ضبطِ نفس

مریم جمیلہ نے 'اسلامی متفرقات' میں ‏اپریل 22, 2016 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. مریم جمیلہ

    مریم جمیلہ رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 26, 2015
    پیغامات:
    111
    'خود کو اس بات کا عادی بنا لو کہ تمہاری خواہشات تم پر حکمرانی نہ کر پائیں. خواہشات کا قبضہ تمہارے ہاتھ میں ہو اور تمہیں ان پر قابو حاصل ہو. اگر سونے کو جی چاہے تو خود کو مزید مشقت پر ابھارو. اپنے آپ سے کہو: "نہیں مجھے ایک گھنٹہ مزید کام کرنا ہے." اپنی خواہشات کو شکست دو. کھڑے ہو جاؤ، چند قدم چلو. اگر ضرورت ہو تو خود کو پانی سے جگاؤ. کچھ بھی ہو، مقصد خود کو بدلنا ہے. تمہیں خود پر جبر کرنا ہو گا. اپنی خواہشات سے جنگ کو اپنا مقصد بنا لو. کبھی خود کو ان کے حوالے نہ کرو، نہ ہی ہتھیار ڈالو. اپنے رب کو اپنا مطمع نظر بنا لو، خود کو صرف اسی کے سپرد کر دو.

    اگر تم خود کو مضبوط نہ بناؤ گے تو تمہاری خواہشات تم پر چھا جائیں گی، یوں کسی کمزور لمحے میں تم ان کے آگے ہتھیار ڈال دو گے اور پھر کسی بلند مقصد میں کامیاب نہ ہو سکو گے.

    خود کو مجبور کرنے کی طاقت حاصل کر لینے کے بعد ہی کچھ سیکھنا اور علم حاصل کرنا ممکن ہے.'

    -شیخ اکرم ندوی
    (مفہوم)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 5
    • معلوماتی معلوماتی x 1
  2. انا

    انا -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 4, 2014
    پیغامات:
    1,400
    یہ تو بہت ہی مشکل کام بتا دیا : ) ۔ اگر اگلے دن 20 فیصد کی اسائنمنٹ نہ جمع کروانی ہو تو پھر تو جاگنا نا ممکن لگتا ہے ۔
    ویسے مذاق کے علاوہ ، یہ انسانی فطرت ہے جب تک کوئی مقصد نہ ہو آپ مشقت کی طرف آمادہ نہیں ہوتے ۔ مشقت پر ابھارنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ یہ احساس کریں کہ رات تو ختم ہو گی سو ہو گی، زندگی بھی اسی طرح ختم ہو جائے گی اور اگر آگے کی تیاری کرنی ہے تو پھر ابھی خواہشات سے جنگ کرنی پڑے گی ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 5
  3. مریم جمیلہ

    مریم جمیلہ رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 26, 2015
    پیغامات:
    111
    بجا فرمایا۔ ضروری یہ ہے کہ انسان اپنے مقصد سے نظر نہ ہٹنے دے۔ مشقت بھی اسی صورت ممکن ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. نصر اللہ

    نصر اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2011
    پیغامات:
    1,845
    بہترین انتخاب ہے۔
    لیکن فطرت بھی عجیب ہی چیز ہے جب تک بوجھ نہ ڈالا جائے بندہ خود کا مجبور کرتا ہی نہیں ہے،
    اسائمنٹس کے لئے اگر ایک ہفتہ بھی ملے تب بھی آخری رات کے اخری لمحات میں ہی پوری ہوتی ہے اور لکھی جاتی ہے۔ابتسامہ۔
    تاہم یہ بڑی اچھی بات کہی کہ خود پرجبر کریں گے تو ہی مقاصدحاصل ہوں گے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  5. مریم جمیلہ

    مریم جمیلہ رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 26, 2015
    پیغامات:
    111
    ایک طالب علم کی حیثیت سے میں بالکل متفق ہوں۔ :)
    مگر بات یہی ہے کہ انسان اپنی خواہشات کی نفی کرنے کا عادی ہو تو معاملات یقیناً بہتر ہو سکتے ہیں مثلاً آخری رات والی پریشانی میں بھی کمی واقع ہو سکتی ہے۔ :)
     
    • متفق متفق x 1
  6. بابر تنویر

    بابر تنویر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,318
    بہت خوب۔
    شیخ ندوی نے یہاں بہت سی مختلف باتیں ایک جگہ اکھٹی کر دیں۔
    آپ نے اپنے لیے ایک ھدف مقرر کیا۔ یا اپنی تعلیم ہی کو لے لیں۔ آپ کو معلوم ہے کہ یہ کام میں اتنے وقت میں مکمل کرنا ہے۔ تو اس کے لیے نظام اوقات بھی طے کر لیجیے۔ اور پھر اس پر کاربند ہو جایے۔ اپ کو اپنے اوپر جبر کرنے کی ضرورت ہی نہیں پیش آۓ گی۔
    دوسرے یہ کہ ہر انسان کے دل میں خواہشات ہوتی ہیں۔ وہ بہت کچھ حاصل کرنے کی خواہش کرتا ہے۔ خواہشات سے جنگ نہ کریں بلکہ اپنی خواہشات کو محدود رکھیں۔ اور انہیں حاصل کرنے کی جائز ذرائع سے کوشش بھی کریں۔
    آخری بات وہی کہ اپنے آپ کو اپنے رب کے سپرد کر دو۔
    اپنے لیے اہداف بھی مقرر کرو،
    اپنی جائز خواہشات کو حاصل کرنے کی بھی کوشش کرو۔
    اور پھر اللہ پر توکل بھی کرو۔ ان شاء اللہ کبھی مایوس نہیں ہوگے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  7. مریم جمیلہ

    مریم جمیلہ رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 26, 2015
    پیغامات:
    111
    جزاک اللہ خیرا۔ لیکن یہاں مراد وہ خواہشات ہیں جو مقصد کی راہ میں حائل ہوں۔ اور اسی مجاہدہ نفس کو بیان کیا گیا ہے جس کی ترغیب بارہا قرآن میں دی گئی ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  8. بابر تنویر

    بابر تنویر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,318
    متفق ۔ جزاک اللہ خیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  9. ام محمد

    ام محمد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 1, 2012
    پیغامات:
    3,120
    جزاک اللہ خیرا
    بہترین انتخاب
    جگانے کی کیفیت سے کلاس میں بیٹهنے کی کیفیت یاد آ گئی اگر نیند کا غلبہ ہو رہا ہو توپیریڈ ختم ہونے تک پانی سے خود کو پانی سے بهی جگائے رکهنا پڑتا ہے

    خواہشات پر ضبط مشکل ہی سہی لیکن دنیا اور آخرت کی کامیابی کے لیے ضروری ہے.
    مشکل شروع میں خود کو باندهنے میں ہے پهر نفس کو قابو میں رکهنا آسان ہو جاتا ہے .
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  10. مریم جمیلہ

    مریم جمیلہ رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 26, 2015
    پیغامات:
    111
    بجا فرمایا۔ جزاک اللہ خیرا : )
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں