اسمائے حسنی

مریم جمیلہ نے 'اسلامی متفرقات' میں ‏اکتوبر، 20, 2016 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. مریم جمیلہ

    مریم جمیلہ رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 26, 2015
    پیغامات:
    111
    (یہ اقتباس ڈاکٹر جیفری لینگ کی کتاب Even Angels Ask سے لیا گیا ہے-)

    خدا کی کئی صفات قرآن میں مذکور ہیں اور ہر ایک صفت کے بیان کرنے کا عدد دوسری سے مختلف ہے- مثلاً خدا کا نام اللہ 2698 مرتبہ آیا ہے، رب (مالک، پروردگار) تقریباً 900 مرتبہ، الرحمن (بے حد مہربان) 170 مرتبہ، الرحیم (نہایت رحم کرنے والا) 227 مرتبہ، الغفار (معاف کرنے والا) اور الغفور (بخشنے والا) کل 97 مرتبہ جبکہ اللطیف (باریک بین) 7 مرتبہ آیا ہے-
    یہ تکرار اور تنوع ایک مسلمان کے دین پر خاصا اہم اثر رکھتے ہیں- مگر اس کو سمجھنے کے لیے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ ایک مومن قرآن سے دن میں کتنی بار رابطے میں آتا ہے-

    ایک باعمل مسلمان دن میں کم از کم پانچ مرتبہ اپنی فرض نمازوں میں قرآن کی تلاوت کرے گا- بہت سے مسلمان قرآن کو کیسٹ ٹیپ پر اسی طرح سنتے ہیں جیسے مغرب میں لوگ موسیقی سنا کرتے ہیں- بہت سے اس کا کچھ حصہ روزانہ ہدایت اور علم حاصل کرنے کے لیے پڑھتے ہیں اور بہت سی تعداد نے اسے مکمل حفظ کر رکھا ہے-

    قرآن کی اس تلاوت کے دوران ایک مسلمان مسلسل ان ناموں اور صفات الہی کو دہراتا ہے جو تقریباً ہر صفحے پر بار بار ظاہر ہوتے ہیں- اس مسلسل یاد دہانی سے خدا کا ایک خاص روحانی پرتو یا تصور مسلم دل و دماغ پر اس ترتیب سے نقش ہو جاتا ہے کہ زیادہ مرتبہ دہرائی جانے والی صفات کم عدد والی صفات پر کچھ فوقیت رکھتی ہیں-

    اگر اس تاثر کو ایک شکل دینے کی کوشش کریں تو ایک ہرم نما مینار تخلیق کیا جا سکتا ہے جس کی چوٹی پر 'اللہ' ہے، اور پھر اس سے ذرا نیچے 'رب' (پروردگار، مالک) ہو گا- اس کے بعد اس سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے، اوپر موجود صفات کو واضح کرتے ہوئے اور لیمپ سے نکلتی ہوئی روشنی کی کرنوں کی طرح مزید نیچے رحمت کی صفات، 'رحمن و رحیم' موجود ہوں گی- پھر مغفرت یا بخشش کی صفات 'الغفار' اور 'الغفور'، اب (پیدا کرنے والا) 'الخلاق' اس کو آگے بڑھائے گا اور اسی طرح سلسلہ آگے چلتا ہے جو کہ نیچے دی گئی شکل میں دیکھا جا سکتا ہے-
    [​IMG]

    اس طرز پر مسلمان خدا کا ایک بالکل غیر مادی تصور پا لیتا ہے- وہ اپنے ذہن، دل، روح، احساسات اور وجدان سے خدا کو پہچانتا ہے نہ کہ ظاہری تخیل کے ذریعے-

    میرے خیال میں اسلام کی مشہور بت شکن روایت کا اصل ماخذ یہی ہے- یہ کوئی متشدد انتہا پسندی نہیں ہے جس کی جڑیں ایک تہذیب و ثقافت کے لحاظ سے قدیم صحرا کی آبادی میں پائی جاتی ہوں- یہ ایک ضمنی نتیجہ ہے اس طریقے کا جس سے مسلمان خدا کو قیاس کرتے ہیں اور جن تصورات سے، بجائے ظاہری اشکال کے، وہ اس سے تعلق جوڑتے ہیں. یہ تصورات حقیقی و اندرونی صفات و اعمال کے عکس ہوتے ہیں.

    اسی طرح اسلام کا منفرد فن، فن خطاطی وجود میں آیا جو کہ تصاویر یا مورتیوں کے بجائے الفاظ پر مبنی ہے- اکثر اوقات یہ آیات ہوتی ہیں جو حیران کن اور پر پیچ متناسب نمونے بناتے ہوئے خوبصورتی اور نفاست سے لکھی جاتی ہیں- ان میں چھپے ہوئے معانی اور خوبصورتی سے ڈھکے ہوئے اسرار و رموز جاننے کے لیے انہیں غور سے پڑھنا ضروری ہوتا ہے-

    اسمائے الہی پر دوسری نظر ایک اور رمز کا پتا دیتی ہے- چونکہ الرحمن (بے حد مہربان)، الرحیم (نہایت رحم کرنے والا)، الرب (پروردگار)، المولی/ الولی (نگہبان / حفاظت کرنے والا)، الغفار (معاف کرنے والا)، الغفور (بخشنے والا) بہت دفعہ استعمال ہوئے ہیں، تو ہم اندازہ لگاتے ہیں کہ اس سے بہت ملتا جلتا نام 'الودود' (بہت محبت کرنے والا) بھی دو سے زیادہ مرتبہ آئے گا-
    اگر ان تمام آیات کو شامل کیا جائے جن میں خدا کا کچھ لوگوں کے لیے محبت رکھنے اور کچھ کے لیے نہ رکھنے کا بیان موجود ہے تو یہ عدد بڑھانے کی ضرورت محسوس ہو گی-
    لیکن غور سے جائزہ لیں تو معلوم ہو گا کہ خدا کی محبت آفاقی نہیں ہے اور یہ حقیقت اس صفت کو باقی صفات سے ممتاز کرتی ہے-

    مثال کے طور پر اس کی رحمت تمام مخلوق حتی کہ بدترین گنہگاروں کو بھی ڈھانپ لیتی ہے (7:156، 30:33، 30:36، 30:46، 40:7، 42:28) اور وہ سبھی کا پروردگار اور سبھی کا رازق ہے- خدا ہی ہر نفس کا واحد اور اصلی نگہبان ہے (2:107، 6:62، 10،30) اور وہ ہر خالص توبہ کو فوراً قبول کر لیتا ہے (4:110، 13:6، 39:53) -
    لیکن قرآن جب خدا کی محبت کی بات کرتا ہے تو یہ ایک نہایت خاص تعلق کی طرف اشارہ کرتا ہے جس میں خدا اور بندہ مکمل طور پر اپنی مرضی سے داخل ہوتے ہیں- ایسا تعلق جس کے بارے میں قرآن کہتا ہے کہ انسانوں کی اکثریت اس سے انکار کرے گی-
    ہاں، خدا کا رحم، اس کی شفقت و رحمت تمام انسانوں پر جگمگائے گی لیکن-- صرف وہ لوگ جو اس کی طرف رجوع کریں گے اور تمام عمر اس کے سامنے سر تسلیم خم کیے رکھنے کی بھرپور کوشش کرتے رہیں گے، وہی اس کے ساتھ محبت کا تعلق جوڑ سکیں گے-

    یہ محبت لی بھی جائے گی اور دی بھی جائے گی یعنی یہ ایک باہمی تعلق ہو گا- چونکہ نسبتاً کم لوگ اس کو اختیار کرنا چاہیں گے، تو ہمیں حیرت نہیں ہونی چاہیے کہ یہ نام 'الودود' قرآن میں اتنا کم کیوں استعمال ہوا- وجہ یہی ہے کہ خدا کے ساتھ محبت کا تعلق میسر تو سب کو ہے، مگر اکثریت اس کا انکار کرے گی-

    ماخوذ از:
    (Even Angels Ask (by Jeffrey Lang
    ترجمہ و تلخیص: مریم جمیلہ

     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • اعلی اعلی x 1
  2. بابر تنویر

    بابر تنویر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,318
    جزاک اللہ خیرا
    بہت خوب ۔ شئرنگ کا شکریہ ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    جزاک اللہ خیرا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں