اجتہاد و تقلید:رائے کی قسمیں، قیاس اور اس کی مثالیں

دیوان نے 'اسلامی متفرقات' میں ‏جولائی 13, 2016 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. دیوان

    دیوان رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مئی 4, 2015
    پیغامات:
    37
    رائے کی قسمیں
    ‏حدیث 3 ،http://www.urdumajlis.net/threads/اجتہاد-و-تقلید-2-علم-کے-درجے،-شرعی-احکام-کی-قسمیں.37803/ میں حضرت معاذؓ نے مسئلے کا حل معلوم کرنے کا آخری طریقہ ذکر فرمایا ہے وہ اجتہد برائی یعنی :’’اپنی رائے سے اجتہاد‘‘۔ مناسب ہوگا کہ رائے کی قسمیں بیان کردی جائیں۔ رائے کی تین قسمیں ہیں:
    i) رائے کی پہلی قسم وہ ہے جو کتاب و سنت کے خلاف ہو۔
    ii) ایسی رائے سے دین کے مسئلے گھڑنا جس کی بنیاد نہ کتاب ہو نہ سنت ہو۔ ایسی رائے کو بدعت کہتے ہیں
    iii) رائے کی تیسری قسم وہ ہے جو قرآن و سنت کی تشریح کے لیے ہو۔ سیدنا معاذؓ نے فرمایا تھا: اجتہد برائی’’اپنی رائے سے۔‘‘ اس سے یہی رائے مراد ہے۔
    قیاس اور اس کی مثالیں
    حدیث 1
    عن ابي هريرة ان رجلا اتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله ولد لي غلام اسود فقال هل لك من ابل قال نعم قال ما الوانها قال حمر قال هل فيها من اورق قال نعم قال فانى ذلك قال لعله نزعه عرق قال فلعل ابنك هذا نزعه۔ (صحیح البخاری، کتاب الطلاق)
    حضرت ابوہریرۃؓ فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوا اور بولا:’’میری بیوی نے کالا بچہ جنا ہے! ( گویا اس نے اس کو اپنا بچہ ماننے سے انکار کردیا ) ۔‘‘ تب رسول اللہ ﷺ نے اس سے پوچھا:’’کیا تیرے پاس اونٹ ہیں؟‘‘اس نے کہا:’’جی ہاں!‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ان کا رنگ کیا ہے؟‘‘ اس نے کہا: ’’سرخ۔‘‘ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا:’’ان میں کوئی سیاہی مائل بھی ہے؟ اس نے کہا: ’’جی ہاں۔‘‘ تب آپ ﷺ نے دریافت فرمایا:’’وہ کیسے ہوگیا؟‘‘ اس (دیہاتی) نے کہا:’’بنیاد کا اثر ہوگا۔‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’یہ بھی کوئی بنیاد ہوگی جو ظاہر ہوگئی۔‘‘ اس لیے آپ ﷺ نے اسے نفی کرنے (لعان) کی اجازت نہیں دی۔
    حدیث 2
    عن ابن عباس ان امراة جاءت الى النبي صلى الله عليه وسلم فقالت ان امي نذرت ان تحج فماتت قبل ان تحج افاحج عنها قال نعم حجي عنها ارايت لو كان على امك دين اكنت قاضيته ؟ قالت نعم فقال اقضوا الله الذي له فان الله احق بالوفاء۔(صحیح البخاری، کتاب الاعتصام بالکتاب و السنۃ)
    ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ ایک عورت نبی پاک ﷺ خدمت میں حاضر ہوئی اور کہا: ’’ میری ماں نے حج کی نذر مانی لیکن حج سے قبل ہی وفات پاگئی تو میں اس کی طرف سے حج کرلوں؟‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ہاں اس کی طرف سے حج کر۔‘‘ پھر آپ ﷺ نےفرمایا: ’’اگر اس پر کسی کا قرضہ ہوتا تو کیا اسے ادا کرتی؟‘‘ اس عورت نے کہا: ’’ہاں۔‘‘ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: ’’تو اللہ تو اس بات کا زیادہ حق دار ہے ہے اس کا قرضہ ادا کیا جائے، پس اللہ تعالیٰ کا قرض ادا کرنا بہت ضروری ہے ۔‘‘
    · ان دو حدیثوں سے قیاس کا ثبوت ملتا ہے۔
    · ‏حدیث 4 میں رسول اللہ ﷺ نے انسان کے بچے کو اونٹ کے بچے پر قیاس فرمایا۔
    · ‏حدیث 5 میں آپ ﷺ نے ادائیگی حج کو ادائیگی قرض پر قیاس فرمایا۔
    · اسی طرح جب کسی مسئلہ میں شریعت میں براہ راست حکم نہیں ہوتا تب قیاس کے ذریعے سے شریعت کا حکم معلوم کیا جاتا ہے۔
    قیاس کی مثالیں
    أ‌) سیدنا ابوبکرؓ کی خلافت کا انعقاد حضرت عمرؓ کے اجتہاد سے ہوا۔ اس بارے میں نہ کوئی آیت پیش کی گئی نہ ہی کسی حدیث کا حوالہ دیا گیا۔ حضرت عمرؓ نے یہ قیاس فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ابوبکرؓ کو نماز میں ہم سب کا امام بنایا تھا، اسی پر قیاس کر کے ہم احکام سلطنت میں بھی آپؓ کو اپنا امام بناتے ہیں۔ سیدنا عمرؓ کے الفاظ تھے:
    يا معشر الانصار الستم تعلمون ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قد امر ابا بكر ان يؤم الناس قالوا بلى قال فايكم تطيب نفسه ان يتقدم ابا بكر قالت الانصار نعوذ بالله ان نتقدم ابا بكر۔ (مسند احمد، صحیح)
    ’’اے انصاریو! کیا تم نہیں جانتے کہ رسول اللہ ﷺ نے ابوبکر ؓکو حکم فرمایا کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں‘‘؟ ان (انصاریوں) نے جواب دیا: ’’کیوں نہیں۔‘‘ اس پر عمرؓ بولے: ’’پھر تم میں سے کس کا جی چاہے گا کہ ابوبکر ؓسے آگے بڑھے۔‘‘ انصار بولے: ’’ہم اللہ کی پناہ چاہتے ہیں کہ ابوبکرؓ پر سبقت لے جائیں۔‘‘ (حاشیہ [1])
    اس اجتہاد کی تقلید سب سے پہلے خود عمرؓ نے ابوبکرؓ کے ہاتھ پر بیعت کرکے کی جس کے بعد دوسرے صحابہ نے بھی اس کی تقلید کی۔
    ب‌) صحیح بخاری کتاب المغازی میں ایک روایت میں آتا کہ ہے رسول اللہ ﷺ نے ایک دستہ روانہ فرمایا جس کا ایک امیر مقرر فرمایا اور باقی لوگوں کو امیر کی اطاعت کا حکم فرمایا۔ کسی سبب سے امیر لشکر کو غصہ آگیا اور انہوں ایک آگ روشن کروائی اور لشکریوں کو اس آگ میں داخل ہونے کا حکم فرمایا۔ اولا تو لوگوں نے آگ میں داخل ہونے کا ارادہ کرلیا لیکن بالآخر رک گئے اور بولے:
    فررنا الى النبي صلى الله عليه وسلم من النار
    ہم رسول اللہ ﷺ کی طرف (جہنم کی) آگ سے بھاگ کر آئے تھے۔
    رسول اللہ ﷺ کا حکم اتباع امیر کا تھا لیکن صحابہ کرامؓ اس آگ کو نار جہنم پر قیاس کرکے آگ میں داخل نہیں ہوئے۔ اس کی تصدیق آپ ﷺ کے اس فرمان سے ہوتی ہے جو اسی روایت میں ہے:
    لو دخلوها ما خرجوا منها الى يوم القيامة
    اگر یہ لوگ (اس آگ میں) داخل ہوجاتے تو قیامت تک اس سے نہ نکلتے۔
    ت‌) شراب پینے کی حد اسّی (۸۰) کوڑے ہے۔ اس حد کی بنیاد کوئی قرآنی آیت ہے نہ کوئی حدیث بلکہ یہ حد قیاس (بہتان) کی بنیاد پر مقرر کی گئی ہے۔
    ث‌) نفاس کے بارے میں شریعت میں کوئی براہ راست حکم موجود نہیں ہے۔ البتہ حیض والی عورتوں سے دور رہنے کی وجہ خود قرآن میں ناپاکی بتائی گئی ہے۔ یہ اس حکم کی علت ہوگئ چنانچہ اسی علت (ناپاکی) کو سامنے رکھتے ہوئے نفاس کو حیض پر قیاس کرلیا گیا ہے اور اس کے مسائل بھی طے کرلیے گئے۔
    ج‌) شریعت میں بھینس کے دودھ یا گوشت کے استعمال کے بارے میں براہ راست کوئی حکم موجود نہیں ہے۔ چنانچہ بھینس کو گائے پر قیاس کرکے اس کے مسائل طے کرلیے گئے ہیں۔
    [1]: غور کیجیے نماز اور حج ہی وہ عبادتیں ہیں جو اجتماعی طور پر ادا کی جاتی ہیں۔
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں