صحیح مسلم میں مسنون رفع الیدین کے ترک کی دلیل ؟۔ مباحثہ

عبدالرحمن بھٹی نے 'نقطۂ نظر' میں ‏مئی 11, 2016 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,904
    جزاک اللہ خیرا، جو اہل علم سلام اوررکوع کے رفع یدین کی وضاحت کررہے ہیں ۔ وہ اس امت محمدﷺکے آئمہ ہیں ۔جن کی کتب بعد کتاب اللہ ،صحیح ترین کتب ہیں ۔ تمام مذاہب کا اس پر اتفاق ہے ۔ اب اگر بھٹی صاحب انکار حدیث کی طرف رحجان رکھتے ہیں، پرویزی مکتب فکر کے لوگ ان کے امام ہیں.. تو کم از کم قرآن و حدیث کی بات تو نا کریں....
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  2. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,904
    صحيح، عبدالرحمن بھٹی صاحب پہلے پوچھے گئے سوالوں کے جوابات دے دیں...
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • متفق متفق x 1
  3. عمر اثری

    عمر اثری -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 21, 2015
    پیغامات:
    461
    وانت فجزاك الله خيراً
    نا صرف یہ علماء. بلکہ انکے علماء جنکی تقلید کے وجوب پر اتنی بحث ھوتی ھے وہ بھی اس حدیث کو تشہد سے جوڑتے ھیں.
    بولیں بھٹی صاحب!
    کتنے حوالے دوں آپکو
    اللہ ہم سبکی اصلاح فرمائیں اور تکبر سے محفوظ رکھیں.
    آمین
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی نوآموز.

    شمولیت:
    ‏مئی 6, 2016
    پیغامات:
    123
    میں اللہ تعالیٰ سے دعاء گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے اور حق اور سچ کی طرف رہنمائی فرمائے (آمین یا رب العالمین)۔

    سرکش گھوڑا اپنی دم کس طرح ہلاتا ھے؟؟؟؟!
    رفع الیدین میں ہاتھ کس طرح اٹھاتے ھیں؟؟؟!
    رفع الیدین میں بھی ہاتھ اسی طرح اٹھتے ہیں جس طرح سلام کے اشارہ میں اٹھتے ہیں۔
     
  5. عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی نوآموز.

    شمولیت:
    ‏مئی 6, 2016
    پیغامات:
    123
    موصوف نے اپنی بات کی تردید خود ہی اپنے اگلے پیراگراف میں کردی۔

    سلام میں بھی ہاتھ اوپر نیچے ہی اٹھتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ رفع الیدین میں دونوں ہاتھ بیک وقت اٹھتے ہیں اور سلام میں دائیں طرف دایاں ہاتھ اٹھاتے تھے اور بائیں طرف بایاں۔
     
  6. عمر اثری

    عمر اثری -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 21, 2015
    پیغامات:
    461
    آمین
    شاید آپ یہی کہنا چاہتے ھیں کہ سرکش گھوڑا دائیں بائیں اپنی دم ہلاتا ھے؟؟؟
    سلام کے وقت تو دائیں بائیں ہاتھ ہلتے ھیں؟؟؟
    اور رفع الیدین کے وقت بھی ہاتھ دائیں بائیں ہلتے ہیں؟؟؟
    بس تصدیق کردیں.
     
    • متفق متفق x 1
  7. عمر اثری

    عمر اثری -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 21, 2015
    پیغامات:
    461
    حدیث میں تو دائیں بائیں کی صراحت ھے كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْنَا: السَّلَامُ عَلَيْكُمِ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَأَشَارَ مِسْعَرٌ بِيَدِهِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ

    بھٹی صاحب!
    بات کچھ سمجھ نہیں آئ
     
    • متفق متفق x 1
  8. عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی نوآموز.

    شمولیت:
    ‏مئی 6, 2016
    پیغامات:
    123
    جن کی کتب بعد کتاب اللہ ،صحیح ترین کتب ہیں ان کے آئمہ حدیث ہونے پر اتفاق ہے۔ ان کی کتب حدیث کو کتاب اللہ کے بعد صحیح ترین کہا گیا ہے۔ مگر ان کے فہم کے صحیح ترین ہونے کے متعلق کسی ایک نے بھی نہین کہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے تو یہ پتہ چلتا ہے کہ فہم میں غیر صحابی صحابہ سے زیادہ فہیم ہوسکتا ہے۔فرمانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے ”فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ وَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ لَيْسَ بِفَقِيهٍ“۔
    آپ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی پر کیوں آمادہ ہیں۔ اختلاف کی صورت میں تصفیہ کیسے ہو اور کن سے ہو؟ بتائیں؟ کیا اقوال سے؟ آپ کا دعویٰ تقلید کا ہے یا اطیعوا اللہ و اطیعوا الرسول کا؟

    معذرت کے ساتھ، سمجھ اسے آتی ہے جو سمجھنا چاہے۔
    کفایت اللہ صاحب نے اپنے دلائل میں جو طبرانی کی حدیث لکھی ہے اس کو ایک نظر دیکھ لیں پھر فرمائیے گا کہ سلام میں ہاتھ کیسے ہلتے ہیں؟
    كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قُلْنَا : السَّلامُ عَلَيْكُمِ السَّلامُ عَلَيْكُمْ وَأَشَارَ مِسْعَرٌ بِيَدِهِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ ، فَقَالَ : " مَا بَالُ هَؤُلاءِ يَرْفَعُونَ أَيْدِيَهُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ الْخَيْلِ الشُّمُسِ ، أَمَا يَكْفِي أَحَدَكُمْ ، أَوْ أَحَدَهُمْ ، أَنْ يَضَعَ يَدَهُ عَلَى فَخِذِهِ ، ثُمَّ يُسَلِّمُ عَلَى أَخِيهِ مِنْ عَنْ يَمِينِهِ وَشِمَالِهِ " (المعجم الکبیر للطبرانی)
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کے وقت ہاتھوں کی حرکت کو ”يَرْفَعُونَ أَيْدِيَهُمْ “ کہا ۔
    ہاتھوں کی حرکت سلام میں ہو یا نماز میں اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپسند فرمایا اور شریر گھوڑوں کی دموں سے تشبیہ دی۔
     
  9. عمر اثری

    عمر اثری -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 21, 2015
    پیغامات:
    461
    جناب عالی!
    ہم سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کر رھے ھیں نا کہ نافرمانی. بلکہ آپ نافرمانی کر رھیں ھیں. آپ ایک سنت کو منسوخ قرار دینے کی ناکام کیشش کر رھے ھیں جو کہ تواترا ثابت ھے. ایسی سنت جسکو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کرتے رھے، انکے بعد صحابہ کرام کرتے رھے اور انکے بعد تابعین عظام کرتے رھے.
    ذرا مجھے بھی تو بتائیۓ کہ کیا یہ مذکورہ اشخاص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایک منسوخ فعل کو انجام دیتے رھے؟؟؟
    اور جناب من!
    آپ نسخ کی دلیل بھی لے رھے ھیں تو ایسی حدیث سے جسمیں رفع الیدین کا ذکر دور دور تک نہیں ھے. لہذا ایک مفسر روایت کو غیر مفسر کے مقابلے میں پیش کرنا اور نسخ جیسی بات کرنا درست نہیں ہے.
    مزید صحیح مسلم کی یہ حدیث ایسی حدیث ھے جسکو محدثین کرام نے تشہد کے باب میں ذکر کیا ھے. اور آپ کے علماء خود اس بات پر اجماع نقل کرتے ھیں.
    لہذا اس سے آپکا استدلال درست نہیں.
    علی سبیل التنزل اگر اس روایت سے رفع الیدین منسوخ مانا جائے تو پھر وتر اور تکبیرات عیدین والا رفع الیدین بھی «كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ» کا مصداق ہے
    مزید اس روایت سے رفع الیدین کے منسوخ ہونے پر استدلال کی بنیاد «رَافِعِي أَيْدِيكُمْ» سے رکوع جاتے اور اس سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین مراد ہونے پر ہے۔لیکن اس مراد کے درست ہونے پر کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔ اس لیے اس روایت سے اس رفع الیدین کے منسوخ ہونے پر استدلال صحیح نہیں۔
    اختلاف کی صورت میں قرآن وحدیث کی طرف رجوع کیا جائیگا اور فہم صحابہ کو بھی دیکھ جاۓ گا.
    جناب عالی!
    الحمد للہ! ہمارا دعوی تو اطیعوا اللہ و اطیعوا الرسول کا ھی ھے لیکن آپ لوگوں کا دعوی تقلید کا ھوتا ھے.
     
    Last edited: ‏مئی 15, 2016
    • متفق متفق x 1
  10. عمر اثری

    عمر اثری -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 21, 2015
    پیغامات:
    461
    سمجھ سمجھ کے سمجھ کو سمجھو سمجھ سمجھنا بھی ایک سمجھ ہے
    سمجھ سمجھ کہ جو نہ سمجھے وہ میری سمجھ میں نا سمجھ ہے...... مسکراہٹ
    محترم آپ نے کہا:
    میں نے جواب میں لکھا:
    یعنی سلام کے وقت دائیں بائیں کا ذکر ھے.
    اب آپ نے کیا جواب دیا ھے وہ بھی دیکھ لیں:
    کیا آپ کی اس دلیل سے یہ ثابت ھوتا ھے کہ سلام میں بھی ہاتھ اوپر نیچے اٹھتے ھیں؟؟؟ جیسا کہ آپ نے اپنے اس اقتباس میں دعوی کیا ھے؟
    آپ کا یہ جو اقتباس ھے اسکو دوبارہ پڑھ لیں جناب عالی. اور خط کشیدہ الفاط پر غور کریں.
    اللہ ہمیں اپنی اصلاح کی توفیق عطا فرماۓ.
    آمین
    جزاک اللہ خیرا
     
  11. عمر اثری

    عمر اثری -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 21, 2015
    پیغامات:
    461
     
  12. عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی نوآموز.

    شمولیت:
    ‏مئی 6, 2016
    پیغامات:
    123
    آپ کبھی اشخاص کے پیچھے بھاگتے ہیں کبھی گھوڑوں کے پیچھے۔
    کبھی کھلے دل سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی مان لیں۔
    خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا لِي أَرَاكُمْ رَافِعِي أَيْدِيكُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ اسْكُنُوا فِي الصَّلَاةِ (صحیح مسلم)
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے ہیں کہ ”کیا وجہ ہے کہ میں تمہیں رفع الیدین کرتے دیکھ رہا ہوں“۔ آپ کہہ رہے ہیں کہ اس میں رفع الیدین کا ذکر نہیں۔
    میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات مانوں یا آپ کی؟ میں تو یقیناً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے آگے سرِ تسلیم خم کروں گا آپ نہیں کرنا چاہتے تو نہ کریں۔
    اللہ کرے کہ آپ تنزل کرکے زمین پر آجائیں۔
    صحابہ کرام کو جس نماز میں رفع الیدین سے روکا گیا وہ نہ تو وتر کی نماز تھی اور نہ ہی عیدین کی۔ یا تو آپ اس کاثبوت فراہم کریں یا پھر کوئی قرینہ بتائیں جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ ممانعت ”عام“ کہلا سکے۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اسْكُنُوا فِي الصَّلَاةِ“ اس سے بڑی دلیل تو پھر قرآنِ پاک ہی ہے۔ اگر آپ احادیث کو نہیں مانتے تو پھر قرآنِ پاک بھی آپ کی رہنمائی سے قاصر رہے گا۔
    دعویٰ آپ کا اطیعوا اللہ و اطیعوا الرسول کا ھے مگر عملاً تقلید کرتے ہو۔ احادیث کا رد امتیوں کے اقوال سے کرکے۔ میرا دعویٰ تقلید کا ہے مگر عملاً اطیعوا اللہ و اطیعوا الرسول کر رہا ہوں۔ کون فائدہ میں آپ یا میں؟
    میں بھی خلوص سے دعا گو ہوں۔ لیکن یاد رکھیں کہ اس کے لئے اخلاص نیت درکار ہوتی ہے شعر و شاعری نہیں۔۔۔ ابتسامہ

    عمر اثری صاحب ایک التماس ہے کہ آپ تشہد کی حالت میں بیٹھ کر سلام کے لئے ہاتھ ہلانے کی وڈیو بنا کر یہاں شیئر کردیں۔
     
    • ناپسندیدہ ناپسندیدہ x 2
  13. عمر اثری

    عمر اثری -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 21, 2015
    پیغامات:
    461
    جناب عالی!
    جب جواب نہیں بن پڑتا تو لوگ ایسی ہی باتیں کرتے ھیں. میں بتاؤوں آپ لوگ کیا کہتے ہیں؟؟
    کبھی رفع الیدین کو ناپسندیدہ یعنی مکروہ اور خلاف اولیٰ کہتے ہیں۔
    کبھی تو یہ عاقبت نا اندیش حضرات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سنت کو بدعت بھی کہہ دیتے ھیں.
    کبھی ان کے ہاں رفع الیدین ایک اختلافی مسئلہ بن جاتا ہے.
    کبھی تمام حدود پھلانگ کر کہتے ہیں کہ نماز میں رفع الیدین کرنا باعث فساد ہے۔
    اور کبھی رفع الیدین کی سنت مبارکہ کو قابل نفرت قرار دیتے ہیں۔
    کبھی کہتے ہیں کہ رفع الیدین شاذ ہے.
    کبھی رسول اللہ ﷺ کی اس پیاری سنت کو جسے اللہ کے رسول ﷺ نے کبھی ترک نہیں کیا ، جانوروں کا فعل کہتے ہیں.
    کبھی کبھی تو شرم وحیا کو بالائے طاق رکھ کر، بے غیرتی کا لبادہ اوڑھ کر اور دیانت و امانت کا سرعام جنازہ نکال کر رفع الیدین کرنے والے کو کافر کہتے ہیں۔
    نعوذ باللہ من ذالک.
    اسکے برعکس ھمارا دعوی ھے کہ ترک رفع الیدین سنت نہیں ھے. اور ھمارا یہ دعوی کل بھی تھا,الحمد للہ آج بھی برقرار ھے اور ان شاء اللہ تا قیامت برقرار رھیگا.


    اب بھی جواب کا منتظر....
     
    Last edited: ‏مئی 16, 2016
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  14. عمر اثری

    عمر اثری -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 21, 2015
    پیغامات:
    461
    اب اتنے بھی بھولے نا بن جائیں.
    میں اب بھی کہتا ھوں کہ کہاں ہے اسمیں رفع الیدین کا تذکرہ. آپ دلیل لے رہے ہیں رفع الیدین قبل الرکوع وبعدہ کے منسوخ ھونے پر تو کہاں ہے اسمیں تذکرہ. ایک واضح حدیث کو آپ ایک ایسی حدیث سے منسوخ قرار دینے کی ناپاک کوشش کر رہے ھیں جسکا تعلق دور دور تک رفع الیدین قبل الرکوع وبعدہ سے ہے ھی نہیں. جسمیں رفع الیدین قبل الرکوع وبعدہ کا ذکر ہی نہیں.
    حیرت ہے آپ کی عقل اور فہم پر.
    بھٹی صاحب!
    کیوں بلا وجہ حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اڑا رھے ہیں؟؟؟
    افسوس کا مقام ہے. اللہ آپکو ہدایت دے. اور تقلید سے محفوظ رکھے.
    جب کچھ نہ ھو تو خاموش ہی رہ لیا کریں. یوں بلا وجہ اور بلا ضرورت تبصرے سے کیا فائدہ ھوتا ہے؟؟؟
    اب یہ کونسی نئ منطق ہے جناب عالی؟؟؟؟؟
    ذرا اسکی دلیل بھی عنایت فرمائیں؟؟؟؟
    کیا بات ہے جناب عالی!
    اسکو کہتے ھیں جہالت کی انتہاء. تقلید کیا کیا نہیں کرواتی. تقلید سب کچھ کروا دیتی ھے.
    ذرا غور کرنے کی کوشش بھی کر لیتے پھر لکھتے تو کیا بگڑ جاتا؟؟؟
    جناب عالی!
    کیا یہ میرے سوال کا جواب ہے؟؟؟؟
    میرا سوال تو تھا کہ
    مزید اس روایت سے رفع الیدین کے منسوخ ہونے پر استدلال کی بنیاد «رَافِعِي أَيْدِيكُمْ» سے رکوع جاتے اور اس سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین مراد ہونے پر ہے۔لیکن اس مراد کے درست ہونے پر کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔ اس لیے اس روایت سے اس رفع الیدین کے منسوخ ہونے پر استدلال صحیح نہیں۔
    اور آپکا جواب یہ ہے:
    معاف کیجۓ گا لیکن استدلال تو لکھ دیں. بات کو واضح لکھا کریں.

    اتنے جلدی فتوے نا لگایا کریں پہلے ثابت کر دیا کریں اسکے بعد مفتی بننے کی کوشش کیا کریں
     
    Last edited: ‏مئی 16, 2016
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  15. عمر اثری

    عمر اثری -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 21, 2015
    پیغامات:
    461
    ثابت تو کریں پہلے.
    پھر کہوں گا کہ مفتی بن کر فتوے نہ لگایا کریں. اگر اسکو ثابت نہیں کر سکتے تو رجوع کریں.
    کون احادیث کا رد کر رہا ھے؟؟؟ میں یا آپ؟؟؟ منسوخ کس نے قرار دیا میں نے یا آپ نے؟؟؟ جہالت کی حد ہوتی ھے. اب تک میں نے کسی بھی حدیث کو رد نہ کیا لیکن آپ نے فتوے لگانے شروع کردۓ؟؟؟
    واہ رے مقلدانہ ذہن!
    بار بار کہ رھا ھوں کہ اسمیں قبل الرکوع وبعدہ کا کوئ تذکرہ نہیں ہے لیکن آپ کی سمجھدانی شاید تقلید میں کمزور ھو چکی ہے. اللہ رحم فرماۓ
    اس بات پر تو ہنسنے کا دل ھی کر رھا ھے. لکھنے سے پہلے سوچ سمجھ لیا کریں.
    اس سے اچھا ہے کہ تقلید کا دعوی ہی چھوڑ دیں. آپ اعلان کر دیجۓ کہ تقلید کا اسلام میں کوئ حصہ نہیں.
    آپ کو خبر مل جاتی ھے کہ بندہ اخلاص سے کہ رھا ہے یا بغیر اخلاص کے.
    بھٹی صاحب!
    جو بھی لکھا کریں سوچ سمجھ کر لکھا کریں. جہالت نہ دکھایا کریں.
    یہ کام آپکو ھی کرنا چاہیۓ.

    میرے کئ سوالوں کے جواب نہیں ملے ہیں. پچھلی بار کے.
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  16. عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی نوآموز.

    شمولیت:
    ‏مئی 6, 2016
    پیغامات:
    123
    اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”يَرْفَعُونَ “ فرمایا جس کا معنیٰ ”اوپر اٹھانا“ ہی بنتا ہے دائیں بائیں نہیں بنتا۔ لۃٰذا گھوڑے دم جیسے بھی ہلاتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رفع الیدین سے منع فرمایا ہے وہ نماز میں کی جانے والی ہو یا سلام میں۔
    عمر اثری صاحب توجہ فرمائیں کہ آپ کے ”شیخ“ کیا کہ رہے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نہیں ماننی تو اپنے ”شیخ“ ہی کی مان لو۔ کسی کی تو مانو ۔
    جناب کفایت اللہ صاحب آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سے اعراض کرتے ہوئے ایک تبع تابعی (مسعر رحمۃ اللہ) کے فرمان کو اہمیت دے رہے ہیں۔ حالانکہ تبع تابعی (مسعر رحمۃ اللہ) کی بات کا بھی وہ معنیٰ واضح نہیں جو بیان کیا جارہا ہے۔ کیوں کہ اشارہ اوپر نیچے بھی ہوسکتا ہے اور مسعر رحمۃ اللہ علیہ نے ایسا ہی کرکے دکھایا۔ حدیث کے الفاظ پر غور فرمائیے گا۔ آسانی کے لئے حدیث پھر سے لکھ دیتا ہوں؛
    المعجم الكبير للطبراني - (ج 2 / ص 288)
    حَدَّثَنَا عَلِيُّ بن عَبْدِ الْعَزِيزِ ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بن الْقِبْطِيَّةِ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بن سَمُرَةَ ، يَقُولُ : كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قُلْنَا : السَّلامُ عَلَيْكُمِ السَّلامُ عَلَيْكُمْ وَأَشَارَ مِسْعَرٌ بِيَدِهِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ ، فَقَالَ : " مَا بَالُ هَؤُلاءِ يَرْفَعُونَ أَيْدِيَهُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ الْخَيْلِ الشُّمُسِ ، أَمَا يَكْفِي أَحَدَكُمْ ، أَوْ أَحَدَهُمْ ، أَنْ يَضَعَ يَدَهُ عَلَى فَخِذِهِ ، ثُمَّ يُسَلِّمُ عَلَى أَخِيهِ مِنْ عَنْ يَمِينِهِ وَشِمَالِهِ ".

    قابلِ احترام کفایت اللہ صاحب
    ایک بات کی وضاحت عنایت فرمادیں۔ صحابہ کرام جو سلام کے وقت اشارہ کر رہے تھے یہ ان کی ایجاد تھی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہی اکتساب شدہ تھی؟
     
  17. عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی نوآموز.

    شمولیت:
    ‏مئی 6, 2016
    پیغامات:
    123
    آپ جتنے بھی پینترے بدلیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کا مفہوم واضح ہے کہ نہ تو نماز میں رفع الیدین کرو اور نہ ہی سلام کے وقت۔ آپ اس گلو کلاصی کے لئے کبھی گھوڑوں کے دم ہلانے کیا کیفیت کو زیر بحث لاتے ہو کبھی ان دو واقعات کو ایک ہی ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہو اور اب ایک ہی واقعہ کے دو دفع ہونے کی بات شروع کر دی۔للہ اپنے عمل کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے تابع کریں نہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کو اپنے عمل کے تابع۔
    اللہ تعالیٰ سے دعاء ہے کہ وہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی اتباع نصیب فرمائے (آمین)۔
    آپ جتنے بھی پینترے بدلیں یہ صحیح مسلم کی حدیث آپ کا پیچھا نہیں چھوڑے گی۔ آپ اس سے گلو خلاصی کے لئے کبھی گھوڑوں کے دم ہلانے کیا کیفیت کو زیر بحث لاتے ہو کبھی ان دو واقعات کو ایک ہی ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہو اور اب ایک ہی واقعہ کے دو دفعہ ہونے کی بات شروع کر دی۔للہ اپنے عمل کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے تابع کریں نہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کو اپنے عمل کے تابع کرنے کی کوشش۔
    اللہ تعالیٰ سے دعاء ہے کہ وہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی اتباع نصیب فرمائے (آمین)۔
     
    • ناپسندیدہ ناپسندیدہ x 2
  18. عمر اثری

    عمر اثری -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 21, 2015
    پیغامات:
    461
    تب پھر مجھے معاف کریں. میرے پاس اتنا وقت نہیں. جب آپ کے پاس جواب اور دلائل آجائیں تو عرض کروں گا.
    آپ حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اڑانے سے بچیں.
     
    • متفق متفق x 1
  19. عمر اثری

    عمر اثری -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 21, 2015
    پیغامات:
    461
    لگتا ھے اب تقلید تحریف بھی کروا کر رہے گی. اور یہ کوئ نئ بات نہیں ہے. عقل استعمال کریں. حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق نا اڑائیں.
    یہ سب دلائل تھے. جنکا آپ کے پاس کوئ جواب نہیں.
    ایک سنت کو بلا وجہ منسوخ قرار دیتے ھوۓ دل نہیں کانپا؟؟؟ یا دل مردہ ھو گیا ہے؟؟؟ آپ اپنے مسلک کے دفاع میں اس قدر بڑھ گۓ ہیں؟؟؟
    دعوی تو کرتے ہیں کہ میں تحقیق کرتا ھوں ارے یہ کیسی تحقیق ہے کہ ایک حدیث کو بلا وجہ منسوخ قرار دے دو؟؟؟ ایسی تحقیق سے اللہ ہمیں محفوظ رکھے.
    آمین..... آپ کی طرح مفتی بن کر اخلاص والا فتوی نہیں دوں گا. کیونکہ دلوں کا حال بس اللہ جانتا ہے.
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  20. عمر اثری

    عمر اثری -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 21, 2015
    پیغامات:
    461
    شیخ کفایت اللہ سنابلی حفظہ اللہ کا یہ مضمون دلائل سے بھر پور ہے. الحمد للہ
    مزید وضاحت کی ضرورت تھی نہیں. لیکن اپنے مسلک کے دفاع میں آپ نے بلا وجہ تبصرہ کۓ. اس لۓ وضاحت کی گئ.
    اب بس
     
    • متفق متفق x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں