پولیو کی کیا حقیقت ہے؟

ابوعکاشہ نے 'متفرقات' میں ‏اپریل 22, 2016 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,919
    ایک ہمیشہ سے متنازع رہ جانے والا موضوع:
    پولیو کی کیا حقیقت ہے؟؟؟؟؟؟
    پولیو ڈراپ سے متعلق چونکانے والی مگر چشم کشا تحریر......⬇⬇⬇⬇
    مضمون طویل ضرور ہے لیکن انتہای مفید باتیں ہیں ماشاء اللہ جن سے ہم اور آپ آج تک ناواقف ہیں....

    اقوام متحدہ کے ادارہ ’’یونیسیف‘‘)UNICEF( کی زیرِ نگرانی ۱۹۸۵ ؁ء سے ہندوستان کے طول و عرض میں مرض پولیو کے امداد کے لیے ٹیکے لگانے اور اس کے ڈراپس پلانے کی مہم نہایت زور و شور اور جوش و خروش کے ساتھ جاری ہے ۔اس طرح اب تک بلا مبالغہ اربوں ڈالر اس مہم پر خرچ کئے جا چکے ہیں۔جب کہ اس سے کہیں زیادہ خطرناک اور جان لیوا بیماریاں جیسے ٹی وی،کینسر،ایڈس وغیرہ کے ذریعہ ہندوستان اور دیگر ممالک میں لاکھوں لوگ ہر سال لقمۂ اجل بن جاتے ہیں ،ان کے خلاف امداد پولیو جیسی زبردست مہم اور ان پر اتنی خطیر رقم کیوں خرچ نہیں کی جاتی ؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو عوام الناس کے ذہنوں میں پولیو مہم کے سلسلے میں شکوک و شبہات اور اندیشہ ہائے دور دراز پیدا کرنے کا باعث ہے ۔خصوصاً جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ پولیو ڈراپس پلانے کی یہ زبردست مہم یہودی ممالک’’اسرائیل‘‘ کے علاوہ پوری دنیا خصوصاً ایشیائی ممالک میں انتہائی زور و شور سے جاری ہے اور ہندوستان و پاکستان ،بنگلہ دیش اور عرب ممالک جیسے کثیر مسلم آبادی والے ملکوں میں اس پر پورا زور صرف کیا جارہا ہے۔ ایسی صورت میں ذہن میں یہ سوال پیداہو نا لازمی ہے کہ مال کے حریص یہودی اور عیسائی اس مہم پر اربوں کھر بوں ڈالر آخر کیوں خرچکر رہے ہیں؟ یہ عالم اسلام اور باقی دنیا کے خلاف کو ئی خطرناک سازش تو نہیں ہے؟ اس کے علاوہغور طلب بات یہ بھی ہے کہ دور ماضی میں ملیریا اور چیچک کے خاتمے کے لیے ٹیکے لگائے گئے تھے ۔کیا ان کے نتیجہ میں یہ بیماریاں اب معدوم ہو چکی ہیں؟اس کا جواب یقیناًنفی میں ہے۔عالمی ادارہ صحت )MEDIA( میں شائع ہو چکی ہے۔ پوری دنیا میں صرف 600بچے پولیو کا شکار پائے گئے ہیں جب کہ ٹی وی،ایڈس،ملیریا،چیچک،اور سرطان یعنی کینسر وغیرہ میں مبتلا افراد کی تعداد ہزاروں اور لاکھوں میں ہے ۔پھر بھی پولیو کو ختم کرنے کے لئے اربوں کھربوں ڈالر بے تکلف خرچ کئے جارہے ہیں جب کہ مذکورہ بالا سنگین امراض کی دوائیں روز بروز مہنگی اور عوام کی دسترس سے باہر ہو تی جا رہی ہیں۔ صورت حال یہ ہے کہ’’میڈیا‘‘ میں چھپ رہی خبروں کے مطابق پولیو کی متعدد خوراکیں پلوانے کے باوجود بہت سے بچے پولیو کا شکار ہو گئے۔ انگریزی اخبار ’’TIMES OF INDIA‘‘ مورخہ 18-03-2005 کے مطابق صوبہ بہار کے 18اضلاع میں 2003میں پولیو کے اٹھارہ معاملے سامنے آئے تھے۔ اس کے بعد جب وہاں پولیو ڈراپس پلانے کی مہم تیز تر کر دی گئی تو اس کے ایک سال بعد 2004میں پولیو میں مبتلا ہو نے والے بچوں کی تعداد کم ہو نے کے بجائے بڑھ کر 41ہو گئی! کیا یہ انکشاف پولیو ڈراپس پلانے کی اس زبردست مہم کی قلعی کھول دینے کے لئے کافی نہیں ہے ۔ ؟جہاں تک پولیو ڈراپس پلانے کی یونیسیف)UNICEF( کی تیار کر دہ حکمت عملی اور اس کے نتائج کی بات ہے، تو یہ جان کر حیرت ہوتی ہے کہ جب 1985ء میں عالمی سطح پر پانچ سال کے بچوں کو پولیو ڈراپس پلانے کا آغاز کیا گیا تھا ،تو اس مہم کا نعرہ تھا ’’ایک بوند زندگی میں ایک بار‘‘ اور اب یہ نعرہ بدل دیا گیا ہے’’دو بوند پولیو ڈراپ کی ہر بار‘‘ اس طرح اب سال بھر میں تقریباً 40 بار سے بھی زائد یہ خوراک پانچ سال تک کے بچوں کو پلائی جا رہی ہے۔آخر ایسا کیوں ؟ایک سوال اور ذہن میں پیدا ہو تا ہے وہ یہ کہ اقوام متحدہ )U.N.O.( کاذیلی ادارہ برائے بہبود اطفال’’یونیسیف‘‘)UNICEF( جو ہندوستان کے پولیو کا نگراں اور ذمہ دار ہے اور وہ اس پر اب تک اربوں ڈالر خرچکر چکا ہے۔اس ادارہ کی انسانی ہمدردی اور بچوں کی فلاح اور بہبود کا اندازہ اس بات سے لگا یا جا سکتا ہے کہ ۱۹۹۱ء ؁ کی پہلی خلیجی جنگ کے بعد سے اقوام متحدہ )U.N.O.( نے صدام حسین کے دور اقتدار کے آخر تک عراق میں ضروری اور جان بچانے والے ادویات پہنچنے نہ دینے کی پابندی لگا رکھی تھی، جس کی وجہ سے وہاں اس تمام عرصہ میں پانچ لاکھ سے زائد بچے مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو نے کے بعد مطلوبہ ادویہ نہ ملنے سےفوت ہو گئے۔’’سوڈان‘‘ میں دوائیںبنانے کی فیکٹری قائم کی گئی ،تاکہ آئندہ دواؤں سے محروم عراقی بچوں کو موت سے بچا یا جا سکے ،تو امریکہ نے اس فیکٹری پر بم برسا کر تباہ و برباد کر دیا۔ اتنے بڑے پیمانے پر بچوں کے قاتلوں کو دنیا کے چند بچوں کے معذور ہو نے سے بچا نے کی فکر کہاں سے لاحق ہو گئی ؟ اس بات پر سنجیدگی سے غور و فکر کرنے کی ضرورتہے !عالمی ادارہ صحت)W.H.O.( جو خالصتاً ایک ’’صیہونی ادارہ‘‘ ہے اور صیہونیت کی عالمی تنظیم زنجری)ZENGERY( کا ایک اہم ترین شعبہ ہے۔ اس کے طبی بلیٹن جلد ۴۷: صفحہ ۲۵۹ )۱۹۷۲ء ؁( کا حوالہ دیتے ہوئے یورپ کے ایک ڈاکٹر الینکیمپ بیل)ALLEN CAMP BELL( رقمطراز ہیں۔’’ٹیکوں)VACCINESS( کے ذریعہ بیماریوں کا مقابلہ کر نے کے نام پر عالمی ادارہ صحت)W.H.O.( ہمارے قدرتی دفاعی نظام)NATURAL IMMUNE SYSTEN( بر باد کر نے پر تلا ہوا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ زمین سے انسانوں کے وجود ہی کو ختم کر دینا چاہتاہے‘‘۔’’ڈاکٹر الین کیمپ بیل‘‘ جو کہ میڈیسین میں ایم ڈی )M.D.(، ہیں انہوںنے اس بات کا بھی انکشاف کیا ہے کہ ’’ایڈز وائرس‘‘)H.I.V.( انسانوں کے لئے لیبارٹری میں ہی بنا یا گیا ہے، یعنی وہ)GENITICALLY ENGINEERED( وائرسہے،قدرتی پیداوار جرثومہ نہیں ہے۔اس موضوع پر انہوں نے دو کتابیں لکھی ہیں جن میں سے ایک کتاب کا نام )AIDS AND THE DOCTOR OF DEATH( ہے اور دوسری کتاب)QUEER BLOOD( کے نام سے مارکیٹ میں آئی ہے!۔ڈاکٹر کیمپ بیل نے لکھا ہے کہ ماضی قریب میں ایک مشہور یہودی سائنس داں جس کا نام’’جوناس ایڈوارڈ سیلک‘‘ )JONAS EDWARD SALK( تھا وہ محض ایک اعلیٰ پائے کا بیکٹریا لوجیسٹ)1914-1995( ہی نہیں تھا ،بلکہ ایک بہت بڑا یہودی روحانی پیشوا)ربی( بھی تھا اور جس کا نام آج بھی یہودی ’’ حاخات‘‘ )علماء یہود( اور ربی بڑی عقیدت و احترام سے لیتے ہیں۔ اس نے ۱۹۶۳ء ؁ میں امریکہ کے شہر ’’ کیلی فورنیا‘‘ کے ’’لازولہ‘‘ علاقے میں ’’ سیلک انسٹی ٹیوٹ فاربایولوجیکل اسٹڈیز ‘‘ کے نام سے قائم کی تھی، جس کا شمار دنیاکے عظیم الشان بایو لوجیکل اداروں میں ہو تا ہے۔ اس ادارہ کا سالانہ بجٹ ایک کروڑ بیس لاکھ ڈالر) ساڑھے پانچ ارب روپئے( ہے۔ اس انسٹی ٹیوٹ میں چار سو سے زیادہ ’’بایو ٹیکنا لوجیسٹ ‘‘ جنٹک انجینےئر)GENETIC ENGINEERS( اور حیاتی علوم کے سائنس داں شب و روز کا م کر تے رہتے ہیں ۔ڈاکٹر کیمپ بیل کے بیان کے مطابق اس یہودی سائنس داں جوناس سیلک نے ہی اس انسٹی ٹیوٹ کے قیام سے چار سال قبل ۱۹۵۵ء ؁ میں ہندوستان اور’’ فلنیائن‘‘ سے چار ہزار بندر منگوا کر کیلی فورنیا کے ’’ بلفٹن‘‘ علاقے میں ندی کے کنارے ایک سنسان مگر پر فضا مقام پر واقع اپنی تجربہ گاہ )LABORATORY( میں ان بندروں پر کئی سطحوں)STAGES( پر متعدد مرحلوں پر مشتمل تجربات کئے تھے، اور اس کے بعد ان بندروں کے گردوں)KIDNEY( سے حاصل کر دہ خلیات)CELLS( سے پولیو)POLIO( کے پولیو کے مشہور عالم ٹیکے VACCINE تیار کر نا اسی یہودی سائنس داں کا کار نامہ ہے۔ اس کے بعد امریکہ نے ’’ جو ناس سیلک‘‘ کے بتائے ہو ئے پولیو ویکسین کو ہی عالمی امداد پولیو مہموں )WORLD SWEEPING DRIVES( کے لئے لمبے عرصہ تک استعمال کر نے کا فیصلہ کیا تھا! موجودہ دور میں پولیو ویکسین بنا نے والی سب سے بڑی بین الاقوامی دوا ساز کمپنی ’’ لیڈر لے‘‘) LEDERLE( جو یہودیوں کی ہی ملکیت میں ہے وہ رے سیس بندروں)RHESIS MONKEYS( کے گردوں )KIDNEYS( سے ہی یہ ویکسین تیار کر رہی ہے ۔اس کمپنی نے ۱۹۶۹ء ؁ سے ۱۹۹۹ء ؁ تک تیس برسوں میں ساٹھ کروڑ پولیو ڈراپس کی فروخت کا ریکارڈ قائم کیا تھا۔!’’پولیو ویکسین‘‘ کے سلسلے میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مغربی ذرائع ابلاغ )MEDIA( نے ،جو اب کےسب یہودیوں کے قبضہ میں اور انہیں کی ملکیت ہیں۔ اس حقیقت پر پردہ ڈالنے کی بھر پور کوشش کی ہے کہ ’’امریکی تحفظ ادارہ برائے تدارک امراض‘‘ یعنی)CDC( نے سات سال قبل یکم جنوری ۲۰۰۰ء ؁ سے پولیو کے خاتمے کے لئے پلائی جانے والی اورلی پولیو ویکسین)OPV( پر امریکہ میں مکمل طور پر پابندی عائد کر رکھی ہے،اور اس کی وجہ امریکی تحفظ صحت ادارے )CDC(نے یہ بتائی ہے کہ پولیو ویکسین کی انبوندوں میں مردہ پولیو وائرس)ATTENUATED VIRUS( کے ساتھ پولیو کچھ زندہ وائرس بھی پائے گئے ہیں)جو کہ قصداً اس میں شامل کئے گئے ہیں( ۔اس سے دوسرے صحت مند بچوں کو بھی یہ مرض لگ سکتا ہے۔ اس کے بجائے اس ادارہ نے امریکہ میں پولیو ڈراپس)OPD( پلانے کے بجائے پولیو کی انجکشن لگا نے کی سفارش کی ہے۔ تاکہ پولیو کے پچھلے خطرات کو کم کیا جاسکے۔لیکن اس نئے انجکشن کا خرچ اٹھا نا عوام الناس میں ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہے، کیونکہ ایک انجکشن کی قیمت تقریباً پانچ ہزار روپئے ہے۔ظاہر سی بات ہے کہ اتنے مہنگے انجکشن ’’تیسری دنیا‘‘)یعنی ایشیائی ممالک( کے بچوں کوتو دئے جانے سے قاصر رہے اس لئے عالمی ادار�ۂ صحت )W.H.O.( اور ’’ یونی سیف‘‘ )UNICEF( جیسے یہودی بین الاقوامی اداروں کے ذریعہ امریکی گوداموں میں کروڑوں کی تعداد میں بیکار ٹیری ’’لیڈر لے کمپنی‘‘ مسترد شدہ پولیو ڈراپس کی خوراکیں)OPD( پیکنگ اور لیبل بدل کر دوسری کمپنیوں کے نام سے زبردست پروپیگنڈے کے ذریعہ ایشیائی ممالک میں مفت اور زبردستی پلائی جا رہی ہیں تاکہ غیر یہودی قوموں خصوصاً مسلمانوں کی آئندہ نسلوں کو آپاہیچ بنا کر عالمی داؤدی سلطنت کے ذریعہ یہودی خوابوں کو شرمندۂ تعبیر کیا جا سکے!ڈاکٹر الین کیمپ بیل لکھتے ہیں کہ پولیو کی ان بوندوں )OPV( کےپینے سے مستقبل میں نئی نسلوںکے پولیو زدہ ہو نے اور ایک خطرناک قسم کے زہریلی جسم کے فالج )PARALITIC POLIO( ہو جانے کا خطرہ بڑھ گیا ہے ۔بہر صورت ہندوستان ،پاکستان،سعودی عرب،مصر،یمن،افغانستان،انڈونسیا،نائجریاو غیرہ کثیر مسلم آبادی والے ملکوں میں ان پولیو ڈراپس)OPD (کو پلا نے کے بعد بھی اچھے خاصے صحت مند بچوں میں اچانک پولیو )POLIO( ہو جانے کے واقعات کے پیچھے یہی حقیقت کار فرما ہے کہ پلائی جانے والی پولیو ڈراپس )OPV( میں موجود ’’زندہ وائرس‘‘ ہی پولیو کے اسباب بن جاتے ہیں۔!!ایک امریکی صحافی مائیکل ڈورمن نے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ امریکہ ۱۹۶۲ء ؁ سے ۲۰۰۰ء ؁ تک ڈاکٹر ’’جوناس سیلک‘‘ کے ذریعہبنائے گئے پولیو ویکسین تیس سال کے عرصے میں صرف عیسائی بچوں کو ہی پلائے گئےتھے ،جبکہ امریکہ کے ڈیڑھ فیصد سے بھی کم یہودیوں نے ’’مذہبی اسباب‘‘ کا بہانہ لے کر اپنے بچوں کو پولیو ڈراپس سے پلانے سے انکار کر دیا تھا۔!!پولیو ڈراپس )OPD( سلسلے میں سبسے تشویش ناک بات یہ ہے کہ :یورپ میں ’’میسو تھیلی یو ما کینسر‘‘ )MESOTHELIOMAS CANCER( کے ماہرین میں سے ڈاکٹر ٹیڈ گرنی )DR.TEDGERNEY( جو ایک خطرناک وائرس SV-40 پر ریسرچ کر رہے ہیں ،ان کا دعویٰ ہے کہ یہ وائرس SV-40 انسانوں میں کینسر )CANCER(پھیلنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔اس وائرس کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ اتنا خطرناکہے کہ اگلی نسل انسانی میں بغیر کوئی ٹیکہ یا انجکشن لگائے پیدائشی طور پر مستقل ہو سکتا ہے۔یہ مہلک اور خطرناک ترین وائرس،پولیو ویکسین )OPD( میں پائے جانے کے شوہد ان ہی تجربات کے بعد ملے ہیں اور ان شہادتوں کے بعد کہ پولیو ویکسین)OPD( میں کینسر کا خطرناکجر ثومہ SV-40موجود ہے۔ کینسر کے ان ماہرین کی رپورٹ پر ہی امریکہ کے محکمہ تحفظ صحت)CDC( نے امریکہ میں پولیو ڈراپس پلانے پر مکمل طور پر پابندی عائد کی تھی،مگر’’ یہودی ربی‘‘ کے دباؤ پر اس حکم امتناعی کی وجہ صرف یہ ظاہر کیگئی اس میں کچھ زندہ پولیو کے جراثیم پائے گئے ہیں۔!!بہرنوع! اس بات میں کوئی شک و شبہ کی گنجائش نہیں کہ عالمی محکمہ صحت)W.H.O.( اور یونی سیف)UNICEF( جیسے صیہونی ادارے ایشیائی ملکوں،خصوصاً ہند و پاک میں زبردستی اور مسلسل’’پولیو ڈراپس‘‘پلا کر ایشیائی قوموں بالخصوص مسلمانوں کے معصوم بچوں کے خون میں SV-40 نامی کینسر کا وائرس اور پولیو کے زندہ جراثیم دانستہ طور پر پہونچا کر ان کی آئندہ نسلوں کو آپاہیج اور تباہ و برباد کر نے پر تلے ہو ئے ہیں۔جہاں تک ایڈز)AIDS( کے پھیلنے کے ممکنہ خطرات اور امکانات کی بات ہے تو یہ جان لیوا مرض بھی ان صیہونی درندوں کی اپنے دشمنوں)خصوصاً مسلمانوں( کے خلاف حیاتیاتی اسلحوں کی جنگ)BIOLOGICAL WARFARE( کا ایک مہلک ہتھیار ہے، جس کا جر ثومہ)VIRUSES( اصلیت میں لیبار ٹری میں مصنوعی طور پر تیار کیا گیا وائرس)GENETICALLY ENGINEERED VIRUSES( ہے، جس کو HIV کا نام دیا گیا ہے۔ یہ جر ثومہ جس کو پہلے چیچک کے ٹیکوں )SMALL POX VACCINE( کےذریعہ، اور اب ہیپاٹائٹس بی)HEPATITIS-B( کے ٹیکوں کے ذریعہ WHO کی مدد سے دنیا میں پھیلا یا گیا ہے۔ ۱۱؍مئی ۱۹۷۸ء ؁ کے ’’لنڈن ٹایمز‘‘ میں چھپی رپورٹ کے مطابق افریقی ممالک میں’’ایڈز‘‘ کی بیماری پھیلنے کی وجہ ۱۹۷۲ء ؁ میں عالمی محکمہ صحت یعنی WHOاور’’یونی سیف‘‘)UNICEF( کے ذریعہ لگائے گئے چیچک کے ٹیکوں)SMALL POX VACCINE( کو اس کا ذمہ دار ٹھہرا یا گیا ہے۔ افریقی بندروں کی ایک مخصوص قسم GREEN MONKEYپر ’’ایڈز‘‘ کے جراثیم پھیلا نے کی ذمہ داری ڈالنا WHO کا ’’سفید جھوٹ‘‘ اور قطعی پروپیگنڈہ ہے ،کیو نکہ بقول ڈاکٹر ڈگلس ایم ڈی بندروں کی’’جین‘‘)GENE( کی بناوٹ)STRUCTURE( کا تجزیہ)ANALYSIS( بتا تا ہے کہ بندروں کے ذریعہ قدرتی طور پر ایڈز کے وائرس کا انسانوں کے جسم میں داخل ہو نا ممکن ہی نہیں ہے ۔اس کے علاوہ یہ بات بھی قابل غورہے کہ ۱۹۷۹ء ؁ میں امریکہ کے مختلف شہروں میں آخر’’ایڈز‘‘وباکیسے پھیلی؟ کیا وہاں بھی افریقی بندر’’ ایڈز‘‘ پھیلا نے پہونچ گئے تھے۔؟؟ حقیقت یہ ہے اس وقت مختلف امریکی شہروں میں ہم جنسی کی لعنت میں گرفتار مردوں کو دے گئے ہیپا ٹائٹس)HEPATITIS-B VACCINE( کے ٹیکوں کے ذریعہ ہی ’’ایڈز‘‘ وہاں پھیلا تھا۔اس سلسلے میں قابل غور بات یہ ہے کہ W.H.O. اور UNICEFکی رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ ہیپا ٹائٹس بی)HEPATITIS-B( جو اب تک دنیا بھر میں پچاس کروڑ سے زائد لوگوں کو لگایا جا چکا ہے،وہ بھی پولیو ڈراپس)OPD( کی طرحصیہونی مملکت’’اسرائیل‘‘ میں8 ہی نہیں لگایا جا تا ہے اور اس پر وہاں مکمل پابندی عائد ہے۔پولیوڈراپس)OPD( کے بارے میں یہ بات طے شدہ ہے کہ وہ بندروں کے گردوں کے خلیات)CELLS( سے تیار کیا جاتا ہے،جس میں’’STRUCTURE‘‘ ڈی این اے)DNA( اور آر این اے)RNA( پوری طرح موجود ہو تا ہے۔مسلمان ہو نے کی حیثیت سے ہم پر بندر و خنزیر جیسے حرام جانوروں کا نہ صرف گوشت کھانا حرام ہے بلکہ ان کے جسم کے کسی بھی جزء کا اکلاً و شرباً استعمال کرنا بھی شرعی طور پر جائز نہیں ہے۔اس بات کو ہمیں نظر انداز نہ کر نا چاہئے کہ اس کے علاوہ مذکورہ بالا حقائق کے پیشِ نظر جب ہمارے دیرینہ دشمن یہودؔ ، ہماری آئندہ نسلوں کو ناکارہ اور تباہ و برباد کر نے پر تلے ہوئے ہیں تو ہم دانستہ طور پر ان کی اسی مہم میں معاون اور آلہ کار کیوں بنیں؟۔اگر ہمیں آئندہ نسلوں کا تحفظ اورمستقبل میں مسلمانوں کی بقاء اور ایمان عزیز ہے تو ہمیں ذاتی مفاد اورچند سکوں کے لالچ سے دست بردار ہو کر مسلمانوں کی ’’نسل کشی‘‘ کی اس خطرناک مہم سے دامن کش ہو جانا چاہئے ۔افسوس ناک بات یہ ہے کہ آج ہمارے بہت سے بے روز گار مسلمان نوجوان اور پردہ نشین خواتین ذاتی مفاد اور چند روپیوں کے لالچ میں پولیو)POLIO( کی اس زہریلی مہم کے ورکر بنے ہو ئے ہیں اور گھرگھر جاکر یہ میٹھا زہر)SLOW POISON( مسلمانوں کے معصون بچوں کے حلق میں اتار تے ہو ئے جھجھک تک محسوس نہیں کرتے۔ اور غضب بالائے غضب یہ ہے کہ اب ’’علماء کرام‘‘ کو بھی اس اسلام دشمن اور انسانیت سوز مہم میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ اور بعض علماء اپنی سادہ لوحی اور حقیقت سے لا علمی کی بنا پر اپنے دشمن یہودیوں کی اس ’’جنگیمہم‘‘ میں ان کے معاون اور آلہ کار بنے ہو ئے ہیں ۔حالانکہ قرآن مجید میں وہ حق تعالیٰ کا یہ فرمان برابر پڑھتے اور طلباء عزیز کو پڑھاتے رہتے ہیں:’’لتجدن اشد الناس عداوۃللذین آمنوا الیھود و الذین اشرکوا ولتجدن أقربھم مودۃ للذین آمنوا الذین قالواانا نصاریٰ ذالک بان منھم قسیین ورھباناً و انھم لا یستکبرون‘‘۔)المائدہ:۸۲(’’لوگوں میں مومنوں کا سب سے سخت دشمن تم قوم یہود کو پاؤگے اور ان لوگوں کو جو شرک کر تے ہیں اور مسلمانوں کے لئے نرم گوشہ ان لوگوں کے دلوں میں ہے جو اپنے آپ کو نصاریٰ کہلاتے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں درویش اور عبادت گذار لوگ پائے جاتے ہیں اور وہ تکبر نہیں کرتے۔‘‘کیا ہمارے علماء کرام اور درد مندان ملت اس سلسلے میں اپنی خصوصی توجہ مبذول فرما کر کوئی عملی قدم اٹھا نے کی زحمت گوارہ

    منقووول ۔۔
     
  2. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,397
    مفروضوں پر مشتمل تحریر جس کا حقیقت سے دور دور تک واسطہ نہیں
     
    • معلوماتی معلوماتی x 1
  3. عمر اثری

    عمر اثری -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 21, 2015
    پیغامات:
    461
    کیا ھی بہتر ھوتا کہ آپ ان مفروضات کا تسلی بخش جواب دے دیتے تاکہ آپ کے قول کو مزید تقویت مل جاتی.
    جزاک اللہ خیرا
     
    • متفق متفق x 1
  4. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,919
    ہممم ، میرا بھی تقریباً یہی خیال ہے.لیکن شیئر کرنے کا مقصد وہی تھا جیسا کہ عمر اثری بھائی نے ذکر کیا ہے. کہ ان مفروضوں کا جواب دیا جائے تاکہ لوگوں کے خدشات دور ہو سکیں.. صرف مفروضہ کہ کر رد کردینے کافائدہ نہیں.
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  5. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,397
    ویکسین مینو فیکچرنگ سے وابستہ ہونے کی وجہ سے مجھے اس تحریر میں کافی خامیاں نظر آرہی ہیں۔ جن کی فردا فردا نشاندہی کرنا وقت طلب امر ہے جو کہ فی الحال ممکن نہیں۔ پہلی بات کہ پولیو ویکسین صرف عرب ممالک یا برصغیر میں ہی نہیں دی جاتی بلکہ امریکہ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک میں بھی دو ماہ، چار ماہ، چھ ماہ، اٹھارہ ماہ اور چار سے چھ سال کی عمر کے درمیان لازمی دی جاتی ہے حالانکہ ان ممالک کو تیس سال پہلے پولیو فری نیشنز ڈکلیئر کیا جا چکا ہے۔
    دوسری بات کہ دیگر بیماریوں کی ویکسینز اسی طرح کمپین چلا کیوں نہیں دی جاتیں تو اس کا سیدھا سا جواب یہ ہے کہ وہ ویکسینز دیگر بیماریوں کے خلاف اس طرح نتائج نہیں دیتیں۔ البتہ ٹی بی کی ویکسین پیدائش کے فورا بعد دی جاتی ہے جسے بی سی جی کہا جاتا ہے اور اس کے خاطر خواہ نتائج حاصل کئے جا چکے ہیں۔ کینسر او ایڈز کے خلاف کوئی ویکسین فی الحال سو فیصد ایمیونیٹی نہیں دے پائی۔ البتہ الحمد للہ چیچک پر قابو پایا جا چکا ہے اور بیس سال سے اس مرض کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ ملیریا ویکسین کی بدولت پہلے جیسا مہلک نہیں رہا بلکہ اسے اب عام بخار سمجھا جاتا ہے۔
    جہاں پولیو ویکسین سے مرض سے اضافے کی بات ہے اس کی وجہ پولیو ویکسین کو پراپر سٹوریج کنڈیشنز میں نہ رکھنا اور عملے کی عدم تربیت بڑی وجوہات ہیں۔ کیونکہ ویکسینز کو عام طور پر دو سے آٹھ ڈگری سینٹی گریڈ میں رکھا جاتا ہے جبکہ یہی ویکسین غیر تربیت یافتہ غیر طبی عملے کے ذریعے دیا جاتا ہے تو وہ اس کا خیال اس طرح نہیں رکھ پاتے اور یہ غیر موثر ہو جاتی ہے۔ اور اورل پولیو کے قطرے ٹپکانے کے بجائے بچوں کو چوسوائے جاتے ہیں جس سے کراس کنٹامینیشن ہوتی ہے اور کسی متاثرہ بچے سے وائرس صحتمند بچے میں منتقل ہو جاتا ہے۔ تیسری وجہ اس کے پھیلنے کی ٹیکنیکل ہو سکتی ہے جس کا بہت کم امکان ہوتا ہے کیونکہ بائیولوجیکل ادویات کا چیک اینڈ بیلنس مخلتف اتھارٹیز کے ذمے ہوتا ہے۔

    ایک اور سمجھنے والی بات کہ ویکسین دراصل اسی زندہ جرثومے پر مشتمل ہوتی ہے جس سے مرض پھیلتا ہے لیکن فرق یہ ہوتا ہے کہ اس میں سے مرض پیدا کرنے یا پھیلانے کی صلاحیت ختم کر دی جاتی ہے۔ جب یہ جرثومہ انسانی جسم میں پہنچتا ہے تو اس کا مدافعتی نظام انسانی خون میں اس نئے عنصر کے خلاف لڑنے کے لئے جراثیم کی مختلف نئی فوجیں بناتا ہے۔ بالکل کمپیوٹر اینٹی وائرس کی طرح ہمارا مدافعتی سسٹم اس پروگرام کو محفوظ کر لیتا ہے جس آرمی سے ہہ جراثیم مرتا ہے۔ اگلی بار اگر ایسا ہی جراثیم دوبارہ جسم میں آجائے جو بیماری پھیلا سکتا ہو تو ہمارا ایمیون سسٹم اس کو پہچاننے میں دیر نہیں لگاتا اور ویسی ہی آرمی تشکیل دیتا ہے جس سے یہ جراثیم مر جاتے ہیں اور کم سے کم نقصان پہنچا پاتے ہیں۔ اس لئے یہ کہنا کہ قدرتی مدافعتی نظام تباہ ہوتا ہے بالکل بے جا ہے۔ بلکہ وہ اور مضبوط اور متحرک ہو جاتا ہے۔

    رہی بات جنگوں میں بچوں کو قتل کرنا یا ادویات کی فیکٹریز کو نشانہ بنانا اس کا اس مسئلے سے سرے سے تعلق ہی نہیں۔ کیونکہ وہ ایک وقتی اور سٹریٹیجیکل ایکشن ہوتا ہے جبکہ عالمی اداروں کا بیماریوں سے بچائو اور روک تھام کا عمل کل وقتئ اور دائمی ہے۔

    رہی بات کہ ان اداروں کا صیہونی ہونا تو تو اس سلسلے میں مسلمانوں کی اپنی کوتاہی ہے کہ باہمی اختلافات کی بنا پر اب تک کوئی ایسا ادارہ نہیں بنا پائے۔ ہماری کمپنی کی ہی مثال دیتا ہوں جو کہ مڈل ایسٹ اور افریقہ میں پہلی ویکسین مینو فیکچرنگ کمپنی ہے اور ٹیکنالوجی کا یہ عالم ہے کہ کوئی مسلمان ملک اس میں قابل ذکر نہیں اور مغرب سے ٹیکنالوجی ٹرانسفر کا یہ عالم ہے کہ صرف تین ویکسینز کی ٹیکنالوجی گزشتہ دس سال مکمل ٹرانسفر نہیں ہو پائی۔

    آخری بات بلکہ سوال کہ صرف پاکستان میں ہی یہ شکوک و شبہات پیدا کر کے اسے حرام کیوں قرار دیا جاتا کیا دیگر اسلامی ممالک میں جید علماء کو اتنی شدھ بدھ نہیں؟
     
    • معلوماتی معلوماتی x 4
    • مفید مفید x 2
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  6. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,397
    ٹیکنیکل وجہ کا ذکر کرنا بھول گیا کہ جرثومہ اگر دوا کی تیاری کے دوران مکمل طور پر غیر فعال نہ ہوا ہو تو بھی بیماری پھیل سکتی ہے لیکن یہ اس صورت میں ممکن ہے جب وییکسین بنانے والے ملک کی ہیلتھ اتھارٹی، عالمی ادارہ صحت اور جس ملک میں ویکسین دی جا رہی ہے وہاں کی ہیلتھ اتھارٹی کی ملی بھگت نہ ہو کیونکہ ویکسین کو جانچنا ہر اتھارٹی کی ذمہ داری ہوتی ہے اور ان کا کوالٹی کنٹرول اسے انالائز کرنے کے بعد ہی ڈسٹریبیوٹ کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔
     
    • معلوماتی معلوماتی x 2
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • مفید مفید x 1
  7. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,397
    رہی ایک بوند ایک بار اور دو بوند ہر بار والی بات تو کسی علاقے میں اگر مرض کی شدت ہو تو وہاں اس کی ڈوز کو بڑھایا جا سکتا ہے۔ ٹھیک اسی طرح کہ اگر ڈاکٹر پیناڈول کی گولی بخار کی صورت میں پہلی بار دن میں تین خوراکیں تجویز کرے اور دوسری بار مرض کی شدت کو دیکھتے ہوئے ہر چار گھنٹے بعد دو گولیاں تجویز کرے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • مفید مفید x 1
  8. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,397
    آخری بات اگر مرض پھیلانا ہی مقصود ہوتا تو اس کے لئے اتنا بڑا جھنجھٹ کرنے کے بجائے صیہونی و نصرانی برانڈ کے مسلمانوں کی پسندیدہ کولڈ ڈرنکس میں ایک ایک جرثومہ ڈال کر بھی حاصل کیا جا سکتا ہے جسے نہ خاص ٹمپریچر کی ضرورت ہو گی نہ کسی کا خرچ بلکہ آپ خود پیسے دے کر مرض خریدیں گے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  9. نصر اللہ

    نصر اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2011
    پیغامات:
    1,845
    رفی بھائی اللہ آپ کو جزائے خیر دیں..
    یہ واقعی ہی ایک توجہ طلب امر تھا.
    اگر ممکن ہو تو اس کے تمام تر پوائنٹس کو آوٹ کریں.
    بارک اللہ فیک چونکہ یہ آپ کی فیلڈ ہے اس لئے آپ بھتر انداز سے سمجھ کر اس پر مکمل تحقیق پیش کر سکتے ہیں.

    Sent from my ALE-L21 using Tapatalk
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  10. بابر تنویر

    بابر تنویر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,318
    جزاک اللہ خیرا رفی بھائ ۔ بہت اچھے طریقے سے اصل بات کی وضاحت فرمائ ہے۔
     
  11. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,397
    نصراللہ بھائی میرے خیال میں تمام پوائنٹس کوور ہو چکے ہیں۔ اگر کوئی رہ گیا ہے تو آپ پوائنٹ آئوٹ کر دیں میرے علم میں ہوا تو اس کا جواب بھی لکھ دوں گا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  12. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,919
    "پولیو: ایک حقیقت سو افسانے...!!!"
    تحریر: ڈاکٹر رضوان اسد خان
    ...................
    پولیو کیا ہے؟
    .......
    پولیو وائرس کی 3 اقسام ہیں جو انسانی جسم میں میں منہ کے راستے داخل ہوتے ہیں، آنتوں میں جا کر اپنی تعداد بڑھانے کے بعد خون کے ذریعے پٹھوں کو کنٹرول کرنے والے اعصابی خلیوں (neurons) میں پہنچ کر انکی تباہی کا باعث بنتے ہیں. اسطرح ان اعصاب کے زیر کنٹرول پٹھے بےکار ہو جاتے ہیں، یعنی اس حصے کا فالج ہو جاتا ہے. بیشتر کیسز میں یہ ٹانگوں کے اعصاب کو متاثر کرتے ہیں اور مریض چلنے سے معذور ہو جاتا ہے. عموماً کسی ایک طرف کی ٹانگ متاثر ہوتی ہے. آنتوں سے یہ وائرس پاخانے کے ذریعے جسم سے خارج ہوتا ہے اور استنجا کے بعد ہاتھ نہ دھونے کی صورت میں یا پانی کے ناقص نظام نکاس کیوجہ سے بہت تیزی سے دوسرے افراد تک پہنچ جاتا ہے.
    ابتدائی علامات تیز بخار، پٹھوں کا درد، سردرد، سستی اور گردن کا تناؤ ہیں. اکثر کیسز میں جسم کی قوت مدافعت اسی سٹیج پر اسکا خاتمہ کر دیتی ہے اور 0.5 فیصد کیسز میں ہی فالج تک نوبت پہنچتی ہے.
    یہ بیماری کسی بھی عمر میں لگ سکتی ہے، البتہ 3 سال سے کم عمر کے بچوں میں اسکی شرح سب سے زیادہ ہے.
    امریکی صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ بھی 1921 میں اسی بیماری کی وجہ سے فالج کا شکار ہو گئے تھے.
    یہ بیماری تاحال لاعلاج ہے.
    ویکسین کیا ہوتی ہے:
    .........
    ویکسین وہ ذریعہ ہے جس میں بیماری پیدا کرنے والے جراثیم (وائرسز یا بیکٹیریا) ہی مردہ یا انتہائی کمزور حالت میں جسم میں داخل کئیے جاتے ہیں. یوں وہ جسم کی قوت مدافعت کو اس بیماری کے خلاف متحرک کر دیتے ہیں. ہمارا مدافعتی نظام انہیں "پہچان" لیتا ہے اور "یاد" رکھتا ہے. بعد میں جب ماحول سے اس بیماری کے جراثیم جسم میں داخل ہوتے ہیں تو مدافعتی نظام پہلے سے تیار ہوتا ہے اور فوری جوابی حملہ کر کے جسم سے انکا صفایا کر دیتا ہے.
    پولیو اور اسکی ویکسین کی تاریخ:
    .................................
    1950 کی دہائی میں امریکہ میں پولیو کے اوسطاً 2000 کیسز سالانہ منظر عام پر آتے تھے اور وبا کی صورت میں یہ تعداد 58000 سالانہ تک بھی ریکارڈ پر موجود ہے.
    پولیو سے بچاؤ کی پہلی ویکسین جوناز سالک (Jonas Salk) نے بنائی جو 1955 میں امریکہ میں صدر روزویلٹ کی دسویں برسی کے موقع پر لانچ کی گئی. یہ پولیو کی تینوں اقسام کے مردہ وائرسز پر مشتمل تھی. اسے بندر کے گردوں میں تیار کیا جاتا تھا. یہ انجکشن کے ذریعے دی جاتی ہے.
    اسکے استعمال سے پولیو کیسز کی سالانہ تعداد 1953 میں 35000 سے گر کر 1957 میں 5600 تک رہ گئی. اور 1961 میں محض 161 کیسز رپورٹ ہوئے.
    اسی سال (1961) امریکہ ہی میں پولیو کی دوسری ویکسین تجرباتی مراحل سے گزر کر سامنے آئی. یہ کمزور وائرسز پر مشتمل تھی اور اسے البرٹ سیبن (Albert Sabin) اور ہلری کاپروسکی (Hillary Koprowsky) نے علیحدہ علیحدہ ٹیموں کے ساتھ تیار کیا تھا. اس میں وائرس کو چوہوں سے بار بار گزار کر کمزور کیا جاتا تھا. آجکل یہ ویکسین لیب میں انسانی خلیوں سے گزار کر تیار ہوتی ہے. پاکستان میں دستیاب ویکسین اقوام متحدہ فراہم کرتی ہے جو کہ نووارٹس کمپنی بیلجیئم میں تیار کرتی ہے، جبکہ بھارت میں کئی ایک کمپنیاں اسے خود تیار کرتی ہیں. ابتدا میں اس میں تینوں اقسام کے وائرس تھے. لیکن پاکستان میں اب ٹائپ 2 کے خاتمے کے بعد موجودہ ویکسین ٹائپ 1 اور 3 کے خلاف بنائی جاتی ہے.
    اسوقت کیونکہ امریکہ کی مکمل توجہ سالک ویکسین پر تھی لہٰذا سیبن نے اپنی ویکسین روس میں اور کاپروسکی نے جنوبی افریقہ اور میکسیکو میں لانچ کی. ہر جگہ اسکے بہترین نتائج سامنے آئے. سیبن پولش نژاد امریکی شہری تھا لیکن سرد جنگ کے باوجود روس نے اسے اپنے اعلی ترین سول اعزاز سے نوازا.
    1963 میں امریکہ میں بھی اسے استعمال کی منظوری مل گئی اور 1965 تک تقریباً 100 ملین امریکیوں کو اس ویکسین کے قطرے پلائے گئے.
    یوں نتیجتاً شمالی امریکہ میں پولیو کا آخری کیس 1979 میں رپورٹ ہوا اور 1994 تک جنوبی امریکہ سے بھی اسکا خاتمہ ہو چکا تھا.
    2002 تک تمام مغربی اور ترقی یافتہ ممالک سے اس ویکسین کی بدولت پولیو کے مرض کا خاتمہ ہو چکا تھا. بھارت کو 2014 میں پولیو فری قرار دے دیا گیا. اسکے بعد نائجیریا جیسے ملک نے بھی پولیو سے نجات حاصل کر لی ہے.
    اس ویکسین کی خاص بات یہ ہے کہ یہ آنتوں سے خارج ہو کر پانی کے ذریعے کمیونٹی میں پھیل جاتی ہے اور ان لوگوں کو بھی بالواسطہ طور پر فائدہ پہنچاتی ہے جنہوں نے خود یہ قطرے نہیں پئیے ہوتے. یہی وجہ ہے کہ پولیو کے مکمل خاتمے کے لئے انجکشن والی ویکسین کی بجائے اسے خاص اہمیت دی جاتی ہے. اور پھر انجکشن کی نسبت اسے دینا بھی آسان ہے.
    .. ہم کہاں کھڑے ہیں:
    آج دنیا میں صرف پاکستان اور افغانستان ہی دو ایسے ممالک ہیں جہاں پولیو کی بیماری باقی ہے. حکومت کی پوری کوشش تھی کہ 2016 تک اس پر قابو پا لیا جائے لیکن 2017 میں بھی تا دم تحریر 2 کیسز کنفرم ہو چکے ہیں. زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ ان میں سے ایک کیس لودھراں، پنجاب میں سامنے آیا ہے(دوسرا گلگت میں) جبکہ 2016 میں پنجاب میں کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا تھا.
    خدشات و تحفظات:
    پولیو سے متعلق ہمارے ہاں بہت زیادہ ابہام پایا جاتا ہے. کچھ سازشی تھیوریوں نے، کچھ سی آئی اے نے اور کچھ ہماری اپنی نااہلی نے پاکستان میں پولیو کے خاتمے کے کوششوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے.
    اس مفصل مضمون میں ہم باری باری ان تمام عوامل کا جائزہ لیں گے:
    الف... سی آئی اے کا کردار:
    ............
    اگر سی آئی اے، اسامہ بن لادن کی جاسوسی کیلئے اس علاقے میں مصنوعی پولیو مہم شروع نہ کرتی تو پولیو پروگرام کو شک کی نظر سے دیکھنے کا موقع نہ ملتا اور نہ ہی دہشتگردوں کے ہاتھوں پولیو افسران کی ہلاکت کے افسوسناک واقعات وقوع پذیر ہوتے.
    کچھ ایسی رپورٹس بھی منظر عام پر آئیں جن میں افغانستان اور قبائلی علاقوں میں پولیو ٹیمز کے ڈبوں میں جی پی ایس ڈیوائسز لگانے کا اعتراف کیا گیا. بعد میں وہاں ڈرون حملے ہوئے تو مقامی طالبان بھڑک اٹھے اور اندھا دھند پولیو ٹیمز کو نشانہ بنانا شروع کر دیا.
    بہرحال 2013 میں افغان طالبان کے اعلامیے کے بعد کم از کم اس "شک" والی وجہ کا تو خاتمہ ہو جانا چاہیے؛ جس میں طالبان نے اعلان کیا کہ اگر اقوام متحدہ اور عالمی ادارہ صحت طالبان کے اعتماد یافتہ ورکرز کو استعمال کرنے پر راضی ہوں تو وہ خود پولیو کے خاتمے کی مہم کا حصہ بننے کو تیار ہیں.
    (حوالہ: http://polioeradication.org/news-post/afghanistan-talibans-declaration-regarding-polio-eradication/)
    اسی طرح جماعت الاحرار کے اسوقت کے ترجمان احسان اللہ احسان نے بھی پچھلے سال ڈان کو انٹرویو میں بتایا کہ "اب" ہم پولیو ٹیمز کو فوکس نہیں کرینگے.
    ب... ہماری اپنی نااہلی:
    .............
    کرپشن نے یہاں بھی ہمارا پیچھا نہیں چھوڑا. ویکسین کو ٹھنڈا رکھنے کا بندوبست نہ کرنا، پولیو ورکرز کو مناسب اجرت اور سکیورٹی مہیا نہ کرنا، ورکرز کا ویکسین پلائے بغیر خانہ پری کرنا، پولیو کیسز کی رپورٹنگ میں بےضابطگیاں، مذہبی عناصر کا بلا ثبوت اس سے متعلق شکوک و شبہات پھیلانا... وغیرہ وغیرہ.... یہ وہ چند وجوہات ہیں جن کی بنا پر ہم نے خود اپنے پیروں پر کلہاڑی ماری ہے اور اس معاملے میں پوری دنیا سے پیچھے رہ کر رسوا ہو رہے ہیں.
    ج... سازشی تھیوریاں/شکوک و شبہات/تحفظات/خدشات:
    .................
    1.. جب اس بیماری سے "محض" 0.5 فیصد مریضوں کو فالج ہوتا ہے اور ان میں سے بھی "محض" 5 سے 10 فیصد ہلاک ہوتے ہیں، تو دیگر کہیں زیادہ خطرناک بیماریوں کے مقابلے میں اس پر پوری دنیا مل کر اپنی توانائیاں کیوں خرچ کر رہی ہے؟
    ج. اسلئیے کہ یہ وہ بیماری ہے جسکا پوری دنیا سے مکمل صفایا ممکن ہے جبکہ دیگر بیماریوں میں فی الحال ایسا ممکن نہیں.
    دوسرا یہ کہ یہ "محض 0.5 فیصد" کوئی چھوٹی فگر نہیں. اوپر بتایا گیا ہے کہ امریکہ میں 1950 کی دہائی میں ایک وبا کے نتیجے میں ایک سال میں 58000 لوگ اس بیماری سے مستقل طور پر معذور ہوئے.
    2.. پاکستان میں یہ ویکسین مفت بھیجی جاتی ہے اور زبردستی پلائی جاتی ہے. دیگر بیماریوں اور آفات سے بے تحاشہ اموات ہوتی ہیں لیکن اس پر دنیا کو ترس نہیں آتا. کیا وجہ ہے کہ ساری ہمدردی پولیو سے ہی متعلق ہے؟
    ج. پہلی بات یہ کہ مفت ویکسین صرف پولیو کیلئے نہیں بلکہ 9 دیگر بیماریوں کیلئے بھی مہیا کی جاتی ہے.
    دوسرا یہ کہ پولیو کے سلسلے میں یہ کوئی ہمارے ساتھ ہمدردی کا اظہار نہیں بلکہ ترقی یافتہ ممالک کا اپنا مفاد ہے. جیسا کہ اوپر ذکر کیا کہ اسکا وائرس انتہائی سرعت سے پھیلتا ہے. لہٰذا تمام ممالک کو یہ خطرہ ہے کہ اگر پاکستان سے اسکا خاتمہ نہ ہوا تو یہاں سے کسی کیرئیر مریض کے ذریعے دوبارہ ان کے ہاں پہنچنے کا خطرہ برقرار رہے گا. اور یہ وہ کسی صورت نہیں چاہتے.
    3. اسکی ویکسین میں مانع حمل ادویات شامل ہیں جو بلوغت پر مردوں/عورتوں کو بانجھ کر دیتی ہیں.
    ج. ویکسین کے ذریعے مانع حمل ادویات کی تیاری ابھی محض تجرباتی مراحل میں ہے. اگر ایسی کوئی دوا بن چکی ہوتی تو کم از کم چائنہ والے ضرور اسے استعمال کر رہے ہوتے اور دنیا فیملی پلاننگ کے دیگر مہنگے اور کسی حد تک غیر مؤثر ذرائع پر سرمایہ نہ کھپاتی.
    دوسرا یہ کہ یہ ویکسین دنیا میں 50 سال سے استعمال ہو رہی ہے. کس ملک میں شرح پیدائش میں کمی واقع ہوئی ہے؟ اگر یہ مسلمانوں کے خلاف سازش ہے تو مسلم ممالک کے اعداد و شمار کس حد تک اس مفروضے کو سپورٹ کرتے ہیں؟ پاکستان میں کم از کم بھی دو نسلیں یہ قطرے پی چکی ہیں. کیا موجودہ تیسری نسل کی تعداد پہلے سے کہیں زیادہ نہیں ہے؟
    4. اس ویکسین کے ذریعے بندر سے کینسر پیدا کرنے والا وائرس SV-40 پھیلا.
    ج. پہلی بات یہ کہ ایس وی 40 کی آمیزش انجکشن والی سالک ویکسین میں پائی گئی تھی، قطروں والی میں نہیں.
    دوسرا یہ کہ صرف امریکہ میں 1963 تک ملاوٹ والی ویکسین 10 سے 30 ملین امریکیوں کو لگائی گئی. اسکے علاوہ روس اور دیگر ممالک میں جہاں اس میں ایس وی 40 کے شواہد ملے، کل ملا کے کروڑوں افراد کو یہ ویکسین لگی. ہم تسلیم کرتے ہیں کہ یہ ایک فاش غلطی تھی اور اسکی وکالت کسی طرح بھی درست نہیں. لیکن جتنا شور مچایا جا رہا ہے اسکی بھی کوئی منطق نہیں بنتی. اول تو 1980 کے بعد سے اب تک اس "ملاوٹ" کا خاتمہ ہو چکا ہے. دوسرا یہ کہ 1998 میں ایک عالمی لیول کی تحقیق میں ان لوگوں کی بہت بڑی تعداد کا معائنہ کیا گیا جنہوں نے مبینہ طور پر یہ آمیزش زدہ ویکسین لگوائی تھی. نتائج سے ثابت کیا گیا کہ ان تمام لوگوں میں عام لوگوں کی نسبت کسی بھی قسم کے کینسر کی شرح زیادہ نہیں پائی گئی.
    مذید یہ کہ ایس وی 40 کا کینسر کا باعث ہونا بھی کبھی ثابت نہیں کیا جا سکا.
    5. جنوبی افریقہ میں اس ویکسین کے ذریعے ایڈز کو پھیلائے جانے کے "شواہد" موجود ہیں. لہٰذا اب بھی اسکا امکان ہے.
    ج. ایک برطانوی صحافی نے یہ خبر پھیلائی کہ کاپروسکی کی ویکسین کے استعمال کے بعد افریقہ کے ان علاقوں میں ایڈز کی شرح میں اضافہ ہوا ہے. لہٰذا اس ویکسین میں ایڈز کا وائرس شامل ہے.
    بعد میں ثابت ہوا کہ ان علاقوں میں ایڈز کا وائرس ویکسین کے آغاز سے 30 سال قبل سے موجود چلا آ رہا ہے. کورٹ میں کیس چلنے کے بعد دعوٰی کو ثابت نہیں کیا جا سکا اور میگزین نے کاپروسکی کو ہرجانہ ادا کیا.
    6. ترقی یافتہ ممالک میں پولیو ڈراپس بین ہیں اور وہاں صرف ٹیکوں والی ویکسین استعمال ہوتی ہے. کیوں؟
    ج. یہ بات مکمل درست نہیں. شروع میں تمام ممالک بشمول امریکہ میں یہی ویکسین استعمال کی گئی جسکا حوالہ اوپر گزر چکا. جب پولیو کا مکمل خاتمہ ہو گیا تو پھر اسے مردہ وائرس والی ویکسین سے بدل دیا گیا اور قطرے بین کر دئیے گئے. اسکی وجہ یہ ہے کہ جب آزاد وائرس کا مکمل خاتمہ ہو جائے تو اس ویکسین میں موجود کمزور وائرس کو بھی اس کمیونٹی میں پھرتے رہنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی. کیونکہ یہ اپنی ہئیت تبدیل کر کے پولیو کی بیماری دوبارہ سے پھیلانے کی صلاحیت بہرحال رکھتا ہے (تفصیل آگے آ رہی ہے). لہٰذا کوئی بھی ملک یہ رسک لینے کو تیار نہیں. پاکستان میں بھی جب پولیو کے کیسز صفر تک پہنچ جائیں گے تو یہاں بھی قطرے بین اور ٹیکے شروع کر دئیے جائیں گے. اس کے پہلے مرحلے میں 14 ہفتے کی عمر میں قطروں کے ساتھ پولیو کے ٹیکے کی ایک اضافی ڈوز دینے کا آغاز ہو گیا ہے.
    7. ویکسین بذات خود فالج کا باعث بنتی ہے.
    ج. حقیقت یہ ہے کہ تمام اعتراضات میں سے سب سے جاندار یہی ہے.
    یہ درست ہے کہ پولیو کے قطروں میں کمزور وائرس استعمال ہوتا ہے جو بیماری پھیلانے کی صلاحیت نہیں رکھتا. لیکن اپنے سفر کے دوران یہ اپنی ہئیت تبدیل کر کے فالج کا باعث بننے والے وائرس کا روپ دھار سکتا ہے. لیکن اس صورت میں بھی یہ ان بچوں کو زیادہ متاثر کرتا ہے جنہوں نے پولیو ڈراپس کا کورس مکمل نہیں کیا ہوتا اور اس وجہ سے پولیو کے خلاف انکی قوت مدافعت کمزور ہوتی ہے. یا پھر وہ بچے اسکا نشانہ بنتے ہیں جو پہلے سے ہی نظام مدافعت کی کسی بیماری کا شکار ہوں. ایسے بچوں کی تشخیص پہلے سے ہو چکی ہو تو انہیں یہ قطرے نہیں پلائے جاتے. اور پھر اس قسم کے فالج کی شرح بہت ہی کم ہے، یعنی 2.4 ملین خوراکوں میں سے ایک میں ایسا کیس سامنے آتا ہے.
    2000 سے 2011 تک پوری دنیا میں پولیو ڈراپس کی 10 ارب خوراکیں پلائی گئیں اور ویکسین سے ہونے والے فالج کے اس دوران 580 کیسز سامنے آئے. ایک اندازے کے مطابق اگر یہ ویکسین نہ پلائی گئ ہوتی تو اس دوران پولیو سے فالج زدہ بچوں کی تعداد پوری دنیا میں 6 ملین سے زیادہ ہوتی...!!!
    8. جب پیدائشی کورس مکمل ہو چکا ہو تو پولیو ڈیز پر اضافی خوراکوں کا کیا جواز ہے؟
    ج. یہ بھی اہم سوال ہے خاص طور پر اس تناظر میں کہ ویکسین سے بھی پولیو کا رسک خواہ چھوٹا ہی سہی لیکن بہرحال موجود ہے.
    دراصل حکومت کا مقصد یہ ہے کہ کوئی بھی بچہ کسی بھی صورت میں پولیو ویکسین کی مقررہ خوراکوں سے محروم نہ رہے. اسلئیے اسکے پاس اسکے سوا کوئی عملی طریقہ نہیں کہ وقتاً فوقتاً پولیو ڈیز مقرر کر کے "ہر بچہ، ہر بار" کے نعرے کے تحت یہ مہم چلائی جائے. اس میں ان لوگوں کو مستثنٰی کیا جا سکتا ہے جنہوں نے روٹین کی ویکسینیشن کروا رکھی ہو. لیکن چونکہ ہمارے ہاں بہت سے لوگ اوپر بیان کردہ خدشات کی وجہ سے کسی صورت یہ قطرے پلانے کو تیار نہیں، لہٰذا حکومت بھی کسی پر اعتبار کر کے اسے رعایت دینے کا رسک نہیں لے سکتی.
    حکومت پر اسوقت پوری دنیا کا بے تحاشہ دباؤ ہے اور اگر اس بیماری پر قابو نہ پایا گیا تو پاکستانیوں کے بیرون ملک سفر پر مکمل پابندی لگ سکتی ہے. لہٰذا حکومت ویکسین کے ذریعے ہونے والے فالج کے چھوٹے رسک کو برداشت کر سکتی ہے پر زبردستی قطرے نہ پلا کر پولیو کے امکانات کو زندہ رکھنے کے بہت بڑے رسک کو نہیں.
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
    • مفید مفید x 1
  13. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,397
    جزاک اللہ خیرا شیخ، بہت عمدہ حقیقت کشائی کی گئی ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں