنسدان نہیں بتا سکتا کہ اس کے بدن پر بالوں کی کتنی تعداد ہے،اس کے جسم میں خون کی کتنی مقدار موجود ہے؟وہ دن رات میں کتنی سانسیں لیتا ہے،اس کے معدے میں کتنی حرارت پائی جاتی ہے؟وہ سائنس کی اس حیرت انگیز ترقی کے دور میں بھی اپنی پیٹھ کو نہیں دیکھ سکتا،یہ تو سائنس دانوں کا خود اپنے جسم کے بارے میں بےخبری کا عالم ہے!
    جو انسان اپنی پیٹ کی آنتوں میں اور اپنے جسم کے بالوں کو بھی نہ گن سکے کیا اسے یہ زیب دیتا ہے کہ وہ خدائے علیم و خبیر کا حریف اور مدِمقابل بن کر سامنے آئے،اس تصور،اس جذبہ،اس فکر اور اس جرات و مہارت پر ہزار بار لعنت،اور کروڑ بار پھٹکار!جوہری توانائی کے اس انتہائی ترقی یافتہ دور میں بھی انسان(جس میں سائنس داں بھی شامل ہیں) کی بےخبری کا یہ عالم ہے کہ وہ اپنے گھربار میں برتنے کی چیزوں کے بارے میں نہیں جانتا کہ وہ کب ایجاد ہوئیں،کس نے ایجاد کیں اور سب سے پہلے زمین کے کس خطہ میں وہ وجود میں آئیں!پلنگ،کرسی،تخت،دیکگچی،توا،پھنکنی،چمٹا،بیلن،یہاں تک کہ پاجامے،کرتے،ٹوپی،عمامے،اچکن،فرغل اور تکموں اور بٹنوں کی ایجاد کے بارے میں عام طور پر لوگ بےخبر ہیں!
    یہ تو گنتی کی چند چیزیں ہم نے بیان کی ہیں ورنہ تمام اشیا کے بارے میں لوگ ۔۔۔کم علم رکھتے ہیں!کون بتا سکتا ہے کہ گیہوں کا پودا سب سے پہلے کس ملک میں پیدا ہوا اور اس کی تحقیق آج تک نہیں ہوسکی کہ گندم اور پودے ان دونوں میں کس کا وجود مقدم ہے!پھر اس کا حال بھی کوئی نہیں بتا سکا کہ سب سے پہلے گیہوں کا آٹا کہاں پیسا گیا اور اس آٹے کی روٹی سب سے پہلے کس نے پکائی،اور آٹے کے پیسنے کا نمبر تو بعد میں آتا ہے،اسی چیز کی تحقیق سے لوگ عاجز ہیں کہ پہلی چکی کس طرح اور کہاں وجود میں آئی!
    زندگی میں برتنے کی عام چیزوں کے بارے میں انسان کی بےخبری کا یہی عالم ہے،اس معاملہ میں وہ تاریکی میں ہیں۔اور اس کے چاروں طرف جہالت و بےخبری کے پردے پڑے ہوئے ہیں!اس عالم و رنگ و بو،جہانِ کون و فساد اور دنیائے آب و گل کے ماضی میں انسانوں کے درمیان کیا واقعات پیش آئے،اس کا تھوڑا بہت علم تاریخی کتابوں اور نسلاً بعد نسل بیان کی ہوئی روایتوں کے ذریعہ انسانوں کو حاصل ہے۔مگر انسانوں کے حافظے اور تاریخی کتابوں میں ان واقعات و حوادث کا عشرعشیر بھی محفوظ نہیں کرسکیں جو وجود میں آئے ہیں،انسان کے ماضی کے بارے میں تاریخی معلومات انتہائی محدود ہیں،یوں سمجھئے کہ واقعات و حوادث کے اتھاہ سمندر کی چند موجیں تاریخی کتابوں اور حافظہ کی تختیوں پر ابھری ہوئی ہیں!
    اور تاریخ جو کچھ بتاتی ہے،ان میں بھی نہ جانے کتنی باتیں مبالغہ آمیز ہیں،کتنی باتوں میں افراط و تفریط پائی جاتی ہے،کتنی باتیں مشتبہ ہیں اور کتنی بےحاصل ہیں اور کتنی عین واقعہ کے مطابق ہیں۔دوسرے جانوروں کے مقابلہ میں آدمی کی جسمانی کمزوری کا یہ عالم ہے کہ وہ بھینسے،گدھے،خچر اور اونٹ کی برابر بھی وزن نہیں اٹھا سکتا،جنسی اختلاط کے معاملے میں آدمی بندر اور ریچھ سے ہر جہت اور حیثیت سے کمزور ہے!چیتے،کتے،ہرن،گھوڑے اور خرگوش کے مقابلے میں آدمی دوڑ نہیں سکتا،اس میں چیلوں،کووں اور شکروں کی طرح ہوا میں اڑنے کی صلاحیت ہی سرے سے نہیں پائی جاتی،نہ وہ مچھلیوں اور گھڑیالوں کی مانند پانی میں رہ سکتا ہے!
    آدمی زندہ رہنے کے لئے اس کائنات میں سراپا احتیاج نظر آتا ہے ایک ایک قدم پر محتاجی اور ایک ایک سانس کے لئے سہارے کی ضرورت!کھانا اور پانی نہ ملے تو وہ زندہ نہیں رہ سکتا،جسم ڈھکنے کے لئے وہ کپڑوں کا محتاج ہے!قلم پنسل اور کاغذ یا کاغذ نما کوئی چیز نہ ہو تو وہ لکھ نہیں سکتا،سفر کے لئے وہ سواری کی احتیاج رکھتا ہے،کپڑے پر کوئی واضح داغ دھبہ لگ جائے تو اسے دور کرنے کے لئے آدمی کو صابن اور اسی قسم کی کسی چیز کی ضرورت پڑتی ہے،رہنے کے لئے وہ مکان کا محتاج ہے،اور مکان بنانے کے لئے اینٹ،پتھر،چونا،سیمنٹ،لکڑی اور لوہے وغیرہ کی ضرورتوں سے اس کا سابقہ پڑتا ہے،مینہ برس رہا ہو تو پیدل چلنے میں بارش سے بچنے کے لئے آدمی برساتی یا چھتری کی پناہ ڈھونڈتا ہے،آدمی نے بےشمار مشینیں ایجاد کی ہیں مگر اس مشین کا کوئی پرزہ خراب ہوجائے یا کھو جائے،تو جب تک وہ پرزہ دستیاب ہو کر مشین میں فٹ نہ ہوجائے،آدمی اس مشین کو صرف اپنی ذہانت و فراست کے زور سے نہیں چلا سکتا،کسی انجن یا مشین کی وہ نالی جس کے ذریعہ پیٹرول پہونچتا ہے،اگر اس میں کنکری پھنس جائے تو مشین بند ہوجاتی ہے۔
    انسان کے جسم میں ذرا سی پھانس چبھ جائے،ہلکا سا بخار آجائے اور نزلہ زکام ہوجائے تو وہ طنیعت میں کس قدر بےلطفی اور بےکیفی محسوس کرتا ہے،کتنی بیماریاں ہیں جو آدمی کو اتنا کمزور کردیتی ہیں کہ اس کے لئے اٹھنا بیٹھنا بلکہ ہلنا جلنا مشکل ہوجاتا ہے۔آنکھ میں ذرا سا ذرہ پڑجائے تو آدمی کس قدر بےچین ہوجاتا ہے،اس کے دور کرنے کے لئے وہ کیا کیا جتن کرتا ہے،ایک ذرا سا کھٹمل اور مچھر آدمی کو مضطرب کرنے کے لئے بہت کافی ہے۔
    انسان کی کمزوری،بےبسی اور مجبوری کا یہ عالم ہے کہ وہ بہت دور تک دیکھ نہیں سکتا اور دور کی چیزیں جو اسے دکھائی دیتی ہیں وہ اپنی حقیقی جسامت سے بہت چھوٹی اور دھندلی دھندلی نظر آتی ہیں۔بہت دور دیکھنے پر ایسا نظر آتا ہے جیسے آسمان زمین سے ملا جارہا ہے،حالانکہ انسان کا یہ دیکھنا واقعہ کے بالکل خلاف ہے،پھر کنی،لٹو بنیٹی یا کوئی گول چیز تیزی کے ساتھ گھومتی ہوتی ہے تو آدمی کی نگاہ ایک دائرے کا مشاہدہ کرتی ہے حالانکہ جب گھومنے والی چیز ٹھہر جاتی ہے تو یہ دائرہ نظر نہیں آتا!
    انسان کی انفعالیت کا یہ عالم ہے کہ ترش چیز کے صرف ذکر اور تصور سے اس کے منہ میں پانی بھر آتا ہے،ایک گالی سن کر آدمی کا موڈ کچھ سے کچھ ہوجاتا ہے،اور دوسروں کے منہ سے ذرا سی تعریف سن کر آدمی کتنی مسرت محسوس کرتا ہے،حزن و ملال،قبض و انبساط اور خوشی و ناخوشی کے یہ عالم ہر انسان پر گزرتے رہتے ہیں،گھڑی میں تولہ گھڑی میں ماشہ!اس قدر کم ظرفی اس درجہ اوچھا پن!انسان کی طبیعت اور مزاج ہر آن جھکولے کھاتے رہتے ہیں،دنیا کی کوئی مخلوق انسان کے برابر متلون نہیں ہے۔انسان کے ارادے ٹوٹتے ہیں اور اس کی امیدیں ناکام ہوتی رہتی ہیں،سوچتا کیا ہے اور ہو کیا جاتا ہے۔تاش کے پتوں میں،گھوڑ دوڑ کی شرط میں،تجارتی سودوں میں آدمی کے اندازے کس قدر غلط ثابت ہوتے ہیں،اندازے کی اس غلطی کے سبب آدمی کو کیسی کیسی کوفت اٹھانی پڑتی ہے اور کتنے عظیم نقصانات برداشت کرنے پڑتے ہیں!لکھنے پڑھنے میں آدمی سے کیسی بھول چوک ہوجاتی ہے،کتنی کتنی بار اسے اپنی لکھی ہوئی عبارت کاٹنی پڑتی ہے،اس کا حافظہ کیسی کیسی غلطیاں کرتا ہے،اس کی یاد کتنا دھوکا دیتی ہے،انسان رسی کے ٹکڑے کو سانپ سمجھ کر ڈر جاتا ہے اور موج سراب اسے موجِ آب دکھائی دیتی ہے!مستقبل کے بارے میں آدمی کی بےخبری کا یہ عالم ہے کہ آنے والے ایک لمحہ کے متعلق وہ قطعی حکم نہیں لگا سکتا کہ کیا ہونے والا ہے؟
    سانس جو اندر جاتی ہے نہیں کہا جاسکتا کہ وہ پھر واپس آئے گی بھی یا نہیں،پلک جھپکتے میں نہ جانے کیا کیا ہوجائے آدمی کو کچھ خبر نہیں!ریلیں لڑتی اور پٹری سے اترتی ہیں،ہوائی جہاز ٹکراتے ہیں،کوئلہ کی کانوں میں دھماکے ہوتے ہیں،مکانوں اور گوداموں میں آگ لگتی ہے پانی کے جہاز ڈوب جاتے ہیں۔دوست عزیز بیمار ہوتے ہیں اور مرتے ہیں،آدمی کسی حادثہ کو نہیں روک سکتا،قضا و قدر کے آگے انسان بالکل بےبس اور مجبور ہے۔آدمی کو نہیں معلوم کہ وہ جہاں بیٹھا ہے،اس کے پاس دیوار کے پیچھے کیا ہورہا ہے!
    اپنی بےخبری کو دور کرنے کے لئے آدمی کس شوق و دل چسپی کے ساتھ اخبار پڑھتا ہے،ٹیلی فون پر بات کرتے کرتے لائن کٹ گئی اور بات چیت کا سلسلہ ٹوٹ گیا،قلم سے لکھتے ہیں کاغذ پر روشنائی کا دھبہ پڑگیا،ہوا کا جھونکا ایکاایکی آیا جس نے انتہائی ضروری اور کام کے کاغذوں کو تتربتر اور منتشر کردیا خود اپنا ازاربند کھولتے میں گرہ لگ گئی،کھانا کھاتے میں شوربہ بکھر گیا،پانی کا گلاس الٹ گیا،کھانے میں نمک تیز ہوگیا اور حلوے میں میٹھا بھیکا رہا۔۔۔۔یہ روزمرہ کی وہ ناگواریاں ہیں،جن سے ہر کسی کو سابقہ پڑتا ہے اور ہر کوئی اس قسم کی اذیت اور ناگواریوں کے چرکے سہتا رہتا ہے۔دوستوں کی دعوت میں عین کھانے کے وقت پتہ چلا کہ کھیر کے لئے جو دودھ چولھے پر گرم ہو رہا تھا وہ پھٹ گیا اور کسی کام کا نہیں رہا۔سب لوگ بھوک کے مارے بےتاب ہوئے جارہے ہیں مگر ایک صاحب ابھی تک تشریف نہیں لائے،ان کا انتظار ہورہا ہے،صاحب خانہ بار بار ٹیلی فون کرتے ہیں،اور ہر بار یہی جواب آتا ہے کہ ان کو تو گھر سے روانہ ہوئے ایک گھنٹہ ہوگیا۔وہ صاحب تشریف لائے تو اپنے تاخیر سے نہ آنے کا دکھڑا لے بیٹھے کہ راستہ میں میری موٹر کار،سائیکل رکھشا سے ٹکرا گئی،کار کا مڈگارڈ ٹوٹ گیا،وہ تو اللہ نے خیر کردی کہ چوٹ پھینٹ نہیں آئی ورنہ تصادم خاصہ شدید تھا۔کو بھی کچھ ہوجاتا،تھوڑا تھا۔آدمیوں کی پوری کی پوری محفل کوفت میں مبتلا ہے۔
    عربی میں نیند کو "موت کی بہن" کہتے ہیں اردو کی کہاوت بھی اس سے ملتی جلتی ہے کہ سوتا اور مرا آدمی برابر ہوتا ہے،سوتے ہوئےآدمی کو اپنے سرہانے اور پاینتی تک کی بھی خبر نہیں رہتی،اس کے پلنگ کی پٹی کے نیچے کیا ہورہا ہے،اسے کچھ خبر نہیں،اس دنیا کی ہر چیز اور ہر واقعہ سے غافل اور یہ غفلت ہر آدمی پر طاری رہتی ہے!لوگوں کی نیند ہی سے فائدہ اٹھا کر چوروں کی بن آتی ہے،رات کی تاریکی میں مکانوں کی دیواروں میں نقب لگتے ہیں،چھتیں کاٹی ہیں،دروازوں میں لگے ہوئے قفل توڑ جاتے ہیں۔
    انسان کی سننے،دیکھنے اور چھونے کی قوتیں محدود ہیں،عقل جو انسان کے لئے سب سے بڑا شرف ہے وہ تک غلطیاں کر جاتی ہے اس کے اندازے اور اخذ کئے ہوئے نتیجے بعض اوقات غلط اور مضحکہ ثابت ہوتے ہیں،سہو و نسیان تو انسان کی فطرت میں شامل ہے اس سے کوئی انسان محفوظ نہیں،یہاں تک کہ انبیاکرام جو تمام انسانوں میں برگزیدہ اور خدا رسیدہ ہیں ان تک سے کبھی کبھار بہ تقاضائے بشریت بھول چوک ہوگئی ہے!
    بیماری کے زمانے میں آدمی چڑچڑا ہوجاتا ہے،بڑھاپا آدمی کو بہت زیادہ نازک مزاج بنا دیتا ہے شدید غصہ کی حالت میں آدمی توازن کھو بیٹھتا ہے،غم ہو یا خوشی ان کی شدت آدمی کے معتدل حالات میں ہیجان پیدا کردیتی ہے!دفعِ مضرت اور جلبِ منفعت یہ انسان کی فطرت ہے مگر اس کش مکش میں انسان کو کیسے کیسے پاپڑ بیلنے اور لوہے کے چنے چبانے پڑتے ہیں۔آدمی کو بہت سی خوشیاں اور تمنائیں ایسی ہیں جن کی بنیاد ہوا پر ہوتی ہے،وہ اپنے جی ہی جی میں کیسے کیسے خیالی پلاؤ پکاتا ہے،آدمی کی زندگی پانی کے بلبلہ سے بھی زیادہ نازک اور ناپائدار ہے۔۔۔۔کہ
    ؏ذرا سی ٹھیس لگی اور حباب ٹوٹ گیا
    چلتے میں ٹھوکر لگی اور دم نکل گیا،ہچکی آئی اور طائر روح قفس عنصری سے پرواز کرگیا،موت سے دنیا میں کسی کو مفر نہیں،بس آگے پیچھے کا معاملہ ہے،یہاں سچ مچ جل چلاؤ لگا ہوا ہے زندگی کی ہر سانس آدمی کی عمر گھٹا دیتی ہے،آدمی وقت کے ایک لمحہ کو بھی نہیں ٹھیرا سکتا،واقعات و حادثات کے سمندر میں جس کا اور چھور نہیں ملتا اور جو ہر وقت شدید ہیجان میں رہتا ہے آدمی کا وجود ایک تنکے سے بھی کمتر ہے۔
    اللہ اکبر
    انسان کی کمزوری،مجبوری،بےدست و پائی اور تلون و اضطراب کی جو تفصیل اوپر پیش کی گئی ہے،اس کی غرض و غایت انسان کی تذلیل و تحقیر نہیں ہے،ہم خود بھی فرشتہ اور جن نہیں ہیں انسان ہی ہیں اور کوئی شخص اپنی ذلت کو گوارا نہیں کرسکتا،
    ملحدانہ ادب جو آج کی دنیا میں انسان کو اللہ تعالیٰ کا حریف اور مدِمقابل بنا کر پیش کرتا ہے،اس کے جواب میں انسان کی کمزوری،واماندگی اور بیچارگی کی روشن و واضح دلیلیں پیش کی گئی ہیں کہ جو اس قدر کمزور،مجبور بےدست و پا اور بےچارہ ہو۔
    وہ اللہ تعالیٰ کی کسی صفت کا حریف اور مقابل کس طرح بن سکتا ہے،جو ادیب،شاعر اور مفکر دورِ حاضر کی نسل کو اس قسم کے بڑھاوے دیتے ہیں اور انسان کی شخصیت کو غلط انداز میں اجاگر کرتے ہیں۔۔۔وہ انسانیت کے ساتھ کوئی اچھا سلوک نہیں کرتے،یہ خدا دشمنی ہی نہیں انسان دشمنی بھی ہے۔
    ذرے اور آفتاب،قطرے اور دریا میں جو تناسب اور مماثلت و مشابہت پائی جاتی ہے،انسان اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں اس بھی سنکھ مہا سنکھ درجے پست و ذلیل ہے،معبود اور عبد کا بھلا مقابلہ ہی کیا،باقی کو فانی سے کیا نسبت و مماثلت (سبحان اللہ عما یصفوں)!مخلوق خالق کی برابری کا دعوی کرنے لگے تو یہ دنیا کی سب سے بڑی جہالت ہے،جہالت ہی نہیں رذالت اور کمینہ پن بھی!
    انسان کی عظمت کو اللہ تعالیٰ کی کبریائی کے مقابلہ میں وہی لوگ لا سکتے ہیں جن کی عقلیں بانجھ اور جن کے دل و دماغ بالکل ماؤف ہوچکے ہیں۔صحت ہوش و حواس کی حالت میں اس قسم کا کوئی طنزیہ جملہ انسان کے زبان و قلم سے نکل کیسے سکتا ہے۔
    جن دماغوں نے اس انداز پر سوچا ہے وہ دماغ نہیں نجاست خانے ہیں!رفع حاجت کرنے والا انسان اللہ تبارک و تعالیٰ کی ہمسری کا دعوی کرےیہ کتنی بےعقلی کی بات ہے،اس قسم کے دماغوں سے انسانیت کی فلاح و بہبود کی توقع رکھنا ہی حماقت ہے!دماغوں کی اس کجی سے اللہ تعالیٰ کی پناہ۔۔۔
    استغفر اللہ!اللہ تعالیٰ کی شان یہ ہے کہ وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا،نہ تو وہ کسی سے پیدا ہوا اور نہ اس سے کوئی پیدا ہوا وہ حی و قیوم ہے اس کی صفت قیومیت میں اس کا کوئی شریک نہیں،اس کا کوئی مثل،ثانی اور مشابہ نہیں،وہ خود وہی ہے جیسا کہ وہ ہے،اس کی مثال آخر کس سے دی جائے؏خاک بر ما خاک بر تمثیل مااللہ تعالیٰ جسمانیت سے منزہ ہے اس لئے نہ اسے نیند آتی ہے،نہ اونگھ!نہ وہ دنیا کے کارخانے کے چلانے میں تھکن محسوس کرتا ہے،اسے کسی شے کی احتیاج نہیں!اس کے سب محتاج ہیں!اس پر کسی کا زور نہیں،وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے،سارے جانداروں کی چوٹیاں اس کے قبضہ قدرت میں ہیں،اور وہ اپنی ذات کے قیام میں کسی سہارے کا محتاج نہیں،ہاں!ساری کائنات اسی کے سہارے قائم و استوار ہے،اس کی رحمت،قدرت اور ربوبیت سارے عالم کو گھیرے ہوئے ہے،وہ تمام مخلوق کا داتا رکھوالا اور پالنے والا ہے،وہ حاضر و ناظر ہے،سب کا فریاد رس اور مشکل کشا ہے،وہی عزت عطا کرتا ہے اور وہی ذلت دیتا ہے،آفتاب و ماہتاب،زمین و آسمان،آگ،پانی ہوا،بھاپ،بجلی سب اس کے حکم کے ماننے والے ہیں،درخت،پودے اور فصلیں اسی کے حکم سے اگتی ہیں،زمین کا کوئی ذرہ آسمان کا کوئی تارا،درخت کا کوئی پتہ اور پانی کا کوئی قطرہ اس سے اوجھل نہیں،اس کا ارادہ ٹوٹتا نہیں،اس کا حکم رکتا نہیں،اس کی بات ٹلتی نہیں،اس کا کوئی مددگار اور شریک نہیں!خیر و شر اسی کی طرف سے ہیں،اور مومن و کافر سب اسی کے در سے پلتے ہیں!اگر ساری دنیا ہر لمحہ اس کی بڑائی بیان کرتی رہے تو ایسا کرنے سے اس کی ذات و صفت میں ذرہ برابر اضافہ نہیں ہوسکتا اور اسے ایک بھی سجدہ نہ کیا جائے اور کوئی زبان اس کا نام نہ پکارےمتو اس سے اللہ تعالیٰ کی شان میں رائی کی برابر بھی کمی نہیں آسکتی،عبادت،پرستش اور بندگی سے اللہ تعالیٰ کی ذات کو کوئی فائدہ نہیں پہونچتا اور کفر و شرک اور معصیت اس کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہونچا سکتی،نفع و ضرر،موت و حیات،عزت و ذلت،بناؤ اور بگاڑ سب اس کے دستِ قدرت میں ہے۔اللہ تعالیٰ عادل ہے مگر اس کا عدل کسی ضابطہ کا پابند نہیں،وہ گناہوں کو بخشنے اور توبہ کو قبول کرنے والا ہے۔اس کے حکم کے بغیر کوئی ذرہ بھی حرکت نہیں کرسکتا،وہ غفور و رحیم بھی ہے اور منتقم و شدید العقاب بھی ہے،اس کی پکڑ سے کوئی جاندار بچ نہیں سکتا اور اس کی حکومت سے کوئی مجرم بھاگ کر جا نہیں سکتا!اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ہے،اس کی حکمت کی باریکیاں سب کی سب پوری کی پوری ہماری سمجھ میں نہیں آسکتیں،اس نے کوئی چیز بیکار پیدا نہیں کی یہاں تک کہ سانپ بچھو کسی ضرورت اور حکمت کے تحت پیدا کئے گئے ہیں اور امراض اور بیماریوں کے پائے جانے میں بھی حکمت پنہاں ہے!ایک معصوم تندرست کھیلتا کھاتا خوب صورت بچہ مکان کی چھت سے گر کر یا کسی موٹر سے کچل کر مرجاتا ہے،تو اس وقت بھی اللہ تعالیٰ عادل اور رؤف و رحیم ہی ہوتا اور رہتا ہے۔اور ایک کافر،مشرک ظالم و بدکار کو طویل عمر اور ہر طرح کی مسرتیں اور راحتیں دی جاتی ہیں تو ایسا ہونے میں بھی اللہ تعالیٰ کی حکمت،مشیت اور عدل پر کوئی حرف نہیں آسکتا۔اس کے حضور تذلل و عجز اور بندگی و بیچارگی پیش کرنا یہی انسان کی سب سے بڑی عزت ہے!ہمہ شمہ کا تو ذکر ہی کیا ہے انبیا اور اولیا تک اس کے در کے بھکاری اور فضل و کرم کے محتاج ہیں،جو اس سے سب سے زیادہ ڈرنے والا ہے،وہ ہی اللہ تعالیٰ کا پیارا اور محبوب ہے!کوئی قبر،کوئی گنبد،کوئی درگاہ،کوئی چوکھٹ اور کوئی آستانہ اس قابل نہیں ہے کہ اس کے سامنے سرجھکایا جائے،جبینِ نیاز اللہ تعالیٰ ہی کے حضور جھکنی چاہیئے اور اس کی ذاتِ پاک اس کی سزاوار ہے کہ اسی سے دعا کی جائے!اللہ کے بھیجے ہوئے نبیوں اور رسولوں پر جب کوئی سخت وقت آیا ہے تو انہوں نے اللہ تعالیٰ ہی سے فریاد کی ہے اور اسی کے سامنے دکھ درد پیش کیا ہے!یہ جو کائنات میں ہر آن اربوں سنکھوں آوازیں بلند ہوتی رہتی ہیں ان سب آوازوں کو اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی نہیں سن سکتا،وہی سمیع الدعا اور مجیب الدعوات ہے۔والدین کو اولاد سے اور اولاد کو ماں باپ سے،دوست کو دوسرے دوست سے جو محبت اور لگاؤ ہوتا ہے اور اسی طرح آپس کے جو دوسرے تعلقات و روابط ہیں،دلوں میں ان کی بنا اللہ تعالیٰ کی ربوبیت ڈالتی ہے!کیسے کیسے بےسہارے،لولے لنگڑے اور اپاہج لوگ ہیں جن کو رزق اللہ تعالیٰ عطا کرتا ہے اور دوسروں کے دلوں میں ان کی امداد کرنے کا جذبہ پیدا فرماتا ہے!یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت و ربوبیت ہے جس کے اشارے اور ایما سے کویلیں کوکتی،بلبلیں چہکتی اور کلیاں چٹکتی ہیں!کسان جو زمین میں دانہ بوتا ہے اسے اللہ نے پیدا کیا،دانہ کا خالق بھی وہی ہے،زمین بھی اسی کی بنائی ہوئی ہے اور زمین کو قوتِ روئیدگی بھی اسی نے بخشی ہے،یہاں تک کہ تخم ریزی سے لے کر پودے کے برگ و بار لانے تک اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی قوتیں اس پودے کی نشونما میں صرف ہوتی ہیں!۔۔۔پس شکر و سپاس کی مستحق اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے!زمین کی قوت نمو ہے،ابر کی تر دستیاں ہیں،سورج کی حرارت و روشنی ہے،ہواؤں کی نمی اور پودوں اور درختوں کو حرکت دینے کی طاقت،یہ تمام قوتیں ایک دانہ کی نشونما میں کس اعتدال و توازن کے ساتھ حسبِ ضرورت صرف ہوتی ہیں!ان دماغوں کو کیا ہوگیا ہے،جو اللہ تعالیٰ کے خالق و رازق اور رب ہونے کی اتنی بہت سی نشانیاں دیکھنے کے بعد بھی انکار و الحاد کی جانب میلان رکھتے ہیں،اس جہالت،ہٹ دھرمی،کٹ حجتی اور دھاندلی کی بھلا کوئی انتہا ہے!پھر اس پر طرفہ تماشا یہ ہے کہ اس جہالت کو علم و حکمت کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور اس تاریکی کو روشنی سمجھا جاتا ہے۔انسان مدنی الطبع واقع ہوا ہے،اس کو اللہ تعالیٰ نے فہم و عقل عطا فرمائی ہے،اسی بنا پر اس کی ذمہ داریاں کمیت و کیفیت میں تمام مخلوقات سے بڑھی ہوئی ہیں،اس لئے اللہ تعالیٰ نے انسان کی ہدایت وحی کے ذریعہ فرمائی ،وحی نے نیکی اور بدی کے راستوں کو واضح کردیا،یہ وحی اللہ تعالیٰ نے انسانی معاشرے کے بہترین افراد پر نازل کی،ان مقدس افراد کو دین کی اصطلاح میں نبی اور رسول کہا جاتا ہے۔نبیوں اور رسولوں کی آمد کا سلسلہ برابر چلتا رہا،یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے سیدنا محمد عربی علیہ الصلاۃ و السلام پر نبوت کے سلسلہ کو ختم کردیا اب قیامت تک نہ کوئی نبی اور رسول آئے گا اور نہ کتاب نازل ہوگی،دین مکمل ہوگیا نعمتوں کا اتمام فرما دیا گیا اس کے بعد کسی نبی کے آنے کی ضرورت ہی باقی نہیں رہی،اب جسے ہدایت ملے گی،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و اتباع میں ملے گی،صراطِ مستقیم اسی راستہ کا نام ہے جہاں نبی آخرؐ کے قدموں کے نشان نظر آتے ہیں۔سائنس کی ایجادات ہوں یا تہذیب و تمدن کی دوسری ترقیاں یہ اگر حضور نبی آخر کے پیش کئے ہوئے ضابطۂ اخلاق کے تحت پروان چڑھیں گی تو دنیا کے لئے وجہ خیر و برکت بن جائیں گی اور اگر معاملہ برعکس ہوگا تو ان ایجادوں اور ترقیوں سے دنیا میں ابتری پھیلے گی!انسانیت کی یہ بہت بڑی بدقسمتی ہے کہ دورِ حاضر کی سائنس ان لوگوں کے ہاتھوں میں پڑگئی ہے جو اخلاقی قدروں سے واقف نہیں ہیں اور واقف ہیں تو عملاً ان کو اہمیت نہیں دیتے اسی لئے سائنس کی بعض خوفناک ایجادات کا نام سن کر دنیا سہمی جاتی ہے!امریکہ روس کو اور روس امریکہ کو تباہی اور بربادی کی دھمکیاں دیتا ہے،کون کہہ سکتا ہے کہ ان طاقتوں میں سے کس کی نیت میں کب فساد آجائے اور سائنسی ایجادات قیامت سے پہلے قیامت کا نمونہ کب پیش کردیں۔سائنس کی دوڑ میں ان طاقتوں کی برابری کرنا ممکن نہیں ،اس کے لئے جن مادی وسائل کی ضرورت ہے ان کا فراہم کرنا واقعی "کارے دارد" ہے!مسلمان اس کمی کو ایمان و یقین اور سیرت و کردار کی طاقت سے پورا کرسکتے ہیں اور اصل طاقت ایمان اور کردار اسی کی طاقت ہے!جس قوم کے بارے میں دوسروں کو اس یقین ہوجائے کہ یہ قوم مٹ جانا قبول کرے گی مگر کسی حریف اور باطل طاقت کے آگے سر نہیں جھکائے گی،اس قوم سے ٹکر لینے کے لئے بڑا دل گردہ چاہیئے۔ملتِ اسلامیہ نے قرنِ اولیٰ میں جو چاردانگ عالم میں اسلام کا پرچم بلند کیا تھا،اور ساری دنیا میں وہ ہی وہ نظر آتی تھی،اس کا سبب یہ تھا کہ مادی طاقت کے ساتھ اخلاق و کردار کی قوت بھی اس کے پاس تھی،ملت اسلامیہ کی تلوار نے شروفساد کا قلع قمع کیا ہے،اور اس کے اخلاق نے دلوں کو فتح کیا ہے اور حقیقی فتح دلوں کا جیت لینا ہی ہے! آؤ ہم سب مل جل کر اخلاقی طاقت فراہم کرنے کی امکانی جدوجہد کریں تاکہ تاریخ اپنے کو پھر دہرا سکے،جس چیز نے ملت اسلامیہ کے ماضی کو روشن اور شاندار بنایا تھا،وہی چیز ملت کے حال و مستقبل کو کامیاب اور تابناک بنائے گی۔اللہ کا خوف،رسولؐ کی محبت و اطاعت،آپس میں اتحاد،آخرت کے محاسبہ کی فکر،دوا کے ساتھ دعا اور تدبیر کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھروسہ ہو،تو پھر کسی بڑی سے بڑی طاقت سے بھی ملت اسلامیہ مرعوب اور خوف زدہ نہیں ہوسکتی،حد سے حد کوئی ظالم ہماری جان لے سکتا ہے مگر جان تو ایک نہ ایک دن جانی ہے،جب مرنا اور جان کا جانا ناگزیر ٹھیرا تو پھر اللہ تعالیٰ کے کلمہ کو بلند کرنے کی جدوجہد میں جان کیوں نہ جائے۔۔۔۔کہ اس کے بعد بشارتیں،مژدے،خوشخبریاں اور حیاتِ ابدی کی مسرتیں ہی مسرتیں ہیں!اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے کرم و رحمت سے آخرت کی نعمتیں عطا فرمائے!

    منقول از
    https://www.facebook.com/MudirayFaran/posts/1104883099542689
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    جزاک اللہ خیرا عفراء بہت اچھا انتخاب ہے۔
    مجھے اس کی سمجھ نہیں آئی۔
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں