صحیح مسلم میں مسنون رفع الیدین کے ترک کی دلیل ؟۔ مباحثہ

عبدالرحمن بھٹی نے 'نقطۂ نظر' میں ‏مئی 11, 2016 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی نوآموز.

    شمولیت:
    ‏مئی 6, 2016
    پیغامات:
    123
    یہ تھریڈ نہ تو آپ کا شروع کردہ تھا اور نہ ہی میں نے آپ کو دعوت دی۔ آپ اپنی مرضی سے (یا پھر کسی مجبوری سے) یہاں تشریف لائے۔ مجھے تو یہ مصرع آپ پر سو فی صد فٹ نظر آتا ہے؛
    اپنی خوشی نہ آئے نہ اپنی خوشی چلے
    صحیح مسلم کی مذکورہ حدیث ناسخ ہے منسوخ نہیں جس سے اعراض کے لئے آپ لوگ اتنی تگ و دو کرہے ہیں۔
    اپنی خوشی نہ آئے نہ اپنی خوشی چلے
     
  2. عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی نوآموز.

    شمولیت:
    ‏مئی 6, 2016
    پیغامات:
    123
    معذرت کے ساتھ، کیا آپ کا یہ خیال ہے کہ صحابہ کرام نماز میں اپنی مرضی بھی کر لیا کرتے تھے؟
    کیا صحابہ کرام نماز میں اپنی مرضی بھی کر لیا کرتے تھے؟ اگلی سطور میں ان شاء اللہ ذکر ہوگا کہ صحابہ کرام نے نماز کی رفع الیدین کی طرح یہ عمل کس سے اکتساب کیا تھا؟

    کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ سلام کی رفع الیدین صرف صحابہ کا فعل تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اخذ شدہ نہ تھا جیسا کہ آپ نے ’’مالنا نرفع ایدینا‘‘ سے اس کو ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے۔
    اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کا کتب احادیث کامکمل مطالعہ نہیں۔ آپ نے صرف مخصوص احادیث پر محنت کی ہوئی ہے جس وجہ سے اس قسم کے وساوس پیدا ہو رہے ہیں۔
    صحابہ کرام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھ کر ہی کوئی عمل کرتے تھے۔ سلام کے وقت ہاتھ سے اشارہ والا عمل بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی سے سیکھا تھا۔
    سنن النسائي - (ج 4 / ص 420)
    أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْمَكِّيُّ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ زَيْدِ ابْنِ أَسْلَمَ قَالَ قَالَ ابْنُ عُمَرَ

    دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسْجِدَ قُبَاءَ لِيُصَلِّيَ فِيهِ فَدَخَلَ عَلَيْهِ رِجَالٌ يُسَلِّمُونَ عَلَيْهِ فَسَأَلْتُ صُهَيْبًا وَكَانَ مَعَهُ كَيْفَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ إِذَا سُلِّمَ عَلَيْهِ قَالَ كَانَ يُشِيرُ بِيَدِهِ (حکم صحیح)
    خلاصہ کلم یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز میں جب کوئی سلام کرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہاتھ کے اشارہ سے اس کا جواب دیتے تھے۔

    جیسے سلام کے وقت رفع الیدین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے اسی طرح نماز میں کی جا نے والی رفع الیدین بھی ”ثابت“ ہیں مگر جیسے سلام والی منع ہو گئی ایسے ہی صحیح مسلم کی مذکورہ حدیث سے نماز والی بھی منع ہوگئیں۔ واللہ اعلم بالصواب
     
  3. عمر اثری

    عمر اثری -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 21, 2015
    پیغامات:
    461
    اسکے لۓ معذرت کہ بن بلاۓ آ گیا تھا. سوچا تھا 42 صفحات اور 416 مراسلہ کے بعد کچھ تو سوچا ھوگا. لیکن میرا ظن حسن کے درجہ تک نا پہونچ سکا.
    معاف کیجۓ گا. یہاں پر ایک حدیث نہیں کئ احادیث لکھنا چاہیۓ تھا کیونکہ رفع الیدین کے ثبوت میں کئ احادیث ہیں. جنکو آپ منسوخ قرار دے رہے ہیں.
    اگر ایک کی جگہ کئ لکھتا تو آپکو یہ لکھنے کی ضرورت نہ پیش آتی:
    بھائ آپ حدیثوں میں من چاہی تاویلات کریں گے تو خاموشی کیسے اختیار کر سکتا ھوں؟؟؟؟
    اسی لۓ آنا پڑا تھا
     
  4. عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی نوآموز.

    شمولیت:
    ‏مئی 6, 2016
    پیغامات:
    123
    محترم ابوعکاشہ صاحب میرا مقصد بحث مباحثہ نہیں بلکہ فہم دیں ہے۔ محترم کفایت اللہ صاحب نے جو کچھ لکھا اس پر میں نے جو اشکالات پیش کیئے ہیں ان کا مدلل جواب ملتا تاکہ اگر مجھے سمجھنے میں کوئی غلطی لگی ہے تو اس کی اصلاح ہوجائے۔
    حقیقت یہ ہے کہ عمر اثری صاحب اس موضوع میں صرف خلط مبحث کے لئے آئے ہیں مسئلہ سمجھنے سمجھانے نہیں۔ ان کی بحث بے ربط ہوتی ہے۔
    اگر آپ پہلے تھریڈ میں ہی لکھنے کی اجازت دیتے ہیں تو فبہا اگر نہیں تو میں اس تھریڈ میں مزید گفتگو سے معذور ہوں۔والسلام
     
  5. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,904
    ؎اللہ اللہ ۔ اتنا خوبصورت لفظ ہے ۔ فہم دین!! ۔ یہ کونسے دین کے فہم کے حصول کی کوشش ہے کہ قرآن وحدیث سمیت صحابہ کے فہم کی کوئی حثیت نہیں ۔ یہ تو فہم مذہب ہے ۔ جس کے لیے دلائل سے زیادہ قیل وقال کی ضرورت ہوتی ہے ۔ شیخ کفایت اللہ بھائی نے جو لکھا اس پر آپ نے اشکالات پیش کرنے کا جو طریقہ اختیار کیا ۔ محض تھریڈکو خراب کرنا تھا ۔ ایسے دین کا فہم حاصل نہیں ہوتا ۔ عمراثری بھائی نے کوشش کی کہ صاحب تحریر کی عدم موجودگی میں جواب دیا جائے ۔ اب آپ کی مرضی ہے ۔ بحث جاری رکھیں یا چھوڑدیں ۔ لیکن دونوں تھریڈ کا ربط برقرار ہے ۔
     
    • متفق متفق x 2
  6. عمر اثری

    عمر اثری -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 21, 2015
    پیغامات:
    461
    ذرا اسکا ثبوت بھی دے دیں جناب عالی!
    آپ نے دو دعوے کر دۓ وہ بھی بنا ثبوت کے؟؟؟
     
    • متفق متفق x 1
  7. عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی نوآموز.

    شمولیت:
    ‏مئی 6, 2016
    پیغامات:
    123
    میری کسی پوسٹ کا ایسا اقتباس لے کر یہاں پیسٹ کردیں جس میں میں نے قرآن یا حدیث کے ماسوا سے دلیل دی ہو۔ قرآن کی تفہیم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان حتمی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی تفہیم میں صحابی کا قول معتبر ہے۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین کی تفہیم کے لئے مجھے تو ابھی تک (کم وبیش) صحابہ کے فرامین پیش کرنے کی بھی ضرورت نہیں پڑی (کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دوسرے فرامین سے ہی وضاحت ملتی رہی) باقی امتیوں کے اقوال تو بہت دور کی بات ہے۔
    یہاں معاملہ الٹ ہے کہ ایک صحیح حدیث کے حکم کو دوسری غیر متعلق احادیث سے خلط کرکےاعراض کیا جارہا ہے۔
    محترم کفایت اللہ صاحب کے تھریڈ میں اگر لکھنے کی ممانعت برقرار رکھنی ہے تو اس سے اقتباس لینے کی اجازت تو ہونی چاہئے۔
     
  8. عمر اثری

    عمر اثری -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 21, 2015
    پیغامات:
    461
    عبدالرحمن بھٹی ؟؟
     
    • متفق متفق x 1
  9. عمر اثری

    عمر اثری -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 21, 2015
    پیغامات:
    461
    السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

    محترم عبد الرحمان بھٹی صاحب!!!
    معاف کیجۓ گا موبائل میں کچھ دقت ھو گئ تھی ورنہ کل ہی آپ سے تقاضہ کرتا. خیر اب آپ سے تقاضہ ہے.

    والسلام
     
    • متفق متفق x 1
  10. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,904
    میرے علم میں نہیں تھا کہ عبدالرحمن بھٹی صاحب احادیث میں تاویلات کے ماہر ہیں ۔ دلیل کے طور پر یہ تھریڈ موجود ہے ۔ دوسروں پرخلط مبحث کا الزام لگانے والے ابھی تک ثابت نہیں کرسکے
    عبدالرحمن بھٹی
     
    • متفق متفق x 1
  11. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,904
    بھٹی صاحب کی ترک رفع الیدن کی دلیل!
    حدیث ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں لفظ فی الصلاتہ بتاتا ہے کہ صحابہ کرام نماز کے اندر رفع الیدین کررہے تھے
    جبکہ امام الطحاوی حنفی نے شرح معاني الآثار ميں حضرت جابربن سمرة كى روايت بايں الفاظ ذكر كى ہے۔
    کیا سلام نماز کے باہر ہے ،نماز میں شامل نہیں ؟اگر نماز میں شامل ہے تو بھٹی صاحب کی نماز کے اندر والی دلیل کیسے بنتی ہے ۔ جبکہ روایت میں واضح ہے کہ سلام پھیرتے وقت دائیں بائیں اشارہ کرتے تھے ! سلام بھی نماز کے اندر شامل ہے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  12. T.K.H

    T.K.H رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏نومبر 18, 2014
    پیغامات:
    234
    امام ابو حنیفہؒ کی تقلید کرنے والے ائمہ ثلاثہ( امام مالکؒ، امام شافعیؒ اور امام احمد بن حنبل ؒ) کو برحق کہنے کے با وجود ان کے مسالک کو کیوں بھول جاتے ہیں ؟اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ اس طبقہ کا مقصد صرف حنفیت کا پرچار ہے۔
     
    • متفق متفق x 2
  13. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,904
    آپ کا سوال اچھا ہے. بھٹی صاحب جواب دے سکتے ہیں.. اگر وہ چاہیں تو اس موضوع پر نیا تھریڈ بھی شروع کیا جا سکتا ہے...
    عبدالرحمن بھٹی
     
  14. عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی نوآموز.

    شمولیت:
    ‏مئی 6, 2016
    پیغامات:
    123
    آپ کی مذکورہ حدیث تشہد میں سلام کے موقعہ کی ہے جب کہ میں نے جو حدیث پیش کی وہ سلام کے موقعہ کی نہیں بلکہ رفع الیدین کی ہے جو نماز میں کی جا رہی تھی۔
    دلائل
    1۔۔ سلام کے وقت اشارہ کی حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ باجماعت پڑھتے وقت کی ہے جب کہ مذکورہ رفع الیدین سے ممانعت والی حدیث صحابہ کرام کی انفرادی نماز میں کی جانے والی رفع الیدین سے ممانعت کی ہے۔
    2 ۔۔ سلام کے وقت کی رفع الیدین کی ممانعت کے ساتھ ”أَمَا يَكْفِي أَحَدَكُمْ ، أَوْ أَحَدَهُمْ ، أَنْ يَضَعَ يَدَهُ عَلَى فَخِذِهِ ، ثُمَّ يُسَلِّمُ عَلَى أَخِيهِ مِنْ عَنْ يَمِينِهِ وَشِمَالِهِ“ کے الفاظ یعنی ہاتھوں کو رانوں پر رکھے رہنے کی ہدایت ہے جب کہ میری مذکورہ روایت میں ”اسْكُنُوا فِي الصَّلاةِ“ یعنی نماز میں سکون سے رو کا حکم صادر ہؤا۔
     
    • ناپسندیدہ ناپسندیدہ x 1
  15. عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی نوآموز.

    شمولیت:
    ‏مئی 6, 2016
    پیغامات:
    123
    ثبوت
    نماز میں کی جانے والی رفع الیدین کی ممانعت
    المعجم الكبير للطبراني - (ج 2 / ص 284)
    1795- حَدَّثَنَا حَفْصُ بن عُمَرَ بن الصَّبَّاحِ الرَّقِّيُّ ، حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ بن عُقْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بن رَافِعٍ ، عَنْ تَمِيمِ بن طَرَفَةَ ، عَنْ جَابِرِ بن سَمُرَةَ ، قَالَ : دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، الْمَسْجِدَ فَرَآهُمْ رَافِعِي أَيْدِيهِمْ . قَالَ : " مَا لَهُمْ رَافِعِي أَيْدِيهِمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمُسٍ ؟ اسْكُنُوا فِي الصَّلاةِ
    1797- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بن يَعْقُوبَ بن سَوْرَةَ الْبَغْدَادِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بن رَافِعٍ ، عَنْ تَمِيمِ بن طَرَفَةَ ، عَنْ جَابِرِ بن سَمُرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، رَأَى قَوْمًا قَدْ رَفَعُوا أَيْدِيَهُمْ فِي الصَّلاةِ ، فَقَالَ : " قَدْ رَفَعُوا أَيْدِيَهُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمُسٍ اسْكُنُوا فِي الصَّلاةِ " .

    المعجم الكبير للطبراني - (ج 2 / ص 285)
    1798- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بن النَّضْرِ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بن عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بن رَافِعٍ ، عَنْ تَمِيمِ بن طَرَفَةَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، الْمَسْجِدَ فَرَآهُمْ رَافِعِي أَيْدِيهِمْ فِي الصَّلاةِ ، فَقَالَ : " مَا لِي أَرَاهُمْ رَافِعِي أَيْدِيهِمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ الْخَيْلِ الشُّمُسِ ؟ اسْكُنُوا فِي الصَّلاةِ ".
    1799- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بن عَمْرِو بن خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بن رَافِعٍ ، عَنْ تَمِيمِ بن طَرَفَةَ ، عَنْ جَابِرِ بن سَمُرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَيْهِمْ ، أُرَاهُ قَالَ فِي الْمَسْجِدِ وَهُمْ رَافِعُوا أَيْدِيهِمْ ، وَقَالَ : " مَا لِي أَرَاكُمْ رَافِعِي أَيْدِيكُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمُسٍ ؟ ، اسْكُنُوا فِي الصَّلاةِ ".
    1800- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بن عَبْدِ الْعَزِيزِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بن رَجَاءٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ بن يُونُسَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ تَمِيمِ بن طَرَفَةَ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ ، قَالَ : خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ فَرَأَى النَّاسَ رَافِعِي أَيْدِيهِمْ ، فَقَالَ : " مَا لِي أَرَى النَّاسَ رَافِعِي أَيْدِيهِمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ الْخَيْلِ الشُّمُسِ ؟ اسْكُنُوا فِي الصَّلاةِ " .

    المعجم الكبير للطبراني - (ج 2 / ص 286)
    1801- حَدَّثَنَا مُعَاذُ بن الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بن رَافِعٍ، عَنْ تَمِيمِ بن طَرَفَةَ، عَنْ جَابرِ بن سَمُرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى قَوْمًا قَدْ رَفَعُوا أَيْدِيَهُمْ، فَقَالَ: " كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمُسٍ اسْكُنُوا فِي الصَّلاةِ "
    حَدَّثَنَا أَبُو حُصَيْنٍ الْقَاضِي ، حَدَّثَنَا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بن رَافِعٍ ، عَنْ تَمِيمِ بن طَرَفَةَ ، عَنْ جَابِرِ بن سَمُرَةَ ، قَالَ : خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ .
    سلام میں کی جانے والی رفع الیدین کی ممانعت

    المعجم الكبير للطبراني - (ج 2 / ص 288)
    1807- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بن عَبْدِ الْعَزِيزِ ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بن الْقِبْطِيَّةِ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بن سَمُرَةَ ، يَقُولُ : كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْنَا : السَّلامُ عَلَيْكُمِ السَّلامُ عَلَيْكُمْ وَأَشَارَ مِسْعَرٌ بِيَدِهِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ، فَقَالَ : " مَا بَالُ هَؤُلاءِ يَرْفَعُونَ أَيْدِيَهُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ الْخَيْلِ الشُّمُسِ ، أَمَا يَكْفِي أَحَدَكُمْ ، أَوْ أَحَدَهُمْ ، أَنْ يَضَعَ يَدَهُ عَلَى فَخِذِهِ ، ثُمَّ يُسَلِّمُ عَلَى أَخِيهِ مِنْ عَنْ يَمِينِهِ وَشِمَالِهِ".
    المعجم الكبير للطبراني - (ج 2 / ص 289)
    1808- حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بن إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنِ ابْنِ الْقِبْطِيَّةِ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بن سَمُرَةَ ، يَقُولُ : كُنَّا نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَقُولُ بِأَيْدِينَا : السَّلامُ عَلَيْكُمُ ، السَّلامُ عَلَيْكُمْ، فَقَالَ : " مَا بَالُ أَقْوَامٍ يُلْقُونَ أَيْدِيَهُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمُسٍ ، أَلا يَكْفِي أَحَدَكُمْ ، أَوْ إِنَّمَا يَكْفِي أَحَدَكُمْ أَنْ يَضَعَ يَدَهُ عَلَى فَخِذِهِ ، ثُمَّ يُسَلِّمُ عَلَى أَخِيهِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ "
    حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بن غَنَّامٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بن أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بن الْقِبْطِيَّةِ ، عَنْ جَابِرِ بن سَمُرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَحْوَهُ.
    1809- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بن يَحْيَى الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بن إِدْرِيسَ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بن أَبِي هَوْذَةَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بن أَبِي قَيْسٍ ، عَنْ فُرَاتٍ الْقَزَّازِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ جَابِرِ بن سَمُرَةَ ، قَالَ : دَخَلْتُ أَنَا وَأَبِي ، عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بنافَلَمَّا سَلَّمَ أَوْمَأَ النَّاسُ بِأَيْدِيهِمْ يَمِينًا وَشِمَالا ، فَأَبْصَرَهُمْ، فَقَالَ : " مَا شَأْنُكُمْ تُقَلِّبُونَ أَيْدِيَكُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ الْخَيْلِ الشُّمُسِ ، إِذَا سَلَّمَ أَحَدُكُمْ فَلْيُسَلِّمْ عَلَى مَنْ عَنْ يَمِينِهِ ، وَعَلَى مَنْ عَنْ يَسَارِهِ" ، فَلَمَّا صَلَّوْا مَعَهُ أَيْضًا لَمْ يَفْعَلُوا ذَلِكَ .

    المعجم الكبير للطبراني - (ج 2 / ص 290)
    1810- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بن عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بن الْمِقْدَامِ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ فُرَاتٍ الْقَزَّازِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بن الْقِبْطِيَّةِ ، عَنْ جَابِرِ بن سَمُرَةَ ، قَالَ : صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكُنَّا إِذَا سَلَّمْنَا أَشَرْنَا بِأَيْدِينَا السَّلامُ عَلَيْكُمْ، فَنَظَرَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : " مَا شَأْنُكُمْ تُشِيرُونَ بِأَيْدِيكُمْ ، كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمُسٍ ، إِذَا سَلَّمَ أَحَدُكُمْ فَلْيَلْتَفِتْ إِلَى أَصْحَابِهِ ، وَلا يُومِئْ بِيَدِهِ" .
     
  16. عمر اثری

    عمر اثری -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 21, 2015
    پیغامات:
    461
  17. عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی نوآموز.

    شمولیت:
    ‏مئی 6, 2016
    پیغامات:
    123
    کوئی پریشانی ؟
     
  18. عمر اثری

    عمر اثری -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 21, 2015
    پیغامات:
    461
    کیا فائدہ عرض کرکے. پھر ناختم ہونے والی بحث کا آغاز ہوگا. پھر تاویلات کا دور شروع ہوگا. آپ نے نہیں ماننا ہے تو میں کیسے عرض کروں. (واضح رہے کہ ہمارا کام ہے نصیحت کرتے رہنا لیکن رمضان کی آمد ہے اس لۓ ایک نا ختم ہونے والی بحث میں نہیں پڑ سکتا)
     
  19. عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی نوآموز.

    شمولیت:
    ‏مئی 6, 2016
    پیغامات:
    123
    اس میں آپ نے کچھ ایسی باتیں کہہ دی ہیں جو آپ کے دعویٰ کے خلاف ہیں۔ اس پر غور و خوض فرمائیے گا اگر سمجھ آجائے تو فبہا اگر سمجھ نہ آئے تو ان شاء اللہ رمضان میں بتاؤں گا۔

    ایک ہی فقرہ میں دو متضاد باتیں۔
     
  20. عمر اثری

    عمر اثری -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 21, 2015
    پیغامات:
    461
    آپ ہی رہنمائ فرما دیجۓ گا.
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں